(Women Milk Bank) عورتوں کے دودھ کے بینک کی شرعی حیثیت

(Women Milk Bank) عورتوں کے دودھ کے بینک کی شرعی حیثیت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ(Women Milk Bank) یعنی عورتوں کے دودھ کا بینک قائم کرنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

عورتوں کے دودھ کا بینک قائم کرنا شرعا جائز نہیں کہ اس میں کئی خرابیاں موجودہیں مثلا:

٭ سب سے پہلے تو جن جن عورتوں کا دودھ پیا جائے گا اگرچہ کم مقدار میں ہو اور مدت رضاعت میں دودھ پی لیا تو حرمت رضاعت متحقق ہو جائے گی اور نہ صرف ان عورتوں سے بلکہ ان کے اصول و فروع پر وہ بچہ نکاح کے اعتبار سے حرام ہو جائے گا۔ اصول یعنی والدین اور آباو اجداد اور فروع یعنی کہ اولاد در اولاد۔ لہذا اس بچے کو جائز نہیں کہ اس دودھ والی کی ماں ، دادی ، نانی ، بیٹی ، پوتی ، بہن اور رضاعی بھائی کی بیٹی یعنی بھتیجی اور رضاعی بہن کی بیٹی یعنی بھانجی سے نکاح کرے کہ یہ اس پر حرام ہیں۔چونکہ اس ملک بینک میں کئی عورتوں کا دودھ ہوگا اور کئی بچے پیے گے تو عین ممکن ہے کہ جس عورت کا دودھ پیا ہو پھر اسی عورت کی بیٹی یا بہن وغیرہ سے نکاح کرلے جوکہ شرعا حرام ہوگا۔

اسی طرح لبن الفحل یعنی جس مرد کے سبب سے اس عورت کو دودھ اترا ہے اس کے اصول و فروع بھی اس پر حرام ہیں حتی کہ اس کے وہ اولادیں جو دوسری عورت سے ہوں گی وہ بھی اس پر حرام ہیں اور تمام لوگوں کا ڈیٹا اکھٹا کرکے ان بچوں کو دینا اور مدت رضاعت میں اس نے اگر متعدد عورتوں کا دودھ پی لیا تو پھر ان سب سے بچنا کیونکر ممکن ہوسکے گا کہ اب ان سب سے نکاح حرام ہوچکا ہے۔

٭ رہی بات پیکٹ دودھ کی تو رضاعت کی مدت میں دودھ معدے میں داخل ہونے سے متحقق ہو جاتی ہے جبکہ وہ کسی بھی طور پر اس کی گوشت اور ہڈیوں کی نشوونما کا سبب بنے اگرچہ ایک مرتبہ ہی پلایا جائے۔

٭ جب عورتوں کا دودھ یوں وافر مقدار میں ملے گا تو لوگ اپنے بچوں کو دوسال کے بعد بھی دودھ پلائیں گے تاکہ بچے کی صحت اچھی ہو جبکہ دوسال کے بعد بچوں کو دودھ پلاناجائز نہیں۔

٭ کسی ایسی عورت سے بھی دودھ پلانے کی ممانعت ہے کہ جس میں کوئی اخلاقی طور پر عیب ہو جبکہ ملک بینک میں ہر طرح کی عورت کا دودھ موجود ہوگا۔

٭عورتوں کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ بغیر ضرورت کسی بھی بچے کو دودھ نہ پلائیں اور جن کو دودھ پلائیں ان کا نام و نسب محفوظ رکھیں تاکہ لوگ ان سے آگاہ رہیں اور ان رضاعی بھائی بہن کا آپس میں کئی نکاح نہ کردے ۔

٭ اس ڈونیشن میں یقیناً دودھ کی خرید وفروخت ہوگی جس میں ایک طرف تو اس کے اپنے بچے کی حق تلفی ہوگی دوسرا یہ کہ انسانی اعضاء محترم و معزز ہیں یہ مال نہیں ہیں اور کسی طور پر بھی ان کی خرید وفروخت جائز نہیں ۔ اگر خرید وفروخت کی بھی تو یہ بیع باطل ہے اور جس سے اس کے عوض مال لیا ہے اسے واپس لوٹانا واجب ہے اور یہ مال حرام ہے۔

٭وومن ملک بینک کو بلڈ بینک پر قیاس کرنا بالکل بھی درست نہیں ہے کہ اگر کسی طبی سبب سے ماں کو دودھ نہیں آرہا تو اس کا علاج ممکن ہے جس کے سبب سے اسے دودھ آسکتا ہے یا کسی ایک خاص عورت کے دودھ کا بندوبست کرلیا جائے جو اپنا دودھ پلادے۔یہ جواز ناقابل قبول ہے کہ ڈونیشن چیریٹی یا پھر کمزور بچوں کی وجہ سے اس کا قیام اشد ضروری ہے جبکہ بلڈ بینک کا جواز اس لیے ہے کہ جسم کے لیے خون کا متبادل کوئی بھی نہیں ہے مگر اس میں بھی اس کی بیع کی اجازت نہیں ہے ۔

٭ یہ طریقہ طبی طور پر بھی بچے کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اگر اس دودھ کو کافی عرصہ کے لئے جراثیم سے پاک کرنا ہے تو اسے کئی مراحل سے گزارنا پڑے گا کیونکہ انسانی دودھ عام دودھ کے مقابلے میں جلد خراب ہوجاتا ہے اور جلد ہی اسکی قدرتی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے جبکہ اس دودھ میں کئی قسم کے وائرس کا آجانا کوئی بعید نہیں ہے جس سے بچے کو مختلف قسم کی بیماریاں ہوسکتی ہیں۔

اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

” وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ “

ترجمہ کنز الایمان : (تم پر حرام ہوئیں )تمہاری وہ مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں ۔(پارہ 4، سورۃ النساء ،آیت 23)

صحیح البخاری میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

”يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب“

ترجمہ:جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت(دودھ کے رشتے کی وجہ ) سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔(بخاری،کتاب الشہادات ، باب الشہادۃ علی الخ ، جلد1، صفحہ360،مطبوعہ کراچی)

صحیح البخاری میں ہے :

”عن عقبۃ بن الحارث انہ تزوج ابنۃ لابی اھاب بن عزیز فاتتہ امراۃ فقالت انی قد ارضعت عقبۃ والتی تزوج بھا ، فقال لھا عقبۃ ما اعلم انک ارضعتنی ولا اخبرتنی فرکب الی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بالمدینۃ فسالہ فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، کیف وقد قیل ففارقھاعقبۃ ونکحت زوجا غیرہ“

یعنی حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو اہاب بن عزیز کی بیٹی سے شادی کی تو ایک عورت نے آ کر کہا ، میں نے عقبہ کو اور جس سے عقبہ نے شادی کی ہے ، ان دونوں کو دودھ پلایا ہے ، تو حضرت عقبہ نے فرمایا ، مجھے نہیں پتہ کہ تم نے مجھے دودھ پلایا ہے اور نہ تو نے دودھ پلانے کی خبر دی ہے۔ پھر آپ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے پاس مدینہ منورہ آئے اور سوال کیا توآپ علیہ السلام نے فرمایا :کیسے؟ جبکہ کہا گیا ہے (کہ تم دونوں نے ایک عورت کا دودھ پیا ہے ) تو حضرت عقبہ نے اس عورت کو چھوڑ دیا اور اس عورت نے دوسرے شخص سے نکاح کر لیا ۔ (صحیح بخاری ، کتاب العلم ، باب الرحلۃ فی المسئلۃ النازلۃ ، جلد1، صفحہ19،مطبوعہ کراچی )

شرح مشکل الآثار میں ہے :

”کان فی ھذا الحدیث ترک رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کشف عدد الرضاع الذی ذکرت تلک السوداء انھا ارضعت عقبۃ والمراۃ التی تزوجھا وفی ذلک ما قد دل علی استواء قلیلہ وکثیرہ فی الحرمۃ لانہ لو کان من شریعتہ ان لا تحرم الرضعۃ والرضعتان الی العدد المذکور فی ذلک الحدیث الذی روینا لاستحال ان یکون رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم یامر الذی سالہ بفراق من قد ارضعتہ والمراۃ التی قد تزوجھا المراۃ التی ذکرت لہ انھا ارضعتھما رضا عا لا یمنع من تزویجہ ایاھا ولکن یقف عقبۃ فیقول لہ سلھا عن عدد الرضاع الذی ارضعتکما ، کم ھو؟ لیقف بذلک علی انہ من الرضاع الذی یحرم علیہ ان یتزوجھا اذا کان فی الحقیقۃ کذلک والتورع عن ذلک اذا کان الشک فیہاو انہ من الرضا ع الذی لا یحرم علیہ تزویجھا فیخلیہ وذلک التزویج ، وفی ترکہ کذلک ما قد دل علی انہ لا فرق کان عندہ بین قلیل الرضاع وبین کثیرہ فی الحرمۃ“

یعنی اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا سیاہ رنگ والی عورت سے حضرت عقبہ اور ان کی بیوی کو دودھ پلانے کی تعداد کا سوال نہ فرمانا اس پر دلیل ہے کہ حرمت میں قلیل اور کثیر برابر ہیں کیونکہ اگر نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی شریعت میں ایک دو یا روایت کردہ احادیث سے ثابت عدد مذکور تک چسکیاں حرمت ثابت نہیں کرتی تو محال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سوال کرنے والے کو جس نے خود اور اس کی بیوی نے ایسا دودھ پیا کہ شادی کرنا ہی منع ہو جائے ، ان کو جدائی کا حکم دیتے، بلکہ توقف کر کے عقبہ سے فرماتے کہ اس عورت سے پوچھو ، اس نے کتنی بار تم دونوں کو دودھ پلایا ؟ تا کہ جانا جا سکے کہ یہ مقدار اتنی ہے کہ اگر حقیقت میں ایسا ہی ہو تو اس سے شادی کرنا حرام ہو جائے ، اور اس کے ثبوت میں شک ہو تو بچنا بہتر ہو اور اتنا دودھ پلایا ہو کہ جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو اسے اور اس کی بیوی کو چھوڑ دیا جائے ، اس پوچھنے کو ترک کرنے میں اس پر دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے نزدیک بھی حرمت میں قلیل و کثیر رضاعت میں کوئی فرق نہیں ۔ (شرح مشکل الآثار ، باب بیان مشکل ما روی الخ ، جلد11، صفحہ499، مؤسسۃ الرسالۃ)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

”یحرم علی الرضیع ابواہ من الرضاع و اصولھما و فروعھما من النسب و الرضاع جمیعاً حتی ان المرضعۃ لو ولدت من ھذا الرجل او غیرہ قبل ھذا الارضاع او بعدہ او ارضعت رضیعاً او ولد لھذا الرجل من غیر ھذہ المراۃ قبل ھذا الارضاع او بعدہ او ارضعت امراۃ من لبنہ رضیعا فالکل اخوۃ الرضیع و اخواتہ واولادھم اولاد اخوتہ و اخواتہ واخو الرجل عمہ و اختہ عمتہ و اخو المرضعۃ خالہ و اختھا خالتہ“

ترجمہ:دودھ پینے والے بچے پر رضاعی ماں باپ، ان کے اصول اور دونوں کی نسبی یا رضاعی اولاد حرام ہے حتی کہ اگر دودھ پلانے والی نے اِس دودھ پلانے سے پہلے یا بعد،اسی شوہر یا اس کے علاوہ کسی اور شوہر سے کوئی بچہ جنا یا کسی کو دودھ پلایا یا اس آدمی کے پاس اس کے علاوہ کسی اور عورت سے اس دودھ پلانے سے پہلے یا بعد کوئی بچہ پیدا ہوا، یا عورت نے اس کے دودھ سے کسی بچے کو دودھ پلایا تو یہ سب دودھ پینے والے بچے کے رضاعی بھائی بہن اور ان کی اولادیں اس کے بھتیجے،بھتیجیاں اور بھانجے،بھانجیاں ہیں اور مرد(رضاعی باپ)کا بھائی اس کا چچا اور اس کی بہن اس کی پھوپھی اور دودھ پلانے والی کا بھائی اس کا ماموں اور اس کی بہن اس کی خالہ ہے۔(عالمگیری،ج1،ص343،مطبوعہ کوئٹہ)

فتح الباری میں ہے

”ذھب الجمہور من الصحابۃ والتابعین وفقہاء الامصار کابی حنیفۃ وصاحبیہ ومالک والشافعی و احمد واتباعھم الی ان لبن الفحل یحرم“

ترجمہ: تمام صحابہ، تابعین اور فقہاء ابوحنیفہ ان کے صاحبین، مالک، شافعی اور احمد اور ان کے تمام متبعین کا مذہب یہ ہے کہ دودھ والا مرد بھی حرام ہوتا ہے۔ ( فتح الباری ، کتاب النکاح باب لبن الفحل ، جلد 9 ، صفحہ 130، دارالمعرفۃ بیروت)

درمختار مع ردالمحتار میں ہے:

” حرم علی المتزوج ذکرا اوانثی اصلہ وفروعہ واختہ وبنتھا والکل رضاعا“

یعنی مرد وعورت پر اس کے اصول و فروع بہن اور بھانجی حرام ہیں اور یہ سب دودھ کے رشتے سے بھی حرام ہیں۔( رد المختار على الدر المختار ، جلد 3 ، صفحہ 215 ، دار الفكر بیروت)

تبیین الحقائق میں ہے:

” یحرم علیہ جمیع من تقدم ذکرہ من الرضاع وھن امہ واختہ وبنات اخوتہ “

یعنی جتنی عورتیں مذکورہوئیں سب دودھ کے رشتہ سے بھی حرام ہیں رضاعی ماں ، بہن اور رضاعی بہن کی بیٹیاں۔ ( تبیین الحقائق ، کتاب النکاح ،جلد 6 ، صفحہ 463، دار الکتب العلمیہ بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

” رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں، بھانجی، بھتیجی نسبی کی طرح حرام قطعی ہیں ۔“ ( فتاوی رضویہ ،کتاب النکاح ، باب المحرمات ، جلد 11، صفحہ 497، رضا فائونڈیشن لاہور )

مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ سے سوال ہوا کہ”ایک لڑکی تقدیرن نے مسماۃ جگیرن کا دودھ پیا، اب لوگ تقدیرن کا نکاح جگیرن کے دوسرے لڑکے کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں، نکاح درست ہے یا نہیں، اور یہ عذر کرتے ہیں کہ یہ لڑکا جگیرن کا دودھ پینے سے پہلے پیدا ہوا؟“

آپ علیہ الرحمہ اس کے جواب میں فرماتے ہیں:

”تقدیرن اس لڑکے کی رضاعی بہن ہے اور رضاعی بہن سے نکاح حرام۔ قال اللہ تعالی “وَاَخَوٰتُکُمۡ مِّنَ الرَّضٰعَۃ ِ”یعنی رضاعی بہن سے نکاح حرام ہے حدیث میں ہے: “يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب”رضاعی بہن یا بھائی یا صرف وہی نہیں جس کے ساتھ دودھ پیا، بلکہ مرضعہ کی تمام اولادیں سب اس کے بھائی بہن ہیں، بلکہ مرضعہ کے شوہر جس کا یہ دودھ ہے اس کی تمام اولادیں اگرچہ دوسری عورت سے ہوں وہ بھی اس کے بھائی بہن ہیں۔ “ (فتاوٰی امجدیہ، ج02، ص 99، مکتبہ رضویہ کراچی)

سنن بیہقی میں ہے

”لارضاع الّا ما أنشز العظم و أنبت اللحم“

ترجمہ: اس رضاعت کا اعتبار ہے جس سے گوشت اور ہڈیاں بنیں۔(سنن البيهقي الكبرى ، باب ما ورد في اللبن يشبه عليه، جلد 8 ، صفحہ 765،دار الكتب العلمية بیروت)

تنویرالابصار و درِمختار میں ہے:

”(ھو فی وقت مخصوص،حولان و نصف عندہ و حولان)فقط (عندھما و ھو الاصح)فتح،و بہ یفتی کما فی تصحیح القدوری۔ملخصا۔“

ترجمہ:یہ مخصوص وقت میں ہے،امامِ اعظم علیہ الرحمۃ کے نزدیک دو اور نصف سال اور صاحبین علیہما الرحمۃ کے نزدیک صرف دو سال،اور یہی اصح ہےفتح۔اور اسی کے ساتھ فتوی دیا جاتا ہے جیسا کہ تصحیح القدوری میں ہے۔(تنویر الابصارو درمختار،ج4،ص387،مطبوعہ کوئٹہ)

مجمع الانہر میں ہے:

”الارضاع بعد مدتہ حرام لانہ جزء الآدمی و الانتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح “

ترجمہ:دودھ پلانا اس کی مدت گزرنے کے بعد حرام ہے کیونکہ یہ آدمی کا جزء ہے اور اس سے بلاضرورت نفع اٹھانا صحیح قول کے مطابق حرام ہے۔(مجمع الانھر،ج1،ص552،مطبوعہ کوئٹہ)

سنن البیھقی میں ہے

” نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تسترضع الحمقاء فإن اللبن يشبه“

ترجمہ :آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بے وقوف عورت کو دودھ پلانے پر مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے بے شک دودھ (عورت کے) مشابہ ہوتا ہے۔(سنن البيهقي الكبرى ، باب ما ورد في اللبن يشبه عليه، جلد 8 ، صفحہ 765،دار الكتب العلمية بیروت)

رد المحتار میں ہے

”والواجب على النساء أن لا يرضعن كل صبي من غير ضرورة، وإذا أرضعن فليحفظن ذلك وليشهرنه ويكتبنه احتياطا“

ترجمہ:عورتوں پر یہ بات واجب ہے کہ بغیر ضرورت کے کسی بچے کو دودھ نہ پلائیں،جن بچوں کو وہ دودھ پلائیں ان کا احتیاطانام،نسب وغیرہ اپنے پاس لکھ کر محفوظ رکھیں اور اس رضاعت کو معاشرہ میں مشہور کردیں۔( رد المختار على الدر المختار ، جلد 3 ، صفحہ 212 ، دار الفكر بیروت)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

:﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا﴾

ترجمہ : اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر بہت سی برتری دی۔ (پ15، بنی اسرائیل:70)

النافع الکبیر علی جامع الصغیر میں ہے

’’لأن الإنسان مكرم فلا يجوز أن يكون منه شيء مبتذل ‘‘

ترجمہ:کیونکہ انسان کو عزت والا بنایا گیا ہے، لہذا یہ جائز نہیں کہ اُس کے بدن کے کسی حصے کو (بیع وشراء) کے ذریعے حقیر وذلیل بنایا جائے۔ (النافع الكبير علی الجامع الصغير ، صفحہ328، مطبوعہ دار عالَم الكتب، بيروت)

عنایہ شرح ہدایہ میں ہے

’’جزء الآدمی لیس بمال۔۔۔وما لیس بمال لا یجوز بیعہ‘‘

ترجمہ: آدمی کا جزو مال نہیں اور جو چیز مال نہ ہو،اس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔(العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد6، صفحہ 390، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاویٰ رضویہ میں ہے

’’ بُطلان پر (بیع باطل کی صورت میں )وہ روپیہ کہ بنامِ ثمن ، زمینداروں نے لیا ، اُن کے لیے حرام ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد19،صفحہ431،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

فتویٰ رضویہ میں ہے

’’ قیمت کہ زمینداروں نے لی ، بدستور ملکِ مشتریان (پرباقی ہے)، اُن (زمینداروں ) پر فرض کہ قیمت پھیریں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد19،صفحہ427،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

فتاویٰ رضویہ میں ہے

’’اس پر فرض ہے کہ (مالِ حرام )جس جس سے لیا ان پر واپس کر دے،وہ نہ رہے ہوں،ان کے ورثہ کو دے،پتہ نہ چلے ،تو فقیروں پر تصدق کرے، خریدوفروخت کسی کام میں اس مال کا لگانا حرام قطعی ہے،بغیر صورت ِ مذکورہ کے کوئی طریقہ اس کے وبال سے سُبکدوشی کا نہیں۔‘‘(فتاویٰ رضویہ، جلد23، صفحہ551،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

آسٹریلیا ایشو اینڈ بیک گراؤنڈ پیپر کی ویب سائٹ پر ہے

As with donated blood, donor milk is a human body fluid with some accompanying risks. These include viruses (e.g. HIV, hepatitis C), bacteria and other infectious agents such as prions (i.e. vCJD).

دی بمپ ویب سائٹ پر ہے

If it’s not pasteurized, informally donated milk can expose baby to harmful bacteria and viruses. Those viruses could include hepatitis, HIV and cytomegalovirus (CMV). In one study of human milk purchased from a popular milk-sharing website, 74 percent of samples had high levels of bacteria, likely because it wasn’t properly collected, stored and shipped. Infants—especially preemies or babies born with medical problems—who drink milk contaminated by bacteria can become sick.

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبہ

ممبر فقہ کورس

16 ذی الحجہ 1445ھ23  جون 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں