آج کل سوشل میڈیا پر ایک حدیث بیان کی جارہی ہے کہ جمعہ کے دن پندرہ رمضان کو ایک زور دارآواز سنائی دے گی جو اپنے گھر میں ہوگا وہ ربنا القدوس کی تسبیح پڑھے اس روایت کی کیا حقیقت ہے؟
ایک شخص سفرشرعی پر جارہا تھا اسی وقت نماز کا وقت شروع ہوگیا مگر اس نے اس وقت نماز نہیں پڑھی اور اپنے مقام پر پہنچا تو نماز کا وقت باقی تھا وہیں نماز ادا کی تو اب وہ قصر پڑھے گا یا پوری؟