عورت کو چار مہینے بعد پتا چلے تو عدت کب سے شروع ہوگی؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ اگر شوہر تحریری طور پر طلاق دے دے اور عورت کو چار مہینے بعد پتا چلے تو عدت کب سے شروع ہوگی؟

بسم الله الرحمن الرحيم
الجواب بعون الملک الوهاب اللهم هداية الحق والصواب

طلاق کی عدت طلاق دینے کے وقت سے ہی شروع ہوجاتی ہے چاہے زبانی طلاق دی ہو یا تحریری اگرچہ عورت کو اس کی اطلاع نہ پہنچے یہاں تک کہ اگر عورت کو عدت کی مدت گزرنے کے بعد پتا چلے تو اب اس کی عدت ختم ہوچکی کیونکہ عدت مدت کے گزرنے کا نام ہے جب وقت گزر جائے گا تو عدت ختم ہوجائے گی،یہ اس صورت میں ہے جبکہ شوہر نے طلاق کو چھپایا نہ ہو بلکہ اسی وقت سے طلاق کا اقرار کر رہا ہو اور لوگوں کو طلاق کا پتا ہو، اور اگر شوہر کہتا ہو کہ میں نے اتنے عرصہ پہلے طلاق دی تھی لیکن اس نے طلاق پر نہ گواہ بنایا نہ اُس وقت کسی کے سامنے اقرارکیا تو اس صورت میں وقت اقرار سے عدت ہوگی پہلے کی مدت سے نہیں چاہے عورت اس کی تصدیق کرے یا تکذیب ۔لہذا معلوم کیے گئے مسئلہ میں اگر شوہر نے چار مہینے پہلے طلاق دے دی تھی اور اس کو چھپایا نہیں بلکہ لوگوں کو پتا ہے اگرچہ عورت کو اطلاع نہ بھی ہو تو عدت اسی وقت سے شروع ہوگئی اب اگر عدت کی مدت مکمل ہوچکی ہے تو عورت دوسرا نکاح بھی کر سکتی ہے اور عدت کی پابندیاں بھی اس پر نہیں اور اگر عدت کے ایام باقی ہیں تو باقی دنوں میں اس پر عدت کی پابندیاں لازم ہونگی، اور اگر شوہر نے چھپایا ہوا تھا یا لوگوں کو معلوم نہیں تھا تو عدت وقت اقرار سے ہوگی وقوع کے وقت کا اعتبار نہیں۔

قدوری میں ہے:”و ابتداء العدۃ فی الطلاق عقیب الطلاق و فی الوفاۃ عقیب الوفاۃ فان لم تعلم بالطلاق او الوفاۃ حتی مضت العدۃ فقد انقضت عدتھا”ترجمہ:عدتِ طلاق کی ابتدا طلاق واقع ہونے کے فورا بعد سے ہوجاتی ہے اور عدتِ وفات کی شروعات انتقال کے فورا بعد تو اگر عورت کو طلاق یا وفات کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ عدت کا وقت گزر گیا تو تحقیق اس کی عدت ختم ہوگئی۔

(مختصر القدوری،کتاب العدۃ،صفحہ 402،موسسۃ الریان)

اس کے تحت الجوہرۃ النیرہ میں ہے:”لان العدۃ ھی مضی الزمان فاذا مضت المدۃ انقضت العدۃ۔۔۔۔لو اقر انہ طلقھا من منذ سنۃ فان کذبتہ فی الاسناد او قالت لا ادری فانہ تجب العدۃ من وقت الاقرار و ان صدقتہ۔۔۔و المختار من وقت الاقرار”ترجمہ: اس لئے کہ عدت زمانہ کے گزرنے کا نام ہے تو جب مدت گزر گئی تو عدت بھی ختم ہوگئی۔۔ اگر شوہر نے اقرار کیا کہ میں نے اتنے عرصہ پہلے طلاق دے دی تھی تو اگر عورت وقت کی نسبت کی تکذیب کرے یا کہے مجھے نہیں معلوم تو عدت وقت اقرار سے واجب ہوگی اور اگر تصدیق کرے تو مختار قول کے مطابق وقت اقرار سے ہی عدت ہوگی۔

(الجوہرۃ النیرۃ،جلد 2،کتاب العدۃ،صفحہ 158،ملتان)

بہار شریعت میں ہے:”طلاق کی عدت وقتِ طلاق سے ہے اگرچہ عورت کو اس کی اطلاع نہ ہو کہ شوہر نے اُسے طلاق دی ہے اور تین حیض آنے کے بعد معلوم ہوا تو عدت ختم ہوچکی اور اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کو اتنے زمانہ سے طلاق دی ہے تو عورت اُسکی تصدیق کرے یا تکذیب، عدت وقت اقرار سے شمار ہوگی۔”

(بہار شریعت،جلد 2،حصہ 8،صفحہ 236،مکتبۃ المدینہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:”طلاق نامہ دربارہ وقوعِ طلاق ضرور معتبر ہے اس کے کہنے سے کہ میں طلاق دے چکا ہوں، ضرور طلاق ہوجائے گی۔۔۔ہاں زمانہ کی طرف اس کی اسناد اگر کرے کہ اتنے دن ہوئے میں اسے طلاق دے چکا ہوں تو یہ مدّت نہ مانی جائے گی بلکہ اسی وقت سے طلاق قرار پائے گی۔

(فتاوی رضویہ جلد 13،صفحہ 333،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

شامی میں ہے:”والحاصل أنه إن كتمه ثم أخبر به بعد مدة فالفتوى على أنه لا يصدق في الإسناد بل تجب العدة من وقت الإقرار سواء صدقته، أو كذبته، و إن لم يكتمه بل أقر به من وقت وقوعه، فإن لم يشتهر بين الناس فكذلك، و إِن اشتهر بينهم تجب العدة من حين وقوعه و تنقضي إن كان زمانها مضى”ترجمہ: خلاصہ کلام یہ ہے کہ اگر طلاق دے کر اس کو چھپایا پھر کچھ عرصہ بعد خبر دی تو فتوی اس پر ہے کہ مدت بیان کرنے میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی بلکہ عدت وقت اقرار سے واجب ہے چاہے عورت تصدیق کرے یا تکذیب اور اگر چھپایا نہیں بلکہ طلاق واقع ہونے کے وقت سے اقرار کر رہا ہے تو اگر لوگوں میں یہ بات مشہور نہیں تو بھی وقت اقرار سے عدت ہوگی اور اگر لوگوں میں مشہور ہے تو عدت طلاق واقع ہونے کے وقت سے واجب ہوگی اور اگر وقت گزر گیا تو عدت بھی ختم ہوجائے گی۔

(رد المحتار،جلد 5،کتاب الطلاق،باب العدۃ،صفحہ 207،دار المعرفہ)

واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ : ابو بنتین محمد فراز عطاری مدنی بن محمد اسماعیل

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

اپنا تبصرہ بھیجیں