اشٹام فروش کو طلاق لکھنے کا کہنا

اشٹام فروش کو طلاق لکھنے کا کہنا

کیافرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ فی زمانہ کسی اشٹام پیپر والے کو طلاق لکھنے کا کہنا اقرار طلاق ہے یا طلاق لکھنے کا وکیل بنانا ہے یعنی شوہر کے یہ کہنے سے ہی طلاق ہوجائے گی کہ میری بیوی کو طلاق لکھ دو یا جب تک وہ طلاق نہیں لکھے گا تب تک طلاق نہیں ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے اشٹام فروش کو طلاق لکھنے کا کہا تو فقط کہتے ہیں طلاق نہ ہوگی کہ فی زمانہ یہ اقرار طلاق نہیں بلکہ طلاق کا وکیل بنانا ہے،لہذا جب تک وہ طلاق لکھے گا نہیں طلاق نہیں ہوگی۔

الاشباہ والنظائر میں ہے :

” اختلفوا فيما لو امر الزوج بكتابة الصک بطلاقها فقيل يقع وهو اقرار به وقیل هو توكيل فلا يقع حتی یکتب و به يفتي و هو الصحيح في زماننا كذا في القنية “

ترجمہ:فقہاء نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے کہ اگر شوہرنے وثیقہ نویس کو طلاق لکھنے کا کہا تو ایک قول کے مطابق طلاق ہوجائے گی کہ یہ طلاق کا اقرار ہے۔ اور ایک قول کے مطابق اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک وہ لکھے گا نہیں اس لئے کہ یہ طلاق کا وکیل بنانا ہے اور یہی مفتٰی بہ اور ہمارے زمانے کے لحاظ سے صحیح قول ہے۔ ( الاشباہ والنظائر ،احکام الکتابت،ص295،دار الکتب العلمیہ،بیروت)

جد الممتار سید ی امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” اختلفوا فيما لو امر الزوج بكتابة الصک بطلاقها فقيل يقع وهو اقرار به وقیل هو توكيل فلا يقع حتی یکتب و به يفتي و هو الصحيح في زماننا كذا في القنية “

ترجمہ:اگر شوہر نے اشٹام فروش کو طلاق لکھنے کا کہا تو ایک قول کے مطابق اسی وقت طلاق ہوجائے گی کہ یہ طلاق کا اقرار ہے اور ایک قول کے مطابق اس وقت تک طلاق واقع نہیں ہوگی جب تک وہ لکھے گا نہیں اس لئے کہ یہ طلاق کا وکیل بنانا ہے اور یہی مفتٰی بہ اور ہمارے زمانے کے لحاظ سے صحیح قول ہے۔ ( جد المتار ، کتاب الطلاق ، مطلب في الطلاق بالكتابة ، جلد 4 ، صفحہ 13 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )

مزید جدالممتار میں ہے:

” ثم قد شاع في بلادنا أن أحدهم إذا أراد أن يطلق امرأته دعا الصکاک وأمره أن یکتب طلاق امرأته ثلاثا مثلا ،فيعظه الناس ويستنزلونه عن الثلاث فيقول سمعا : اكتب طلاقين۔۔۔۔۔۔ وہکذا ، وكل ذلك دليل قاطع على أنهم لا يرون بالأمر إلا التوكيل ولا يفهمون منه الإقرار أصلا ، فوجب التعويل على ما في ” القنية ” و ” الأشباه ” وہو المصحح المفتى به ولله الحمد فقد وضح الصواب وانكشف الحجاب والحمد لله العزيز الوهاب“

ترجمہ:ہمارے شہروں میں یہ معروف ہے کہ ایک بندہ جب اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ وثیقہ نویس کوبلاتا ہےاور اسے حکم دیتا ہے کہ مثلاً کہ اس کی بیوی کو تین طلاقیں لکھ دو لوگ اسے سمجھاتے ہیں اورتین طلاق کہ ارادے سے نیچے لے آتے ہیں ، پس وہ کہتا ہے ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کی بات مان لیتا ہوں چلو دو طلاقیں لکھ دو اور اسی طرح بعض صورتوں میں ایک طلاق تک آ جاتا ہے اور یہ پوری صورتحال اس بات پر دلیل قطعی ہے کہ وہ شوہر کے طلاق لکھنے کے امر کو توکیل طلاق سمجھتے ہیں اور وہ قطعا اسے اقرار طلاق نہیں سمجھتے پس القنیہ اور الاشباہ میں جو بیان کیا گیا اس پر اعتماد کرنا لازم ہے اور وہی صحیح مفتی بہ قول ہے پس اس مسئلے میں صائب رائے واضح ہو گئی اور مسئلہ کھل کر سامنے آگیا۔( جد الممتار ، کتاب الطلاق ، مطلب في الطلاق بالكتابة ، جلد 4 ، صفحہ 22 مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )

واللّٰہ تعالٰی اعلم ورسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

کتبہ:غلام رسول قادری مدنی

16ربیع الاول1445ھ

3اکتوبر2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں