عورت کا عدت شوہر کے گھر نہ گزارنے پر نفقہ کا حکم

عورت کا عدت شوہر کے گھر نہ گزارنے پر نفقہ کا حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر عورت عدت کے دوران شوہر کے گھر سے چلی جائیں تو کیا اسے نفقہ ملے گا؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورت کے لیے عدت اس گھر میں کرنا ضروری ہے جہاں وہ شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ اگر وہ اس گھر سے چلی جائے تو وہ نفقہ کی حقدار نہیں ہوگی جب تک کہ واپس نہ آ جائے۔

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

” لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ“

ترجمہ:عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ آپ نکلیں۔ (القرآن الکریم،پارہ28،سورۃ الطلاق،آیت:01)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے

”علی المعتدہ ان تعد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنی حال وقوع الفرقة“

ترجمہ:عدت والی عورت پر لازم ہے کہ اسی گھر میں عدت گزارے جس میں طلاق کے وقت رہائش پذیر تھی ۔(فتاویٰ عالمگیری ، جلد 1 ، صفحہ 559، دار العلمیہ بیروت)

فتاویٰ سراجیه میں ہے

”المطلقة اذا خرجت من بیت الزوج لانفقة لھا“

ترجمہ:مطلقہ جب شوہر کے گھر سے نکل جائے تو اس کے لیے کوئی نفقہ نہیں۔(فتاویٰ سراجیه، کتاب الطلاق صفحہ 237، دار الفکر بیروت)

بحر الرائق میں ہے

”المعتدۃ اذا خرجت من بیت العدۃ تسقط نفقتھا ما دامت علی النشوز، فان عادت الی بیت الزوج کان لھا النفقۃ و السکنیٰ“

یعنی عدت والی عورت اگر عدت والے گھر سے نکل جائے، تو جب تک وہ نافرمانی پر قائم رہے تب تک اس کا نفقہ ساقط ہوجائے گا۔ ہاں! اگر وہ شوہر کے گھر لوٹ آتی ہے تو وہ نفقہ اور رہائش کی مستحق ہوگی۔(البحر الرائق، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 04، ص 217، مطبوعہ بیروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے

”ان نشزت فلا نفقة لھا حتی تعود الی منزله“

ترجمہ:اور عورت اگر نافرمان ہے تو اس کے لیے نفقہ نہیں یہاں تک کہ وہ شوہر کے گھر واپس آجائے۔(فتاویٰ عالمگیری ، جلد 1 ، صفحہ 559، دار العلمیہ بیروت)

ردالمحتار میں ہے

”وفی المجتبی نفقۃ العدۃ کنفقۃ النکاح وفی الذخیرۃ وتسقط بالنشوز وتعود بالعود، وأطلق فشمل الحامل وغيرها والبائن بثلاث أو أقل كما في الخانية “

یعنی مجتبیٰ میں ہے کہ عدت کا نفقہ نکاح کے نفقہ کی طرح ہے، اور ذخیرہ میں ہے کہ نشوز کے سبب نفقہ ساقط ہوجاتا ہےہاں اگر زوجہ لوٹ آئے تو نفقہ بھی لوٹ آئے گا۔ یہاں نفقہ کا مطلق بیان ہوا ہے لہذا یہ حکم حاملہ اور غیر حاملہ عورت ، تین طلاق والی بائنہ عورت یا اس سے کم طلاق والی عورت، سب کو شامل ہے، جیسا کہ خانیہ میں مذکور ہے۔(رد المحتار مع الدر المختار ، کتاب الطلاق، باب النفقۃ، ج 03، ص 609، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

” اگر بعدِ طلاق شوہر کے گھر میں رہی اور باہر جانا چھوڑدیا تو ( نفقہ) پائے گی۔“(بہار شریعت ،ج02،ص263، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مزید بہارشریعت میں ہے:

” بہارشریعت میں ہے:” موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیاہے کہ گھر سے باہر نہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑکر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی ،مگر بضرورت اور ضرورت کی صورتیں ہم آگے لکھیں گے ۔آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو،محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں ،وہ یہاں مراد نہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔“(بھارشریعت ،جلد2،حصہ 8،صفحہ245،مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

17صفر المضفر 1446ھ21 اگست 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں