عورت کا مردوں کو تعلیم دینےپر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے عمل کو دلیل بنانا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ حضرت امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ اجمعین نے بہت سے مسائل سیکھے تو اس بات کی بنا پر ایک شخص کہتا ہے: عورت مردوں کو مسائل سکھا سکتی ہے، فتویٰ دے سکتی ہے، مائیک میں بول سکتی ہےیعنی کہ مردوں کے سامنے خطابت کرسکتی ہے ۔الغرض نامحرم سے بات کر سکتی ہے جیسے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمائی۔ اس بارے میں کیا حکم ہوگا؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بلاشبہ امت کی عالمہ فقیہہ ہے اور آپ کے علم اور قرآن وحدیث فہمی تربیتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے سبب سے ہے اور کوئی بھی عورت شرم و حیا اور علم میں ان کے مرتبہ کو نہیں پہنچ سکتی،لہذا مذکورہ شخص کا یوں قیاس کرنا بالکل درست نہیں۔عورت اگر واقعی مفتیہ ہو تو فتویٰ دے سکتی ہے لیکن کوئی بھی عورت درس نظامی کے بعد یا چند کتب پڑھ لینے کے بعد مفتیہ نہیں بن سکتی جب تک کسی ماہر مفتی یا مفتیہ کی صحبت میں رہ کر فتاویٰ نہ لکھے اور اس میں مہارت حاصل کرے اور اگر بالفرض وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے سبب بھی کماحقہ اس میں یہ صلاحیت پیدا ہو بھی گئی ہے تب بھی اسے مردوں کو پڑھانے اور سیکھانے کی اجازت نہیں ہے کہ اس میں کئی ایک خرابیاں موجود ہیں۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا اہم دینی مسائل باپردہ ہوکر مردوں کو سکھانا جبکہ سیکھنے والے بھی عظیم باحیا لوگ تھےاور موجودہ دور فتنوں کا ہے۔آج مردوں کو سکھانے کے لیے کثیر مرد استاد موجود ہیں اور عورتوں کے لیے خواتین ہیں ۔مرد عورتوں سے پڑھیں یا عورتیں مردوں سے پڑھیں اس پر شرعی خرابیوں کے ساتھ ناخوشگور واقعات بھی موجود ہیں۔ ہاں جہاں ضرورت ہو وہاں آن لائن عورت مرد استاد سے باپردہ اور شرعی حدود میں رہ کر دینی علم حاصل کرے تو گناہ نہیں یونہی اگر سکھانے والا مرد بزرگ ہو تو اس سے آف لائن بھی پڑھنا جائز ہے۔
عورت کا مائیک میں بولنا کہ غیر محرموں تک آواز جائے یہ منع ہے اور اگر نغمہ بھری آواز ہو جیسے نعت و تلاوت وغیرہ کرنا تو گناہ ہے۔ مردوں سے بات کرنے ضرورت ہو تو سیدھے انداز میں پردے میں رہ کر بات کی جائے۔
المستدرک للحاکم میں حضرت عطاء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
”کانت عائشۃ افقه الناس و ا علم الناس و احسن الناس رأیا فی العامة“
یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا تمام لوگوں سے بڑھ کر فقیہ اور تمام لوگوں سے بڑھ کر عالمہ اور تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے رکھنے والی تھیں۔ ( المستدرک للحاکم، جلد 5 صفحہ 18 حدیث 6808، مطبوعہ دار الفکر بیروت)
جامع ترمذی میں ہے
”عن أبي مُوسي، قال: ما أشکل علينا أصحاب رسول الله صلى الله علیه وسلم حديث قط فسألنا عائشة إلا وجدنا عندها منه علما“
ترجمہ:حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے جب کبھی بھی کوئی حدیث مشکل ہو جاتی تو ہم ام المومنین حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے اس کے بارے میں پوچھتے تو ان کے ہاں اس حدیث کا صحیح علم پالیتے۔(جامع ترمذی ، جلد 2 ، صفحہ 3883، حدیث 3883 ، مطبوعہ کراچی)
المعجم الکبير میں ہے
”عن الزهري أن النبي صلى الله علیه وسلم قال: لو جمع علم نساء هذه الأمة فيهن ازواج النبيِ صلی اللہ علیه وسلم کان علم عائشة اکثر من علمهن“
ترجمہ:امام زہری سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس امت کی تمام عورتوں کے جن میں امہات المومنین بھی شامل ہوں علم کو جمع کر لیا جائے تو عائشہ کا علم ان سب کے علم سے زیادہ ہے۔( المعجم الکبير، جلد 23 ،صفحہ 184، حدیث 40، دار الکتب العلمیہ بیروت)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے
”عن عروة قال: ما رأيت أحدا أَعلم بشعر ولا فريضة، ولا أعلم بفقه من عَائشة“
ترجمہ:حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر، شعر، فرائض اور فقہ کا عالم کسی کو نہیں دیکھا۔(مصنف ابن ابی شیبہ ، جلد 5 ، صفحہ 276 ، حدیث 39 ، مطبوعہ دمشق)
حلية الأولياء میں ہے
”عن عروہ قال مارایت احدا من الناس اعلم القرآن ولا بفریضة ولا بحلال ولا بشعر ولا بحدیث العرب ولا بنسب من عائشة رضی الله عنھا“
ترجمہ:حضرت عروہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے لوگوں میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے بڑھ کر کسی کو قرآن، فرائض، حلال و حرام، شعر، عربوں کی باتیں، اور نسب کا عالم نہیں دیکھا۔( حلية الأولياء، جلد 2 صفحہ 49/ 50،حديث 42، مطبوعہ بیروت )
مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
” یعنی اصحاب رسول اللہ کو کسی مسئلہ میں کوئی اشکال ہوتا اور وہ مشکل کہیں حل نہ ہوتی تو جناب عائشہ صدیقہ کے پاس حاضر ہوتے ان کے پاس یا تو اس کے متعلق حدیث مل جاتی یا کسی حدیث سے اس مسئلہ کا استنباط مل جاتا۔از آدم تا ایں دم کوئی بی بی ایسی عالمہ فقیہہ پیدا نہ ہوئیں جیسی جناب عائشہ رضی اللہ عنہا ہوئیں،آپ علوم قرآنیہ علوم حدیث کی جامع تھیں،بڑی محدثہ بڑی فقیہہ۔صرف ایک مثال پیش کرتا ہوں کسی نے عرض کیا کہ اے ام المؤمنین قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حج و عمرہ میں صفا و مروہ کی سعی واجب نہیں صرف جائز ہے کیونکہ رب نے فرمایا:”فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِهِمَا“
کہ ان کے سعی میں گناہ نہیں،آپ نے جواب دیا اگر یہ سعی واجب نہ ہوتی تو یوں ارشاد ہوتا”لا جناح علیہ ان لایطوف بھما“دیکھو اس ایک جواب میں اصول فقہ کا کتنا دقیق مسئلہ حل فرما دیا کہ واجب کی پہچان یہ ہے کہ اس کے کرنے میں ثواب نہ کرنے میں گناہ،جائز کی پہچان یہ ہے کہ اس کے نہ کرنے میں گناہ نہ ہو،یہاں آیت میں پہلی بات فرمائی گئی ہے۔“(مراة المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، جلد 8 ،صفحہ 505 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
الموافقات میں ہے
”وعلی الجملة فالمفتي مخبرعن الله تعالیٰ کالنبي ونافذ أمره في الأمة “
ترجمہ: الحاصل مفتی لوگوں کو نبی کی طرح اللہ تعالیٰ کے احکامات کی خبر دیتاہے اوراس کے ارشادات کو لوگوں پر نافذ وجاری کرتاہے ۔ الموافقات :ج ،4،ص ،244، مطبوعہ بیروت)
شرح عقود رسم المفتی میں ہے
’’ان المتقدمین شرطوافی المفتی الاجتہاد و ہذا مفقود فی زماننا فلا اقل من ان یشترط فیہ معرفۃ المسائل بشروطہا و قیودہا التی کثیراً ما یسقطونہا ولا یصرحون بہا اعتماداً علی فہم المتفقۃ وکذا لابد لہ من معرفۃ عرف زمانہ و احوال اہله والتخرج فی ذالک علی استاذ ماہر ولذا قال فی آخر المفتی لو ان الرجل حفظ جمیع کتب اصحابنا لابد ان یتلمذ للفتویٰ حتی یہتدی الیه‘‘
ترجمہ: بلا شبہ متقدمین نے مفتی کے لیے اجتہاد کی شرط لگائی ہے اور یہ ہمارے زمانہ میں مفقود ہے تو کم از کم مفتی کے لیے اتنی شرط تو ہونی چاہیے کہ اس کو مسائل کی معرفت ان شرائط و قیود کے ساتھ ہو جنہیں فقہا اکثر حذف کر دیتے ہیں اور سمجھ والوں کی سمجھ پر اعتماد کرتے ہوئے ان قیود کو صراحۃً ذکر نہیں کرتے ۔یوں ہی مفتی کو اپنے زمانہ کے عرف و حالات سے بھی باخبر ہونا چاہیے اور ساتھ ہی ساتھ کسی ماہر استاذ کی نگرانی میں مشق و ممارست بھی ہونی چاہیے یہی وجہ ہے کہ منیۃ کے آخر میں فرمایا ’’اگر کوئی شخص اصحاب مذہب کی تمام کتابیں یاد کر لے جب بھی فتویٰ دینے کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ کسی ماہر استاذ سے شرف تلمذ حاصل کرے تاکہ اس کام کو صحیح طریقہ سے انجام دے سکے۔(شرح عقود رسم المفتی، ص179 ، مطبوعہ بیروت)
الملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے :
’’رد وہابیہ‘‘ اور ’’افتا‘‘ یہ دونوں ایسے فن ہیں کہ طب کی طرح یہ بھی صرف پڑھنے سے نہیں آتے ان میں بھی طبیب حاذق کی مطب میں بیٹھنے کی ضرورت ہے، میں بھی ایک طبیب حاذق کے مطب میں سات برس بیٹھا مجھے وہ دن، وہ جگہ، وہ مسائل اور جہاں سے وہ آئے تھے اچھی طرح یاد ہیں۔
میں نے ایک بار ایک نہایت پیچیدہ حکم کو بڑی کوشش و جانفشانی سے نکالا اور اس کی تائیدات مع تنقیح آٹھ ورق میں جمع کیں مگر جب حضرت والد ماجد قدس سرہٗ کے حضور پیش کیا تو انہوں نے ایک جملہ ایسا فرمایا کہ اس سے یہ سب ورق رد ہوگئے وہی جملے اب تک دل میں پڑے ہوئے ہیں اور قلب میں اب تک ان کا اثر باقی ہے۔ (الملفوظ، حصہ اول، ص141 ، مکتبہ المدینہ کراچی)
فتاویٰ رضویہ میں ہے
:’’سات برس کے بعد مجھے اِذن(اجازت نامہ عطا) فرمادیا کہ اب فتوےلکھو ں اور بغیر حضور (یعنی اپنے والدِ ماجِد رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ)کو سنائے سائلوں(سوال کرنے والوں) کو بھیج دیاکروں ، مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تک کہ ربِّ کریم نے حضرتِ والا کو ذی القعدہ ۱۲۹۷ ھ میں اپنے پاس بلالیا۔(فتاویٰ رضویہ ، جلد 1 صفحہ ، 94 ، رضا فائونڈیشن لاہور)
حضور اعلی حضرت مجدد دین و ملت علیہ الرحمۃ و الرضوان فرماتے ہیں:
’’آج کل درسی کتابیں پڑھنے پڑھانے سے آدمی فقہ کے دروازے میں بھی داخل نہیں ہوتا، نہ کہ واعظ جسے سوائے طلاقت لسان، کوئی لیاقت جہاں درکار نہیں۔‘‘(فتاوی رضویہ، کتاب الصوم جلد 10 صفحہ 664 مطبوعہ رضا فائونڈیشن لاہور)
فتویٰ رضویہ میں ہے:
”رہا پردہ اس میں استاذ وغیراستاذ،عالم وغیر عالم، پیرسب برابرہیں۔نوبرس سے کم کی لڑکی کو پردہ کی حاجت نہیں اور جب پندرہ برس کی ہو سب غیرمحارم سے پردہ واجب،اور نو سے پندرہ تك اگرآثار بلوغ ظاہرہوں توواجب،اور نہ ظاہرہوں تو مستحب خصوصًا بارہ برس کے بعد بہت مؤکد کہ یہ زمانہ قرب بلوغ وکمال اشتہاکا ہے۔“(فتویٰ رضویہ، جلد 23 ،صفحہ 575 ،رضا فائونڈیشن لاہور)
فتاویٰ رضویہ میں ہے
”ان ضروریات اور قرآن عظیم پڑھنے کے بعد پھر اگر اردو یاگجراتی کی دنیوی کتاب جس میں کوئی بات نہ دین کے خلاف ہو نہ بے شرمی کی، نہ اخلاق وعادات پر برااثر ڈالنے کی، اور پڑھانے والی عورت سنی مسلمان پارسا(نیک)حیادار ہوتو کوئی حرج نہیں۔“( فتاوی رضویہ جلد 23،صفحہ 693،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
وقار الفتاوی میں ہے
”دینی تعلیم کا مرد و عورت پر بقدر ضرورت حاصل کرنا فرض ہے اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنا جائز ہے اس لیے لڑکیوں کا اسکول قائم کرنا بھی جائز ہے بشرطیکہ تعلیم دینے کے لیے عورتیں مقرر کی جائیں ہاں چھوٹی بچیوں کو مرد بھی پڑھا سکتے ہیں۔“(وقار الفتاوی ، جلد 3 ، صفحہ 435، بزم وقار الدین)
امام اہل سنت ، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”اگر بدن موٹے اور ڈھیلے کپڑوں سے ڈھکا ہے، نہ ایسے باریک کہ بدن یا بالوں کی رنگت چمکے، نہ ایسے تنگ کہ بدن کی حالت(یعنی کسی عضو کی گولائی یااُبھار وغیرہ) دِکھائیں، اور جانا تنہائی میں نہ ہو اورپِیر جوان نہ ہو (یعنی ایسا کریہُ المنظر ضعیف مثلاچہرے پر جُھری والا اور شَہوت کے تعلق سے بالکل بے کشش ہونا چاہیےکہ جس سے طرفین یعنی پیر اور مریدنی میں سے کسی ایک کی جانب سے بھی شہوت کا اندیشہ نہ ہو)غرض کوئی فتنہ نہ فی الحال ہو نہ اس کا اندیشہ ہو تو علمِ دین (اور) امورِ راہِ خدا سیکھنے کے لئے جانے اوربُلانے میں کوئی حرج نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد22، صفحہ240، رضا فاونڈیشن،لاہور)
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
” یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا “
ترجمۂ کنزالایمان: اے نبی کی بیبیو!تم اَور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو تو بات میں ایسی نرمی نہ کرو کہ دل کا روگی کچھ لالچ کرے ہاں اچھی بات کہو۔ (سورۃ الاحزاب،آیت:32)
اس کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے:
”آیت کے اس حصے میں ازواجِ مُطَہّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو ایک ادب کی تعلیم دی گئی ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے حکم کی اوررسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی رضا کی مخالفت کرنے سے ڈرتی ہو تو جب کسی ضرورت کی بنا پر غیر مرد سے پسِ پردہ گفتگو کرنی پڑ جائے تواس وقت ایسا انداز اختیار کرو جس سے لہجہ میں نزاکت نہ آنے پائے اور بات میں نرمی نہ ہو بلکہ انتہائی سادگی سے بات کی جائے اور اگر دین و اسلام کی اور نیکی کی تعلیم اور وعظ و نصیحت کی بات کرنے کی ضرورت پیش آئے تو بھی نرم اور نازک لہجے میں نہ ہو۔
علامہ احمد صاوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن امت کی مائیں ہیں اور کوئی شخص اپنی ماں کے بارے میں بری اور شہوانی سوچ رکھنے کا تصور تک نہیں کر سکتا، اس کے باوجود ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کو بات کرتے وقت نرم لہجہ اپنانے سے منع کیا گیا تاکہ جو لوگ منافق ہیں وہ کوئی لالچ نہ کر سکیں کیونکہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں ہوتا جس کی بنا پر ان کی طرف سے کسی برے لالچ کا اندیشہ تھا ا س لئے نرم لہجہ اپنانے سے منع کر کے یہ ذریعہ ہی بند کردیا گیا۔“اس سے واضح ہوا کہ جب ازواجِ مُطَہَّرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کیلئے یہ حکم ہے تو بقیہ کیلئے یہ حکم کس قدر زیادہ ہوگا کہ دوسروں کیلئے تو فتنوں کے مَواقع اور زیادہ ہیں ۔
اس آیت سے معلوم ہو اکہ اپنی عفت اور پارسائی کی حفاظت کرنے والی خواتین کی شان کے لائق یہی ہے کہ جب انہیں کسی ضرورت، مجبوری اور حاجت کی وجہ سے کسی غیر مرد کے ساتھ بات کرنی پڑ جائے تو ان کے لہجے میں نزاکت نہ ہو اور آواز میں بھی نرمی اور لچک نہ ہو بلکہ ان کے لہجے میں اَجنبیت ہو اور آواز میں بیگانگی ظاہر ہو، تاکہ سامنے والا کوئی بُرا لالچ نہ کر سکے اور اس کے دل میں شہوت پیدا نہ ہو اورجب سیّد المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے زیرِ سایہ زندگی گزارنے والی امت کی ماؤں اور عفت و عصمت کی سب سے زیادہ محافظ مقدس خواتین کو یہ حکم ہے کہ وہ نازک لہجے اور نرم انداز سے بات نہ کریں تاکہ شہوت پرستوں کو لالچ کا کوئی موقع نہ ملے تو دیگر عورتوں کے لئے جو حکم ہو گااس کا اندازہ ہر عقل مند انسان آسانی کے ساتھ لگا سکتا ہے۔ “(تفسیرصراط الجنان ،جلد 8، صفحہ16۔17، مکتبۃ المدینہ ، کراچی)
ردالمختار میں ہے
”نجيز الكلام مع النّساء للأجانب ومحاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ ولا تمطيطها ولا تليینها وتقطيعها لما في ذلك من استمالةالرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم ومن ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ “
ترجمہ:ہم وقت ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام کو جائز سمجھتے ہیں ،البتہ یہ جائز نہیں قرار دیتے کہ وہ اپنی آوازیں بلند کریں ،گفتگوکو بڑھائیں ،نرم لہجہ رکھیں یا مبالغہ کریں،کیونکہ اس طرح تو مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا ہے اور ان کی شہوات کوابھارنا ہے، اِسی وجہ سے تو عورت کا اذان دینا جائز نہیں۔(رد المحتارعلی الدرالمختار،کتاب الصلاۃ،باب شروط الصلاۃ ،مطلب فی ستر العورۃ،جلد2،صفحہ97،مطبوعہ کوئٹہ )
فتاویٰ رضویہ میں ہے:
”نا جائز ہے کہ عورت کی آواز بھی عورت ہے اورعورت کی خوش الحانی کہ اجنبی سنے محل فتنہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ جلد 22، ص240، رضا فاؤنڈیشن، لاهور)
فتاویٰ خلیلیہ میں ہے:
”عورت کی آواز بھی عورت ہے یعنی غیر محرم کو بلا ضرورت سنانے کی اجازت نہیں ہے تو عورت کی آواز سننا منع ہے۔“(فتاویٰ خلیلیہ ، جلد 3 ، صفحہ 198 ، ضیاء القرآن پبلی کیشنز )
اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”(عورت)تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہو، نہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی(گفتگو کر سکتی ہے )۔“(فتاوی رضویہ،جلد22،صفحہ243، رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
25صفر المضفر 1446ھ31 اگست 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری