مسجد میں ملی نغمے گانا

مسجد میں ملی نغمے گانا

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ مسجد میں جشن آزادی کی خوشی میں ہونے والی محفل میں قومی ترانہ اور ملی نغمہ طرز کے ساتھ اس طرح پڑھناکہ شور و غل کا ماحول بن جائے کیسا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

مساجد کا ادب واحترام ہر شخص پر لازم ہے، مساجد خالصتاً دینی امور، نماز، اعتکاف ذکر اللہ، تلاوتِ قرآن وغیرہ کے لیے بنائی گئی ہیں ۔ان میں شورو غل کرنایا کوئی بھی ایسا کام جو مسجد کے ادب واحترام کے منافی ہو شرعا جائز نہیں ۔ لہٰذا قومی ترانہ اور ملی نغمہ بغیر موسیقی کےجو دعائیہ و جہادی کلمات پر مشتمل ہوں ان کا پڑھنا جائز ہے اور ایسے ملی نغمے جو میوزک کی طرز پر مشہور ہوں کہ سننے والے کے ذہن میں وہی میوزک اور گانے والے آئیں تو وہ پڑھنا ممنوع ہے کہ یہ عوام میں تشویش کا باعث ہونے کے ساتھ دنیاوی شاعری کے مشابہ ہے۔پھر اگر اس کے ساتھ شورو غل ہو تو یہ جائز نہیں۔

قرآن کریم میں ہے:

”و من الناس من یشتری لهوالحدیث لیضل عن سبیل اللہ بغیر علم ویتخذها هزوااوىك لَهم عذاب مهین“

ترجمہ: اور کچھ لوگ کھیل کی بات خریدتے ہیں کہ اللہ کی راہ سے بہکادیں بے سمجھے اور اُسے ہنسی بنالیں اُن کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔(القرآن کریم،سورہ لقمن،آیت6،پارہ 21)

شعب الایمان میں ہے:

” قال رسول اللہ صلی اللہ علیه و سلم: یأتي علی الناس زمان یکون حديثهم في مساجدهم في أمر دنیاهم فلا تجالسوهم فلیس للہ فیهم حاجة“

ترجمہ: لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ مساجد میں دنیا کی باتیں کریں گے، تم ان کے ساتھ مت بیٹھنا اللہ تعالی کو ان کی کچھ پرواہ نہیں۔(شعب الإیمان للبیهقی،الصلوات،فضل الجمعة،صفحہ87جلد3،ط:دار الکتب العلمية)

سنن ابی داود،سنن الترمذی،سنن النسائی،مسند احمداور سنن ابن ماجہ میں ہے:

”عن عمرو بن شعيب ، عن ابيه ، عن جده ، قال:” نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البيع والابتياع، وعن تناشد الاشعار في المساجد“

ترجمہ:عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ اپنے جد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں خرید و فروخت اورغیر دینی اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔( سنن ابن ماجہ،كتاب المساجد والجماعات،باب ما يكره في المساجد،حدیث 749، موسوعۃ القرآن و الحدیث)

مسند احمد کی حدیث پاک ہے:

”ایاک ومایسوء الاذن“

ترجمہ: جو بات کان کو اچھی نہ لگے اس سے بچو۔ ( مسند احمد بن حنبل، حدیث ابو الفادیہ ،جلد4،صفحہ86، دارالفکر، بیروت)

فتح الباری میں ہے:

”حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجدوں میں شعر پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ مسجد میں ایسے اشعار پڑھنے منع ہیں جواسلام اوراہل اسلام کے خلاف ہوں یا دور جاہلیت کی یادگار، عشقیہ مضامین اور فحش گوئی پر مشتمل ہوں۔

البتہ ایسے اشعار پڑھنے کی اجازت ہے جو درج بالا عیوب سے پاک ہوں اور ان میں اسلام کی خوبیوں یا ان میں مخالفین اسلام کے حملوں کا جواب دیاگیا ہو۔

بعض حضرات نے یہ توجیہ کی ہے کہ حکم امتناعی اس صورت میں ہے کہ مسجد کوغزل خانہ بنادیا جائے یا تمام اہل مسجد شعر گوئی میں مصروف ہوجائیں۔

بہرحال امام بخاری جمہور کی تائید کرتے ہوئے تفصیل کے قائل ہیں، کیونکہ اشعارکلام کا حصہ ہیں۔

جس طرح کلام اچھا بُرا ہوتا ہے اسی طرح اشعار بھی دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔

بُرے اشعار کا مسجد کے باہر پڑھنا بھی درست نہیں، ایسے اشعار کومسجد میں پڑھنا ان کی قباحت میں مزید اضافے کا باعث ہے، البتہ اچھے اشعار جو اسلامی مضامین پر مشتمل ہوں، مسجد کے باہر اور اندر پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں۔“( فتح الباری ،جلد1،صفحہ710،مکتبہ نور)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”دنیا کی باتوں کے لئے مسجدمیں جاکر بیٹھنا حرام ہے۔مسجد میں دنیا کا کلام نیکیوں کو ایسے کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔یہ مُباح(یعنی جائز)باتوں کا حکم ہے،پھر اگر باتیں خود بُری ہوئیں تو اِس کا کیا ذِکْرہے،دونوں سَخْت حرام دَر حرام،مُوجِبِِ عذابِ شدید(سخت عذاب کا سبب)ہے۔“(فتاویٰ رضویہ،جلد8،صفحہ112، رضافاؤنڈیشن،لاهور)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”مسجد میں شور وشَر کرنا(فتنہ پھیلانا)حرام ہے اور دُنیوی بات کے لئے مسجد میں بیٹھنا حرام،اور نماز کے لئے جاکر دُنیوی تَذْکِرَہ مسجد میں مَکْرُوہ اور وُضو میں بے ضرورت دُنیوی کلام نہ چاہئے، اور غِیْبَت کرنے والوں اور تُہْمَت اُٹھانے والوں،مُنافِقوں،مُفْسِدوں(خرابی پیدا کرنے والوں)کو نکلوادینے پر قادِر(قدرت رکھتا) ہو تو نکلوادے جبکہ فِتْنَہ نہ اُٹھے ورنہ خود اُن کے پاس سے اُٹھ جائے۔“(فتاویٰ رضویہ،جلد8،صفحہ112، رضافاؤنڈیشن،لاهور)

بہار شریعت میں ہے:

”مسجد میں شعر پڑھنا ناجائز ہے، البتہ اگر وہ شعر ”حمد و نعت و منقبت و وعظ و حکمت کا ہو”، تو جائز ہے۔“(بہار شریعت،جلد1،حصہ3،صفحہ647،مکتبۃ المدینہ،کراچی)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

21 صفر المظفر   1446 ھ / 27اگست  2024 ء

نظرثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں