شوہر کا بیوی سے کہنا کہ تم سے صحبت کروں تو گویا ماں سے کروں
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو بولے کہ اگر تم سے جماع کرو تو گویا اپنی ماں سے کروں ،تو کیا یہ ظہارہوگا؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیان کردہ صورت میں ظہار نہیں ہوگا لیکن ایسا کہنا شرعا درست نہیں ۔ظہار تب ہوتا ہے جب شوہراپنی زوجہ کے کسی جز کو یا ایسے جز کو جو کسی کل سے تعبیر کیا جاتا ہے ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو یا کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف نظر کرنا حرام ہو تو یہ ظہار ہوگا جیسے شوہر اپنی زوجہ کوکہے:تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے
”لو قال إن وطئتك وطئت أمي فلا شيء عليه، كذا في غاية السروجي“
ترجمہ:اور اگر کہا تجھ سے وطی کی تو اپنی ماں سے وطی کی تو اس پر کچھ لازم نہ آئے گا جیسا کہ غاية السروجی میں مذکور ہے۔(فتاویٰ ھندیہ ،الفصل التاسع في الظهار، جلد 1 ، صفحہ 507 ، مطبوعہ کوئٹہ)
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
” اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْؕ-اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا اﻼ وَلَدْنَهُمْؕ- وَ اِنَّهُمْ لَیَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًاؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ “
ترجمہ:تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ،ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا اور بیشک وہ ضرور ناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضروربہت معاف کرنے والا ، بہت بخشنے والا ہے۔(سورۃ المجادلہ پارہ 28 آیت 2)
تفسیر صراط الجنان میں ہے
”اَلَّذِیْنَ یُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕهِمْ: تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں ۔} اس آیت میں ظہار کی مذمت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم میں سے وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں اور انہیں اپنی ماں جیسی کہہ بیٹھتے ہیں ، یہ کہنے سے وہ ان کی مائیں نہیں ہوگئیں بلکہ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے انہیں جنم دیا ہے اور بیشک ظہار کرنے والے بیویوں کو ماں کہہ کر ناپسندیدہ اور بالکل جھوٹ بات کہتے ہیں ، بیوی کو کسی طرح ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ٹھیک نہیں اور بیشک اللہ تعالیٰ انہیں ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔“(تفسیر صراط الجنان سورۃ المجادلہ پارہ 28 آیت 2 مطبوعہ مکتبہ المدینہ کراچی)
مصنف عبد الرزاق میں ہےامام حسن بصری سے مروی ہے :
”من ظاهر بذات محرم، فھو ظهار“
ترجمہ:جس نے (اپنی بیوی کو) محرم خاتون سے تشبیہ دی تو وہ ظہار ہے۔(مصنف عبد الرزاق،جلد 6 صفحہ 423، رقم : 11485 مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض)
کتاب الآثار میں ہے حضرت ابراہیم فرماتے ہیں :
”لا یقع الظهار إذا ظاهر الرجل من امرأته إلا بذات محرم“
ترجمہ:ظہار(اس وقت تک) واقع نہیں ہوگا جب تک (خاوند اپنی بیوی کو) اپنی کسی رحم محرم خاتون سے تشبیہ نہ دے۔(کتاب الآثارمحمد الشیبانی جلد 2 صفحہ 481، رقم : 547 مطبوعہ مکتبہ الرشید الریاض )
تفسیر روح البیان میں ہے
”الظهار لغة مصدر ظاهر وهو مفاعلة من الظهر ، ويراد به معان مختلفة راجعة إلى الظهر معنى و لفظا بالاختلاف الاغراض ظاهر من امرأته إذا قال لها : انت على كظهر امى “
ترجمہ: ظہار لغت میں مصدر ہے ظاہر کا اور یہ مفاعلہ ہے ظہر سے اور اس کے معانی مختلف ہے مگر راجع معنی ظہر( پیٹھ) ہے اور اس کی اغراض میں اختلاف ہے ۔ظہار یہ ہے کہ جب زوج اپنی زوجہ کو کہے:تو مجھ پر ایسی ہے جیسے مجھ پر میری ماں کی پیٹھ۔ (روائع البیان جلد 2 صفحہ 514 : سورہ المجادلہ ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)
بہار شریعت میں ہے
”ظہار کے یہ معنے ہیں کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جُزْوِ شائع یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو، ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو، یا اس کے کسی ایسے عُضْوْ سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو، مثلاً (بیوی سے ) کہا :تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے، یا (یوں کہا کہ) تیرا سر ،یا تیری گردن ،یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔“( بہار شریعت، ظہار کا بیان، جلد 2 ، حصہ 8، صفحہ 205، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
04ربیع الاول 1446ھ06 ستمبر 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری