لاکٹ کے اندر خون یاعورت کا دودھ ڈال کر بنانا اور پہننا

لاکٹ کے اندر خون یاعورت کا دودھ ڈال کر بنانا اور پہننا

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ ایسا لاکٹ یا جیولری بنانا،خریدنا،بیچنا اور پہننا کیسا کہ جس میں انسانی خون یا کسی عورت کا دودھ ہو یعنی بعض لوگ لاکٹ یوں بنو ا کر گفٹ کرتے ہیں کہ اس میں اپنا خون ڈال دیتے ہیں جو شیشے وغیرہ میں نظر آتا ہے یونہی عورت اپنا دودھ ڈال کر بنواتی ہے ۔یہ مکمل لاکٹ سیٹ سونا چاندی کا ہو یا آرٹیفیشل ہو تو کیا مرد وعورت اسے پہن سکتے ہیں؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اس طرح کے لاکٹ بنانا ،بنوانا،خریدنا،بیچنا سب ناجائز وحرام ہے۔انسان کے تمام اعضاء اللہ عزوجل کی ملکیت ہے انسان کے پاس یہ اعضا امانت ہیں، ان پر تصرف کرنا جائز نہیں ہے ۔یہ خون اور دودھ لاکٹ کا ہی حصہ ہے الگ سے سونا چاندی وغیرہ نہیں ہے، اس لیے اسے بیچنا اور خریدنا جائز نہیں ہے کہ انسانی اعضاء کی خریدوفروخت ناجائز ہے ۔پھر خون اگر بہنے کی مقدار میں ہو تو وہ ناپاک ہے اور بہنے کی مقدار میں نہیں تب بھی ان دونوں سے نفع اٹھانا جائز نہیں کہ انسانی اعضاء سے بلا ضرورت انتفاع حرام ہے اور یہ کسی بھی دھات کا ہو عورت کے لیے تو انسانی جزء کے سبب ناجائز ہے اور مردوں کے لیے ان کا پہننا دھات ہونے کی وجہ سے بھی حرام ہے اور جس چیز کا پہننا، خریدنا ناجائز ہے اس کا بنانا بھی گناہ میں تعاون ہے۔

کنزالعمال کی حدیث پاک میں ہے

”اللھم ان قلوبنا وجوار عنا بیدک لم تملکنا منھا شیئا“

ترجمہ:اے اللہ بےشک ہمارے قلوب اور ہمارے اعضاء تیرے قبضے میں ہیں ہم ان میں سے کسی چیز کے مالک نہیں۔(کنزالعمال ، جلد 2 ، صفحہ 268، مؤسسة الرسالة بیروت)

ارشاد الساری میں ہے

”ان جناية الانسان علی نفسه کجنایته علی غیرہ فی الاثم لان نفسه لیست له ملکا مطلقا بل ھی لله فلا یتصرف فیھا الا فیھا اذن فیه“

ترجمہ:بے شک انسان کی اپنے نفس پر زیادتی گناہ ہے جیسا کہ دوسرے پر زیادتی گناہ ہے کیونکہ انسان اپنے نفس کا مطقا مالک نہیں ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہے پس اس میں صرف وہی تصرف جائز ہے جس کی اجازت دی گئی ہے۔(ارشاد الساری شرح صحیح البخاری ، جلد 14 ، صفحہ 72، دار الفکر بیروت)

ارشادِ باری تعالیٰ ہے

:﴿وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا﴾

ترجمہ : اور بیشک ہم نے اولادِ آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سوار کیا اور ان کو ستھری چیزوں سے رزق دیا اور انہیں اپنی بہت سی مخلوق پر بہت سی برتری دی۔ (پ15، بنی اسرائیل:70)

النافع الکبیر علی جامع الصغیر میں ہے

’’لأن الإنسان مكرم فلا يجوز أن يكون منه شيء مبتذل ‘‘

ترجمہ:کیونکہ انسان کو عزت والا بنایا گیا ہے، لہذا یہ جائز نہیں کہ اُس کے بدن کے کسی حصے کو (بیع وشراء) کے ذریعے حقیر وذلیل بنایا جائے۔ (النافع الكبير علی الجامع الصغير ، صفحہ328، مطبوعہ دار عالَم الكتب، بيروت)

عنایہ شرح ہدایہ میں ہے

’’جزء الآدمی لیس بمال۔۔۔وما لیس بمال لا یجوز بیعہ‘‘

ترجمہ: آدمی کا جزو مال نہیں اور جو چیز مال نہ ہو،اس کی خریدوفروخت جائز نہیں۔(العنایۃ شرح الھدایۃ، جلد6، صفحہ 390، مطبوعہ کوئٹہ)

ردالمحتارمیں ہے

”(قوله وهي نجسة نجاسة مغلظة) لأن الله تعالى سماها رجسا فكانت كالبول والدم المسفوح أتقاني“

ترجمہ: شراب نجاست مغلظہ ہے کیونکہ اللہ تعالی نے اسے ناپاک فرمایاہے پس یہ پیشاب اوربہتے خون کی طرح ہے ۔(ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب الاشربۃ،ج9 ،ص 601، مطبوعہ پشاور)

بنایہ شرح ہدایہ میں ہے

”فإن كل واحد من الميتة والدم المسفوح ولحم الخنزير رجس أي نجس“

ترجمہ:مردار،بہتے خون اورخنزیرکے گوشت میں سے ہرایک ناپاک ہے ۔(البنایۃ شرح الہدایۃ،کتاب الطہارات ،ج 01، ص418، مطبوعہ کوئٹہ )

البحرالرائق میں ہے

”إذا طحن سن الآدمي مع الحنطة أو عظمه لا يباح تناول الخبز المتخذ من دقيقهما لا لكونه نجسا بل تعظيما له كي لا يصير متناولا من أجزاء الآدمي“

ترجمہ:جب انسان کادانت یاہڈی، گندم کے ساتھ پیس دی جائے توان کے آٹے سے بننے والی روٹی کاکھاناجائزنہیں ہوگا،اس وجہ سے نہیں کہ یہ ناپاک ہے بلکہ انسان کی تعظیم کی خاطرتاکہ وہ انسان کے اجزاء کوکھانے والانہ بن جائے ۔(البحرالرائق،کتاب الطہارۃ، ج01، ص113،دارالکتاب الاسلامی،بیروت)

مجمع الانہر میں ہے:

”الارضاع بعد مدتہ حرام لانہ جزء الآدمی و الانتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح “

ترجمہ:عورت کادودھ پلانا اس کی مدت گزرنے کے بعد حرام ہے کیونکہ یہ آدمی کا جزء ہے اور اس سے بلاضرورت نفع اٹھانا صحیح قول کے مطابق حرام ہے۔(مجمع الانھر،ج1،ص552،مطبوعہ کوئٹہ)

مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے

”انسان اپنے اعضاء آنکھ ،گردے ،پھیپڑے وغیرہ کا مالک نہیں ،یہ تمام اعضاء بندے کے پاس اللہ عزوجل کی امانت ہیں ،لہٰذا انسان اپنےیہ اعضاء نہ تو دوسرے کے ہاتھ بیچ سکتا ہے،نہ کسی کو ہبہ یا خیرات کر سکتا ہے ،نہ ہی اپنے کسی عزیز وغیرہ کےلیے بعد وفات یہ اعضاء دینے کی وصیت کر سکتا ہے ۔یوں ہی دوسرا شخص کسی انسان سے اعضاء خرید سکتا ہے نہ ہی اعضاء کاہبہ ،صدقہ یاوصیت قبو ل کرسکتا ہے ،نہ لے سکتا ہے ۔“( مجلس شرعی کے فیصلے،جلد 1،صفحہ 184،ھند)

در مختار میں ہے

’’فاذا کراھۃ لبسھا للتختم ثبت کراھۃ بیعھا وصیغھا لما فیہ من الاعانۃ علی ما لا یجوز وکل ما ادی الی ما لا یجوز لا یجوز‘‘

ترجمہ: پس (سونے، لوہے، پیتل وغیرہ کی انگوٹھی کے متعلق ) جب ثابت ہو گیا کہ (مردوں کے لیے) اسے پہننا مکروہ (تحریمی) ہے، تو اسے بنانااور بیع کرنا بھی مکروہ ہے، کیونکہ اس میں ایسے کام پر مدد ہے جو جائز نہیں اور ہر وہ کام جو ناجائز کی طرف لے جائے، وہ جائز نہیں ہوتا۔ (در مختار، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 9، صفحہ 595، مطبوعہ پشاور)

سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

’’ہاتھ خواہ پاؤں میں تانبے، سونے، چاندی ،پیتل، لوہے کے چھلّے یاکان میں بالی یابُندا یاسونے خواہ تانبے، پیتل،لوہے کی انگوٹھی، اگرچہ ایک تارکی ہو یاساڑھے چارماشے چاندی یا کئی نگ کی انگوٹھی یاکئی انگوٹھیاں، اگرچہ سب مل کر ایک ہی ماشہ کی ہوں کہ یہ سب چیزیں مردوں کوحرام وناجائز ہیں۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد7،صفحہ307، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں ہے

”مرد کو زیور پہننا مطلقاً حرام ہے ، صرف چاندی کی ایک انگوٹھی جائز ہے جو وزن میں ایک مثقال یعنی ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو“(بہارِ شریعت، جلد 3،صفحہ 426، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

فتاویٰ رضویہ میں ہے:

”یہ اصل کلی یاد رکھنے کی ہے کہ بہت جگہ کام دے گی۔ جس چیز کا بنانا ، ناجائز ہوگا، اسے خریدنا، کام میں لانا بھی ممنوع ہوگا اور جس کا خریدنا،کام میں لانا منع نہ ہوگا، اس کا بنانا بھی ناجائز نہ ہوگا۔‘‘(فتاوی رضویہ ،جلد 23 ،صفحہ 464، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

05ربیع الاول 1446ھ10 ستمبر 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں