حالتِ حیض میں طواف کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ طواف کے دوران حیض آ جائے تو کیا طواف جاری رکھے یا چھوڑ دے ؟اگرجاری رکھا تو کیا حکم ہوگا؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
طواف کرنے والے کے لیے واجب ہے کہ حدث اصغر(بے وضو) و حدث اکبر(حیض ونفاس اور جنابت) سے پاک ہو اور حالت حیض میں طواف کرنا حرام ہے اور اگر طواف کے دوران حیض آگیا تو حکم یہ ہے کہ فوراً مسجد الحرام سے باہر آ جائے اور صبر کرکے احرام کی پابندیوں کا خیال رکھتے ہوئے ناپاکی کے ایام بسر کرے ،پھر جب حیض ختم ہو جائے تو غسل کرکے طواف کرے ۔اگر طواف کے چار چکر مکمل ہونے سے پہلے حیض آگیا تھا تو اختیار ہے نئے سرے سے طواف کرے یا جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے شروع کرے اور اگر چار یا اس سے زیادہ پھیرے مکمل ہوگئے تھے پھر حیض آگیا تھا تو اب نئے سرے سے طواف نہیں بلکہ جہاں سے چھوڑا تھا وہیں سے شروع کرے۔ اگر حیض کی حالت میں طواف کے تمام یا اکثر پھیرے مکمل کرلیے تو پاکی کی حالت میں طواف کا اعادہ (طواف دوبارہ )کرنا واجب ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو حدود حرم میں ایک دم دینا لازم ہوگا۔
ارشاد الساری میں ہے :
’’(الطواف جنبااو حائض او نفساء ) حرام اشد حرمۃ‘‘
یعنی:حالت جنب،حیض اور نفاس میں طواف حرام سخت حرام ہے۔(ارشاد الساری الی مناسک ملا علی قاری،صفحہ112،مطبوعہ بیروت)
بحر الرائق میں ہے:
’’ان الحیض یتعلق بالاحکام :الرابع عشر یحرم الطواف من جھتین دخول المسجد و ترک الطھارۃ لہ‘‘
یعنی:بیشک وہ احکام جو حیض سے تعلق رکھتے ہیں ،چودھواں یہ ہے کہ حالت حیض میں دو وجہوں سے طواف حرام ہو جاتا ہے ،مسجد میں داخل ہونے اورطہارت کے نہ پائے جانے کی وجہ سے۔ (البحر الرائق،جلد1،صفحہ336،مطبوعہدار الکتب العلمیۃ)
مناسک ملا علی قاری میں ہے :
”الاول الطھارۃ عن الحدث الاکبر والاصغر۔۔۔۔ثم اذا اثبت ان الطھارۃ عن النجاسۃ الحکمیۃ وواجبۃ فلو طاف معھا یصح عندنا “
یعنی طواف کے واجبات میں سے پہلی شرط حدث اصغر یعنی بے وضو ہونے اور حدث اکبر یعنی حیض ونفاس اور جنابت سے پا ک ہو نا ہے ۔۔۔پھر جب یہ ثابت ہوگیا کہ نجاست حکمیہ سے پاک ہونا واجب ہےتو اگر اس نےا سی حالت میں طواف کیاتو طواف ادا ہوجائےگا۔ (مناسک ملا علی قاری ، ص213،مطبوعہ مکۃ المکرمہ )
در مختار میں ہے:
’’لو خرج منہ ۔۔۔ثم عاد بَنٰی ‘‘
ترجمہ:اگر طواف چھوڑ کر چلا گیا،پھر لوٹا تو اسی پر بِنا کرے گا۔
علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ در مختار کی اس عبارت (بَنٰی) کے تحت فرماتے ہیں:
’’أی علی ما کان طافہ ،ولا یلزمہ الاستقبال۔قلت: ظاھرہ انہ لو استقبل لا شئی علیہ فلا یلزمہ اتمام الاول ۔۔۔ثم رأیت فی اللباب ما یدل علیہ حیث قال فی فصل مستحبات الطواف :ومنھا استئناف الطواف لو قطعہ أو فعلہ علی وجہ مکروہ ۔قال شارحہ :لو قطعہ أی ولو بعذر ،والظاھر انہ مقید بما قبل اتیان اکثرہ‘‘
ترجمہ:یعنی جہاں سے طواف چھوڑا تھا وہیں سے شروع کرے گا،نئے سرے سے کرنا ضروری نہیں۔میں کہتا ہوں اس کا ظاہر یہ ہے کہ اگر نئے سرے سے شروع کرے تو اس پر کچھ حرج نہیں، لہذا پہلے طواف کو مکمل کرنا اس پر لازم نہیں ۔پھر میں نے لباب میں وہ عبارت دیکھی جو اس پر دلالت کرتی ہے ،کہ انہوں نے طواف کے مستحبات والی فصل میں فرمایا:طواف کے مستحبات میں نئے سرے سے طواف کو شروع کرنا (بھی )ہے اگر اس نے طواف کو (بیچ سے)چھوڑدیا یا اسے مکروہ طریقے سے کیا ۔ اس کےشارح نے فرمایا:کہ جومصنف نے طواف چھوڑنے کاذکرکیاہے تواس سے مرادہے کہ اگرچہ کسی عذرکے سبب چھوڑاہو ۔اور ظاہر یہی ہے کہ نئے سرے سے شروع کرنا،طواف کے اکثر پھیروں کو مکمل کرنے سے پہلے چھوڑنے کے ساتھ مقید ہے۔(در مختار مع رد المحتار، جلد3، صفحہ582،مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے :
”طواف کرتے کرتے نمازِ جنازہ یا نمازِ فرض یا نیا وضو کرنے کے لیے چلا گیا تو واپس آکر اُسی پہلے طواف پر بِنا کرے یعنی جتنے پھیرے رہ گئے ہوں انھیں کرلے طواف پورا ہوجائے گا، سرے سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں اور سرے سے کیا جب بھی حرج نہیں اور اس صورت میں اس پہلے کو پورا کرنا ضرور نہیں اور بِنا کی صورت میں جہاں سے چھوڑا تھا، وہیں سے شروع کرے حجرِ اسود سے شروع کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ سب اس وقت ہے جب کہ پہلے چار پھیرے سے کم کیے تھے اوراگر چار پھیرے یا زیادہ کیے تھے تو بِنا ہی کرے۔“(بہار شریعت جلد 1 حصہ 6 صفحہ 1108 مکتبہ المدینہ کراچی)
محیط برھانی میں ہے:
’’اذا طاف للعمرۃ محدثا او جنبا فما دام بمکۃ یعید الطواف لان الطواف رکن العمرۃ کطواف الزیارۃ فی الحج و ان رجع الی اھلہ و لم یعد ففی المحدث یلزمہ الشاۃ وفی الجنب ۔۔۔وفی الاستحسان یکفیہ شاۃ ‘‘
یعنی:اگر کسی نے عمرے کا طواف بے وضو یا جنابت کی حالت میں کیاتو جب تک مکہ مکرمہ میں ہے دوبارہ طواف کرے کیونکہ طواف عمرے کا رکن ہے جیسا کہ حج میں طواف زیارت ہوتا ہےاور اگر اپنے گھر کو لوٹ گیا تو بے وضوطواف کرنے کی صورت میں ایک بکری اور اسی طرح جنبی کو بھی استحساناً ایک بکری بطور دم دینالازم ہے ۔(المحیط البرھانی،جلد3،صفحہ453،مطبوعہ بیروت)
ابومحمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی دامت برکاتھم العالیہ اپنی تصنیف 27 واجبات حج میں فرماتے ہیں:
’’اگر کسی نے تمام یا اکثر پھیرے عمرے کے طواف میں جنابت حیض یا نفاس کی حالت میں کیے تو مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے پاکی کی حالت میں اعادہ کرنا واجب ہے اور اگر بے و ضو حالت میں کئے تو پاکی کی حالت میں اعادہ کرنا مستحب ہے اعادہ نہ کیا تو مذکورہ تمام صورتوں میں ایک دم دینا لازم ہوگا۔‘‘(27 واجبات حج،صفحہ152،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
19ربیع الاول 1446ھ23 ستمبر 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری