کیا غصہ حرام ہے لوگ کہتے ہیں غصہ حرام ہے؟

کیا غصہ حرام ہے لوگ کہتے ہیں غصہ حرام ہے؟

فی نفسہ غصہ حرام نہیں کیوں کہ یہ ایک غیر اختیاری کیفیت ہے جو بندے پر طاری ہوتی ہے البتہ غصے کی وجہ سے کوئی ناجائز کام کیا تو وہ کام ناجائز ہوگا۔امیر اہلسنت دامت برکاتہم العالیہ لکھتے ہیں:” عوام میں یہ غلط مشہور ہے کہ غصہ حرام ہے۔ غصہ ایک غیر اختیاری امر ہے، انسان کو آہی جاتا ہے، اس میں اس کا قصور نہیں ، ہاں غصہ کا بے جا استعمال برا ہے۔“

(غصہ کا علاج،صفحہ30)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ

ابوالبنات فراز عطاری مدنی

12جمادی الاول5144 ھ27نومبر 2023 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں