ڈسپوزیبل کپ میں خنزئیر کے اجزا ملے ہونا

ڈسپوزیبل کپ میں خنزئیر کے اجزا ملے ہونا

کیا فرماتے ہیں علماے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جن disposable Cups کی تیاری میں سوَر کی چربی کا استعمال کیا جاتا ہے کیا ایسے کپ میں کوئی گیلی چیز مثلاً پانی، دودھ وغیرہ ڈالا جائے گا تو کیا وہ ناپاک ہو جائے گا؟بینوا توجروا(بیان فرما کر اجر پائیے)

بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

فقہاء کرام نے فرمایا کہ اشیاء میں اصل اباحت وپاکی ہے جب تک برتن، کپڑے اور بدن وغیرہ کے متعلق ناپاکی کا یقین نہ ہو جائے انہیں صرف شک کی بنا پر ناپاک نہیں مانا جائے گا؛ اس لیے کہ ان چیزوں کے متعلق ہمیں اصل کے اعتبار سے پاک ہونے کا یقین حاصل ہے اور ان کے نجس ہونے کا شک ہے اور شریعت کا قاعدہ ہے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا، لہذا جب تک disposible Cups کی تیاری میں سوَر کی چربی استعمال ہونے کا یقینی علم حاصل نہیں ہوتا تب تک اس میں پانی، دودھ چائے وغیرہ پینا بالکل جائز ہے۔

ہاں اگر یقینی دلیل سے disposable Cups کی تیاری میں سور کی چربی استعمال ہونا ثابت ہو جائے تو پھر اس کی دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت یہ ہے کہ چربی کے اثرات بالکل ختم ہو جائیں یعنی بالکلیہ چربی کی حقیقت و ماہیت تبدیل ہو جائے، تو اس صورت میں انقلاب جنس کی وجہ سے disposable Cups کا استعمال جائز رہے گا۔ شریعت مطہرہ میں اس کی کثیر مثالیں موجود ہیں: پہلی مثال: اگر نمک کی کان میں سور یا گدھا گر کر نمک بن جائیں تو یہ سب نمک پاک ہوگا، دوسری مثال: انگور کا شیرہ پاک ہے لیکن شراب بن جانے کی صورت میں ناپاک ہوجاتا ہے، اور پھر سرکہ بن کر پاک ہو جاتا ہےوغیرہ۔

دوسری صورت یہ ہے کہ انقلاب مکمل نہ ہو حتی کہ چربی کے اثرات باقی ہوں یعنی حقیقت و ماہیت تبدیل نہ ہوئی ہو، تو اس صورت میں انقلاب جنس نہ ہونے کی وجہ سے کپ کا استعمال جائز نہیں ہو گا۔

الاشباہ والنظائر میں ہے:

”الأصل في الأشیاء الإباحة“

ترجمہ: اشیاء میں اصل اباحت ہے۔ (الاشباہ والنظائر، الفن الاول، النوع الاول، القاعدۃ الثالثۃ، صفحہ57، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی مرکز تربیت افتاء میں ہے:

”الأصل في الأشیاء الطهارة“

ترجمہ: اشیاء میں اصل پاک ہونا ہے۔ (فتاوی مرکز تربیت افتاء، کتاب الطہارۃ، جلد1، صفحہ80، فقیہ ملت اکیڈمی)

بدائع الصنائع میں ہے:

”لاینجس بالشک“

ترجمہ: شک کی بنیاد پر کوئی چیز نجس نہیں ہوتی۔(بدائع الصنائع، جلد1، صفحہ413، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

”من شك في إنائه أو ثوبه أو بدنه أصابته نجاسة أو لا فهو طاهر ما لم يستيقن وكذا في الآبار والحياض و الحباب الموضوعة في الطرقات ويستقي منها الصغار والكبار والمسلمون والكفار“

ترجمہ: جس شخص کو اپنے برتن، کپڑے یا بدن پر نجاست پہنچنے یا نہ پہنچنے میں شک ہو، تو یہ چیزیں اس وقت تک پاک شمار کی جائیں گی جب تک انکے نجس ہونے کا یقین حاصل نہ ہو جائے اور یہی حکم کنؤوں، حوضوں اور ان مٹکوں کا ہے کہ جو راستے میں رکھے ہوتے ہیں کہ جس سے بچے، بڑے، مسلمان اور کفار سیراب ہوتے ہیں۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، جلد1، صفحہ310۔311، دار المعرفۃ، بیروت)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

”اليقين لا يزول بالشك“

ترجمہ: یقین، شک سے زائل نہیں ہوتا۔ (الاشباہ والنظائر، الفن الاول، النوع الاول، القاعدۃ الثالثۃ، صفحہ47، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”صرف اس قدر حکم ہے کہ وہ چیز تصرف میں لائیں جو اپنی اصل میں حلال وطیب ہو اور اُسے مانع ونجاست کا عارض ہونا ہمارے علم میں نہ ہو لہذا جب تک خاص اس شَے میں جسے استعمال کرنا چاہتا ہے کوئی مظنہ قویہ حظر وممانعت کا نہ پایا جائے تفتیش وتحقیقات کی بھی حاجت نہیں مسلمان کو روا کہ اصل حل وطہارت پر عمل کرے اور یمکن و یحتمل و شاید و لعل کو جگہ نہ دے۔“(فتاوی رضویہ، جلد4، صفحہ514، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

”(لا) يكون نجسا (ملح کان حمارا) أو خنزیرا ولا قذر وقع في بئر فصار حمأۃ؛ لانقلاب العین، به یفتی . ملتقطا“

ترجمہ: وہ نمک ناپاک نہیں ہوگا جو پہلے گدھا یا خنزیر تھا، اور وہ گندگی بھی جو کنوئیں میں گر کر کیچڑ بن جائے ناپاک نہیں؛ کیونکہ انقلاب حقیقت ہوگیا، اسی پر فتوی ہے۔(تنویر الابصار و در مختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ586، دار المعرفۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

”قوله: لانقلاب العین علة للکل، وھذا قول محمد وذکر معه في “الذخیرۃ” و”المحیط” أبا حنیفة (حلية) قال في “الفتح” وکثیر من المشائخ اختاروہ وھو المختار؛ لأن الشرع رتب وصف النجاسة علی تلك الحقیقة وتنتفي الحقیقة بانتفاء بعض أجزاء مفھومھا فکیف بالکل فإن الملح غیر العظم واللحم فإذا صار ملحا ترتب حکم الملح ونظیرہ في الشرع النطفة نجسة وتصیر علقة وھی نجسة وتصیر مضغة فتطھر والعصیر طاهر فیصیر خمراء فینجس ویصیر خلاً فیطھر فعرفنا أن استحالة العین تستتبع زوال الوصف المرتب علیھا. اھ“

ترجمہ: مصنف کا قول “انقلاب عین موجب طہارت ہے”، یہ گدھے اورخنزیر کے نمک اور گندگی کے کیچڑ بن جانے کے بعد پاک ہونے کی دلیل ہے، اور یہ امام محمد علیہ الرحمہ کا قول ہے اور “ذخیرہ” اور “محیط” میں امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کو بھی امام محمد کے ساتھ ذکر کیا ہے “حلیہ” اور “فتح القدیر” میں ہے کہ بہت سے مشائخ نے اسکو اختیار کیاہے، اور یہی مذہب مختار ہے؛ اس لیے کہ شریعت نے وصف نجاست کو اس کی حقیقت پر مرتب کیا تھا، اور حقیقت بعض اجزاء کے منتفی ہوجانے سے منتفی ہوجاتی ہے تو بالکلیہ منتفی ہوجانے سے کیوں منتفی نہ ہو گی؛ اس لیے کہ نمک گوشت اور ہڈی کا مغایر ہے، لہذا جب یہ نجاست نمک بن جائے گی تو اس پر نمک کا حکم مرتب ہوگا، اور اس کی نظیر شریعت میں نطفہ ہے جو کہ ناپاک ہے پھر وہ علقہ بن جاتا ہے اور یہ بھی ناپاک ہے، پھر مضغہ یعنی گوشت بن کر پاک ہوجاتا ہے، اور شیرہ انگور پاک ہے لیکن پھر شراب بن کر ناپاک ہوجاتا ہے، اور پھر سرکہ بن کر پاک ہوجاتا ہے، اس سے ہم نے جان لیا کہ حقیقت کا بدل جانا اس وصف کے زوال کو مستلزم ہے جو اس حقیقت پر مرتب تھا۔ (رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ586، دار المعرفۃ، بیروت)

تنویر الابصار و در مختار میں ہے:

”(و) یطھر (زیت) تنجس (بجعله صابونا) به یفتی؛ للبلوی کتنور رش بماء نجس لا بأس بالخبز فیه“

ترجمہ: روغن زیتون ناپاک ہوجائے تو صابن بنا لینے سے پاک ہوجاتا ہے، اسی پر عموم بلوی کی وجہ سے فتوی ہے، جیسے تنور میں ناپاک پانی چھڑک دیا جائے تو اس میں روٹی پکانے میں کوئی حرج نہیں۔(تنویر الابصار و در مختار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ570-571، دار المعرفۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

”جعل الدھن النجس في صابون یفتی بطھارته؛ لأنه تغیر والتغیر یطھر عند محمد ویفتی به؛ للبلوی اھ“

ترجمہ: ناپاک تیل صابن میں ڈال دیا جائے تو پاک ہوجاتا ہے؛ اس لیے کہ اس کی حقیقت بدل جاتی ہے اور حقیقت کا بدل جانا امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک پاک کر دیتا ہے اور عموم بلوی کی وجہ سے اسی پر فتوی ہے۔(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ570، دار المعرفۃ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

”قد ذکر ھذہ المسئلة العلامة قاسم في فتاواہ وکذا ما سیأتي متناً وشرحاً من مسائل التطھیر بانقلاب العین وذکر الأدلة علی ذلك بما لا مزيد علیه وحقق ودقق کما ھو دأبه رحمه ﷲ فلیراجع، ثم ھذہ المسئلة قد فرعوھا علی قول محمد بالطھارۃ بانقلاب العین الذي عليه الفتوی واختارہ أکثر المشائخ“

ترجمہ: اس مسئلہ کو علامہ قاسم نے اپنے فتاوی میں ذکر کیاہے، اور اسی طرح وہ مسائل جو متن وشرح میں آگے آرہے ہیں ان میں انقلاب عین کی وجہ سے پاکی کا حکم دیا گیا ہے، اور علامہ قاسم نے اس کے دلائل اس طرح تحقیق و تدقیق سے بیان فرمائے ہیں کہ جن پر مزید اضافہ کی گنجائش نہیں جیسا کہ ان کا طریقہ ہے، ﷲ پاک کی رحمت ان پر نازل ہو، تفصیل کے لیے ان کے فتاوی کی طرف مراجعت کیجیے۔ فقہاء نے اس مسئلہ کو امام محمد علیہ الرحمہ کے قول پر متفرع کیا ہے کہ ان کے نزدیک انقلاب عین سے پاکی حاصل ہوجاتی ہے اور اسی قول پر فتوی ہے، اور اسی کو اکثر مشائخ نے اختیار کیا ہے۔(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، باب الانجاس، جلد1، صفحہ570، دار المعرفۃ، بیروت)

نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے

” تنزح (بوقوع خنزیر ولوخرج حیاولم یصب فمہ الماء) لنجاسۃ عینہ “

ترجمہ: خنزیر کے گرنے سے سارا پانی نکالا جائے اگرچہ زندہ نکلے اور اس کا منہ پانی تک نہ پہنا ہو کیونکہ وہ نجس عین ہے۔ (مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحاوی ،فصل فی مسائل الاٰبار ،صفحہ21، نور محمد کارخانہ، کراچی )

واللہ اعلم

کتبه

ابو معاویہ محمد ندیم عطاری مدنی حنفی

نظر ثانی:

ابو احمد مفتی انس رضا قادری

️مؤرخہ 30 محرم الحرام 1446ھ بمطابق 06 اگست 2024ء، بروز منگل

اپنا تبصرہ بھیجیں