کال سینٹر کی نوکری کا شرعی حکم

کال سینٹر کی نوکری کا شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کال سینٹر پر مرد و عورت کا جاب کرنا کیسا؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

مرد کے لئے کال سینٹر پر جاب کرنا جائز ہے جبکہ کسی ناجائز پروڈکٹ یا کام کی تشہیر نہ ہو لیکن اگر کسی ناجائز کام کی تشہیر ہو یا ناجائز کام پر رہنمائی دینی ہو اس میں جھوٹ ، فراڈ وغیرہ شامل ہو تو اب اس کی جاب کرنا جائز نہیں ہے کہ ناجائز کام پر اجارہ کرنا بھی ناجائز ہے۔

عورتوں کا کال سینٹر پر جاب کرنا تو اس میں مرد و عورت کا اختلاط اور بے پردگی نہ ہو مرد کے ساتھ خفیف سی بھی تنہائی نہ ہو اور اگر غیر محرم سے بات کرے تو لوچ دار انداز اور نزاکت والا لہجہ اپنائے بغیر کہ جو لالچ کا سبب بنے انتہائی سادہ انداز میں مختصر بات کرنے کی اجازت ہے، جس میں شہوت کا عنصر نہ ہو ۔

الله تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے

﴿وَ لَا تَعَاوَنُوۡا عَلَی الۡاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو ۔ (پارہ 6،سورۃ المائدۃ،آیت 02)

اس آیت مبارکہ کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے

” نھی عن معاونۃ غیرنا علیٰ معاصی اللہ تعالی“

ترجمہ:اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں پر کسی کی مدد کرنے سے منع کیا گیا ہے۔(احکام القرآن ،ج 02،ص 381، دار الکتب العلمیۃ،بیروت)

محیط برہانی میں ہے

”الاعانۃ علی المعاصی و الفجور و الحث علیھا من جملۃ الکبائر“

ترجمہ: گناہوں اور فسق و فجور کے کاموں پر مدد کرنا اور ان پر ابھارنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔(المحیط البرھانی ،ج 08،ص 312،دار الكتب العلميۃ،بيروت)

مبسوط سرخسی میں ہے

”و لا تجوز الاجارۃ علی شيء من الغناء و النوح و المزامیر و الطبل و شیئ من اللھو لأنہ معصیۃ و الاستئجار علی المعاصی باطل ،فان بعقد الاجارۃ یستحق تسلیم المعقود علیہ شرعاً و لا یجوز أن یستحق على المرء فعل به يكون عاصيا شرعا “

ترجمہ: اور گانے باجے، نوحہ،مزامیر،طبل بجانے اور کسی بھی قسم کے لہو ولعب کے کام پر اجارہ جائز نہیں، کیونکہ یہ گناہ ہے اور گناہوں پر اجارہ کرنا باطل ہے ،کیونکہ عقد اجارہ کے سبب معقود علیہ (جس چیز پر اجارہ کیاگیا ہے )کو سپردکرنے کا شرعاً استحقاق ثابت ہوجاتا ہے اور یہ جائز نہیں کہ کسی شخص پر ایسے فعل کا استحقاق ثابت ہو جس سے وہ شرعاً گنہگار ہوجائے۔(المبسوط للسرخسی،کتاب الاجارات،ج 16،ص 38،دار العرفۃ،بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”بہرحال نفسِ اجرت کہ کسی فعلِ حرام کے مقابل نہ ہو ، حرام نہیں ، یہی معنی ہیں اس قولِ حنفیہ کے کہ:”یطیب الاجر وان کان السبب حراما کما فی الاشباہ وغیرھا” یعنی اجرت طیب ہوگی، اگرچہ سبب حرام ہے ، جیسا کہ الاشباہ وغیرہ میں ہے۔“( فتاوی رضویہ، ج 19، ص 501، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

” یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا “

ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو!تم اَور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو۔ (سورۃ الاحزاب،آیت:32)

اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:

”آیت کے اس حصے میں ازواجِ مُطَہّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی اوررسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کی مخالفت کرنے سے ڈرتی ہو تو جب کسی ضرورت کی بنا پر غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑ جائے تواس وقت ایسا انداز اختیار کرو جس سے لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں نرمی نہ ہو بلکہ انتہائی سادگی سے بات کی جائے اور اگر دین و اسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور وعظ و نصیحت کی بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو بھی نرم اور نازک لہجے میں نہ ہو۔

علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن امت کی مائیں ہیں اور کوئی شخص اپنی ماں کے بارے میں بری اور شہوانی سوچ رکھنے کا تصور تک نہیں کر سکتا، اس کے باوجود ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو بات کرتے وقت نرم لہجہ اپنانے سے منع کیا گیا تاکہ جو لوگ منافق ہیں وہ کوئی لالچ نہ کر سکیں کیونکہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا جس کی بنا پر ان کی طرف سے کسی برے لالچ کا اندیشہ تھا ا س لئے نرم لہجہ اپنانے سے منع کر کے یہ ذریعہ ہی بند کردیا گیا۔“اس سے واضح ہوا کہ جب ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کیلئے یہ حکم ہے تو بقیہ کیلئے یہ حکم کس قدر زیادہ ہوگا کہ دوسروں کیلئے تو فتنوں کے مَواقع اور زیادہ ہیں ۔

اس آیت سے معلوم ہو اکہ اپنی عفت اور پارسائی کی حفاظت کرنے والی خواتین کی شان کے لائق یہی ہے کہ جب انہیں کسی ضرورت، مجبوری اور حاجت کی وجہ سے کسی غیر مرد کے ساتھ بات کرنی پڑ جائے تو ان کے لہجے میں نزاکت نہ ہو اور آواز میں بھی نرمی اور لچک نہ ہو بلکہ ان کے لہجے میں اَجنبیت ہو اور آواز میں بیگانگی ظاہر ہو، تاکہ سامنے والا کوئی بُرا لالچ نہ کر سکے اور اس کے دل میں شہوت پیدا نہ ہو اورجب سیّد المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے والی امت کی ماؤں اور عفت و عصمت کی سب سے زیادہ محافظ مقدس خواتین کو یہ حکم ہے کہ وہ نازک لہجے اور نرم انداز سے بات نہ کریں تاکہ شہوت پرستوں کو لالچ کا کوئی موقع نہ ملے تو دیگر عورتوں کے لئے جو حکم ہو گااس کا اندازہ ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ لگا سکتا ہے۔ “(تفسیرصراط الجنان ،جلد 8، صفحہ16۔17، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)

ردالمختار میں ہے

”نجيز الكلام مع النّساء للأجانب ومحاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ ولا تمطيطها ولا تليینها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم ومن ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ“

ترجمہ:ہم وقت ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام کوجائز سمجھتے ہیں،البتہ یہ جائز قرار نہیں دیتےکہ وہ اپنی آوازیں بلندکریں، گفتگو کو بڑھائیں، نرم لہجہ رکھیں یا مبالغہ کریں،کیونکہ اس طرح تو مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے اور ان کی شہوات کوابھارنا ہے، اِسی وجہ سے تو عورت کا اذان دینا جائز نہیں۔(رد المحتار علی الدرالمختار، جلد 2 ،صفحہ،97،مطبوعہ کوئٹہ )

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

”یہاں پانچ شرطیں ہیں:(۱) کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔(۲)کپڑے تنگ وچست نہ ہو جو بدن کی ہیأت ظاہر کریں۔(۳) بالوں یا گلے یا پیٹ یاکلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہرنہ ہو۔(۴) کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لیے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔(۵) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں، تو حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو(عورت کانوکری کرنا)حرام۔“( فتاوی رضویہ ،جلد 22،صفحہ 248،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”اس طرح رفتہ رفتہ حاملان شریعت وحکمائے امت نے حکمِ حجاب دیا اور چہرہ چھپانا کہ صدر اول میں واجب نہ تھا واجب کردیا۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد14،صفحہ551،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”(عورت)تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہو، نہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی(گفتگو کر سکتی ہے )۔“(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ243، رضا فاؤنڈیشن،لاہور )

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

19صفر المظفر 1446ھ26 اگست 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں