سودا کینسل کرنے پر کٹوتی کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اگر سودا کینسل ہو جائے تو رائج یہی ہے کہ جوایڈوانس دیا ہو وہ واپس نہیں دیا جاتا یا چیز واپس کرنے پر کچھ فیصد کٹوتی کی جاتی ہے، شرعا اس کی حیثیت کیا ہے؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
جب سودا کینسل ہو جائے تو اس میں ایک فریق اپنا مال واپس لے لیتا ہے اور دوسرا اپنی قیمت اس کو شرعااقالہ کہتے ہیں۔ اقالہ کی اسلام میں بہت فضیلت ہے۔اقالہ(یعنی سودا کینسل ) کرنا اگرچہ دونوں پر واجب نہیں ہے لیکن مستحب ضرور ہے۔ دوسرے فریق کو چاہئے کہ سامنے والے کی بات منظور کرتے ہوئے(یعنی چیز واپس لیتے ہوئے) اس پر مہربانی کرے اور اس کی مکمل رقم اسے واپس کردے۔ سودا کینسل ہونے پر بیعانہ (ایڈوانس) ضبط کرنا جائز نہیں ہے کہ یہ ظلم ہے۔اسی طرح کچھ فیصد یا مخصوص رقم کی کٹوتی کرنا بھی جائز نہیں ہے کہ اقالہ ثمن اول یعنی اسی قیمت پر جائز ہوگا جو خریدنے والے نے ادا کی ہے البتہ اگر اس چیز میں کچھ نقص یا عیب پیدا ہوگیا تو بیچنے والا اپنا نقصان لے سکتا ہے۔
ردالمختار میں ہے
”ھی لغہ الرفع من اقال اجوف یائی وشرعا رفع البیع“
ترجمہ:اقالہ کا لغوی معنی اٹھانا رفع کرنا ہے یہ اقال سے ماخوذ اجوف یائی ہے اور اصطلاح شرع میں اس سے مراد بیع کو ختم کرنا ہے ۔(ردالمختار ،جلد 5، صفحہ 120، دار الفکر، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”دوشخصوں کے مابین جو عقد ہوا ہے اس کے اُٹھا دینے کو اقالہ کہتے ہیں یہ لفظ کہ میں نے اقالہ کیا، چھوڑ دیا، فسخ کیا یا دوسرے کے کہنے پر مبیع یا ثمن کا پھیر دینا اور دوسرے کا لے لینا اقالہ ہے۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 11، صفحہ 739 ،مکتبہ المدینہ، کراچی)
فرمانِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے :
” من أقال نادما أقاله الله تعالى يوم القيامة“
ترجمہ:جس نے ( اپنے سودے پر ) نادم شخص سے اقالہ (سودا کینسل)کیا تو اللہ پاک قیامت کے دن اس کی لغزشوں کو معاف فرمائے گا۔ ( سننِ کبریٰ للبیہقی ،جلد6،صفحہ44،حدیث11129، دارالکتب العلمیہ،بیروت )
اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:
﴿ وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ ﴾
ترجمہ کنز الایمان : ’’اے ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ۔ (پارہ 5،سورة النساء ،آیت29)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”بیشک واپس پائے گا، بیع نہ ہونے کی حالت میں بیعانہ ضبط کرلیناجیسا کہ جاہلوں میں رواج ہے،ظلم صریح ہے۔“(فتاوی رضویہ ،ج17،ص94،مطبوعہ رضافاؤنڈیشن،لاھور)
فتاوی فیض رسول میں ہے:
”جبکہ بیچنے والے نے خریدار کے انکار کومان لیا اور بیع کا فسخ منظور کر لیا، تو بیعانہ کی رقم واپس کرنا اس پر لازم ہے،اگر نہیں واپس کرے گا ،تو سخت گنہگار حق العبد میں گرفتار ہوگا۔‘‘(فتاوی فیض رسول،ج2،ص377 ،مطبوعہ شبیر برادرز،لاھور)
ھدایہ میں ہے
”فان شرط اکثر منہ او اقل فالشرط باطل ویرد مثل الثمن الاول “
ترجمہ:پس اگر اگر ثمنِ اول سے زیادہ یا اس سے کم کی شرط لگائی ،تو شرط باطل ہے اور بائع ثمنِ اول کا مثل ہی واپس کرے گا ۔(ہدایہ ، کتاب البیوع، جلد5،صفحہ 249 مطبوعہ، بیروت)
تبیین الحقائق میں ہے
”وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأكثر أو الأقل بلا تعيب وجنس آخر لغو ولزمه الثمن الأول“
ترجمہ:اور اقالہ ثمن اول کے ساتھ صحیح ہے اور کمی یا زیادتی کی شرط باطل ہے جب کہ وہ عیب سے خالی ہو اور ادائیگی میں دوسری جنس کا تعین کرنا لغو ہے اور اس پر ثمن اول ہی لازم ہے ۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد 4 ،صفحہ 71 ،مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے
”باع جاریہ بالف درھم وتقابلا العقد فیھا بالف درھم صحت الاقالہ وان تقابلا بالف وخمسائہ صحت الاقالہ بالف ویلغو ذکر الخمسمائہ وان تقابلا خمس مائہ فان کان المبیع قائما فی ید المشتری علی حالہ و لم ید خلہ عیب صحت الاقالہ بالف و یلغو ذکر بخمسمائہ فیجب علی البائع رد الالف علی مشتری وان دخلہ عیب تصح الاقالہ بخمسمائہ ویصیر المخطوط بازاء النقصان“
ترجمہ:اگر کوئی باندی ایک ہزار کو بیچی پھر ایک ہزار پر بیع کا اقالہ کیا تو اقالہ صحیح ہے اور اگر ڈیڑھ ہزار پر اقالہ کیا تو اقالہ ایک ہزار پر صحیح ہوگا اور باقیہ پانچ سو کا ذکر لغو ہےاور اگر دونوں نے پانچ سو پر اقالہ کیا پس اگر مبیع مشتری کے پاس اپنے حال پر باقی ہے اور اس میں کچھ عیب نہیں ہے تو یہ اقالہ ایک ہزار پر صحیح ہوگا اور پانچ سو کا ذکر لغو ہے پس بائع پر واجب ہے کہ ایک ہزار مشتری کو واپس کر دے اور اگر اس میں عیب آ گیا ہو تو اقالہ پانچ سو پر صحیح ہے اور یہ کمی بمقابلہ نقصان کے ہوگا۔(فتاویٰ ھندیہ، کتاب البیوع، باب فی الاقالہ ،جلد 3 ،صفحہ 164 ،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”جو ثمن بیع میں تھا اُسی پر یا اُس کی مثل پر اقالہ ہوسکتا ہے اگر کم یازیادہ پر اقالہ ہواتو شرط باطل ہے اور اقالہ صحیح یعنی اُتنا ہی دینا ہوگا جو بیع میں ثمن تھا۔مثلاً ہزار روپے میں ایک چیز خریدی اُ س کااقالہ ہزار میں کیایہ صحیح ہے اور اگر ڈیڑھ ہزار میں کیا جب بھی ہزاردینا ہوگا اور پانسوکا ذکر لغو ہے اورپانسو میں کیا اور مبیع میں کوئی نقصان نہیں آیا ہے جب بھی ہزار دینا ہوگا اور اگر مبیع میں نقصان آگیا ہے توکمی کے ساتھ اقالہ ہوسکتا ہے۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 11، صفحہ 740، مکتبہ المدینہ ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
22 صفر المظفر 1446ھ27 اگست 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری