بزرگان دین کے نام کی منت اور وہ گوشت کھانا

بزرگان دین کے نام کی منت اور وہ گوشت کھانا

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ سیدنا غوث پاک رضی ﷲ عنہ کے نام سے قربانی کی منت مانی تو اس قربانی کا گوشت خود کھا سکتا ہے کہ نہیں؟ اور یہ منت شرعی ہے یا نہیں؟بینوا توجروا(بیان فرما کر اجر پائیے۔)

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صورت میں یہ منت واجبہ نہیں ہے۔ اس لیے یہ گوشت خود بھی کھا سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلا سکتے ہیں۔ نذر واجبہ اس لیے نہیں ہے کہ نذر شرعی ﷲ پاک کے ساتھ خاص ہے۔ اولیاء کرام کے لیے ان کی حیات میں یا بعد وصال اس طرح منت ماننا کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں فلاں بزرگ کے نام پر جانور ذبح کروں گا یا کھانا کھلاؤں گا وغیرہ تو یہ نذر شرعی و فقہی نہیں ہوتی، بلکہ نذر عرفی ہوتی ہے اور اس میں انسان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں یہ نیک کام ﷲ پاک کی رضا کے لیے کروں گا اور اس کا ثواب فلاں بزرگ کو ایصال کروں گا۔ایسی منت کا پورا کرنا واجب نہیں ہوتا لیکن مستحب ہے کہ پوری کردی جائے۔

رد المحتار میں ہے:

”والنذر للمخلوق لا يجوز؛ لأنه عبادة والعبادة لا تكون لمخلوق والنذر لله عزوجل“

ترجمہ: مخلوق کی نذر ماننا جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ عبادت ہے اور مخلوق کی عبادت نہیں ہوسکتی، اور نذر (شرعی) تو صرف ﷲ کے لیے ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصوم، جلد3، صفحہ491، دار المعرفۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”غیر خدا کے لیے نذرِ فقہی کی ممانعت ہے، اولیائے کرام کے لیے ان کی حیات ظاہری خواہ باطنی میں جو نذر کہی جاتی ہیں یہ نذر فقہی نہیں، عام محاورہ ہے کہ اکابر کے حضور جو ہدیہ کریں اسے نذر کہتے ہیں۔“(فتاوی رضویہ، جلد13، صفحہ598، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دوسری جگہ فرماتے ہیں:” یہ کوئی نذر شرعی نہیں، وجوب نہ ہوگا، اور بجالانا بہتر، ہاں اگر احباب سے مراد خاص معین بعض فقراء و مساکین ہوں تو وجوب ہوجائے گا۔واﷲ تعالیٰ اعلم۔“(فتاوی رضویہ، جلد13، صفحہ584، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی بحر العلوم میں ہے:

”سیدنا غوث پاک رضی الله تعالی عنہ کے نام سے قربانی کی منت مانی تو اس قربانی کا گوشت خود کھاسکتا ہے يا نہیں؟

الجواب:

”چونکہ یہ منت، منت شرعی نہیں؛ اس لیے اس کو خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلاسکتاہے۔شامی میں ہے:من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه”. (جلد٤/ ٣٩٠) والله تعالی اعلم۔“(فتاوی بحر العلوم، كتاب الاضحیۃ، جلد5، صفحہ186، ناشر: شبیر برادز)

فتاوی فیض الرسول میں ہے:

”نذر کے دو معنی ہیں، شرعی اور عرفی۔ نذرِ شرعی خدائے تعالیٰ کے سوا کسی کی ماننا ممنوع ہے اور نذرِ عرفی انبیائے کرام و اولیائے عظام عليهم الصلوة والسلام و رضوان الله تعالی علیهم اجمعین کے لیے جائز ہے۔ نذر شرعی کا حکم یہ ہے کہ اس کا ادا کرنا فرض ہے اور اگر صدقہ وغیرہ کی نذر ہو، تو اسے وہی لوگ کھا سکتے ہیں، جن کو زکوۃ لینا جائز ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت (وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ) میں اس شرعی نذر کا ذکر ہے، اور نذرِ عرفی کا حکم یہ ہے کہ اسے امیر و غریب سبھی لے سکتے ہیں اور کھا سکتے ہیں۔“(فتاوى فيض الرسول، جلد2، صفحہ341، مطبوعه: شبیر برادرز، لاهور)

حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے:

”والنذر لهم بتعليق ذلك على حصول شفاء أو قدوم غائب فإنه مجاز عن الصدقة على الخادمين بقبورهم“

ترجمہ: اولیاء ﷲ کے لیے جو نذر مانی جاتی ہے اور اسے مریض کی شفا حاصل ہونے یا غائب کے آنے پر معلق کیا جاتا ہے، وہ نذر مجاز ہے (یعنی) اِس سے اولیاء ﷲ کے مزارات پر خادمین کے لیے صدقہ کرنا مراد ہوتا ہے۔(الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية ، الخلق الثامن والاربعون، جلد2، صفحہ151، مکتبہ نوریہ رضویہ، فیصل آباد)

واللہ اعلم

کتبه

ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی

نظر ثانی:

ابو احمد مفتی انس رضا قادری

️مؤرخہ 14 صفر المظفر 1446ھ بمطابق 19 اگست 2024ء، بروز پیر

اپنا تبصرہ بھیجیں