کیا جنازے کے ساتھ چند قدم نکل جائے تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ عدت والی عورت کے بارے میں عورتوں میں مشہور ہے کہ اگر وہ اپنے میاں ( Husbend ) کے جنازے کے ساتھ چند قدم نکل جائے تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے، کیا یہ درست ہے اور عورت کا اس طرح گھر سے نکلنا کیسا ہے؟

جواب:

عدت والی عورت کے بارے میں جو عورتوں میں مشہور ہے کہ اگر وہ اپنے میاں ( Husbend ) کے جنازے کے ساتھ چند قدم نکل جائے تو اس کی عدت ختم ہو جاتی ہے، یہ بالکل غلط ہے؛ کیونکہ جس عورت کا شوہر مر جائے اگر حاملہ نہ ہو تو اس کی عدت ( اسلامی مہینے کے اعتبار سے ) چارہ ماہ دس دن ہے ( یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو ورنہ عورت 130 دن پورے کرے گی ) اور اگر حاملہ ہے تو اس کی عدت وضعِ حمل ( یعنی بچہ جننا ) ہے۔ نیز عورت کا دورانِ عدت بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں اور عورت کا جنازے کے لئے نکلنا ضرورت میں داخل نہیں لہذا عورت کا اس طرح نکلنا ناجائز و گناہ ہے۔ ( البتہ اس سے عورت کی عدت ختم نہیں ہو گی جیسا کہ ابھی گزرا ).

دورانِ عدت گھر سے باہر نہ نکلنے کے متعلق اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ” لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍؕ “.

 ترجمہ کنزالایمان : عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو، اور نہ وہ آپ نکلیں مگر یہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔

( سورۃ الطلاق، آیت 01، پارہ 28 ).

اس آیت کی تفسیر میں تفسیراتِ احمدیہ میں ہے: ” بُیُوْتِهِنَّ ‘‘ کے لفظ میں صراحت ہے کہ یہاں عورتوں کے گھروں سے مراد وہ گھر ہیں جس میں ان عورتوں کی رہائش ہو، لہذا اس آیت کی وجہ سے عورت پر لازم ہے کہ طلاق یا شوہر کی موت کے وقت، عدت اسی گھر میں گزارے گی جو گھر عورت کی رہائش کی وجہ سے عورت کی طرف منسوب ہو۔

( تفسیرات احمدیه، ص496 )۔

اسی آیت کریمہ کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ” جو عورت طلاقِ رجعی یا بائن کی عدت میں ہو اس کو گھر سے نکلنا بالکل جائز نہیں اور جو موت کی عدت میں ہو وہ حاجت پڑے تو دن میں نکل سکتی ہے لیکن اسے شوہر کے گھر ہی میں رات گزارنا ضروری ہے۔

عدتِ وفات کے متعلق قرآن پاک میں ہے: ” وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-

( سورۃ البقرہ، آیت 234، پارہ 02 ).

ترجمہ کنزالایمان: اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔

اسی آیت کریمہ کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: ” یہاں آیت میں فوت شدہ آدمی کی بیوی کی عدت کا بیان ہے کہ فوت شدہ کی بیوی کی عدت 04 ماہ 10 دن ہے۔ یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی۔

( فتاوی رضویہ، ۱۳ / ۲۹۴-۲۹۵ )۔

یہ بھی یاد رہے کہ یہ عدت غیر حاملہ کی ہے، اگر عورت کو حمل ہے تو اس کی عدت ہر صورت میں بچہ جننا ہی ہے۔

حاملہ عورت کی عدت کے بارے میں ہے: ” وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّؕ “.

ترجمہ کنزالایمان: اور حمل والیوں کی ( عدت کی ) میعاد یہ ہے کہ وہ اپنا حمل جَن لیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے: ” لَاتَخْرُجُ الْمُعْتَدَّةُ عَنْ طَلَاقٍ، أَوْ مَوْتٍ إلَّا لِضَرُورَةٍ “.

ترجمہ: طلاق یا موت کی عدت والی عورت گھر سے نہیں نکلے گی سوائے ضرورت کے۔

( رد المحتار علی الدر المختار، جلد 03، صفحہ 536، مطبوعہ دار الفکر بیروت )۔

صدر الشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ” موت یا فرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت ( یعنی رہائش ) تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اور یہ جو کہا گیا ہے کہ گھر سے باہر نہیں جا سکتی اس سے مراد یہی گھر ہے اور اس گھر کو چھوڑ کر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگر بضرورت۔۔۔۔۔۔۔ آج کل معمولی باتوں کو جس کی کچھ حاجت نہ ہو محض طبیعت کی خواہش کو ضرورت بولا کرتے ہیں وہ یہاں مراد نہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیر چارہ نہ ہو۔

( بہارِ شریعت، جلد 02، حصہ 08، صفحہ 245، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

           کتبہ

 سگِ عطار محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

اپنا تبصرہ بھیجیں