قرآن یا کوئی وظیفہ پڑھنے کی منت

قرآن یا کوئی وظیفہ پڑھنے کی منت

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آیة کریمہ روزانہ سوا لاکھ پڑھنے کی منت مانی گئی تھی اب کیا منت پوری کرنا واجب ہے؟

بسم الله الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق وہ منت پوری کرنا لازم ہوتا ہے جو کسی فرض یا واجب کی جنس سے ہو جبکہ تلاوت قرآن کریم کرنا فرض یا واجب کی قبیل سے نہیں ہے۔ لہذا قرآن کریم پڑھنے یا کوئی وظیفہ یا آیة کریمہ پڑھنے کی منت مانی تو اس کو پورا کرنا واجب نہیں ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ اسے پڑھ لیا جائے۔

ردالمختار میں ہے

”ومن نذر نذرا مطلقاً او معلقا بشرط و کان من جنسہ واجب ای فرض کما سیصرح بہ للبحر والدور وھو عبادۃ مقصودۃ“

ترجمہ:جس نے مطلق نذر مانی یا شرط کے ساتھ معلق نذر مانی اور اس کی جنس سے واجب یعنی فرض ہو جیسا کہ تصریح کی گئی ہے البحر اور الدرر میں ہے وہ عبادات مقصودہ ہو۔(در مختار مع رد المحتار،کتاب الایمان،ج 3،ص 736،دار الفکر،بیروت)

بدائع الصنائع میں ہے:

”ومن مشايخنا من أصل في هذا أصلا “

ترجمہ:اور ہمارے مشائخ نے فرمایا اس میں اصل یہ ہے کہ وہ اصل(فرض) کی قبیل سے ہو۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، جلد 5 ،صفحہ 82 ،مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

در مختار میں ہے

”ولونذر التسبیحات دبر الصلوۃ لم یلزمہ‘‘

ترجمہ:نماز کے بعد تسبیحات پڑھنے کی منت مانی تو لازم نہیں۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

”وکذا لو نذر قراءۃ القرآن‘‘

ترجمہ: اسی طرح اگر قرآن پڑھنے کی منت مانی (تو وہ بھی لازم نہیں )۔(در مختار مع رد المحتار،کتاب الایمان،ج 3،ص 738،دار الفکر،بیروت)

مجمع الانہرمیں ہے:

”لم يلزم الناذر ما ليس من جنسه فرض كقراءة القرآن وصلاة الجنازة ودخول المسجد“

یعنی جس کی جنس سے فرض نہ ہووہ منت ماننے والے پر لازم نہیں ہوتی جیساکہ کہ قرآن پاک کی تلاوت،نمازجنازہ اور مسجد میں داخل ہونے کی منت۔ (مجمع الانھر ،ج02،ص274،مطبوعہ کوئٹہ)

حاشیہ طحطاوی میں ہے

”وعلل عدم الوجوب في القهستاني بأن لزومها للصلاة لا لعينها“

ترجمہ:قہستانی میں اس منت کے واجب نہ ہونے کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت نماز کے لیے لازم(یعنی واجب و فرض) ہے نہ کہ مستقل طور پر۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ص 693، مطبوعہ بیروت)

فتویٰ رضویہ میں ہے :

”وضو وغسل وتلاوت قرآن وسجدہ تلاوت واتباعِ جنازہ وغیرہ کے یہ چیزیں نذر وتعلیق سے لازم نہیں ہوجاتیں۔“(فتاوی رضویہ،ج13 ،ص257، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے:

”شرعی منّت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے ، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں، ایسی چیز کی منّت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو ، عیادتِ مریض اور مسجد میں جانے اور جنازہ کے ساتھ جانے کی منت نہیں ہو سکتی۔“(بہارشریعت ، ج 1،حصہ 5،ص 1015،مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

19 محرم الحرام1446 ھ25 جولائی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں