مولوی طارق مسعود کے حضور علیہ السلام اور قرآنِ پاک کے متعلق بیان کی شرعی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ سوشل میڈیا پر ایک شخص بنام یوٹیوبر طارق مسعود کی ایک ویڈیو کافی وائرل ہوئی جس میں اس نے کہا: “جب ہمارے نبی نے قرآن لکھوایا تو چونکہ آپ لکھنا پڑھنا نہیں جانتے تھے تو بعض دفعہ کاتب سے گرائمر کی غلطی ہوئی لکھنے میں، ہمارے نبی نے اس کی کریکشن نہیں کی، آپ کو نہیں پتہ چلا کہ گرائمر کے لحاظ سے یہ غلط لکھا ہوا ہے تو اب تک اسی طرح لکھا ہوا ہے۔” پھر اس پر قرآن میں سے “لنسفعا بالناصیۃ” کی مثال دی کہ لنسفعا کے آخر میں جو الف کے ساتھ لکھا گیا ہے یہ لکھنا غلط ہے اور کہا کہ “یہ گرائمر کے لحاظ سے 100 فیصد غلط ہے۔” بعد میں اس کے وضاحتی بیان بھی گردش کر رہے ہیں جن میں اس کی تاویل ظاہری غلطی سے کی جا رہی ہے کہ مراد بظاہر غلطی ہے حقیقتاً نہیں اور منشا توہین نہیں تھا۔ سوال یہ ہے کہ اس طرح کی باتوں پر کیا حکم عائد ہوگا؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوال میں مذکور باتیں اور اس کا بیان سننے کے بعد یہ بات واضح ہے کہ یہ جملے نہایت بے باکانہ، انداز احمقانہ، استدلال باطلانہ اور علم ناقصانہ ہے۔ قائل پر بلا تاویل اعلانیہ توبہ وتجدید ایمان لازم ہے۔جو شخص یہ کہے کہ قرآن کا موجودہ اعراب منزل من اللہ کے خلاف ہے اگر چہ اس کا یہ قول کسی ایک آیت ہی کے بارے میں ہویااس میں کسی قسم کے بشری تصرفات کا قائل ہو وہ کافرو مرتد ہے۔ابھی تک جو طارق مسعود نے وضاحتی بیانات اگر مگر کرکے دیے ہیں یہ رجوع کے لیے ناکافی ہیں،اس پر لازم ہے کہ اپنے عقائد ونظریات اور موجودہ مکمل بیان سے توبہ کرے اور واضح کہے کہ حضور علیہ السلام اور قرآن کے متعلق جو میرا بیان ہے وہ بالکل غلط ہے۔
تفصیل اس کی درج ذیل ہے:
اولاً اس نے قرآن کریم میں غلطی ہونا ظاہر کیا، جو کہ اس کی اپنی کج فہمی کا ثبوت ہے کیونکہ قرآن مجید ظاہری، باطنی، حقیقی، مخفی، سمعی، نقلی، ہر طرح کی غلطی سے پاک، مبرہ و منزہ ہے۔ یہ تو سرچشمۂ ہدایت و معرفت ہونے کے ساتھ ساتھ قواعد نحو و صرف کا بنیادی مآخذ ہے۔ اس میں کسی قسم کی کوئی غلطی نہ گرائمر کے لحاظ سے ہے اور نہ ہی فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اور نہ ہی رسم الخط کے لحاظ سے، یہی تو اس مبارک کلام کا اعجاز ہے کہ اس میں غلطی کا تصور ہی نہیں کیونکہ یہ کتاب مبین خدائے عظیم کی طرف سے محفوظ ہے اور رب ذو الجلال کی محفوظ کردہ شے میں غلطی محال ہے۔ نیز اس لیے کہ کلام میں ایسی غلطی کا ہونا شک کو راہ دیتا ہے حالانکہ یہ وہ بلند رتبہ کتاب ہے جس میں کسی قسم کے شک کی کوئی گنجائش نہیں، جس کا بیان آغازِ قرآن ہی میں فرما دیا گیا۔
لَنَسْفَعًا میں کوئی غلطی نہ ہونا
اس شخص نے جس آیت کا ذکر کیا وہ آیت کریمہ مع ترجمہ یہ ہے: ﴿كَلَّا لَىٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ ﳔ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِ (۱۵)﴾ ترجمہ کنزالعرفان: ہاں ہاں یقینا اگر وہ باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔
(پارہ نمبر 30، سورۃ العلق 96، آیت نمبر 15)
پہلی بات تو یہ کہ ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ پورا قرآن بشمول اس آیت کے، حق و سچ ہے اور ہر قسم کی غلطی سے پاک ہے، جیسا کہ اوپر بیان ہوا۔ لہذا اس آیت کے لفظ “لَنَسْفَعًا” میں بھی کوئی غلطی نہیں، یہ کلمہ ظاہراً صورۃً بھی بالکل صحیح سالم بے غبار ہے۔ یہاں بات صرف اس قدر ہے کہ آخر میں تنوین اور یہ الف کیوں آیا؟ تو اس پر کئی ماہرین ادب اور نحوی حضرات نیز مفسرین عظام نے اجمالاً و مفصلاً روشنی ڈالی ہے۔ آسان سی بات سمجھنے کے لیے صرف اتنی ہے کہ یہ الف نونِ خفیفہ کا بدل ہے جو کہ حالت وقف کے لحاظ سے اور حالتِ وقف کی رعایت کرتے ہوئے کتابت میں مرسوم ہوتا ہے کیونکہ نون خفیفہ تنوین کے عین مشابہ ہے کہ دونوں درحقیقت نون ساکن ہیں، اس لیے اسے تنوین و الف کی صورت میں لکھ دیا جاتا ہے، تنوین و الف کے ساتھ لکھنے کا یہ انداز بصری حضرات کا مختار مذہب ہے جو کہ سو فیصد درست و کلام عرب میں رائج ہے، البتہ کوفی رسم الخط میں نون خفیفہ واضح الگ لکھا جاتا ہے۔ (مزید تفصیل جزئیات میں آ رہی ہے۔)
دوسری بات یہ کہ جو قرآنیات کا ادنی سا بھی علم رکھنے والا ہو گا وہ یہ بات با آسانی جان سکے گا کہ یہ کلمہ بالکل قاعدے کے مطابق درست مرسوم ہے ، نہ اس میں نحو سے ٹکراؤ ہے، نہ صرف سے، نہ لغت عرب سے اور نہ ہی قواعد رسم الخط سے، بلکہ بعد کے علمائے نحو و لغت وغیرہ نے اسی کلمہ سے اس قاعدہ کو مضبوط کیا ہے اور بطور دلیل یہ کلمہ پیش کیا ہے، اور حیرت بالائے حیرت یہ کہ موصوف اس قاعدے کے اصل مآخذ کو ہی غلط کہہ رہا ہے۔
تیسری بات یہ کہ اس طرح لکھنا یا جس قاعدے کے تحت یہ ایسے لکھا گیا وہ صرف قرآن کریم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کلام عرب میں شائع ذائع ہے، اس کی متعدد مثالیں فصیح عربی میں دیکھی جا سکتی ہیں جن میں سے چند مندرجہ ذیل جزئیات میں ضمنا پیش کی جاتی ہیں، مگر فصاحت عرب سے کما حقہ واقف ہونا سخت دشوار، پھر بھی افصح العرب، صاحب جمع الجوامع ﷺ اور آپ کے ان رفقا و عقلا صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر مجال اعتراض کہ جو لسان عرب کی باریکیوں سے واقف اور رسم الخط کے ماہر نکتہ داں تھے! آخر کیوں نبی آخر الزمان ﷺ نے کتابت قرآن کے لیے مخصوص صحابۂ کرام ہی کو مقرر فرمایا جبکہ کثیر صحابہ موجود تھے؟ اس طرف بھی اس کی توجہ مبذول نہ ہوئی۔ حالانکہ روایات سے یہ بھی ثابت ہے کہ نبی مکرم ﷺ حروف کی بناوٹ و ساخت ، یہاں تک کہ ان کی خوبصورتی و خوش اسلوبی وغیرہ سے کامل طور پر واقف تھے بلکہ آپ ﷺ نے خود خوش وضع رسم الخط کے حوالے سے صحابہ کو تلقین فرمائی۔
چوتھی بات یہ کہ دور رسالت مآب ﷺ میں اعراب لگانے کی بحث تھی کہاں؟ کہ یہاں تنوین آئے اور یہاں نہ آئے؟ یہ سب تو بعد کی ایجاد ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اعراب تو اعراب، اس دورِ مہتم بالشان میں نقطوں کی بھی حاجت نہیں ہوتی تھی۔ صحابۂ کرام بغیر نقطوں اور بغیر اعراب کے قرآن کریم درست تلاوت کیا کرتے اور سیکھتے سکھاتے۔ قرآن کریم پر نقطے لگانے کی ابتدا تو ابو الاسود دئلی نے کی اور حجاج بن یوسف کے دور میں اعراب لگانے کا کام ہوا۔ اب آج کے کسی مُلا کا اٹھ کر یہ کہنا کہ لکھنے والے صحابی سے غلطی ہوگئی، اس لیے یہاں تنوین پڑ گئی، اور معاذ اللہ! اس پر طرہ یہ کہ نبی کریم ﷺ کو اس غلطی کا پتہ نہ چل سکا، محض باطل و مردود بات ہے۔ ارے یہ تو وہ ہستیاں تھیں جنہیں معرفتِ قرآن کے لیے اعراب و نقاط کا سہارے لینے کی بھی حاجت نہیں پڑتی تھی، اور یہاں یہ موصوف، کیا پدّی، کیا پِدّی کا شوربا۔
پانچویں بات یہ کہ قرآنی رسم الخط اجتہادی نہیں بلکہ توقیفی ہے کہ صاحب شریعت ﷺ کی عطا کردہ رہنمائی کے عین مطابق مرسوم ہوا، جہاں جو الف، واؤ، یا وغیرہ زائد نظر آتا ہے وہ شرع مطہرہ کی مرضی سے ہی جلوہ گر ہے۔ اسی طرح خلیفہ ثالث سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ نے مصحف شریف تیار کیا اور اسلامی علاقوں میں ارسال کیا اور اسی مصحف کی اتباع تمام امت پر واجب ٹھہری۔ اس مصحف کا ہر حرف، ہر حرکت، ہر اعراب منزل من اللہ کے عین مطابق ہے۔ کوئی بھی شخص خود سے کسی حرفِ قرآنی بلکہ کسی نقطۂ قرآنی میں بھی کوئی کمی بیشی کرنے کا مجاز نہیں ہے، بلکہ حکم شرعی یہ ہے کہ جو قرآن کریم میں بشری تصرف مانے یا اس کا احتمال جانے وہ کافر و مرتد ہے۔
چھٹی بات یہ کہ اس شخص نے قرآن مجید کی آیت مبارکہ کی عیب جوئی کی، حالانکہ یہ اپنے نام کے ساتھ مفتی لکھتا اور کہلواتا ہے کیا یہ واضح ارشادِ فقہا اس کی نظر سے نہیں گزرا کہ جو قرآن کی کسی آیت کو عیب لگائے وہ کافر ہے؟ پھر بھی ایسی جسارت۔ افسوس! نام کے ساتھ مفتی کا ٹائٹل لگانا آسان ہے مگر منصب افتا سے کما حقہ آشنا ہونا اور عبارات فقہا کا صحیح تفہم رکھنا چیزے دیگر ہے۔
ساتویں بات یہ کہ اس نے اپنی معلومات کی کمی کو قرآن کی غلطی کہہ دیا حالانکہ اسے یہ تک نہ سوجھی کہ اس کا یہ قول شنیع صرف قرآن یا صاحب قرآن ﷺ پر ہی نہیں بلکہ ذات باری تعالیٰ پر بھی اعتراض کا موجب ٹھہرے گا، کہ معاذ اللہ عز وجل اگر اس کے گمانِ خبیث میں نبی مکرم ﷺ جو معلم کائنات ہیں انہیں بھی اس غلطی کا علم نہ ہوا، تو وہ رب کریم جس کا یہ کلام عزیز ہے، اور جس کے شک و شبہ اور ہر طرح کے ٹیڑھ پن سے پاک ہونے کا خود وہ اعلان فرماتا ہے، اس میں ایسا نقص رہ گیا اور اس نے وحی کے ذریعے اس پر تنبیہ نہ فرمائی، معاذ اللہ! یہ تو شان باری تعالیٰ کو مرجوح کرنے والی بات ہوئی،نستغفر الله العظيم۔
آٹھویں بات یہ کہ دیکھا جائے تو اس سے ایسی عیب دار گفتگو بعید نہیں تھی، یقیناً جب اس کے بڑے بوڑھے نبی کو معاذ اللہ بس ایلچی کی حیثیت سے یاد کرتے اور گستاخانہ عبارات چھوڑ کر گئے تو ان کو پڑھ کر تیار ہونے والے نام نہاد عالم سے قرآن و صاحب قرآن ﷺ کی عیب گیری دور دَست متصور نہیں۔ اس کے اکابر قادیانیوں کے لیے راہ ہموار کر گئے اور اُن کے اصاغروں میں سے یہ ملحدین و رافضیوں کے لیے راہیں کشادہ کیے دیتا ہے۔
نویں اور اہم ترین بات یہ کہ جناب رسالت مآب ﷺ کو جس انداز میں اس نے اپنے بیان میں ذکر کیا، کم از کم ایک عاشق رسول تو ہرگز یہ گوارا نہیں کر سکتا۔ اس نے تو وہ مبارک صفت جو کہ نبی کریم ﷺ کی شانوں میں سے ایک اعلی شان ہے، جسے قرآن مجید نے شان مصطفی ﷺ کے طور پر بیان کیا، اس کی گفتگو و انداز بیان سے تو اس وصف عظیم کے ایک عیب و نقص ہونے کی بو آتی ہے۔ یہ بات واضح کر دینے کی ہے کہ ہمارے نبی کریم ﷺ “امی” لقب کے حامل ہیں جس سے مراد یہ ہے کہ ”آپ ﷺ نے کسی مخلوق سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا بلکہ خالق کریم نے آپ کو تعلیم فرمائی ہے۔“ یہی معنی شان رسالت کے لیے موزوں ہے۔ اس سے مراد ہرگز یہ نہیں کہ آپ ﷺ کو اصلاً پڑھنا لکھنا نہیں آتا تھا ، بلکہ آپ کا پڑھنا کتبِ احادیث و سیرت سے ثابت ہے۔ اس لقب سے اَن پڑھ ہونے کا مفہوم نکالنا، اور یہ کہنا کہ نہ آپ ﷺ پڑھنا جانتے تھے نہ ہی لکھنا ، یہ سخت بے ادبی اور خیرہ چشمی ہے۔
دسویں بات یہ کہ موصوف نے نبی پاک ﷺ کی پیروی کرنے کے حوالے سے دو تقسیمات کر ڈالیں؛ بشری حالت اور پیغمبری حالت، مقصود یہ کہ پیغمبری حالت کی پیروی ہوگی بشری کی نہیں، حالانکہ یہ تقسیم کاری بے جا ہے۔ نبی مکرم ﷺ کی ذات والا صفات تو سرتا پہ کامل نمونۂ حیات ہیں۔ ماسوائے خصائص کریمہ کے آپ ﷺ کی زندگی کی ہر حالت ہمارے لیے پیروی کی اعلی مثال ہے۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کا انداز تکلم، آپ ﷺ کا انداز طعام، آپ ﷺ کا انداز حضر و قیام، آپ ﷺ کا انداز آرام، آپ ﷺ کا انداز محبت، آپ ﷺ کا انداز عبادت، آپ ﷺ کا انداز شفقت، آپ ﷺ کا انداز لباس، آپ ﷺ کا انداز زندگانی، المختصر آپ ﷺ کا ہر انداز اور ہر حالت اسباق کے خزینے اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ علمائے کرام نے باقاعدہ سنن زوائد کے باب قائم کیے ہیں یعنی وہ کام جو نبی اکرم ﷺ نے بشری تقاضوں کی وجہ سے سر انجام دئیے، بلاشبہہ ان میں بھی آپ ﷺ کی پیروی کرنا بے پناہ فیوض و برکات اور فوائد و کمالات کا موجب ہے۔ لہذا یہ تقسیم کر کے اطاعتِ رسول ﷺ کو مخصوص حالت کے ساتھ مقید کرنا قرآن کریم کے اطلاق پر ایک قید کا اضافہ کرنے کے مترادف تصور ہوگا۔ تلك عشرة كاملة، وما توفیقی الا باللہ۔
آخر میں یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ اب تک موصوف کے تین وضاحتی پیغام آ چکے ہیں مگر تقریباًبے سود، اس طرح اگر مگر، چونکہ چنانچہ اور تاویلات باطلہ کی سعئ مذموم کی بجائے، واضح انداز میں توبہ و صریح رجوع کر لیا جائے اور توبہ کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سابقہ جملوں کو غلط قرار دیا جائے۔ آخر مجمل رجوع یا اگر مگر کے ساتھ معذرت ریکارڈ کروانا کس کام کا؟ جبکہ اس بات پر اب تک اَٹے ہونا اور ان مقدمات کو درست سمجھنا اب تک قائم ہے جن سے بے ادبی صاف جھلک رہی تھی، صرف الفاظ کے چناؤ کی غلطی کہہ کر کیا ان تمام تحفظات کی کاٹ ہو گئی جو قرآن و صاحب قرآن ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ذات پر اٹھائے تھے۔ بات صریح رجوع اور بلا تاویل توبہ کے ساتھ ساتھ سابقہ کلام کو غلط قرار دے کر امت کی تشویش دور کرنے کی بھی ہے۔ نیز واضح رہے! وہ لوگ جو بلا وجہ موصوف کے ساتھ ہمدردی اور دفاع کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں بھی سوچنا چاہیے! کسی شخص کو بچانے کی خاطر اس حد تک نہ چلے جائیں کہ بات ذاتِ رسول ﷺ یا حرمتِ قرآن کریم تک جا پہنچے، اس لیے کہ سب کچھ بعد میں پہلے ہمارا ایمان اور حرمتِ جان ایمان ہے، واللہ الموفق۔
با ادب ہے با نصیب اے اہل دیں
…
بے ادب سے بد نصیبی ہے قریں
(جمیل الرحمن رضوی)
فرش تا عرش سب آئینہ ضمائر حاضر
…
بس قسم کھائیے اُمی تِری دانائی کی
(امام اہل سنت)
دلائل و جزئیات
قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)﴾ ترجمہ کنز العرفان: بے شک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بے شک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
(پارہ نمبر 14، سورۃ الحجر 15، آیت نمبر 9)
علامہ نظام الدین حسن بن محمد نیشاپوری (المتوفی: 850ھ) اس آیت کریمہ کے تحت تفسیر نیشاپوری میں لکھتے ہیں: ”حفظ بالدرس والبحث ولم يزل طائفة يحفظونه ويدرسونه ويكتبونه في القراطيس باحتياط بليغ وجد كامل حتى إن الشيخ المهيب لو اتفق له لحن في حرف من كتاب الله لقال له بعض الصبيان: أخطأت. ومن جملة إعجاز القرآن وصدقه أنه سبحانه أخبر عن بقائه محفوظا عن التغيير والتحريف“ ترجمہ: قرآن کریم کو درس و بحث کے ذریعے محفوظ کیا گیا اور ہمیشہ سے ایک جماعت اِسے حفظ کرتی، پڑھاتی اور کاغذوں پر بڑی احتیاط اور مکمل جدوجہد کے ساتھ لکھتی چلی آ رہی ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی با رعب بزرگ آدمی قرآن پاک کے کسی حرف میں غلطی کر بیٹھتا تو بعض بچے ہی فوراً اسے کہہ دیتے: آپ نے غلطی کر دی ہے۔ اور قرآن پاک کے معجزات اور اس کی سچائیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود اس کے تحریف و تبدیلی سے سدا محفوظ رہنے کی خبر دی ہے۔
(غرائب القرآن ورغائب الفرقان ، جلد نمبر4 ،صفحه نمبر 211-212، مطبوعه: دار الکتب العلمیة، بيروت)
علامہ سلیمان بن عمر شافعی جمل (المتوفی: 1204ھ) تفسیر جمل میں رقم طراز ہیں: ” وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ بخلاف سائر الكتب المنزلة، فقد دخل فيها التحريف والتبديل بخلاف القرآن، فإنه محفوظ من ذلك لا يقدر أحد من جميع الخلق الإنس والجن أن يزيد فيه أو ينقص منه حرفاً واحداً أو كلمة واحدة“ ترجمہ: اور بے شک ہم خود اس (قرآن) کی حفاظت کرنے والے ہیں، برعکس دوسری نازل شدہ کتابوں کے کہ ان میں تحریف اور تبدیلی داخل ہو چکی ہے بخلاف قرآن کریم کے، کیونکہ قرآن مجید اس سے محفوظ ہے۔ تمام مخلوق، چاہے وہ انسان ہو یا جن، کسی میں بھی یہ طاقت نہیں کہ قرآن کریم میں کوئی ایک حرف یا کوئی ایک لفظ بڑھا دے یا کم کر دے۔
(الفتوحات الإلهية بتوضيح تفسير الجلالين للدقائق الخفية ، جلد نمبر4 ،صفحه نمبر 173، مطبوعه: دار الکتب العلمیة، بيروت)
قاضی ابو الفضل عياض بن موسى مالکی (المتوفی: 544ھ) کی مایہ ناز تالیف الشفا بتعريف حقوق المصطفى اور اس پر موجود علامہ نور الدین ملا علی قاری (المتوفی: 1014ھ) کی شرح الشفا میں ہے: ”﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ (أي من التحريف بالزيادة والنقصان مما تواتر عند علماء الأعيان من قراء الزمان) فكان كذلك لا يكاد يعدّ من سعى في تغييره وتبديل محكمه فما قدروا (أي القرامطة وغيرهم من الملاحدة ونحوهم)على إطفاء شيء من نوره ولا تغيير كلمة من كلامه ولا تشكيك المسلمين في حرف من حروفه (أي لا من حروف مبانيه ولا من حروف معانيه ولا ترديدهم في اعراب بل ونقطة مما ينافيه في باب “ ترجمہ: ہم نے ہی اس ذکر (قرآن) کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، (اس میں ہر قسم کی) تحریف، کمی و زیادتی سے، یعنی جو زمانے کے ممتاز علمائے کرام اور قاریانِ قرآن کے ہاں متواتر طور پر ثابت ہے، پس یہ اسی طرح موجود ہے۔ اور بہت سے لوگ قرآن کو تبدیل کرنے اور اس کے محکم احکام کو بدلنے کی کوشش میں مصروف رہے، مگر وہ یعنی قرامطہ اور دیگر ملحدین وغیرہ (جنہوں نے یہ ناپاک کوششیں کیں) کبھی قرآن کے نور کو ماند کرنے یا اس کلام کے کسی کلمہ کو تبدیل کرنے یا مسلمانوں کو اس کے کسی حرف کے متعلق شک میں مبتلا کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے، یعنی نہ حروفِ مبانی میں سے اور نہ ہی حروفِ معانی میں سے، حتی کہ اس کے کسی اعراب بلکہ کسی نقطے کے بارے میں بھی کوئی شبہ پیدا نہ کر سکے اس سے جو باب میں اس کے منافی ہو۔
(شرح الشفا ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 564-565ملتقطا، مطبوعه: دار الکتب العلمیة، بيروت)
صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی (المتوفی: 1367ھ) تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں: ”(بےشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں) کہ تحریف و تبدیل و زیادتی و کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں۔ تمام جن و انس اور ساری خلق کے مقدور (بَس) میں نہیں ہے کہ اس میں ایک حرف کی کمی بیشی کرے یا تغییر و تبدیل کرسکے اور چونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لیے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے دوسری کسی کتاب کو یہ بات میسر نہیں۔“
(تفسیر خزائن العرفان ،صفحه نمبر 490، مطبوعه: مکتبۃ المدینہ کراچی)
قرآن کریم میں کسی شک کی گنجائش قطعاً نہیں ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: ﴿ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ﴾ ترجمہ کنزالعرفان: وہ بلند رتبہ کتاب جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
(پارہ نمبر 1، سورۃ البقرة 2، آیت نمبر 2)
علامہ فخر الدین ابو عبد الله محمد بن عمر رازی (المتوفی: 606ھ) اپنی تفسیر کبیر میں مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں:”ان قوله: لا ريب نفي لماهية الريب ونفي الماهية يقتضي نفي كل فرد من أفراد الماهية، لأنه لو ثبت فرد من أفراد الماهية لثبتت الماهية، وذلك يناقض نفي الماهية، ولهذا السر كان قولنا: «لا إله إلا الله» نفيا لجميع الآلهة سوى الله تعالى“ ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿لَا رَیْبَ﴾ (کوئی شک نہیں) میں ماہیتِ شک (یعنی اس کی حقیقت) کی نفی کی گئی ہے، اور کسی شے کی ماہیت کی نفی کا مطلب اس ماہیت کے تمام افراد کی نفی ہوتا ہے، کیونکہ اگر اس ماہیت کا کوئی فرد ثابت ہو جائے تو ماہیت خود بھی ثابت ہو جاتی ہے، اور یہ ماہیت کی نفی کے منافی ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے کلمے “لا إله إلا الله” (اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں) کا راز تمام معبودوں کی نفی کرنا ہے، سوائے اللہ تعالیٰ کے۔
(التفسير الكبير ، جلد نمبر2 ،صفحه نمبر 266، مطبوعه: دار إحياء التراث العربي بيروت)
نون خفیفہ کو تنوین کے ساتھ لکھنے کی بحث، چنانچہ امام النحو عمرو بن عثمان سیبویہ (المتوفی: 180ھ) الکتاب میں لکھتے ہیں: ”اعلم أنَّه إذا كان الحرف الذي قبلها مفتوحا ثم وقفت جعلت مكانها ألفا كما فعلت ذلك في الأسماء المنصرفة حين وقفت؛ وذلك لأنَّ النون الخفيفة والتنوين من موضعٍ واحد، وهما حرفان زائدان، والنون الخفيفة ساكنة كما أنَّ التنوين ساكن، وهي علامة توكيد كما أنَّ التنوين علامة المتمكن، فلمَّا كانت كذلك أجريت مجراها في الوقف، وذلك قولك: اضربا: إذا أمرت الواحد وأردت الخفيفة“ ترجمہ: جان لو کہ جب نونِ خفیفہ سے پہلے والا حرف مفتوح ہو اور تم (اس پر) وقف کرو، تو نون کی جگہ الف رکھو گے، جیسے تم اسمائے منصرفہ پر وقف کرتے وقت کرتے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نونِ خفیفہ اور تنوین ایک ہی مقام سے ہیں (یعنی ان کا مخرج ایک ہی ہے) اور دونوں زائد حرف ہیں۔ نونِ خفیفہ ساکن ہوتا ہے جیسے کہ تنوین ساکن ہوتی ہے، اور نونِ خفیفہ علامت تاکید ہے جیسے کہ تنوین علامت متمکن ہے۔ لہٰذا جب یہ اس کی طرح ہی ہے (یعنی ان دونوں میں اتنی مشابہت ہے)، تو نونِ خفیفہ کو وقف میں تنوین کی طرح ہی برتا جاتا ہے۔ اور وہ تمہارا “اضربا” کہنا جب تم اِس سے ایک شخص کو حکم دیتے ہو اور نون خفیفہ کا ارادہ کرتے ہو ( تو اس میں نونِ خفیفہ کی جگہ الف لگا دیتے ہو)۔
(الكتاب لسيبويه ، جلد نمبر3 ،صفحه نمبر 521، مطبوعه: مكتبة الخانجي، القاهرة)
ابو عباس محمد بن یزید مبرد (المتوفی 285ھ) المقتضب میں لکھتے ہیں: ”فالألف تكون بدلا من كل واحدة منهما كما وصفت لك وتكون بدلا من التنوين المفتوح ما قبله في الوقف نحو رأيت زيدا ومن النون الخفيفة لأنها كالتنوين إذا انفتح ما قبلها تقول اضربن زيدا فإذا وقفت قلت اضربا وفي قوله “لنسفعن بالناصية” والوقف “لنسفعا”“ ترجمہ: پس “الف” ان دونوں (تنوین اور نون خفیفہ) میں سے ہر ایک کے بدلے آتا ہے، جیسا کہ میں نے آپ کو بیان کیا۔ یہ وقف کے دوران تنوین مفتوحہ کی جگہ پر بھی آتا ہے، جیسے کہ “رأيتُ زيدًا” کہنے پر، اور نون خفیفہ کی جگہ بھی آتا ہے کیونکہ نون خفیفہ تنوین کی طرح ہی ہوتا ہے جب اس سے پہلے حرف پر فتحہ ہو، (جیسے کہ) آپ کا کہنا: “اضربَن زيدًا” مگر جب آپ وقف کرتے ہیں تو کہتے ہیں: “اضربا” ۔ اور اللہ کریم کے قول “لنسفعن بالناصية” میں بھی ایسا ہی ہے، اور وقف کے ساتھ “لنسفعا”کہا جائے گا۔
(المقتضب ، جلد نمبر1،صفحه نمبر 61، مطبوعه: عالم الکتب بيروت)
شیخ ابو بکر عبد القاہر بن عبد الرحمن جرجانی (المتوفی: 471ھ) مفتاح میں لکھتے ہیں: ”وأما النون: فقد أبدلت ألفاً في حال النصب، نحو: رأيت زيدا، وكلّمت بكراً ، وكذا في أمر الواحد بالنون الخفيفة إذا أنفتح ما قبلها، في نحو: اضرِبا، يريد: اضْرِبَنْ، قال الله تعالى “لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ” ، إِذا وقفت قلت: لَنَسْفَعَا“ ترجمہ: جہاں تک نون کا تعلق ہے، تو اسے حالتِ نصب میں “الف” سے بدل دیا جاتا ہے، جیسے: “رأيت زيدًا” (میں نے زید کو دیکھا) اور “كلمت بكرًا” (میں نے بکر سے کلام کیا) ۔ اسی طرح صیغہ واحد فعلِ امر جو نون خفیفہ کے ساتھ ہو اس میں جب اس سے پہلے حرف پر فتحہ ہو، جیسے “اضربا”کہنے والا اس سے “اضربَن” کا ارادہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ”، جب یہاں تم وقف کرو تو “لَنَسْفَعَا” ہوگا۔
(المفتاح في الصرف ، صفحه نمبر 93، مطبوعه: مؤسسة الرسالة بيروت)
صدر الافاضل قاسم بن حسین خوارزمی (المتوفی: 617ھ) شرح مفصل میں لکھتے ہیں: ”والنون الخفيفة تبدل ألفًا عند الوقف نحو قوله تعالى: “لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ . نَاصِيَةٍ” :لَنَسْفَعًا، قال الأعشى:* ولا تَعْبُدِ الشَّيطانَ واللهَ فاعبُدَا * قالَ المُشَرِّحُ: هذا كما تُجعل الألف نونًا في إنشاد بني تميم في نحو قول جرير.والحزم في هذه المسألة أن النون الخفيفة شبيهة بالتنوين والفتحة شبيهة بالنَّصبة، وأنت إذا وقفت على المنصوب المنون وقفتَ عليه بالأَلف كذلك هذا. ما قبل البيت:*فإيَّاك والمَيْتات لا تَقْرَبَنَّها * ولا تأخذن سَهْمًا حديدًا لتَفْصِدَا… الخ“ترجمہ: نونِ خفیفہ وقف کے وقت الف سے بدل جاتا ہے، جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: “لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ . نَاصِيَةٍ” کا لفظِ “لَنَسْفَعَا”۔ (یوں ہی) شاعر اعشی نے کہا: “ولا تعبدِ الشيطانَ واللهَ فاعبُدا”۔ مشرح نے کہا: ایسے ہی بنو تمیم کے شعرا الف کو نون میں بدلتے ہیں، جیسا کہ جریر کی شاعری میں ملتا ہے۔ اس مسئلے میں بہترین نقطہ یہ ہے کہ نونِ خفیفہ تنوین کے مشابہ ہوتا ہے اور زبر نصب کی مانند ہوتی ہے، اور جب تم منون منصوب پر وقف کرتے ہو تو اس پر الف کے ساتھ وقف کرتے ہو (یعنی الف پڑھتے ہو)، اسی طرح یہاں بھی معاملہ ہے۔ اس سے پہلے کے اشعار (پر بھی غور کرو)”فإيَّاك والمَيْتات لا تَقْرَبَنَّها…تأخذن سَهْمًا حديدًا لتَفْصِدَا…اھ.۔
(شرح المفصل في صنعة الإعراب ، جلد نمبر 4،صفحه نمبر 246، مطبوعه: دار الغرب الإسلامي، بيروت)
علامہ ابو حسن علی بن محمد سخاوی (المتوفی: 643ھ) شرح شاطبیہ میں لکھتے ہیں: ” *أخِي أَيُّهَا المُجْتَازُ نَظْمِي بِبِابِه … يُنَادَى عَلَيْهِ كَاسِدَ السُّوقِ أَجْمِلا* أجمل من قولهم: أَحْسَنَ فلانٌ وأجملَ، وأبدل من النون ألفاً للوقف كما في قوله: تعالى “لنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَة” تشبيهاً بالتنوين في الاسم المنصوب، ومثله قول الشاعر:*توسمت كلبيه فقلت لصاحبي … هما شاهدا عدل له فتوسَّما* … وقال الأعشى:*فإياك ذو الأنصاب لا تقربنها … ولا تعبد الشيطان والله فاعبدا* “ ترجمہ: أخِي أَيُّهَا المُجْتَازُ نَظْمِي بِبِابِه – يُنَادَى عَلَيْهِ كَاسِدَ السُّوقِ أَجْمِلا، ان کے قول میں لفظ اجمل بمعنی فلاں بہت حسین و جمیل ہے، (اس میں) وقف کی وجہ سے نون کو الف سے بدل دیا گیا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان “لَنَسْفَعَنْ بِالنَّاصِيَةِ” میں ہے، کیونکہ یہ اسمِ منصوب کی تنوین سے مشابہ ہے۔ اور اسی کی مثل شاعر کا قول:”توسمتُ کلبيه فقلتُ لصاحبي- هما شاهدا عدل له فتوسَّما”۔ … اور (اسی طرح) شاعر اعشی نے کہا: “فإياك ذو الأنصاب لا تقربنها- ولا تعبد الشيطان والله فاعبدا”۔
(فتح الوصيد في شرح القصيد ، جلد نمبر 1،صفحه نمبر 256، مطبوعه: مكتبة دار البيان للنشر والتوزيع الكويت)
امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی (المتوفی: 911ھ) ھمع الھوامع میں لکھتے ہیں: ”أبدلت ألفا بعد الفتح إجماعا كقولك في اضربن اضربا وفي التنزيل “لنسفعا” ولذلك رسم بالألف على نية الوقف“ ترجمہ: فتح کے بعد آنے والے نون خفیفہ کو الف سے بدل دیا جاتا ہے، اس پر اجماع ہے۔ جیسا کہ تمہارا:”اضربن” کو “اضربا” کہنا، اور قرآن پاک میں “لنسفعا” (کی بھی یہی صورت) ہے۔ اسی وجہ سے اسے الف کے ساتھ لکھا گیا ہے، وقف کی نیت کے ساتھ۔
(همع الهوامع في شرح جمع الجوامع ، جلد نمبر 2،صفحه نمبر 618، مطبوعه: المكتبة التوفيقية مصر)
مزید ایک مقام پر لکھتے ہیں: ”والفعل المؤكد بالنون الخفيفة نحو: “لنسفعا” [العلق: 15] و “وليكونا” [يوسف: 32] ما لم يخف لبس فإن خيف نحو اضربن زيدا ولا تضربن زيدا كتب بالنون ولم يعتبر بحالة الوقف لأنه لو كتب بالألف لالتبس بأمر الاثنين أو نهيهما في الخط“ ترجمہ: نون خفیفہ سے مؤکد شدہ فعل، جیسے: “لنسفعا” اور “وليكونا”، یہ اس صورت میں ہے جب التباس کا خوف نہ ہو۔ اگر اس کا خوف ہو، جیسے: “اضربن زيدا” اور “لا تضربن زيدا”، تو اسے نون کے ساتھ لکھا جاتا ہے اور اس وقت وقف کی حالت کو مدنظر نہیں رکھا جاتا، کیونکہ اگر (اس صورت میں) اسے الف کے ساتھ لکھا جائے تو دو چیزوں کے حکم یا ان سے نہی کے مابین لکھنے میں التباس واقع ہو جائے گا۔
(همع الهوامع في شرح جمع الجوامع ، جلد نمبر 3،صفحه نمبر 501، مطبوعه: المكتبة التوفيقية مصر)
قوام السنہ علامہ ابو قاسم اسماعیل بن محمد اصبہانی (المتوفی: 535ھ) اعراب القرآن میں لکھتے ہیں: ”و النون في لنسفعن: نون التوكيد الخفيفة، والاختيار عند البصريين أن تكتب بالألف؛ لأنّ الوقف عليها بالألف، واختار الكوفيون: أن تكتب بالنون، لأنها نونٌ في الحقيقة“ ترجمہ: کلمہ لنسفعن میں نون، نونِ تاکید خفیفہ ہے۔ بصریوں کے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ اسے الف کے ساتھ لکھا جائے، کیونکہ اس پر وقف بھی الف کے ساتھ ہوتا ہے، جبکہ کوفیوں نے یہ قول اختیار کیا ہے کہ اسے نون کے ساتھ لکھا جائے، کیونکہ حقیقت میں یہ نون ہی ہے۔
(إعراب القرآن للأصبهاني ، صفحه نمبر 535، مكتبة الملك فهد الوطنية الرياض)
حافظ منتجب ہمذانی (المتوفی: 643ھ) کتاب فرید میں لکھتے ہیں: ”والجمهور على تخفيف هذه النون، والوقف عليها بالألف، لانفتاح ما قبلها تشبيهًا بالمنون المنصوب، وكذلك كُتِبتْ في “الإمام” بالألف على حكم الوقف، وقرئ: “لنسفعنَّ” بالنون المشددة ، وهي أبلغ في التوكيد من المخففة، وعن ابن مسعود رضي الله عنه: “لأسْفَعَنْ” بالهمزة مكان النون ، والوجه ما عليه الجمهور، لأجل “الإمام” مصحف عثمان رضي الله عنه“ ترجمہ: اور جمہور علما کا مؤقف اس نون تاکیدی کے مخفف ہونے کا ہے، اور تنوین منصوب کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے اس پر الف کے ساتھ وقف ہوگا، اس سے پہلے کا حرف مفتوح ہونے کے باعث ۔ اسی لیے اسے امام (مصحف عثمانی) میں حکمِ وقف پر الف کے ساتھ لکھا گیا ہے۔” لنسفعنَّ” نون مشدد کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، جو کہ تاکید میں مخفف کی بنسبت زیادہ بلیغ (مؤثر) ہے۔ نیز حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے “لأسْفَعَنْ” نون کی جگہ ہمزہ کے ساتھ ہونے کی روایت بھی ہے، مگر جمہور کا موقف ہی صحیح ہے، امام یعنی مصحف عثمان رضی اللہ عنہ (کے مطابق ہونے) کی وجہ سے۔
(الكتاب الفريد في إعراب القرآن المجيد ، جلد نمبر 6،صفحه نمبر 431، مطبوعه: دار الزمان للنشر والتوزيع، المدينة المنورة)
محی السنہ علامہ ابو محمد حسین بن مسعود بغوی (المتوفی: 510ھ) تفسیر بغوی میں لکھتے ہیں: ”ونون التوكيد تثقل وتخفف، والوقف على قوله: “ليسجنن” بالنون لأنها مشددة، وعلى قوله “وليكونا ” بالألف لأنها مخففة، وهي شبيهة بنون الإعراب في الأسماء، كقوله: رأيت رجلا وإذا وقفت، قلت: رأيت رجلا بالألف، ومثله: “لنسفعن بالناصية ناصية” (العلق -15، 16)“ ترجمہ: اور نون تاکید کبھی مشدد اور کبھی مخفف ہوتا ہے۔ اللہ پاک کے قول “لَيسجُنَنَّ” پر وقف نون کے ساتھ کیا جائے گا کیونکہ یہ نون مشدد ہے، اور اللہ پاک کے قول “وليكونا”پر وقف الف کے ساتھ کیا جائے گا کیونکہ یہ نون مخفف ہے، اور یہی نون معرب کے نون سے مشابہ ہے جو اسماء میں آتا ہے، جیسے: “رأيتُ رجلًا”(میں نے ایک مرد کو دیکھا)، اور اگر تم اس پر وقف کرو تو “رأيتُ رجلَا” الف کے ساتھ ہو گا۔ اسی طرح کا معاملہ “لنسفعن بالناصية” کا ہے۔
(معالم التنزيل في تفسير القرآن ، جلد نمبر4 ،صفحه نمبر 238، مطبوعه: دار طيبة للنشر والتوزيع)
علامہ ناصر الدین ابو سعید عبد اللہ بن عمر شیرازی بیضاوی (المتوفی: 685ھ) تفسیر بیضاوی شریف میں لکھتے ہیں: ”وقرئ لنَسْفَعَنَّ بنون مشددة و “لأسفعن” ، وكتابته في المصحف بالألف على حكم الوقف “ ترجمہ: اور یہ لفظ “لنَسْفَعَنَّ” نون مشدد کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اور “لَأَسْفَعَن” بھی پڑھا گیا ہے، البتہ مصحف شریف میں اس کی کتابت حکمِ وقف پر (وقف کے اصول کے مطابق) الف کے ساتھ ہے۔
(أنوار التنزيل وأسرار التأويل ، جلد نمبر 5،صفحه نمبر 326، مطبوعه: دار إحياء التراث العربي ، بيروت)
علامہ عصام الدین اسماعیل بن محمد حنفی قونوی (المتوفی:1195ھ) حاشیہ قونوی میں مذکورہ بالا عبارت کے تحت اور شیخ المحدثین محقق علی الاطلاق علامہ عبد الحق محدث دہلوی (المتوفی: 1052ھ) الاكليل على مدارك التنزيل میں لکھتے ہیں: ”الكتابة في المصحف أي في مصحف عثمان رضي الله تعالى عنه بالألف على حكم الوقف لأنه يوقف على النون الخفيفة بالألف تشبيها لها بالتنوين فعلم أن ما في المصحف النون الخفيفة فإن هذا لا يجري في النون المشددة والمراد بحكم الوقف الوصل على نية الوقف“ ترجمہ: مصحف یعنی مصحف عثمان رضی اللہ عنہ میں حکم وقف پر الف کے ساتھ لکھا گیا ہے، کیونکہ نون خفیفہ پر الف کے ساتھ وقف کیا جاتا ہے، اس کے تنوین سے مشابہت رکھنے کی وجہ سے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ مصحف میں یہاں نون خفیفہ ہی ہے، کیونکہ یہ قاعدہ نون مشدد پر جاری نہیں ہوتا۔ نیز حکم وقف سے مراد : وقف کی نیت پر وصل کرنا (یعنی دل میں وقف کے ارادے کے ساتھ زبان سے ملا کر پڑھنا) ہے۔
(حاشية القونوي على تفسير البيضاوي ، جلد نمبر 20،صفحه نمبر 362، مطبوعه: دار الکتب العلمیۃ ، بيروت)
(الاكليل على مدارك التنزيل، جلد نمبر 7،صفحه نمبر 600، مطبوعه: دار الکتب العلمیۃ ، بيروت)
علامہ ابو قاسم محمد بن احمد ابن جزی غرناطی (المتوفی: 741ھ) تفسير ابن جزي میں لکھتے ہیں: ”وأكد لنسفعن باللام والنون الخفيفة، وكتبت في المصحف بالألف مراعاة للوقف“ ترجمہ: اور “لنَسْفَعَن” کو لام اور نون خفیفہ کے ساتھ مؤکد کیا گیا، اور یہ مصحف میں حالت وقف کا لحاظ کرتے ہوئے الف کے ساتھ لکھا گیا ہے۔
(التسهيل لعلوم التنزيل ، جلد نمبر 2،صفحه نمبر 498، مطبوعه: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم بيروت)
شیخ ابو فدا اسماعیل حقی حنفی (المتوفی: 1127ھ) روح البیان میں سورۃ ق کی آیت نمبر 24 کے تحت لکھتے ہیں: ”ان الالف بدل من نون التأكيد على إجراء الوصل مجرى الوقف ويؤيده انه قرئ ألقين بالنون الخفيفة مثل لنسفعن فانه إذا وقف على النون تنقلب ألفا فتكتب بالألف على الوقف“ ترجمہ: یہ الف مقام وقف میں وصل کے اجرا پر نونِ تاکید کا بدل ہے۔ اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ اسے (یعنی لفظ القيا کو) نون خفیفہ کے ساتھ”القين” بھی پڑھا گیا ہے، جیسے کہ “لَنَسْفَعَن” ، کیونکہ جب اس نون پر وقف کیا جائے تو وہ الف میں تبدیل ہو جاتا ہے، لہذا اسے وقف کے طور پر الف کے ساتھ لکھ دیا جاتا ہے۔
(روح البيان ، جلد نمبر 9،صفحه نمبر 122، مطبوعه: دار الكتب العلمية بيروت)
نیز اسی میں سورۃ العلق کی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”لَنَسْفَعاً بِالنَّاصِيَةِ أصله لنسفعن بالنون الخفيفة للتأكيد ونظيره وليكونا من الصاغرين، كتب فى المصحف بالألف على حكم الوقف فانه يوقف على هذه النون بالألف تشبيها لها بالتنوين“ ترجمہ: “لَنَسْفَعاً بِالنَّاصِيَةِ” کا اصل “لنسفعن” ہے، جو تاکید کے لیے نونِ خفیفہ کے ساتھ ہے۔ اس کی ایک مثال “وليكونا من الصاغرين” ہے۔ ایسے نون خفیفہ کو مصحف میں حکم وقف پر الف کے ساتھ لکھا گیا ہے، کیونکہ اس نون کے تنوین سے مشابہ ہونے کی وجہ سے اس پر الف کے ساتھ وقف کیا جاتا ہے۔
(روح البيان ، جلد نمبر 10،صفحه نمبر 96، مطبوعه: دار الكتب العلمية بيروت)
شیخ شہاب الدین محمود بن عبد اللہ آلوسی (المتوفی: 1270ھ) روح المعانی میں لکھتے ہیں: ”وكتبت النون الخفيفة في قراءة الجمهور ألفا اعتبارا بحال الوقف فإنه يوقف عليها بالألف تشبيها لها بالتنوين وقاعدة الكتابة مبنية على حال الوقف والابتداء ومن ذلك قوله:”ومهما تشأ منه فزارة تمنعا” وقوله:”يحسبه الجاهل ما لم يعلما”“ ترجمہ: نونِ خفیفہ کو جمہور کی قراءت میں وقف کی حالت کا اعتبار کرتے ہوئے الف کے ساتھ لکھا گیا ہے، کیونکہ اس کے مشابہ بہ تنوین ہونے کی وجہ سے اس پر الف کے ساتھ وقف کیا جاتا ہے۔ پس کتابت (لکھنے) کا قاعدہ وقف اور ابتدا کی حالت پر مبنی ہے، اور اسی (قاعدے کے مطابق ترتیب دئیے گئے کلاموں) میں سے یہ اقوال ہیں: “ومهما تشأ منه فزارة تمنعا ” اور ” يحسبه الجاهل ما لم يعلما “۔
(روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني ، جلد نمبر 15،صفحه نمبر 409، مطبوعه: دار الكتب العلمية بيروت)
نزول قرآن سے پہلے قریش میں رسم الخط اور لغت کی تعلیم شروع ہو جانے کے متعلق، شیخ محمد عبد العظیم زرقانی (المتوفی: 1367ھ) نے لکھا: ” معروف أن الأمة العربية كانت موسومة بالأمية مشهورة بها لا تدري ما الكتابة ولا الخط. وجاء القرآن يتحدث عن أميتها هذه فقال: ﴿هُوَ الَّذِیْ بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ ۗوَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ﴾ ولن يشذ عن هذه القاعدة إلا أفراد قلائل في قريش تعلموا الخط ودرسوه قبيل الإسلام وكأن ذلك كان إرهاصا من الله وتمهيدا لمبعث النبي صلى الله عليه وسلم وتقرير دين الإسلام وتسجيل الوحي المنزل عليه بالقرآن لأن الكتابة أدعى إلى حفظ التنزيل وضبطه وأبعد عن ضياعه ونسيانه“ ترجمہ: یہ بات معروف ہے کہ عرب قوم کو “اُمیت” (لکھنے پڑھنے سے لاعلمی) سے موسوم کیا گیا تھا کہ وہ نہ لکھائی جانتی تھی اور نہ ہی خطاطی ۔قرآن مجید نے ان لوگوں کی اس اُمیت کے بارے میں کلام کیا اور فرمایا: (ترجمہ کنزالعرفان) “وہی ہے جس نے اَن پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کے سامنے اللہ کی آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب اور حکمت کا علم عطا فرماتا ہے اور بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔” تاہم، اس قاعدے سے قریش کے چند گنے چنے افراد مستثنیٰ تھے جنہوں نے اسلام سے قبل رسم الخط سیکھا اور اس کی تعلیم حاصل کی، گویا کہ یہ اللہ کریم کی طرف سے ایک ارہاص (پیش خیمہ) تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دینِ اسلام کے قیام کے لیے تمہید تھی، اور (اس کا مقصد یہ تھا کہ) وحی جو قرآن کی صورت میں نبی پاک ﷺ پر نازل ہونی تھی، اسے لکھ کر محفوظ رکھا جا سکے، کیونکہ کتابت (لکھ لینا) وحی کی حفاظت اور اس کے ضبط (تدوین) کا زیادہ موجب ہے اور اس سے وحی کا ضائع ہو جانا یا بھول جانا بعید ہو جائے گا۔
(مناهل العرفان في علوم القرآن ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 361، مطبوعه: مطبعة عيسى البابي الحلبي)
کاتب وحی کا نہایت ذہین و فطین ہونا بیان کرتے ہوئے، علامہ ابو عمر یوسف بن عبد اللہ ابن عبد البر (المتوفی: 463ھ) الاستیعاب میں لکھتے ہیں: ”وكان زيد يكتب لرسول الله صلى الله عليه وسلم الوحي وغيره، وكانت ترد على رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب بالسريانية، فأمر زيدا فتعلمها في بضعة عشر يوما، وكتب بعده لأبي بكر وعمر “ ترجمہ: حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی اور دیگر (خط و کتابت) لکھا کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سریانی زبان میں خطوط آتے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ کو حکم دیا (کہ وہ سریانی زبان سیکھ لیں)، توحضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند دنوں (تقریباً 17 دنوں) میں ہی یہ زبان سیکھ لی۔ آپ رضی اللہ عنہ بعد میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے بھی خط و کتابت کیا کرتے تھے۔
(الاستيعاب في معرفة الأصحاب ، جلد نمبر 3،صفحه نمبر 96، مطبوعه: مركز هجر للبحوث والدراسات العربية والإسلامية مصر)
نظر حقیقت سے دیکھا جائے تو وہ حضرات جنہوں نے نحو وغیرہ علوم عربیہ کی بنیاد رکھی، ان میں کاتب وحی، خلیفۂ چہارم، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا اور آپ کے شاگرد کا ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ امام جلال الدین عبد الرحمن سیوطی شافعی (المتوفی: 911ھ) الاقتراح في أصول النحو میں لکھتے ہیں:” اشتهر أن أول من وضع النحو علي بن أبي طالب رضي الله عنه لأبي الأسود.قال الفخر الرازي في كتابه (المحرر في النحو): ” رسم علي رضي الله عنه لأبي الأسود باب إن وباب الإضافة وباب الإمالة ثم صنف أبو الأسود باب العطف وباب النعت ثم صنف باب التعجب وباب الاستفهام. وتطابقت الروايات على أن أول من وضع النحو أبو الأسود وأنه أخذه أولا عن علي“ ترجمہ: مشہور ہے کہ سب سے پہلے جنہوں نے علم نحو وضع کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، جنہوں نے اسے ابو الاسود کو سکھایا۔ امام فخر الرازی نے اپنی کتاب المحرر في النحو میں فرمایا: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو الاسود کے لیے “باب إن”، “باب الإضافة” اور “باب الإمالة” تحریر کیا، پھر ابو الاسود نے “باب العطف” اور “باب النعت” کی تصنیف کی، اور بعد میں انہوں نے “باب التعجب” اور “باب الاستفهام”بھی ترتیب دیا۔ تمام روایات اس بات پر متفق ہیں کہ نحو کے اصول سب سے پہلے ابو الاسود نے وضع کیے اور انہوں نے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سیکھے تھے۔
(الاقتراح في أصول النحو،صفحه نمبر 158، مطبوعه: دار البيروتي دمشق)
رسول کریم ﷺ کا وحی کی املا کروانا اور لکھوانے کے بعد اسے چیک کرنا روایت کرتے ہوئے، علامہ ابو قاسم سلیمان بن احمد طبرانی (المتوفی: 360ھ) معجم کبیر میں نقل کرتے ہیں: ”زيد بن ثابت قال: كنت أكتب الوحي عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، وكان يشتد نفسه ويعرق عرقا شديدا مثل الجمان، ثم يسرى عنه، فأكتب وهو يملي علي، فما أفرغ حتى يثقل، فإذا فرغت قال: “اقرأ” فأقرأه، فإن كان فيه سقط أقامه“ ترجمہ: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں وحی کی کتابت کیا کرتا تھا، وہ آپ پر بہت سخت ہوتی، اور آپ کو مثلِ موتی شدید پسینہ آ جاتا۔ پھر جب وہ حالت زائل ہوتی، تو آپ ﷺ مجھے املا کرواتے اور میں (اسے) لکھتا رہتا۔ پس میں (ابھی) فارغ نہ ہوتا حتی کہ آپ ﷺ کی حالت گراں بار ہو جاتی۔ پھر جب میں (لکھنے سے) فارغ ہو جاتا تو آپ ﷺ فرماتے: ”پڑھو“۔ تو میں پڑھتا، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوتی تو آپ ﷺ اسے پورا کروا دیتے (یعنی اس کی اصلاح فرما دیتے)تھے۔
(المعجم الكبير للطبراني ، جلد نمبر 5،صفحه نمبر 142، مطبوعه: مكتبة ابن تيمية القاهرة)
اضافی نکتہ: بچشم کشا اگر مذکورہ بالا حدیث پاک اور اس کی مثل دیگر احادیث جو کتب حدیث میں مروی ہیں اور ان کی شروح کا مطالعہ کیا ہوتا تو ضرور وحی کے وقت پیارے آقا ﷺ کی حالت کے متعلق بھی پتہ ہوتا، اس شدت کے عالم میں کتابت کا سوال کیونکر آئے گا؟ خیر!۔
نبی پاک ﷺ کا خود خوش خطی کی تلقین فرمانا روایت کرتے ہوئے، علامہ ابو عباس جعفر بن محمد نسفی (المتوفی: 432ھ) فضائل قرآن میں لکھتے ہیں: ”قال معاوية رحمه الله: كنت أكتب بين يدي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يامعاوية ألق الدواة وحرف القلم وانصب الباء وفرق السين، ولَا تعور الميم وحسن الله ومد الرحمن وجود الرحيم“ ترجمہ: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کتابت کیا کرتا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اے معاویہ! دوات کی سیاہی درست رکھو، قلم کو (کچھ) ٹیڑھا کرو، با کو قائم (لمبا) لکھو، سین (کے دندانوں) کو جدا رکھو، میم کو اندھا نہ کرو، اسم جلالت لفظ اللہ کو خوبصورت لکھو، لفظ الرحمن کو دراز کر کے لکھو، اور الرحيم کو عمدگی سے لکھو۔
(فضائل القرآن للمستغفري ، جلد نمبر 1،صفحه نمبر 436، مطبوعه: دار ابن حزم)
علامہ نور الدین ملا علی قاری (المتوفی: 1014ھ) شرح الشفا میں لکھتے ہیں:” وهذا أي ما ذكر مما شهد بأن مما أوتيه من المعارف معرفة حروف الخط “ ترجمہ: اور یہ یعنی جو روایت (اوپر) ذکر کی گئی ہے، یہ اس بات پر شاہد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو معارف عطا کیے گئے، ان میں مخطوط حروف (حروف کی بناوٹ وغیرہ) کی معرفت بھی شامل تھی۔
(شرح الشفا ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 728، مطبوعه: دار الکتب العلمیة، بيروت)
قرآن کریم کا لغت قریش پر اور ایک مصحف پر جمع کرنا نقل کرتے ہوئے، علامہ ابو قاسم محمد بن احمد ابن جزی غرناطی (المتوفی: 741ھ) تفسير ابن جزي میں لکھتے ہیں: ” فأشار حذيفة بن اليمان على عثمان بن عفان رضي الله عنهما فجمع الناس على مصحف واحد خيفة من اختلافهم، فانتدب لذلك عثمان، وأمر زيد بن ثابت فجمعه، وجعل معه ثلاثة من قريش: عبد الله بن الزبير بن العوام، وعبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وسعيد بن العاصي بن أمية، وقال لهم إذا اختلفتم في شيء فاجعلوه بلغة قريش، وجعلوا المصحف الذي كان عند حفصة إماما في هذا الجمع الأخير، وكان عثمان رضي الله عنه يتعهدهم ويشاركهم في ذلك، فلما كمل المصحف نسخ عثمان رضي الله عنه منه نسخا ووجهها إلى الأمصار وأمر بما سواها أن تخرق أو تحرق فترتيب السور على ما هو الآن من فعل عثمان وزيد بن ثابت والذين كتبوا معه المصحف، وقد قيل إنه من فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وذلك ضعيف“ ترجمہ: پس سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی الله عنہ کو لوگوں کے درمیان اختلاف ہو جانے کے خوف کی وجہ سے مشورہ دیا کہ انہیں ایک مصحف پر جمع کیا جائے، تو اس کام کے لیے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آمادہ ہو گئے اور آپ نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور ان کے ساتھ قریش کے تین افراد: عبد الله بن زبیر بن عوام، عبد الرحمن بن حارث بن ہشام، اور سعید بن عاص بن امیہ کو شامل کیا۔ اور ان سے کہا کہ اگر تم میں کسی چیز کے متعلق اختلاف ہو تو اسے لغت قریش میں لکھنا۔ ان حضرات نے ام المؤمنین سیدتنا حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس موجود مصحف کو اس جمعِ اخیر کے لیے امام بنایا۔ امیر المؤمنین سیدنا عثمان رضی الله عنہ خود ان کی نگرانی کرتے رہے اور اس کام میں ان کے ساتھ (عملاً) شریک رہے۔ پس جب مصحف مکمل ہو گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سے کئی نسخے تیار کیے اور انہیں مختلف شہروں میں بھیجا، جبکہ اس کے علاوہ تمام نسخوں کو تلف کر دینے کا حکم دیا۔ (مصحف میں) سورتوں کی موجودہ ترتیب سیدنا عثمان بن عفان، زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھ لکھنے والوں کا عمل ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ موجودہ ہیئت و ترتیب فعل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے ہے، (اگرچہ) یہ قول ضعیف ہے۔
(التسهيل لعلوم التنزيل ، جلد نمبر 1،صفحه نمبر 13، مطبوعه: شركة دار الأرقم بن أبي الأرقم بيروت)
مصحف عثمانی پر نقطوں اور اعراب کے نہ ہونے اور اس کی شروعات کرنے والے کے متعلق، علامہ مجیر الدین مقدسی حنبلی (المتوفی: 927ھ) فتح الرحمن میں لکھتے ہیں: ”قد تقدم أن المصاحف العثمانية كانت مجردة من النقط والشكل، فلم يكن فيها إعراب، وسبب ترك الإعراب فيها والله أعلم: استغناؤهم عنه؛ فإن القوم كانوا عربا لا يعرفون اللحن، ولم يكن في زمنهم نحو. وأول من وضع النحو، وجعل الإعراب في المصاحف: أبو الأسود الدؤلي التابعي البصري“ ترجمہ: یہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ مصاحف عثمانی نقطے اور تشکیل سے بالکل خالی تھے، ان میں کوئی اعراب نہیں تھا۔ اور اعراب کو چھوڑنے کی وجہ، اللہ بہتر جانتا ہے، یہ ہوگی کہ وہ لوگ اس سے مستغنی تھے کیونکہ وہ قوم (خالص)عرب تھے، جنہیں لحن کی معرفت نہ تھی، اور ان کے زمانے میں علم نحو نہیں تھا۔ اور نحو کی بنیاد رکھنے والے اور مصاحف میں اعراب شامل کرنے والے پہلے شخص ابو الاسود دؤلی، تابعی بصری تھے۔
(فتح الرحمن في تفسير القرآن ، جلد نمبر 1،صفحه نمبر 20، مطبوعه: دار النوادر)
غیر منقوط قرآن کریم پر ابتدائی نقطہ بندی کے متعلق علامہ ابو محمد عبد الحق ابن عطیہ اندلسی (المتوفی: 542ھ) المحرر الوجیز میں لکھتے ہیں: ”وأسند الزبيدي في كتاب الطبقات إلى المبرد أن أول من نقط المصحف أبو الأسود الدؤلي وذكر أيضا أن ابن سيرين كان له مصحف نقطه له يحيى بن يعمر“ ترجمہ: اور علامہ زبیدی نے کتاب الطبقات میں شیخ مبرد کے حوالے سے لکھا کہ سب سے پہلے مصحف کی نقطہ بندی ابو الأسود الدؤلی نے کی۔ نیز یہ بھی ذکر کیا کہ علامہ ابن سیرین کے پاس ایک منقوط مصحف تھا، جسے یحییٰ بن یعمر نے ان کے لیے تیار کیا تھا۔
(تفسير ابن عطية المحرر الوجيز في تفسير الكتاب العزيز ، جلد نمبر 1،صفحه نمبر 50، مطبوعه: دار الکتب العلمیۃ بيروت)
قرآن کریم کا رسم الخط توقیفی و سماعی ہے؛ اللہ پاک کے نازل کردہ کلام کے موافق اور نبی پاک ﷺ کی رہنمائی کے مطابق ہے، چنانچہ شیخ محمد عبد العظیم زرقانی (المتوفی: 1367ھ) نے لکھا: ” أنه توقيفي لا تجوز مخالفته. وذلك مذهب الجمهور. واستدلوا بأن النبي صلى الله عليه وسلم كان له كتاب يكتبون الوحي وقد كتبوا القرآن فعلا بهذا الرسم وأقرهم الرسول على كتابتهم ومضى عهده صلى الله عليه وسلم والقرآن على هذه الكتبة لم يحدث فيه تغيير ولا تبديل. بل ورد أنه صلى الله عليه وسلم كان يضع الدستور لكتاب الوحي في رسم القرآن وكتابته. ومن ذلك قوله لمعاوية وهو من كتبة الوحي: “ألق الدواة وحرف القلم وأنصب الباء وفرق السين ولا تعور الميم وحسن الله ومد الرحمن وجود الرحيم وضع قلمك على أذنك اليسرى فإنه أذكر لك”. ثم جاء أبو بكر فكتب القرآن بهذا الرسم في صحف ثم حذا حذوه عثمان في خلافته فاستنسخ تلك الصحف في مصاحف على تلك الكتبة وأقر أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم عمل أبي بكر وعثمان رضي الله عنهم أجمعين وانتهى الأمر بعد ذلك إلى التابعين وتابعي التابعين فلم يخالف أحد منهم في هذا الرسم … وملخص هذا الدليل أن رسم المصاحف العثمانية ظفر بأمور كل واحد منها يجعله جديرا بالتقدير ووجوب الاتباع. تلك الأمور هي إقرار الرسول صلى الله عليه وسلم عليه وأمره بدستوره. وإجماع الصحابة وكانوا أكثر من اثني عشر ألف صحابي عليه ثم إجماع الأمة عليه بعد ذلك في عهد التابعين والأئمة المجتهدين. وأنت خبير بأن اتباع الرسول واجب فيما أمر به أو أقر عليه …وانعقاد الإجماع على تلك المصطلحات في رسم المصحف دليل على أنه لا يجوز العدول عنها إلى غيرها“ ترجمہ: رسم قرآنی توقیفی ہے، جس کی مخالفت جائز نہیں، یہی جمہور کا مذہب ہے۔ جمہور کا استدلال اس سے ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک کاتبین کا گروہ تھا جو وحی لکھتے تھے۔ ان کاتبین نے قرآن کو اسی (موجودہ) رسم میں تحریر کیا اور نبی پاک ﷺ نے ان کے اس رسم الخط کی توثیق فرمائی۔ آپ ﷺ کے دور میں قرآن اسی کتابت میں رہا، نہ تو اس میں کوئی تبدیلی ہوئی اور نہ ہی کوئی تغیر آیا، بلکہ یہ بھی منقول ہے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود قرآن مجید کی تحریر اور رسم قرآنی کے اصول وضع فرمائے، جیسے کہ آپ ﷺ نے کاتب وحی سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: “دوات کی سیاہی درست رکھو، قلم کو (کچھ) ٹیڑھا کرو، باء کو قائم (لمبا) لکھو، سین (کے دندانوں) کو جدا رکھو، میم کو اندھا نہ کرو، اسم جلالت لفظ اللہ کو خوبصورت لکھو، لفظ الرحمن کو دراز کر کے لکھو، اور الرحيم کو عمدگی سے لکھو، اور اپنا قلم اپنے بائیں کان پر رکھو، یہ تمہیں زیادہ یاد کروانے والا ہے۔” پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں نے بھی اسی رسم کے ساتھ صحائف میں قرآن لکھا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے دور خلافت میں انہی کے نقش قدم پر چلے، پس ان صحیفوں کو اسی رسم الخط کے ساتھ مصاحف میں نقل کروایا۔ (بلا شبہ )صحابہ کرام نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہما کے اس کام کی توثیق کی۔ اس کے بعد یہ معاملہ تابعین اور تبع تابعین تک پہنچا، اور ان میں سے کسی نے بھی اس رسم میں اختلاف نہیں کیا۔… اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ مصاحفِ عثمانی کا رسم الخط ایسے امور پر مبنی ہے جن میں سے ہر ایک اسے قدر و منزلت کا حامل بناتے ہیں اور اس کی پیروی واجب قرار دیتے ہیں؛ وہ امور یہ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا توثیق کرنا اور آپ ﷺ کا اسی دستور کے مطابق حکم فرمانا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا اجماع، جو کہ بارہ ہزار سے زیادہ تھے، اور پھر اس پر تابعین اور ائمہ مجتہدین کے زمانے ہی میں امت کا اجماع ہو جانا۔ نیز آپ جانتے ہیں کہ نبی پاک ﷺ کی پیروی واجب ہے، ان تمام امور میں جن کا آپ ﷺ نے حکم فرمایا، یا جن کی آپ ﷺ نے توثیق فرمائی۔ … رسم قرآنی کے متعلق ان مصطلحات پر اجماع کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ اس سے کسی اور رسم کی طرف عدول کرنا جائز نہیں ہے۔
(مناهل العرفان في علوم القرآن ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 377-378، مطبوعه: مطبعة عيسى البابي الحلبي)
علامہ ابو عبداللہ بدر الدین محمد بن عبد اللہ زرکشی (المتوفی: 794ھ) البرہان میں لکھتے ہیں: ”وقال الإمام أحمد رحمه الله تحرم مخالفة خط مصحف عثمان في ياء أو واو أو ألف أو غير ذلك“ ترجمہ: اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: مصحف عثمان کے خط کی، یاء، واو، الف، یا دیگر حروف میں مخالفت کرنا حرام ہے۔
(البرهان في علوم القرآن ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 379، مطبوعه: دار المعرفة، بيروت)
قرآن مجید جو موجودہ ہاتھوں میں ہے اس کا ہر اعراب ہر حرکت ہر حرف منزل من اللہ کے عین مطابق ہے، جس کا انکار کفر ہے۔ چنانچہ شارح بخاری فقیہ اعظم ہند مفتی شریف الحق امجدی (المتوفی: 1421ھ) اپنے فتاوی میں لکھتے ہیں: ”یہ صحیح ہے کہ قرآن مجید پر اعراب حجاج بن یوسف کے زمانے میں لگا ہے، اعراب سے مراد زیر، زبر، پیش کے نشانات ہیں۔ یہ اعراب منزل من اللہ کے مطابق ہے۔ یعنی جہاں قرآن میں زبر نازل ہوا تھا زبر کی علامت لگائی ، اور جہاں زیر نازل ہوا تھا وہاں زیر کی علامت لگائی گئی ہے۔ اسی طرح بقیہ علامات بھی ، یعنی جو اعراب منزل من اللہ تھا اس کا وہاں نشان لگا دیا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے بتواتر منقول تھا اس کے مطابق ، ایسا نہیں ہوا ہے کہ بتواتر منقول اعراب کے خلاف کوئی اعراب لگایا گیا ہو۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے عہد ہی سے قرآن مجید کا حفظ کرنا رائج ہے۔ صحابہ کے بعد تابعین میں ہزاروں قرآن مجید کے حافظ موجود تھے۔ حجاج کے زمانے میں بکثرت صحابہ کرام بھی زندہ تھے۔ اگر اعراب کا نشان لگانے میں کوئی غلطی ہوتی تو صحابہ کرام اور تابعین عظام اس کو کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ حجاج ظالم جفا کار تھا ، اس پر بہتیرے الزام ہیں ۔ مگر کسی نے یہ الزام نہیں لگایا کہ قرآن مجید کے اعراب میں رد و بدل کر دیا۔ سب نے یہ تسلیم کیا کہ یہ اعراب منزل من اللہ کے مطابق ہے۔ علاوہ ازیں ائمہ قرا و ائمہ تفاسیر نے اپنی کتابوں میں ان اعرابوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بتواتر منقول ہے تحریر فرمایا۔ کل اعراب کے نشانات اس کے مطابق ہیں۔ قرآن مجید کی مکمل حفاظت کا وعدہ اللہ عز وجل نے اپنے ذمہ لیا ہے۔ اس میں کسی بھی قسم کی ادنی سی تبدیلی شرعاً محال ہے، ارشاد ہے: ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ﴾ ہم نے قرآن نازل فرمایا ہم اس کے محافظ ہیں۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کا موجودہ اعراب منزل من اللہ کے خلاف ہے۔ اگر چہ اس کا یہ قول کسی ایک آیت ہی کے بارے میں ہو وہ کافر مرتد ہے۔ اس لیے کہ وہ قرآن منزل من اللہ کا منکر ہے اور جو قرآن نہیں، اسے قرآن مانتا ہے۔ یعنی مثلاً آیۃ تطہیر کا جو اعراب ہے بلاشبہ یہی قرآن ہے۔ اس کا یہ کہنا ہے کہ یہ غلط ہے قرآن نہیں۔ اور اس کے خلاف کو قرآن بتاتا ہے حالاں کہ وہ قرآن نہیں۔ اور جو شخص قرآن کی آیت تو بڑی چیز ہے اگر ایک لفظ کو کہے کہ یہ قرآن نہیں وہ کافر ہے۔ یوں ہی جو قرآن نہیں اسے قرآن بتائے وہ بھی کافر ہے۔“
(فتاوی شارح بخاری ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 627، مطبوعه: دائرۃ البرکات گھوسی)
شیخ الاسلام واکمسلمین مجدد اعظم امام اہل سنت امام احمد رضا خان (المتوفی: 1340ھ) فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ” جو شخص قرآن مجید میں زیادت یا نقص یا تبدیل کسی طرح کے تصرفِ بشری کا دخل مانے یا اُسے محتمل جانے، بالا جماع کافر مرتد ہے کہ صراحۃً قرآن عظیم کی تکذیب کر رہا ہے ۔“
(فتاوی رضویہ ، جلد نمبر14 ،صفحه نمبر 260، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)
قرآن کریم کی عیب جوئی کفر ہے، چنانچہ علامہ فرید الدین عالم بن العلاء الہندی (المتوفی: 786ھ) فتاوی تاتار خانیہ میں لکھتے ہیں:”إذا أنكر آية من القرآن، أو سخر بآية من القرآن، وفي الخزانة: أو عاب فقد كفر“ ترجمہ: اگر کسی نے قرآن کی کسی آیت کا انکار کیا، یا قرآن کی کسی آیت کا مذاق اڑایا، اور الخزانة میں ہے: یا (قرآن کی کسی آیت یا لفظ کو) عیب لگایا، تو وہ کافر ہو گیا۔
(الفتاوی التاتارخانیة، کتاب احکام المرتدین، جلد نمبر 7، صفحه نمبر 315، مطبوعه: مکتبة رشیدیة)
امام اہل سنت امام احمد رضا خان (المتوفی: 1340ھ) فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ” قرآن عظیم کو عیب لگانا کفر ہے ۔“
(فتاوی رضویہ ، جلد نمبر21 ،صفحه نمبر 286، مطبوعه: رضا فاؤنڈیشن لاہور)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی (المتوفی: 1367ھ) بہار شریعت میں لکھتے ہیں:”قرآن کی کسی آیت کو عیب لگانا یا اس کی توہین کرنا یا اس کے ساتھ مسخرہ پن(ہنسی مذاق) کرنا کفر ہے۔“
(بہار شریعت، جلد نمبر 1، حصہ نمبر 1،صفحه نمبر 187، مطبوعه: مکتبة المدینہ کراچی)
قرآن کریم کے ہر طرح کے ٹیڑھ پن خواہ وہ عبارت کا ہو یا معنی کا، اس سے پاک ہونے کا بیان کرتے ہوئے ارشاد خداوندی ہے: ﴿اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ عَلٰى عَبْدِهِ الْكِتٰبَ وَ لَمْ یَجْعَلْ لَّهٗ عِوَجًا﴾ترجمہ کنزالعرفان: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنے بندے پر کتاب نازل فرمائی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہیں رکھی۔
(پارہ نمبر 15، سورۃ الکھف18، آیت نمبر 1)
شیخ شہاب الدین محمود بن عبد اللہ آلوسی (المتوفی: 1270ھ) روح المعانی میں مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں: ”وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ أي للكتاب عِوَجاً أي شيئا من العوج باختلال اللفظ من جهة الإعراب ومخالفة الفصاحة وتناقض المعنى وكونه مشتملا على ما ليس بحق“ ترجمہ: اور اللہ پاک نے اس کتاب (قرآن کریم) میں کوئی ٹیڑھ (کجی) نہیں رکھی، یعنی کسی قسم کی کوئی کجی نہیں؛ نہ اعراب کے حوالے سے لفظی خلل، نہ فصاحت کی مخالفت اور نہ ہی اس کے معانی میں کوئی تضاد ہے، اور نہ ہی یہ کتاب کسی ایسی چیز پر مشتمل ہے جو حق نہ ہو ۔
(روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني ، جلد نمبر 8،صفحه نمبر 192، مطبوعه: دار الكتب العلمية بيروت)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ) نور العرفان میں لکھتے ہیں: ”نہ تو اس قرآن کی عبارت میں خرابی ہے، نہ معانی میں اختلاف ، نہ خبریں جھوٹی ہیں، نہ مضامین میں تناقض۔“
(تفسیر نور العرفان ، صفحه نمبر 468، مطبوعه: فرید بک ڈپو لمڈید دہلی)
“اُمی” کے معنی بیان کرتے ہوئے، قاضی ثناء اللہ پانی پتی مظہری (المتوفی:1225ھ) تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں: ”الْأُمِّيَّ يعنى محمدا صلى الله عليه واله وسلم منسوب الى الام يعنى هو على ما ولدته امه لم يكتب ولم يقرأ قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم انا امة امية لا نكتب ولا نحسب الحديث متفق عليه عن ابن عمر وصفه الله به تنبيها على ان كمال علمه مع حاله أحد معجزاته وقيل منسوب الى الامة لكثرة أمته عن انس قال قال رسول الله صلى الله عليه واله وسلم انا اكثر الأنبياء تبعا يوم القيامة وانا أول من يقرع باب الجنة رواه مسلم أصله أمتي فسقطت التاء فى النسبة كما فى المكي والمدني وقيل هو منسوب الى أم القرى يعنى مكة“ ترجمہ: آیت میں “اُمِّي” سے مراد حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں، آپ ﷺ کو ام (ماں) کی طرف منسوب (کرتے ہوئے امی ارشاد) فرمایا گیا یعنی آپ ﷺ اسی حالت پر تھے جس حال پر اپنی والدہ سے پیدا ہوئے، (کہ ابتداءً) نہ لکھتے اور نہ پڑھتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “ہم امی لوگ ہیں، نہ لکھتے ہیں اور نہ حساب کرتے ہیں۔” یہ حدیث سیدنا ابن عمر سے متفق علیہ مروی ہے۔ اللہ پاک نے آپ ﷺ کو اس صفت سے موصوف کیا تاکہ یہ واضح ہو کہ آپ کا علم اپنی پیدائشی حالت کے باوجود اس قدر عظیم و مکمل تھا، اور یہ آپ کے معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظِ “اُمّی” اُمّت کی طرف منسوب ہے کیونکہ آپ کی اُمت بڑی تعداد میں ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “میں قیامت کے دن انبیا میں سب سے زیادہ متبعین رکھنے والا ہوں، اور میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹانے والا ہوں۔” یہ روایت امام مسلم نے بیان کی ہے۔ اصل لفظ “اُمتی” تھا، جس میں نسبت کے دوران تا حذف ہوگئی، جیسا کہ “مکی” اور “مدنی” میں ہوتا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ لفظ “اُمّی” اُمّ القریٰ یعنی مکہ کی طرف منسوب ہے۔
(تفسیر مظہری ، جلد نمبر 3، صفحه نمبر 416، مطبوعه: مكتبة الرشدية)
علامہ نور الدین ملا علی قاری (المتوفی: 1014ھ) شرح الشفا میں لکھتے ہیں:” ولا يخفى أن في قوله وَما كُنْتَ تَتْلُوا مِنْ قَبْلِهِ أي من قبل نزول القرآن وحصول النبوة والرسالة إشارة إلى أنه كان ممنوعا من القراءة والكتابة وهو لا ينافي أن يعطيهما الله تعالى له بعد تحقق رسالته زيادة في الكرامة “ ترجمہ: یہ بات مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان”وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ”(ترجمہ: اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے)، میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبوت اور رسالت کے حصول سے پہلے پڑھنے اور لکھنے سے روکا گیا تھا۔ نیز یہ اس چیز کے بالکل منافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تحققِ رسالت کے بعد آپ ﷺ کی عظمت و کرامت میں اضافہ کرنے کے لیے آپ ﷺ کو پڑھنے اور لکھنے کا کامل علم عطا فرمایا۔
(شرح الشفا ، جلد نمبر1 ،صفحه نمبر 731، مطبوعه: دار الکتب العلمیة، بيروت)
شیخ المحدثین محقق علی الاطلاق علامہ عبد الحق محدث دہلوی (المتوفی: 1052ھ) لمعات التنقيح میں نقل کرتے ہیں: ”هذا لا ينافي القرآن بل يؤخذ من مفهوم القرآن؛ لأنه قيد النفي بما قبل ورود القرآن، قال تعالى: “وَمَا كُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِهِ مِنْ كِتَابٍ وَلَا تَخُطُّهُ بِيَمِينِكَ” [العنكبوت: 48] وإذ تحققت أميته وتقررت بذلك معجزته، وأمن الارتياب في ذلك، لا مانع من أن يعرف الكتابة بعد ذلك من غير تعليم، فتكون معجزة أخرى، وذكر ابن دحية أن جماعة من العلماء وافقوا الباجي على ذلك…وهذا وإن لم يثبت أنه كتب فلا يبعد أن يرزق علم وضع الكتابة فإنه أوتي علم كل شيء“ ترجمہ: یہ (نبی پاک ﷺ کو لکھنے اور پڑھنے کا علم ہونا) قرآن کے منافی نہیں بلکہ قرآن کے مفہوم سے ہی اخذ کیا گیا ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی نفی کو نزول قرآن سے پہلے کے زمانے کے ساتھ مقید کیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری ہے: ﴿وَ مَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّ لَا تَخُطُّهٗ بِیَمِیْنِكَ﴾(ترجمہ کنز الایمان: اور اس سے پہلے تم کوئی کتاب نہ پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے کچھ لکھتے تھے)، جب آپ ﷺ کی اُمیت ثابت ہو چکی اور اس سے آپ ﷺ کے معجزہ ہونے کی حیثیت قائم ہو گئی، اور اس پر کوئی شبہ باقی نہ رہا، تو اس میں کوئی مانع (رکاوٹ) نہیں کہ بعد میں آپ ﷺ کو بغیر کسی تعلیم کے لکھنے کا علم عطا ہو جائے، اور یہ ایک اور معجزہ ہو گا۔ علامہ ابن دحیہ نے ذکر کیا ہے کہ علمائے کرام کی ایک جماعت نے علامہ باجی کی اس بات سے اتفاق کیا ہے۔…نیز یہ تو ہے کہ اگرچہ آپ ﷺ کا لکھنا ثابت نہیں، مگر یہ بعید نہیں کہ آپ ﷺ کو لکھنے کا علم عطا کیا گیا ، کیونکہ آپ ﷺ کو ہر ایک چیز کا علم دیا گیا تھا۔
(لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، جلد نمبر 7،صفحه نمبر 124، مطبوعه: دار النوادر، دمشق)
ماسوائے وہ باتیں جو نبی پاک ﷺ کے خصائص سے ہیں، تمام امور میں یعنی ہر حالت میں آقا کریم ﷺ کی پیروی کرنی چاہیے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ترجمہ کنزالعرفان: بے شک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔
(پارہ نمبر 21، سورۃ الاحزاب 33، آیت نمبر 21)
علامہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی (المتوفی: 671ھ) تفسیر قرطبی میں لکھتے ہیں: ” الأسوة: القدوة. والأسوة ما يتأسى به، أي يتعزى به. فيقتدى به في جميع أفعاله ويتعزى به في جميع أحواله“ ترجمہ: “أُسوة” کا مطلب قدوہ (نمونہ) ہے۔ أسوة وہ شے ہوتی ہے کہ جس کے نقش قدم پر چلا جاتا ہے یعنی اس سے تسلی حاصل کی جاتی ہے۔ چنانچہ اس ذات کے تمام افعال میں اس کی پیروی کی جاتی ہے اور تمام حالات میں اس سے تسلی و صبر حاصل کیا جاتا ہے۔
(الجامع لأحكام القرآن ، جلد نمبر 14،صفحه نمبر 155، مطبوعه: دار الكتب المصرية القاهرة)
علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی (المتوفی: 1231 ھ) لکھتے ہیں: ” والسنة نوعان سنة هدى كالأذان والإقامة وتركها يوجب الإساءة وسنة زائدة وتركها لا يوجبها كسنة النبي صلى الله عليه وسلم في قعوده وقيامه ولبسه وأكله وشربه ونحو ذلك كما في السراج ولكن الأولى فعلها لقوله تعالى: “لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” [الأحزاب: 21]“ ترجمہ:سنت کی دو قسمیں ہیں: ایک سنتِ ہدی؛ جیسے اذان اور اقامت، جس کا چھوڑنا اساءت کا موجب ہوتا ہے، اور دوسری سنتِ زائدہ ؛ جس کا چھوڑنا موجب اساءت نہیں ہوتا، جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹھنے، کھڑے ہونے، لباس پہننے، کھانے اور پینے میں اور اس طرح کے دیگر اعمال میں انداز اور طریقہ۔ جیسا کہ السراج میں (فرمایا)ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ انہیں اپنایا جائے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” بے شک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے۔”
(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، صفحه نمبر 194، مطبوعه: دار الکتب العلمیة، بیروت)
حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی (المتوفی:1391ھ) تفسیر نور العرفان میں لکھتے ہیں: ”معلوم ہوا کہ حضور کی زندگی شریف سارے انسانوں کے لیے نمونہ ہے ، جس میں زندگی کا کوئی شعبہ باقی نہیں رہتا۔ … معلوم ہوا کہ کامیاب زندگی وہی ہے جو ان کے نقش قدم پر ہو اگر ہمارا جینا مرنا، سونا، جاگنا حضور (ﷺ) کے نقش قدم پر ہو جائے تو یہ سارے کام عبادت بن جائیں۔“
(تفسیر نور العرفان ، صفحه نمبر 671، مطبوعه: فرید بک ڈپو لمڈید دہلی)
شیخ الحدیث والتفسیر علامہ ابو صالح مفتی محمد قاسم عطاری صاحب لکھتے ہیں: ”یہ آیت مبارکہ اگرچہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی لیکن اپنے الفاظ کے اعتبار سے عام ہے اور اس موقع کے علاوہ بھی سیّد المرسَلین ﷺ کی سیرت ِ طیبہ کے ان تمام اُمور میں پیروی کا حکم ہے جو آپ کی خصوصیت نہیں ہیں۔ … یاد رہے کہ عبادات، معاملات، اَخلاقیات، سختیوں اور مشقتوں پر صبر کرنے میں اور نعمتوں پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے میں، الغرض زندگی کے ہر شعبہ میں اور ہر پہلو کے اعتبار سے تاجدارِ رسالت ﷺ کی مبارک زندگی اور سیرت میں ایک کامل نمونہ موجود ہے، لہٰذا ہر ایک کو اور بطورِ خاص مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اَقوال میں ،اَفعال میں ، اَخلاق میں اور اپنے دیگر احوال میں سیّد المرسَلین ﷺ کی مبارک سیرت پر عمل پیرا ہوں اور اپنی زندگی کے تمام معمولات میں سیّد العالَمین ﷺ کی پیروی کریں۔“
(تفسیر صراط الجنان، جلد نمبر 7 ، صفحه نمبر 585-588، مطبوعه: مکتبۃ المدینہ کراچی)
حدیث پاک کے مطابق جیسا گناہ ہوتا ہے ،اس کی توبہ بھی ویسی ہی کرنی ہوتی ہے ،پوشیدہ گناہ کی توبہ پوشیدہ اور اعلانیہ گناہ کی توبہ بھی اعلانیہ ہوتی ہے۔ چنانچہ علامہ ابو قاسم سلیمان بن احمد طبرانی (المتوفی: 360ھ) معجم کبیر میں نقل کرتے ہیں: ”عن معاذ قال: قلت: يا رسول الله، أوصني، فقال: عليك بتقوى الله ما استطعت، واذكر الله عند كل حجر وشجر، وما عملت من سوء فأحدث لله فيه توبة: السر بالسر، والعلانية بالعلانية “ترجمہ :حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ (ﷺ)! مجھے کوئی وصیت کیجیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی استطاعت کے مطابق تقوی اختیار کرو، ہر پتھر اور درخت کے پاس اللہ پاک کا ذکر کرو ، جب تم سے کوئی برائی ہو تو اللہ پاک سے توبہ کرو، پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ توبہ اور اعلانیہ گناہ کی اعلانیہ توبہ کرو۔
(المعجم الکبیر للطبرانی ،جلد نمبر 20،صفحہ نمبر 159،مطبوعہ مكتبة ابن تيمية القاهرة)
شیخ الاسلام واکمسلمین مجدد اعظم امام اہل سنت امام احمد رضا خان (المتوفی: 1340ھ) فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں: ” تحقیقِ حق یہ ہے کہ وہ گناہ جو خلق پر بھی ظاہر ہو ، جس طرح خود اس کے لیے دو تعلق ہیں؛ ایک بندے اور خدا میں کہ اللہ عز وجل کی نافرمانی کی ، اس کا ثمرہ حق جل و علا کی معاذ اللہ ناراضی ، اس کے عذابِ منقطع یا ابدی کا استحقاق ۔ دوسرا بندے اور خَلق (یعنی مخلوق) میں کہ مسلمانوں کے نزدیک وہ آثم و ظالم یا گمراہ ، کافر بحسبِ حیثیتِ گناہ ، ٹھہرے اور اس کے لائق سلام و کلام و تعظیم و اکرام و اقتدائے نماز وغیرہا امور و معاملات میں اس کے ساتھ اُنہیں برتاؤ کرنا ہو ، یوہیں اس سے توبہ کے لیے بھی دو رُخ ہیں؛ ایک جانبِ خدا ، اس کا رکنِ اعظم، بصدقِ دل اُس گناہ سے ندامت ہے ۔… یعنی وہی سچی صادقہ ندامت کہ بقیہ ارکانِ توبہ کو خود مستلزم ہے ، اُسی کا نام توبۃ السر ہے ۔ دوسرا جانبِ خلق کہ جس طرح اُن پر گناہ ظاہر ہوا اور اُن کے قلوب میں اُس کی طرف سے کشیدگی پیدا ہوئی اور معاملات میں اس کے ساتھ اس کے گناہ لائق اُنہیں احکام دئیے گئے ، اُسی طرح ان پر اس کی توبہ و رجوع ظاہر ہو کہ ان کے دل اس سے صاف ہوں اور احکام حالتِ براءت کی طرف مراجعت کریں ، یہ توبۂ اعلانیہ ہے ۔ توبۂ سِر سے تو کوئی گناہ خالی نہیں ہو سکتا اور گناہ علانیہ کے لیے شرع نے توبۂ علانیہ کا حکم دیا ہے ۔… جن جن لوگوں کے سامنے گناہ کیا ہے ان سب کے مواجدہ میں توبہ کرے مگر یہ کثرت مجمع کی حالت میں مطلقا اور بعض صورتیں ویسے بھی حرج سے خالی نہیں اور حرج مدفوع بالنص ہے تاہم اس قدر ضرور چاہئے کہ مجمع توبہ مجمع گناہ کے مشابہ ہو۔“
(فتاوی رضویہ ، جلد نمبر21 ، صفحہ نمبر 141-145ملخصا،مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن ، لاہور)
و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبــــــــــــــــــــــــــــه
ابو محمد احمد رضا قادری حنفی
20 ربیع الاول 1446ھ / 24 ستمبر 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری