وقفی ادارے میں درخت لگانے کی شرعی حیثیت و احکام

وقفی ادارے میں درخت لگانے کی شرعی حیثیت و احکام

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد اور مدرسہ میں درخت لگانا کیسا ہے اوران درختوں کا مالک کون ہے؟ بینوا توجروا(بیان فرما کر اجر پائیے)

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مسجد میں میں بغیر ضرورت اگرچہ خوبصورتی کے ہو درخت لگانا جائز نہیں ہے۔ اگر ضرورت ہو جیسے مسجد کی زمین نمناک ہو اور درختوں کے بغیر اس کے ستون قرار نہ پکڑتے ہوں تو اس ضرورت کی وجہ سے درخت لگانا جائز ہے۔مسجد کے علاوہ دیگر وقفی اداروں میں درخت لگانا درست ہے ۔مسجد یا دیگر وقفی اداروں میں لگائے گئے درختوں کی ملکیت کی مختلف صورتیں ہیں:

(1) درخت دقفی ادارے کے مال سے لگائے گئے ہیں۔

(2) متولی نے اپنے مال سےادارے کے کی نیت سے لگائے یا بغیر کسی نیت کے لگائے یا لگائے تو اپنے لیے لیکن لگاتے وقت اپنے لیے لگانے پر گواہ نہیں بنائے۔

(3) متولی نے اپنے مال سے لگائے اور لگاتے وقت اپنے لیے لگانے پر گواہ بنا لیا۔

(4) متولی کے علاوہ کسی اجنبی نے درخت لگائے۔

شرعی حکم: پہلی دو صورتوں میں درخت وقفی ادارےکی ملکیت ہوں گے اور آخری دو صورتوں میں لگانے والے کی ملکیت ہوں گے۔ اگر ان آخری دو صورتوں میں مالک ان درختوں کو وقف کردے تو وقف درست ہے۔اگر خود بخود درخت بن جائیں یا لگانے والوں کا علم نہ ہو تو علاقے کے با اعتماد، دین دار اور امانت دار افراد ان درختوں کو بیچ کر وہ رقم اسی وقفی ادارے میں لگاسکتے ہیں۔

خلاصۃ الفتاوى میں ہے:

”غرس الأشجار في المسجد لا بأس به إذا کان فیه نفع للمسجد بأن کان المسجد ذا نز والاسطوانات لا تستقر بدونها وبدون ھذا لا یجوز“

ترجمہ: مسجد میں درخت لگانا جائز ہے جبکہ مسجد کے نفع کے لیے ہو جیسے زمین مسجد نمناک ہو اور درختوں کے بغیر اس کے ستون قرار نہ پکڑتے ہوں اور اس ضرورت کے بغیر درخت لگانا ناجائز ہیں۔ (خلاصۃ الفتاوى، کتاب الصلاۃ، الفصل السادس والعشرون فی المسجد وما یتصل بہ، جلد1، صفحہ228، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃ الرحمن ارشادفرماتے ہیں :

”مسجد میں درخت بونا ناجائز ہے اگرچہ مسجد وسیع ہو اگر چہ درخت پھلدار ہو۔“(فتاوی رضویہ ،جلد16،صفحہ336،رضافاونڈیشن،لاہور)

وقف کے شرعی مسائل میں ہے:

”مسجد کی زمین میں اپنے لیے درخت لگانا حرام ہے کہ وقف میں تصرف مالکانہ ہے،والوقف لا يملك۔“(وقف کے شرعی مسائل، صفحہ198، مطبوعہ: مکتبہ اہلسنت)

خلاصۃ الفتاوی میں ہے:

”المتولی إذا بنی في عرصة الوقف إن کان من مال الوقف یکون للوقف وکذا من مال نفسه لکن بنی للوقف فإن بنی لنفسه إن أشھد کان له ذلك وإن بنی ولم یذکر شیئا کان للوقف بخلاف الأجنبي“

ترجمہ: متولی نے مال وقف سے جب وقف زمین کے میدان میں عمارت بنادی تو وہ وقف کے لیے ہوگی یونہی اگر اس نے اپنے مال سے وقف کے لیے عمارت بنائی تب بھی وقف کے لیے ہوگی اور اگر اپنی ذات کے لیے بنائی اور اس پر گواہ کر لئے تو یہ عمارت اس کی ذات کے لیے ہوگی، اور اگر عمارت بنائی مگر کسی شے کا ذکر نہ کیا تو عمارت وقف کے لیے ہوگی بر خلاف اجنبی شخص کے۔(خلاصۃ الفتاوى، کتاب الوقف، الفصل الرابع، جلد4، صفحہ423، مطبوعہ: کوئٹہ)

درمختار میں ہے:

”المتولی بناؤہ وغرسه للوقف ما لم یشھد أنه لنفسه قبله“

ترجمہ: متولی کا زمین وقف میں عمارت بنانا یا درخت لگانا وقف کے لیے ہی ہوگا جب تک وہ عمارت بنانے یا درخت لگانے سے قبل اس پر گواہ نہ قائم کردے کہ میں اپنی ذات کے لئے کر رہا ہوں۔ (درمختار، کتاب الوقف، کتاب الوقف، فصل: یراعی شرط الواقف، جلد6، صفحہ698، دار المعرفۃ، بیروت)

ردالمحتار میں ہے:

”إن كان الباني المتولي عليه فإن كان بمال الوقف فهو وقف سواء بناه للوقف أو لنفسه، أو أطلق وإن من ماله للوقف أو أطلق فهو وقف ۔۔۔۔ وإن بناه من ماله لنفسه، وأشهد أنه له فهو له كما في القنية والمجتبى، وإن لم يكن متوليا فإن بنى بإذن المتولي ليرجع فهو وقف، وإلا فإن بنى للوقف فوقف، وإن لنفسه أو أطلق فله رفعه إن لم يضر“

ترجمہ: عمارت بنانے والا اگر خود متولی ہو اور مال وقف سے بنائے تووہ وقف کے لیے ہے چاہے وقف کے لیے بنائے یا اپنے لیے بنائے یا مطلق رکھے، اور اگر اپنے مال سے وقف کے لیے بنائے یا مطلق رکھے تب بھی وقف کے لیے ہوگی۔اگر اس نے اپنے مال سے اپنی ذات کے لیے عمارت بنائی اور اس پر گواہ بھی قائم کر لیے کہ اپنی ذات کے لیے بنا رہا ہوں تو وہ اسی کی ہوگی جیسا کہ “قنیہ” و”مجتبی” میں ہے۔ اگر بانی خود متولی نہ ہو تو اگر اس نے متولی کی اجازت سے عمارت بنائی تاکہ متولی سے خرچہ کا رجوع کرسکے تو وہ وقف کے لیے ہے ورنہ اگر وقف کے لیے بنائی تو پھر بھی وقف ہے اور اگر اپنے لیے بنائی یا مطلق رکھی تو اس کو اٹھانے(یعنی اکھاڑنے) کا اختیار ہے جبکہ وقف کو نقصان نہ پہنچے۔(رد المحتار، کتاب الوقف، فصل یراعی شرط الواقف فی اجارتہ، جلد6، صفحہ698، دار المعرفۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”اگر یہ مال اس نے مسجد کے مال سے لگایا تو مسجد کا ہے اور اپنے مال سے لگایا اور یہ متولی ہے تو مسجد کا ہے مگر یہ کہ لگاتے وقت لوگوں کو گواہ کرلیا ہو کہ یہ میں اپنے لئے لگاتا ہوں، اور اگر غیر متولی ہے تو خود اس کا ہے مگر یہ کہ اقرار کرے کہ میں نے مسجد کے لئے لگایا۔“(فتاوی رضویہ، جلد16، صفحہ453، مطبوعہ: رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں سوال ہواکہ قبرستان کی کوئی چیز مثلاً لکڑی واینٹیں وغیرہ مسجد میں صرف کرنایا اُن کی قیمت لے کر مسجد میں صرف کرنا جائز ہے یا نہ؟

اس کے جواب میں سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا:

”قبرستان میں پیڑ جس نے لگائے ان کی لکڑی او رمقبرہ جس نے بنوایا اس کی اینٹیں ا س لگانے بنوانے والے کی ملک ہے وہ جوچاہے کرے، اور اگر مالک کا پتا نہیں یا درخت خودرَو ہیں تو مسجد میں صرف کرسکتے ہیں۔“(فتاوی رضویہ،جلد9،صفحہ412،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

بہار شریعت میں ہے:

”زمین موقوفہ میں کسی نے درخت لگائے اگر یہ شخص اس زمین کی نگرانی کے لیے مقرر ہے یا واقف نے درخت لگایا اور وقف کا مال اس پرصرف کیا یا اپنا ہی مال صرف کیا مگر کہہ دیا کہ وقف کے لیے یہ درخت لگایا تو ان صورتوں میں وقف کا ہے ورنہ لگانے والے کا۔“(بہار شریعت، حصہ،10، جلد2، صفحہ567، مطبوعہ: مکتبۃ المدینہ)

قبرستان کے وہ درخت جن کے لگانے والے کا علم نہ ہو اس کے متعلق جدالممتارمیں امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”مثل ھذہ الأموال التِی لا یوجد لھا مالک ولا وارث لا تحتاج أن یتصدّق بھا علی العجزۃ الفقراء،بل تصیر إلی القاضی،لہ أن یصرفھا فی مصالح المسلمین کعمارۃ حوض أو مقبرۃ أو مسجد “

ترجمہ: اس طرح کے اموال جن کانہ کوئی مالک ملتاہے نہ مالک کاکوئی وارث ،ان اموال کوشرعی فقراء پرتصدق کرناضروری نہیں،بلکہ قاضی کے اختیارمیں جائیں گے ،اسے اختیارہوگاکہ ان کومصالح مسلمین میں صرف کردے جیسے حوض یاقبرستان یامسجدکی تعمیر۔ (جدالممتارعلی ردالمحتار،جلد4، صفحہ10،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم

کتبه

ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی

نظر ثانی وترمیم: ابو احمد مفتی انس رضا قادری

️مؤرخہ 27 صفر المظفر 1446ھ بمطابق 02ستمبر 2024ء، بروز پیر

اپنا تبصرہ بھیجیں