نکاح کا بہترین دن،جگہ اور مہینہ

نکاح کا بہترین دن،جگہ اور مہینہ

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ویسے تو شرعا ہر دن ،ہرمہینے ،ہر جگہ نکاح کرنا شرعا جائز ہے، لیکن پوچھنا یہ ہے کہ نکاح کے لئے بہترین دن،جگہ اور مہینہ کونسا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

نکاح کے لئے بہترین دن جمعہ کا،بہتر جگہ مسجد ہے۔جمعہ کے دن اور مسجد میں نکاح کے بہتر ہونے کی ایک وجہ یہ ہے تا کہ نکاح میں مبارک دن اور مقدس جگہ کی برکات شامل ہو جائیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ مسجد میں شور وغل نہ ہو اور مسجد کے آداب واحترام کے خلاف بھی کوئی کام نہ ہو، لہذا اگر معلوم ہو کہ مسجد کے ادب واحترام کا لحاظ نہیں ہوسکے گا تو پھر مسجد میں ہرگز نکاح نہ پڑھوائیں۔ نکاح کے لیے بہتر مہینہ شوال ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اس مہینے ہوا تھا اور آپ اس مہینے نکاح ہونےکو پسند کرتی تھیں۔

ترمذی شریف میں ہے:

”عن عائشة رضي ﷲ عنها قالت: قال رسول ﷲ صلی ﷲ علیه وسلم: أعلنوا هذا النکاح واجعلوہ في المساجد“

ترجمہ: حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول ﷲ ﷺ نے فرمایا کہ لوگو! نکاح کا اعلان کیا کرو اور مسجدوں میں نکاح کرو۔ (جامع الترمذی، ابواب النکاح عن رسول ﷺ، باب ما جاء فی اعلان النکاح، جلد2، صفحہ296، حدیث: 1120، مطبوعہ: دار التاصیل، بیروت)

مسجد میں نکاح کی ترغیب دینے کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ علی قاری حنفی رحمۃ ﷲ علیہ مرقاۃ المفاتیح میں لکھتے ہیں:

”وهو الحصول بركة المكان وينبغي أن يراعى فيه أيضا فضيلة الزمان ليكون نورا على نور وسرورا على سرور، قال ابن الهمام: يستحب مباشرة عقد النكاح في المسجد لكونه عبادة وكونه في يوم الجمعة“

ترجمہ: مسجد میں عقدِ نکاح کی ترغیب، مسجد سے برکات کے حصول کے پیش نظر ہے۔ مناسب یہ ہے کہ مسجد کے ساتھ ساتھ، وقت والی فضیلت کی بھی رعایت کی جائے، تاکہ عقدِ نکاح نور پر مزید نور ہوجائے اور خوشیاں دوبالا ہوجائیں۔ امام ابنِ ھمام رحمۃ ﷲ علیہ نے فرمایا کہ مسجد میں عقدِ نکاح کا ہونا مستحب ہے، کہ نکاح ایک عبادت ہے۔(اور عبادت کےلیے مسجد ایک عمدہ جگہ ہے) دوسری چیز یہ کہ نکاح کا جمعہ کے دن ہونا بھی مستحب ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب النكاح، باب اعلان النکاح والخطبۃ والشرط، الفصل الثانی، جلد6، صفحہ285-286، تحت الحدیث: 3152، مطبوعہ: دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

علامہ علاؤالدین حصکفی رحمۃ ﷲ علیہ درمختار میں لکھتےہیں:

”ويندب ‌إعلانه وتقديم خطبة وكونه في مسجد يوم جمعة بعاقد رشيد وشهود عادل“

ترجمہ: نکاح کا اعلان کرنا، خطبہِ نکاح کا عقدِ نکاح سے پہلے ہونا اور سمجھدار عاقد اور عادل گواہوں کی موجودگی میں نکاح کا جمعہ کے دن مسجد میں ہونا، یہ تمام اُمور مستحب ہیں۔(درمختار، کتاب النکاح، جلد4، صفحہ75-76، دار المعرفۃ، بیروت)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ ﷲ علیہ لکھتے ہیں:

”مسجد میں عقد نکاح کرنا مستحب ہے۔ مگر یہ ضرور ہے کہ بوقت نکاح شور و غل اور ایسی باتیں جو احترام مسجد کے خلاف ہیں، نہ ہونے پائیں، لہٰذا اگر معلوم ہو کہ مسجد کے آداب کا لحاظ نہ رہے گا تو مسجد میں نکاح نہ پڑھوائیں۔“(بہار شریعت، حصہ16، آداب مسجد وقبلہ، جلد3، صفحہ498، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

ام المومنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں” «تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ، وَبَنَى بِي فِي شَوَّالٍ، فَأَيُّ نِسَاءِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي؟»، قَالَ: «وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَسْتَحِبُّ أَنْ تُدْخِلَ نِسَاءَهَا فِي شَوَّالٍ»، “

ترجمہ:رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیااوررخصتی بھی شوال کے مہینے میں ہوئی تو کون سی عورت مجھ سے زیادہ خوش نصیب ہے!ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس بات کوپسندکرتی تھیں کہ عورتوں کی رخصتی شوال میں ہو۔(مسلم،کتاب النکاح ،۷۳۹،حدیث: ۱۴۲۳)

مراٰۃالمناجیح میں ہے: مقصد یہ ہے کہ میرا تو نکاح بھی ماہ شوال میں ہوا اور رخصتی بھی اور میں تمام ازواج مطہرات (رضی اللہ تعالٰی عنہن)میں حضور(صلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم ) کو زیادہ محبوبہ تھی اگر یہ نکاح اور رخصت مبارک نہ ہوتی تو میں اتنی مقبول کیوں ہوتی!علماء فرماتے ہیں کہ ماہ شوال میں نکاح مستحب ہے۔ (مراۃ المناجیح ۵/ ۳۲،۳۳)

واللہ تعالی أعلم بالصواب

کتبه: ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی

️مؤرخہ 18جمادی الآخرۃ 1444ھ بمطابق 12جنوری 2023ء، بروز جمعرات

اپنا تبصرہ بھیجیں