اہل سنت و جماعت کے نام نہاد مناظر

اہل سنت و جماعت کے نام نہاد مناظر

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ شرعا مناظرہ کرنا کیسا ہے؟آج کل کئی ویڈیوز ہم دیکھتے ہیں کہ نیشنل اور سوشل میڈیا میں غیر معروف عالم صاحب جن کا نہ کوئی علمی نام ہے اورنہ ہی کتب وغیرہ کے مصنف ہیں، وہ اہل سنت و جماعت کا نمائندہ بن کر بدمذہبوں سے مناظرہ کررہے ہوتے ہیں اور کئی مرتبہ ایسے لگتا ہے کہ بدمذہب اس پر غالب ہیں۔ کیا کسی بھی عالم کو یہ حق ہے کہ وہ یوں میڈیا پر بیٹھ کر مناظرہ کرے جبکہ اس فیلڈ میں اس کا تجربہ و مطالعہ نہ ہو؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شرعی طور پر مناظرہ کرنا جائز بلکہ عظیم ہستیوں سے ثابت ہے جب کہ مقصد حق کی حمایت کرنا ہو اور اگر کسی کو مغلوب کرنا ہو یا اپنی علمی دھاک بٹھانا ہو یا مقبولیت حاصل کرنا ہو تو جائز نہیں ہے ۔یونہی کسی مقررمولوی صاحب جس کا دینی مطالعہ نہیں فقط عوام کو مطمئن وخوش کرنے کے لیے اپنی تقریر کے دوران بدمذہبوں کو مناظرے کے چیلنج کرنا حماقت ہے،ایسے مولوی کا جب چیلنج بدمذہب قبول کرلے تو پھر اس نے مناظرہ کرنا کوئی نہیں اور بدنام اہل سنت و جماعت ہوتی ہے۔

واقعی کچھ عرصہ سے یہ دیکھنے میں آرہا ہے کہ میڈیا پر کئی مولوی صاحبان بطور مناظر بدمذہبوں سے بحث کررہے ہیں جن کااہل سنت و جماعت میں کوئی علمی مقام نہیں ،وہ اپنے ساتھ مفتی کا ٹائٹل لگا لیتے ہیں جبکہ عقائد اہل سنت تو کیا فقہ حنفی کے عام مسائل میں بھی ان کے پاس دلائل نہیں۔ایسے لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے مناظرہ میں شکست کھاتے اور اہل سنت و جماعت کی ساکھ کو خراب کرتے ہیں۔شرعا ان کا یوں مناظرے کرنا درست نہیں۔

مناظرہ کے لیے دو باتوں کا ہونا ضروری ہے:

(1)دین کا وسیع علم و مہارت:مناظرہ مقرر قسم کے مولویوں کا کام نہیں یونہی ہر درس نظامی کے فاضل کے لیے بھی شرعا درست نہیں کیونکہ مناظرہ صرف چند کتب پڑھ کر یا چند دلائل کے ساتھ نہیں کرسکتے بلکہ ضروری ہے کہ وسیع مطالعہ کے ساتھ اس فن میں مہارت ہو۔ مناظرہ میں صرف دلیل قطعی و ظنی نہیں بتانی ہوتی بلکہ مناظرے کا مقصد مخالف کو چپ کروانا ہوتا ہے اور اپنے موقف کے تمام دلائل میں پختگی کے ساتھ ساتھ علم الکلام میں مہارت علم حدیث و اصول حدیث ، آداب مناظرہ ودیگر علوم کے ساتھ ساتھ فریق مخالف کی دلیل کیا ہے اور وہ کس درجے کی ہے اس کا بھی علم ہونا ضروری ہے۔یونہی اس کی دلیل یا اپنی دلیل پر کونسے کونسے اعتراضات وارد ہوسکتے ہیں اس کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔ اپنے دلائل کے ساتھ ساتھ فریق مخالف کے اکابر کی بھی دلیل جو کہ ہمارے موقف کی حمایت کرے یہ انتہائی ضروری ہے ۔پھر فقط دلائل سے ہی نہیں بلکہ حاضر دماغی،تیز اور گرج دار آواز سے بھی مناظرے جیتے گئے ہیں جس کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔ لہذا مناظر کو ان بیان کردہ خوبیوں کا حامل ہونے کے ساتھ حالات کا سامنا کرنے کا بھی حوصلہ ہونا چاہیے۔ دورانِ مناظرہ نرمی و شائستگی سے گفتگو کی جائے اور آدابِ گفتگو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے دلائل پیش کئے جائیں۔

(2) لوگوں کے مکرو فریب سے آگاہی :مناظرکو موجودہ حالات کے فتنوں سے بھی باخبر ہونا ضروری ہے کہ مناظرہ کون کروارہا ہے؟منصف کون ہے اورریکارڈنگ کون کررہا ہے؟دراصل کئی ایسے اینکر قسم کے فراڈیے ہیں جو بدعقیدہ ہیں لیکن اپنی بدعقیدگی ظاہر نہیں کرتے اور اہم عقائد کے معاملات میں بحث کرنے کے لیے یا تو اہل سنت کا کوئی عام سا مولوی بٹھا کر مد مقابل کوئی تیز چالاک بدمذہب بٹھا دیتے ہیں جو چر ب زبانی اور دیگر ہتھکنڈوں سے سنی مولوی پر غالب آجاتا ہے۔یا یوں کیا جاتا ہے کہ منصف اور مناظر ریکارڈ کرنے والے یہی ہوتے ہیں جو اپنے نظریات کی حمایت کرتے اور بعد میں فقط وہی ویڈیوز کلپ وائرل کرتے ہیں جس میں بدمذہب نے دلائل دیے ہوں،سنی عالم کے دلائل و جوابات نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔ اس لیے موجودہ دور میں ان چالاکیوں سے باخبر ہوکر ہی مستند سنی عالم دین کو مناظرہ کرنا چاہیے اور ریکارڈنگ مکمل ا پنے طور پر بھی کرنی چاہیے ۔بہتر ہے کہ مناظرے سے پہلے کسی ایسے سنی شخص کے پلیٹ فارم کو استعمال کیا جائے جس کا سوشل میڈیا میں ایک نام اور لاکھوں لوگ اس کے فالورز ہوں تاکہ اہل سنت و جماعت اور فقہ حنفی کی حقانیت پر دلائل دیے گئے ہیں وہ زیادہ لوگوں تک جائیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے

”اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ“

ترجمہ:اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور ان سے اس طریقے سے بحث کرو جو سب سے اچھا ہو ،بیشک تمہارا رب اسے خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے گمراہ ہوا اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔(سورۃ النحل ،آیت 125 ، پارہ 16)

تفسیر کبیر میں ہے

”ومن لطائف ھذہ الْاية انه قال ﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ﴾ فضقر الدعوة علی ذکر ھذین القسمین لان الدعوة ان کانت بالدلیل القطعیه فھی الحکمة ان کانت بالدلیل الظَّنِّیَّۃِ فَھِیَ الْمَوْعِظَۃُ الْحَسَنَۃُ، اما الجدال لیس من باب الدعوة بل المقصود منه غرض اخر مغایر لھا وھو الازام والافحام۔” فلھذا السبب لم یَقُل:اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃ وَالْجِدَالِ الْاَحْسَنِ ،بل قطع الجدل عن باب الدعوۃ تنبیہا علی انه لایحصل الدعوۃ ،وانما الغرض منه شیئ اخر“

ترجمہ : اس آیت کے لطائف میں سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے﴿اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ﴾ فرما کر دعوت کوصرف دو قسموں میں منحصر کر دیا ہے، اس لیے کہ اگر دعوت دلائل قطعیہ کے ساتھ ہو تو حکمت ہے اور اگردلائل ظنیہ کے ساتھ ہو توموعظہ حسنہ ہے۔ رہا جدل (بحث و مباحثہ) تو یہ دعوت کے طریق سے نہیں بلکہ اس سے مقصود کچھ اور ہوتا ہے جو دعوت سے الگ ایک چیزہے یعنی کسی کو چپ کرانا۔ اس لیے اللہ نے اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَالْجِدَالِ الْاَحْسَنِ نہیں فرمایا، جدل کو دعوت کے باب سے الگ ذکر کیا یہ بتانے کے لیے کہ اس کے ذریعے دعوت حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد کچھ اور ہوتا ہے۔(مفاتح الغیب المعروف التفسیر الکبیر، ج 20، ص112 ، سورۃ النحل، آیت 125، دار الکتب العلمیہ بیروت)

حاشیہ جلالین میں ہے

”المجادلة ھی المنازعة لا لاظھار الصواب بل لالزام الخصم۔۔۔ ۔۔ لکن المراد ھھنا المناظرة والجدال الْاحسن أن یکون دلیلا مرکبا من مقدمات مسلمۃ فی المشھور عند الجمہور ومقدمات مسلمۃ عند ذلک القائل ھکذا فی الکبیر“

ترجمہ: فریقین کا اظہار صواب کیلئے نہیں بلکہ ایک دوسرے کو چپ کرانے کے لیے گفتگو کرنا ”مجادلہ“ ہے ۔لیکن یہاں مراد مناظرہ ہے اور بہترین مناظرہ وہ ہے جس میں دلیل ایسی ہو جو ایسے مقدمات سے مرکب ہو جو مشہور قول کے مطابق جمہور کے ہاں ثابت شدہ ہیں یا فریق مخالف کے ہاں ثابت شدہ ہیں ، اسی طرح تفسیر کبیر میں ہے۔(حاشیہ جلالین، ص 228، مطبوعہ کوئٹہ)

تفسیر مدارک میں ہے

”والآية تدل على جواز المناظرة مع الکفرة في الدين وعلى جواز تعلم علم الكلام الذي به تتحقق الْمجادلة“

ترجمہ: اس آیت کریمہ سے ایک تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ کفار سے مناظرہ کرناجائز ہے دوسرایہ کہ علم الکلام سیکھناجائزہے کیونکہ علم الکلام کے ذریعہ ہی مناظرہ ہوسکتاہے۔( تفسیر المدارک ،ج2 ،ص294، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

در مختار میں ہے

”ألمناظرۃ فی العلم لنصرۃ الْحق عبادۃ ولا حد ثلاثۃ حرام، لقھر مُسْلِمٍ، وَاِظہار علم، ونیل دنیا أومال أَوْقُبُوْل“

ترجمہ: دین حق کی مدد کیلئے مناظرہ کرنا عبادت ہے اور مسلمان کو ذلیل کرنے،اپنے علم کے اظہاراور دنیا،دولت یا عوام میں مقبولیت پیدا کرنے کیلئے مناظرہ کرنا حرام ہے۔(الدر المختار ، ج9،ص406، دار الفکر بیروت)

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور نمرود کے درمیان ہونے والی گفتگو کے متعلق صراط الجنان میں استادمحترم مفتی قاسم صاحب دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں:

”اس آیت سے عقائد میں مناظرہ کرنے کا ثبوت ہوتا ہے اور یہ سنت ِ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہے، اکثر انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے اپنی قوم کے مُنکِرین سے مناظرہ فرمایا، بلکہ خود حضور پرنور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے بھی نجران کے عیسائیوں سے مناظرہ کیا، لہٰذا مناظرہ کرنا برا نہیں ہے بلکہ سنت ِ انبیاء ہے البتہ اس میں جو تکبرو سرکشی اور حق کو قبول نہ کرنے کا پہلو داخل ہوگیا ہے وہ برا ہے اور علماء کرام میں سے جنہوں نے اس کی مذمت بیان کی ہے وہ اسی صورت سے متعلق ہے۔“(صراط الجنان،جلد1،صفحہ387،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

مرقاۃ المفاتیح میں ہے

”قَال ابن عیینۃ اجتمع ابو حنیفۃ وَالْأوزاعی في دار الْحناطين بمكة فَقَالَ والْأوزاعی لابی حنیفۃ ما بالكم لا ترفعون اَیدیکم فی الصلاۃ عند الرکوع وعند الرفع منْه ، فقال ابو حنیفۃ: لأجل أنه لمْ یصح عن رسول اللَّه صلی اللَّهُ عليه وسلم فيه شيء قال كيف لا يصح وقد حدثنی الزھری عن سالم عن أَبيه عن رسول اللَّه صلی اللَّهُ عليه وسلم أَنہ كان يرفع یدیه اذا افتتح الصلاۃ عند الرکوع عند الرفع منه فَقَالَ لَہُ أَبو حنیفہ : حدثَنا حماد عن ابراھیم عَنْ عَلْقَمَةَ والاسود عن ابن مسعود { أَن رسول اللَّه صلی اللَّه عليه وسلم كان لَا يَرْفَعُ يديه إلا عند افتتاح الصلاة ولا يعود شيء من ذلک فقال والْأوزاعی أُحدثك عَنْ الزھری عن سالم عن أَبيه وتقول حدثنی حماد عن ابراهيم ؟ فقال لہ ابو حنیفۃ : كان حماد أفقه من الزهري ، وكان ابراهيم أفقه من سالم ، وعلقمة ليس بدون منْ ابْن عمر في الفقه ، وإِنْ كانت لابن عمر صحبة اوله فضل صحبة فالْأسود له فضل کثیر وعبدالله ھو عبدالله فسکت الاوزاعی“

ترجمہ:حضرت سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ملاقات مکہ مکرمہ دار حناطین {گندم کی منڈی} میں امام اوزاعی رحمہ اللہ سے ہوئی۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سوال کیا: تم لوگ رکوع جاتے وقت اوررکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیوں نہیں کرتے؟

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے جواب دیا: اس لئے(رفع یدین نہیں کرتے) کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں ایسی کوئی حدیث ثابت ہی نہیں ہے ۔{جس سے رفع الیدین کا سنت متواترہ ہونا ثابت ہو}

تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا:کیسے ثابت نہیں۔ جبکہ مجھ سے امام زہری نے بیان کیا ، انہوں نے سالم سے نقل کیا انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کیا انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے وقت ، رکوع جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفع الیدین کرتے تھے ۔

امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نےفرمایا: ہم سے حماد نے بیان کیا ، انہوں نے ابراہیم سے روایت کیا ،انہوں نے علقمہ اور اسود سے نقل کیا ، ان دونوں نے حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف نماز کے شروع میں ہی رفع الیدین کرتے تھے ، اور اس کے بعد آخر نماز تک رفع الیدین نہیں کرتے تھے ۔

امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: میں تمہیں زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریق سے روایت کررہاہوں اور تم حماد عن ابراہیم کے طریق سے روایت کررہے ہو ؟

امام ابوحنیفہ نے جواب میں فرمایا:اما م حماد یہ امام زہری سے بڑے فقیہ ہیں اورامام ابراہیم امام سالم سے بڑے فقیہ ہیں اور امام علقمہ حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے فقہ میں کم نہیں ا گرچہ حضرت ابن عمررضی اللہ عنھما صحابی ہیں اور یہ شرف انہیں حاصل ہے ۔باقی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس کے بعد امام اوزاعی رحمہ اللہ خاموش ہوگئے۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح لعلی القاری، ج3، ص302، مطبوعہ بیروت)

تفسیر ابن کثیر میں ہے

”من احتاج منھم الی مناظرة وجدال فلیکن بالوجه الحسن برفق ولین وحسن خطاب“

ترجمہ: مناظر کوچاہئے کہ مناظرہ،بحث مباحثہ کی ضرورت پیش آنے پر بہترین اسلوب ،نرمی اورشائستگی کے ساتھ مناظرہ کرے۔( تفسیر ابن کثیر، سورۃ النحل، آیت 125، مطبوعہ بیروت)

ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے :

’’رد وہابیہ اورافتا یہ دونوں ایسے فن ہیں کہ طب کی طرح یہ بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتے ان میں بھی طبیب حاذق کی مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے۔“ (ملفوظات اعلی حضرت، حصہ اول، ص141 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے :

”حق کی حمایت کے لیے مناظرہ کرنا جائز ہے بلکہ عبادت ہے اور اگر اس لیے مناظرہ کرتا ہے کہ کسی مسلم کو مغلوب کر دے یا اس لیے کہ اس کا عالم ہونا لوگوں پر ظاہر ہوجائے یا دنیا حاصل کرنا مقصود ہے، مال ملے گا یا لوگوں میں مقبولیت حاصل ہوگی، یہ ناجائز ہے۔۔۔۔۔۔۔

مناظرہ میں اگر مناظر طلب حق کے لیے مناظرہ کرتا ہے یا اس کا یہ مقصود نہیں مگر بے جا ضداور ہٹ نہیں کرتا انصاف پسندی سے کام لیتا ہے جب تو اس کے ساتھ حیلہ کرنا جائز نہیں اوراگر محض اس کا مقصود ہی یہ ہے کہ اپنے مقابل کو مغلوب کردے اور ہرا دے جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر بدمذہب اسی قسم کا مناظرہ کرتے ہیں تو اس کے مکر اورداؤں سے اپنے کو بچانا ہی چاہیے ایسے موقع پر اس کے کید سے بچنے کی ترکیبیں کرسکتے ہیں۔“(بہار شریعت، جلد 3 ، حصہ 16 ، صفحہ 629 ، مکتبہ المدینہ کراچی)

تفسیر صراط الجنان میں ہے:

” یاد رہے کہ عیسائیوں ، یہودیوں اور دیگر کافروں کے ساتھ دینی اُمور میں بحث اور مناظرہ کرناان علماء کا کام ہے جو ان کے باطل عقائد و نظریات کا بہترین اور مضبوط دلائل کے ساتھ رد کر سکتے ہوں اور ان کی طرف سے دین ِاسلام اور اس کی تعلیمات و اَحکام پر ہونے والے اعتراضات کا انتہائی تسلی بخش جواب دے سکتے ہوں اورمناظرہ کے فن میں بھی خوب مہارت رکھتے ہوں ۔جوعالِم ایسی صلاحیت نہ رکھتا ہو اسے اور بطورِ خاص عام لوگ جنہیں عقائد و نظریات کی تفصیلی دلائل سے معلومات ہونا تو دور کی بات ،فرض عبادات سے متعلق شرعی احکام بھی ٹھیک سے معلوم نہیں ہوتے، انہیں یہودیوں ، عیسائیوں اور دیگر کفار سے دینی اُمور میں بحث مباحثہ کرنا حرام ہے اور ان لوگوں کا یہ سوچ کر بحث کرنے کی جرأت کرنا کہ ہم اپنے دین،عقیدے اور نظریات میں انتہائی مضبوط ہیں ،اس لئے یہودیوں ، عیسائیو ں یا کسی اور کافر سے دینی امور میں بحث کرنا ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا،دین و ایمان کی سلامتی کے حوالے سے انتہائی خطرناک اِقدام ہے اور ایسا شخص غیر محسوس انداز میں ایمان کے دشمن شیطان کے انتہائی خوفناک وار کا شکار ہے، اگر یہ شخص اپنے دین و ایمان کی سلامتی چاہتا اور قیامت کے دن جہنم کے اَبدی عذاب سے بچنا چاہتاہے تو ان سے ہر گز بحث نہ کرے ورنہ اپنے ایمان کی خیر منائے۔افسوس!ہمارے معاشرے میں شیطان کے کارندے لوگوں کے دین و ایمان کو برباد کرنے کے لئے مصروفِ عمل ہیں اور انتہائی مُنَظَّم انداز میں مسلمانوں کے دلوں سے دین ِاسلام کی محبت اور اس دین کی طرف لگاؤ کو ختم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن مسلمان اپنے دین و ایمان کو بچانے کی کوشش کرنے کی بجائے اسے بے دھڑک خطرے پر پیش کئے جا رہے ہیں ۔ الله تعالیٰ انہیں ہدایت اور عقل ِسلیم عطا فرمائے اور اپنے ایمان کی سلامتی اور حفاظت کی فکر کرنے اور ا س کے لئے خوب کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔“(ٍصراط الجنان،جلد7،صفحہ388،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

04ربیع الاول 1446ھ 09 ستمبر 2024ء

نظرثانی وترمیم:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں