کیا حلالہ عورت پر ظلم ہے؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اکثر میڈیا کے ذریعے یہ بات عام کی جاتی ہے کہ حلالہ کا حکم دے کر عورت پر ظلم کیا جارہا ہے اور اسلام میں یہ حکم نہیں ہے تو کیا یہ بات درست ہے ؟حلالہ کے متعلق مکمل راہنمائی فرمادیں۔
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حلالہ کرنے کا حکم قرآن وحدیث میں موجود ہے کہ جب ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے توعورت عدت گزار کر دوسرے شخص سے شادی کرکے تعلق خاص قائم کرنے کے بعد، پھر اس دوسرے شوہرکا انتقال ہو جائے یا وہ طلاق دے تو اب اس کی عدت مکمل کرکے عورت پہلے شوہرسے نکاح کرسکتی ہے۔
حلالہ کے شرعی مسئلہ کو ایسے انداز سے پیش کرنا کہ اس حکم پر اعتراض ہو بالکل بھی جائز نہیں ہے،اس کا مطلقا انکار کفر ہے کہ قرآن کی آیت کا انکار ہے۔شرعا عورت تین طلاقوں کے بعد کسی دوسری جگہ شادی کرنے کے لیے آزاد ہوتی ہے اس پر کوئی پابندی نہیں ہے اور اگر وہ خود پہلے شوہر کے پاس جانا چاہتی ہے تو اب حلالہ یہ ایک راستہ ہے ۔لہذا حلالہ کے مسئلہ میں عورت کو مظلوم کہنا او رشرعی مسئلہ پر اعتراض کرنا شرعا درست نہیں ۔درحقیقت حلالہ ایک سزا ہے جو میاں اور بیوی دونوں کے لیے ہے تاکہ لو گ تین طلاقیں دینے سے باز رہیں۔ شوہر کے لیے بھی حلالہ کے بعد نکاح کرناکوئی کم سزا نہیں ۔
غیر مقلد وہابیوں کے ہاں بھی حلالہ کا تصور ہےلیکن وہ عوام کو صحیح مسئلہ بیان نہیں کرتے تاکہ لوگ طلاقوں کے بعد بھی ان کے کہنے پر بغیر حلالہ کے اکٹھے رہیں اور ان کے فرقے کی تعداد بڑھے۔ بلکہ یہ حلالہ کو ایک گالی کے طور پر پیش کرکے لوگوں کو قرآن کی آیت کا منکر بناتے ہیں۔
حدیث مبارکہ میں حلالہ کرنے اور کروانے والے پرجو لعنت فرمائی گئی ہے وہ اس صورت میں ہے کہ جب حلالہ کی شرط پر ہی نکاح ہو اور ایجاب و قبول میں اس کا ذکر ہو یا مرد پیسے لے کر حلالہ کرے،اگرچہ ان صورتوں میں نکاح ہوجائے گا لیکن سخت گناہ ہوگا۔پھراگر نکاح عام طریقے سے بغیر کسی شرط کےہو اگرچہ دل میں شوہر کی نیت ہو کہ بعد میں طلاق دے دوں گا تو اس میں شرعا کوئی حرج نہیں بلکہ اچھی نیت پر اجر ہے۔
قرآن پاک میں حلالہ کے متعلق ہے :﴿ فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْۢ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗؕ-فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یَّتَرَاجَعَاۤ﴾
ترجمۂ کنزالایمان :پھر اگر تیسری طلاق اسے دی ، تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی ، جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے، پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے ، تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں۔(پارہ 2 ، سورۃالبقرہ، آیت 230)
تفسیر ابن کثیر میں ہے
”حتی یطاھا زوج آخر فی نکاح صحیح فلو وطئھا واطئی فی غیر نکاح ولو فی ملک الیمین لم تحل الاول لانه لیس بزوج وھکذا لو زوجت ولکن لم یدخل بھا الزوج لم تحل الاول واشتھر بین کثیر من الفقھاء“
ترجمہ:یہاں تک کہ وہ نکاح صحیح کے بعد زوج ثانی سے وطی کرے ،پس اگر اس نے بغیر نکاح کے وطی کی یا لونڈی بنا کر وطی کی تو زوج اول کے لیے حلال نہیں ہوگی کیونکہ وہ اس کا شوہر نہیں ہے۔ پس اگر اس نے نکاح کیا اس عورت سے اور جماع نہیں کیا تو پہلے شوہر کے لیے حلال نہ ہوگی اور یہ (مسئلہ)فقہاء کے درمیان مشہور ہے۔(تفسیر ابن کثیر ، جلد 1 ، صفحہ 356 ، مطبوعہ موسسة قرطبة )
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
”ایک بار تین طلاق دینے سے نہ صرف نزد حنفیہ بلکہ اجماعِ مذاہب ِ اربع تین طلاقیں مغلظہ ہوجاتی ہیں، امام شافعی، امام مالک ، امام احمد رضی اﷲ تعالٰی عنہم ائمہ متبوعین سے کوئی امام اس باب میں اصلاً ہوا اور عورت اس کے نکاح سے ایسی خارج ہوئی کہ اب بے حلالہ ہرگز اس کے نکاح میں نہیں آسکتی، اگر یُونہی رجوع کرلی بلاحلالہ نکاحِ جدید باہم کرلیا تو دونوں مبتلائے حرامکاری ہوں گے اور عمر بھر حرام کاری کریں گے اﷲتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :” ومن یتق اﷲ یجعل لہ مخرجا “جو اﷲ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اﷲتعالٰی اس کیلئے راستہ بنادیا ہے۔
اس نے تقوٰی نہ کیابلکہ خلافِ خدا ورسول تین طلاقیں لگاتار دینے کامرتکب ہوا اﷲ عزوجل نے اس کے لئے مخرج نہ رکھا اب حلالہ کے سخت تازیانے سے اسے ہرگز مفر(بچت کی صورت) نہیں۔“(فتوی رضویہ ،جلد 12 ،صفحہ 234، رضا فائونڈیشن لاہور)
تفسیر صراط الجنان میں ہے
”{فَاِنْ طَلَّقَهَا: پھر اگر شوہر بیوی کو (تیسری) طلاق دیدے۔ }تین طلاقوں کے بعد عورت شوہر پر حرمت ِ غلیظہ کے ساتھ حرام ہوجاتی ہے، اب نہ اس سے رجوع ہوسکتا ہے اورنہ دوبارہ نکاح جب تک یہ نہ ہو کہ عورت عدت گزار کر کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور وہ دوسرا شوہر صحبت کے بعد طلاق دے یا وہ فوت ہوجائے اورعورت پھر اس دوسرے شوہر کی عدت گزارے۔“(تفسیر صراط الجنان ،سورۃ بقرہ، آیت 230، مکتبہ المدینہ کراچی)
دیوبندیوں کی تفسیر عثمانی میں ہے:
”پھر اگر اس عورت کو تین طلاق دی یعنی تیسری بار تو اب حلال نہیں اس کو وہ عورت اس کے بعد جب تک نکاح نہ کرے کسی خاوند سے اس کے سوا پھر اگر طلاق دے دے دوسرا خاوند تو کچھ گناہ نہیں ان دونوں پر کہ پھر باہم مل جاویں اگر خیال کریں۔“(تفسیر عثمانی ، جلد 1 صفحہ ، 234 ، مطبوعہ دار الاشاعت)
غیر مقلد وہابیو کی ویب سائیٹ پر لکھا ہے:
” اگر تیسری طلاق بھی دے دی تو پھر یہ عورت قطعی طور پر اس خاوند کے لئے حرام ہو جائے گی۔ اب رجوع کا حق ختم ہے۔ عورت عدت گزار کر کسی اور مرد سے نکاح کر سکتی ہے اور یہ نکاح صحیح شرعی طریقے کے مطابق مستقل بسنے کی نیت سے ہو گا نہ کہ شوہر اوّل کے لئے حلال ہونے کی غرض سے۔
اب اگر اس کا یہ خاوند بھی فوت ہو گیا یا اس نے گھریلو ناچاقی کی بنا پر اسے طلاق دے دی تو یہ عورت اگر دوبارہ شوہر اوّل کی طرف لوٹنا چاہے تو عدت کے بعد اس کے ساتھ نکاح کر سکتی ہے اور ایسا واقعہ ہزاروں میں سے شاید کوئی ایک آدھ ہوا ہو۔“
(حلالہ کی شرعی حیثیت20078 https://forum.mohaddis.com/threads/)
صحیح البخاری میں ہے
”قال صلی اﷲ تعالیٰ علیه لاتحلین لزوجک الاول حتی یذوق الاخر عسیلتک تذوقی عسیلته“
ترجمہ:حضور علیہ الصّلوٰۃ والسلام نے فرمایا اے عورت تو حلال نہیں پہلے شوہر کیلئے جب تک دوسرا خاوند تیرا اور تو اس کا مزہ نہ چکھ لے(یعنی جماع نہ کرلو)۔( صحیح بخاری، جلد 2 ،صفحہ 896 ،قدیمی کتب خانہ، کراچی)
سنن نسائی میں امام عبدالرحمن احمد بن شعیب سے مروی ہے :
” عن عائشة أنها أخبرته أن رفاعة القرظی طلق امراة له ، فبت طلاقها ، فتزوج بعده عبد الرحمن بن الزبير ، فجاءت رسول الله : قالت : يا نبي الله : إنها كانت عند رفاعة فطلقها قال ابن جريج : ثلاث تطليقات ، و قال معمر : آخر ثلاث تطليقات . فتزوجت عبدالرحمن بن الزبير ، وإنه والله ما معه یا رسول الله ، إلا مثل هذه الهدبة ، فتبسم رسول الله قال لها : لعلك تريدين أن ترجعى إلى رفاعة ؟ لا حتى تذوقى عسيلته ، ويذوق عسيلتك“
ترجمہ: حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں انہوں نے خبر دی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دے دی ، تو اس نے ان کے بعد عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی ، پھر وہ عورت رسول اللہ کی خدمت اقدس میں آئی اورعرض کی اے اللہ کے نبی وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی تو اس نے طلاق دے دی ۔ ابن جریج اور معمر نے کہا تین طلاقیں دے دیں ۔ تو اس کے بعد اس نے عبدالرحمن بن زبیر سے شادی کر لی ، اے اللہ کے رسول ! بخدا اس کے پاس نہ تھا مگر اس کپڑے کی مثل تو یہ سن کر رسول اللہ نے تبسم فرمایا ، پھر اس عورت سے فرمایا کہ شاید تو رفاعہ کے نکاح میں واپس لوٹنا چاہتی ہے( تجھے جائز نہیں ) یہاں تک کہ جس سے تو نے نکاح کیا ہے تو اس کے شہد سے چکھے اور وہ تیری شہد سے چکھے۔ (السنن الکبری للنسائی ، المجلد 7 ، کتاب الطلاق ، صفحہ 536)
شرح صحیح البخاری میں غیر مقلد محمد داود راز لکھتا ہے:
”یعنی جب تک اچھی طرح دخول نہ ہو اس سے ثابت ہوا کہ صرف حشفہ کا فرج میں داخل ہو جانا تحلیل کے لیے کافی ہے امام حسن بصری نے انزال کی بھی شرط رکھی ہے یہ حدیث لاکر امام بخاری نے ثابت کیا ہے کہ عورت کا حکم کھانے پینے کی طرح نہیں ہے بلکہ وہ حقیقتاً حلال یا حرام ہوتی ہے جیسے اس حدیث میں ہے کہ پہلے خاوند کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔“(شرح صحیح البخاری ، جلد 3 ، صفحہ 42 ، مرکزی جمعیت اہل حدیث ھند)
سنن ابو داؤد میں ہے:
” ان النبی صلی اللّه عليه وسلم قال : ” لعن الله المحلل والمحلل له “
ترجمہ:اللہ پاک نے حلالہ کرنے والے مرد اور حلالہ کروانے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے۔(ابوداؤد، کتاب النکاح ،باب فی التحلیل، جلد 2 ، حدیث 2076، مطبوعہ کراچی)
مرآۃ المناجیح میں ہے :
”محلل سے مراد دوسرا خاوند ہے اور محلل لہ سے مراد پہلا خاوند جس نے تین طلاقیں دیں اگر حلالہ متعہ یا عارضی چند روزہ نکاح کے ذریعہ کیا گیا تو حلالہ درست ہی نہ ہوا کہ یہ نکاح ہی باطل ہے حلالہ میں نکاح صحیح ضروری ہے ۔۔۔لعنت جب ہے جب کہ اجرت پر حلالہ کرایا جائے۔“ (مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد5 ، حدیث 3296 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
درمختار میں ہے:
”(کرہ)التزوج للثانی(تحریما)لحدیث لعن اﷲ المحلل والمحلل لہ(بشرط التحلیل)کتزوجتك علی ان احللک(امااذا اضمرا ذٰلك لا)یکرہ (وکان) الرجل(ماجورا)لقصد الاصلاح“
ترجمہ:حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا کہ میں اس شرط پر تجھ سے نکاح کرتا ہوں کہ تجھے طلاق دے کر حلال کردوں گا دوسرے شخص کا نکاح مکروہِ تحریمہ ہے لیکن دونوں نے اگر دل میں حلالہ کی نیت کی تو مکروہ نہیں،اس صورت میں دوسرا شخص اصلاح کی غرض سے نکاح کرنے پر اجر کر مستحق ہوگا۔(درمختار، جلد 3 ،صفحہ 415، دارالفکر بیروت)
الفقہ علی المذہب الاربعہ میں ہے
”لان النکاح لایبطل بالشروط الفاسدة بل یبطل الشرط مع صحة العقد ومما لاشک ان شرط التحلیل لیس من مقتضی العقد فیجب بطلانه و صحة العقد“
کیونکہ نکاح فاسد شرائط کی وجہ سے باطل نہیں ہوتا بلکہ عقد صحیح ہو جاتا ہے اور شرط باطل ہو جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ حلالہ کی شرط ان امور میں سے نہیں ہے جن کو عقد نکاح چاہتا ہے پس اس کا باطل ہونا اور عقد کا صحیح ہونا ضروری ہے۔(الفقہ علی المذہب الاربعہ، جلد 4 ، صفحہ 80 ، مطبوعہ بیروت)
المصنف میں ہے
” عن ابن سیرین قال ارسلت امراة الی رجل فزوجته نفسھا لیحلھا لزوجھا فامرہ ان یقیم علیھا لایطلقھا واوعدہ بعاقبة ان طلقھا“
ترجمہ:ابن سیرین رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک عورت مرد کے پاس حلالہ کے لیے بھیجی گئی کہ یہ مرد اس سے نکاح کرلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ اس عورت کو رکھے اور اسے طلاق نہ دے اور اگر اسے طلاق دی تو سزا دی جائے گی۔(المصنف ، جلد 6 ، صفحہ 267 ، الجلس العلمی ، ھند)
السنن الصغیر للبیہقی میں ہے
”وروینا عن عمر بن خطاب مادل علی صحة نکاح اذا خلا عقدہ عن الشرط“
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ہم نے روایت کیا کہ جو اس پر دلالت ہے کہ جو نکاح شرط کے بغیر ہو وہ نکاح جائز ہے۔(سنن الصغیر ، جلد 3، صفحہ 61، مطبوعہ کراچی)
نیل الاوطار میں غیر مقلدین کا امام محمد شوکانی لکھتا ہے
”وقد روی عبد الرزاق ان امراة ارسلت الی رجل فزوجته نفسھا لیحلھا لزوجھا فامرہ عمر بن الخطاب ان یقیم معھا ولا یطلقھا و او عندہ ان یعاقبه ان طلقھا فصحح نکاحه ولم یامرہ باستئنافه“
ترجمہ:امام عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے کہ ایک عورت ایک شخص کے پاس بھیجی گئی کہ اس سے حلالہ کروائے تاکہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہو جائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے دوسرے شوہر کو حکم دیا کہ اس عورت کو اپنے پاس رکھ لے اور اسے طلاق نہ دے اور فرمایا کہ اگر تو نے اسے طلاق دی تو سزا دوں گا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے (حلالہ کی شرط پر کئے ہوئے) نکاح کو قائم رکھا انہیں دوبارہ نکاح کرنے کا حکم نہ دیا۔(نیل الاوطار ، جلد 6 ، صفحہ 166، دار الحدیث ، مصر)
سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
” شرط اور چیز ہے اور قصد اور چیز شرط تو یہ کہ عقد نکاح میں یہ شرط لگالے یہ ناجائز وگناہ ہے اور حدیث میں ایسےحلالہ کرنے والے پر لعنت آئی ہے اور قصد یہ کہ دل میں اس کا ارادہ ہو مگر شرط نہ کی جائے تو یہ جائز ہے بلکہ اس پر اجر کی امید ہے۔“(فتاوی رضویہ، جلد 12 ،صفحہ 409، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”نکاح بشرط التحلیل (حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے لیے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں ۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔“(بہار شریعت ،جلد 2 ،حصہ 8، صفحہ 180، مکتبۃ المدینہ کراچی)
وقار الفتاوی میں ہے:
”حنفیہ کے نزدیک اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صرف اس قصد سے نکاح کرے کہ ایک دن بعد طلاق دے دے گا یا صرف پہلے کے لیے حلال کرنا مقصود تھا اس کا یہ فعل اور پہلا شوہر جس نے یہ شرط کے ساتھ حلالہ کروایا دونوں پر لعنت ہے لیکن حلالہ اس صورت میں بھی ہو جائے گا شریعت میں نکاح سے مقصد تاحیات نکاح کو باقی رکھنا ہے نکاح اسی ارادے سے کرنا چاہیے حلالہ کرنے کی اجرت لینا حرام ہے اور اگر بطور نذرانہ لینے کا عرف کیا جائے یا ان لوگوں کے ذھنوں میں حلالہ سے پہلے اس کا خیال تھا جب بھی ناجائز ہے ہاں اگر شرط نہیں ہے لیکن حلالہ کرنے والی کی نیت یہ ہے کہ پہلے والے کے لیے بیوی حلال ہو جائے گی اور میرے اس فعل سے ان کا گھر تباہی سے بچ جائے گا تو حلالہ کرنے والے کو اس صورت میں ثواب ملے گا۔“(وقار الفتاوی ، جلد 3 ،صفحہ 220، بزم وقار الدین)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
18ربیع الاول 1446ھ22 ستمبر 2024ء
نظر ثانی و ترمیم:
مفتی محمد انس رضا قادری