شراب پینے کی منت ماننے کا حکم

شراب پینے کی منت ماننے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی نے منت مانی کے اگر میرا فلاں کام ہو گیا تو میں شراب پیوں گا، تو اس صورت میں کیا شرعی حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

سوال میں بیان کی گئی صورت، شرعی منت نہیں جس کو پورا کرنا لازم ہو، کیونکہ شرعی منت جس کو پورا کرنا لازمی ہے اسکی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ وہ گناہ کا کام نہ ہو۔لہٰذا فلاں کام ہوجائے تو اب شراب پینے کی بجائے کفارہ دے اور اس کا کفارہ قسم والا ہے، یعنی جو قسم ٹوٹنے پر کفارہ دیا جاتا ہے وہی کفارہ اس منت کے بدلے میں دے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے :

”قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من نذر أن يطيع الله فليطعه، ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه “

یعنی حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی وہ اطاعت کرے (یعنی نذر کو پورا کرے) اور جس نے نافرمانی کی نذر مانی وہ نافرمانی نہ کرے۔(البخاري، صحيح البخاري، کتاب الأیمان والنذور، ١٤٢/٨)

بخاری شریف کی اس روایت کے تحت ملا علی قاری علیہ الرحمتہ مرقاۃ المفاتيح میں فرماتے ہیں :

” من نذر معصية لا يجوز الوفاء به“

یعنی جس نے معصیت کی نذر مانی تو اسکا پورا کرنا جائز نہیں۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،کتاب العتق، باب فی النذور، 6/2246)

ابو داؤد شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے روایت ہے :

” أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين“

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گناہ کی منت نہیں اور ا سکا کفارہ قسم والا ہے۔( سنن أبي داود،کتاب الأیمان والنذور، حدیث نمبر 3290)

ملا علی قاری علیہ الرحمتہ مرقاۃ المفاتيح میں فرماتے ہیں :

”فإن نذر معصية أو مباحا كدخول السوق لم ينعقد نذره ولا كفارة عليه عند الشافعي، وبه قال جمهور العلماء: وقال أحمد وطائفة: فيه كفارة يمين . ومذهبنا مذهب أحمد لقوله صلى الله عليه وسلم ” «لا نذر في معصية وكفارته كفارة يمين»“

یعنی اگر معصیت یا مباح کام جیسے بازار میں داخل ہونے کی منت مانی تو امام شافعی کے نزدیک منت منعقد نہ ہو گی اور کفارہ بھی نہیں جمہور علماء نے بھی یہی کہا جبکہ امام احمد اور ایک گروہ نے کہا کہ اس صورت میں کفارہ ہے، اور ہمارا مذہب بھی امام احمد والا ہے حضور علیہ السلام کے فرمان مبارک کی وجہ سے کہ معصیت میں ‌کوئی نذر نہیں اور اسکا کفارہ کفارہ یمین ہے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، کتاب العتق، باب الأیمان والنذور ،٢٢٣٤/٦)

المعتصر من المختصر میں حدیث پاک ” من نذر ان یعصیہ اللہ فلا یعصہ” کے متعلق ہے :

” روت عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: “من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه” وزاد بعض في الحديث ويكفر يمينه لأن الشرع أعجزه عن الوفاء بالمعصية فيكون كالنذر الذي عجز عن الوفاء به فيجب فيه الكفارة “

یعنی بعض نے اس حدیث میں” کفارہ دینے” کے الفاظ کا اضافہ کیا ہے کیونکہ شریعت کی جانب سے بندہ نافرمانی کرنے سے عاجز ہے تو یہ اس نذر کی طرح ہو گیا جسے پورا کرنے پر عاجز بندہ ہو، پس کفارہ واجب ہوگا۔( المعتصر من المختصر من مشكل الآثار،کتاب الأیمان والنذور، ٢٦١/١)

فتاوی ہندیہ میں ہے” (والرابع) أن لا يكون المنذور معصية باعتبار نفسه هكذا في البحر الرائق“

یعنی شرعی منت کی چوتھی شرط یہ ہے کہ جس کام کہ منت مانی گئی وہ فی نفسہ گناہ نہ ہو، ایسا ہی بحر الرائق میں ہے۔( الفتاوى الهندية، کتاب الصوم ،الباب السادس فی النذر ، ٢٠٨/١)

بہارشریعت میں ہے :

”شرعی منّت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں……..جس چیز کی منّت مانی وہ خود بذاتہٖ کوئی گناہ کی بات نہ ہو…..“(بہارشریعت، جلد1 ،حصہ5، صفحہ 1021، مکتبۃالمدینہ کراچی)

علامہ ابن ہمام علیہ الرحمتہ نے زنا و شراب کی منت پر کلام کرتے ہوئے فرمایا :

” ومقتضى الظاهر أن ينعقد مطلقا للكفارة إذا تعذر الفعل، وعليه مشى المشايخ. قال الطحاوي رحمه الله: لو أضاف النذر إلى سائر المعاصي كقوله: لله علي أن أقتل فلانا كان يمينا ولزمته الكفارة بالحنث “

یعنی مقتضی ظاہر یہی ہے کہ جب فعل متعذر ہو تو یہ نذر مطلقا کفارہ کے طور پر منعقد ہو گی، اور مشائخ اسی پر ہیں، علامہ طحاوی علیہ الرحمتہ نے فرمایا کہ اگر نذر کو جملہ معاصی کی طرف منسوب کیا جیسے اللہ کے لیے میرے اوپر فلاں ‌و قتل کرنا ہے تو یہ یمین ہوگی اور حانث ہونے پر کفارہ ہو گا۔( فتح القدير للكمال ابن الهمام، کتاب الصوم، باب مایوجب القضاء والکفارۃ، ٣٨٣/٢)

بحر الرائق اور ردالمحتار میں ہے :

”قالوا لو أضاف النذر إلى سائر المعاصي كقوله لله علي أن أقتل فلانا كان يمينا ولزمته الكفارة بالحنث “

یعنی فقہائے کرام نے فرمایا اگر نذر کو گناہ کے کاموں کی طرف منسوب کیا تو جیسے اللہ کے لیے میرے اوپر فلان کو قتل کرنا ہے، تو یہ یمین ہو گی اور حانث ہونے پر کفارہ ہو گا۔(البحر الرائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصوم، فصل فی عوارض الفطر، فصل ما یوجبہ العبد علی نفسہ، ٣١٧/٢، الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)، کتاب الأیمان، ٧٣٦/٣)

مرقاۃ المفاتيح میں ہے :

” وإن كان محرما تجب كفارة اليمين لما روت عائشة أنه صلى الله تعالى عليه وسلم قال: ” «لا نذر في معصية، وكفارته كفارة اليمين» “. ولما روي عن عقبة أنه عليه الصلاة والسلام قال: ” «كفارة النذر كفارة اليمين»“

یعنی اگر حرام کام کی منت مانی تو اس پر کفارہ یمین واجب ہے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے حضور علیہ السلام سے روایت کیا کہ معصیت میں ‌کوئی نذر نہیں اور اسکا کفارہ کفارہ یمین ہے، اور حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا نذر کا کفارہ، کفارہ یمین ہے۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ،کتاب العتق، باب فی النذور،6/2247)

شیخ محقق شیخ عبد الحق محدث دہلوی علیہ الرحمتہ لمعات التنقیح میں فرماتے ہیں :

” وإن كان محرما تجب كفارة اليمين، لما روي عن عائشة رضي الله عنها أنه صلى الله عليه وسلم قال: لا نذر في معصية، وكفارته كفارة اليمين، انتهى. والظاهر أن مذهبنا هذا “

یعنی اگر حرام کام کی منت مانی تو اس پر کفارہ یمین واجب ہے، کیونکہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنھا نے حضور علیہ السلام سے روایت کیا کہ معصیت میں ‌کوئی نذر نہیں اور اسکا کفارہ کفارہ یمین ہے، اور ظاہر یہی ہے کہ ہمارا مذہب یہی ہے۔( لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح،کتاب الأیمان، باب فی النذور ٢٥٧/٦)

تحفۃ الفقہاء میں ہے :

”وإن كان معصية لم يجب عليه الوفاء به وعليه كفارة اليمين إذا فعله ، وأصله قوله عليه السلام من نذر نذرا أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصي الله فلا يعصه وقال عليه السلام النذر يمين وكفارته كفارة يمين “

یعنی اگر منت معصیت پر مبنی ہو تو اسکو پورا کرنا ضروری نہیں، اور اس پر قسم کا کفارہ ہے جب وہ کرے (یعنی جب حانث) ہو اور اس کی اصل حضور علیہ السلام کا وہ فرمان ہے جس نے اللہ کی اطاعت کی نذر مانی وہ اطاعت کرے اور جس نے نافرمانی کی مانی وہ نافرمانی نہ کرے، اور آپ علیہ السلام کا فرمان کہ نذر یمین ہے اور اسکا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔(تحفة الفقهاء، باب النذر، ٣٣٩/٢)

فتاوی ہندیہ میں ہے :

” وإن حلف على معصية بالنذر فعليه كفارة يمين“

یعنی اگر معصیت کہ نذر مانی تو اس پر قسم کا کفارہ ہے۔( الفتاوى الهندية، کتاب الأیمان،الباب الثانی فی ما یکون یمینا….، الفصل الثانی فی الکفارۃ،٦٥/٢)

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

مورخہ 27 جنوری 2023، بمطابق 04 رجب المرجب 1444ھ، بروز جمعۃ المبارک

اپنا تبصرہ بھیجیں