عورت کے مہر پر زکوۃ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ عورت کے پاس ایک تولہ سونا ہے اور اس کا مہر پانچ لاکھ روپے ہیں جو اسے ابھی تک نہیں ملا تو کیا عورت پر زکوٰۃ واجب ہوگی؟
بسم الله الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شرعا مہر دَین ضعیف ہے اور دین ضعیف کا حکم یہ ہے کہ اس پر زکوٰۃ قبضہ کے ایک سال بعد واجب ہوتی ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں پانچ لاکھ جو مہر کی رقم ہے تو جب تک اس پر قبضہ نہیں ہوجاتا اور سال نہیں گزر جاتا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ۔ رہا ایک تولہ سونا تو اگر اس کے ساتھ کوئی کرنسی ، چاندی کا زیور یا بانڈز یا سامان تجارت وغیرہ نہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی اور اگر اس کے ساتھ کچھ کرنسی وغیرہ ہیں تو اب سونے کا نہیں چاندی کے نصاب کا اعتبار ہوگا اور زکوٰۃ واجب ہوگی۔
بدائع الصنائع میں ہے
”وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض“
ترجمہ: اور دینِ ضعیف وہ ہے جو کسی شے کے عوض ذمہ پر واجب ہوجائے ، خواہ اس کے فعل کا اُس میں دخل ہو یا نہ ہو، جیسا کہ مالِ میراث اور مالِ وصیت ، یا جو غیرِ مال کے بدلے میں کسی کے ذمہ پر واجب ہوا ہو، جیسے کہ عورت کا حق مہر اور خلع کا عوض اور قتلِ عمد میں مال پر صلح کرنا اور کتابت کا عوض۔ دینِ ضعیف میں جب تک کل مال پر قبضہ نہیں کرے گا ، اس وقت تک اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی اور یہ ضروری ہے کہ قبضے کے بعد اس پر ایک سال بھی گزر جائے۔(بدائع الصنائع ، کتاب الزکاة، جلد:02،صفحہ 14، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے :
”تیسرے دَین ضعیف جو غیر مال کا بدل ہو جیسے مہر، بدل خلع، دیت، بدلِ کتابت یا مکان یا دوکان کہ بہ نیتِ تجارت خریدی نہ تھی اس کا کرایہ کرایہ دار پر چڑھا، اس میں زکاۃ دینا اس وقت واجب ہے کہ نصاب پر قبضہ کرنے کے بعد سال گزر جائے۔“(بہار شریعت ،جلد 1، حصہ 5، صفحہ 912 ، مکتبہ المدینہ کراچی)
موطأ الامام مالك ہے:
”ليس فيما دون عشرين دينارا عينا الزكاة وليس في مائتي درهم ناقصة بينة النقصان زكاة “
ترجمہ: ”بیس دینار (ساڑھے سات تولہ سونے) سے کم میں زکوٰۃ نہیں، یونہی دو سو درہم (ساڑھے باون تولہ چاندی)سے کم میں زکوٰۃ نہیں۔“ (موطأ الإمام مالك، ج01،ص246، دار إحياء التراث، مصر)
تحفۃ الفقہاء میں ہے:
”اما الذھب المفرد ان یبلغ نصابا و ذلک عشرون مثقالا ففیہ نصف مثقال و ان کان اقل من ذلک فلا زکاۃ فیہ“ ترجمہ:”صرف سونا ہو، تو اگر وہ نصاب کو پہنچے، تب اس میں زکوٰۃ فرض ہو گی اور سونے کا نصاب بیس مثقال(یعنی ساڑھے سات تولہ) سونا ہے اور اگر سونا اس سے کم ہو، تو اس میں زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔ (تحفۃ الفقھاء، ج01، ص266 ، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
وقار الفتاوی میں ہے :
”سونے کی مقدار ساڑھے سات تولے اور چاندی کی مقدار ساڑھے باون تولے ہے۔جس کے پاس صرف سونا ہے، روپیہ پیسہ ، چاندی اور مالِ تجارت بالکل نہیں ، اس پر سوا سات تولے تک سونے میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب پورے ساڑھے سات تولہ ہو گا، تو زکوٰۃ فرض ہو گی، اسی طرح جس کے پاس صرف چاندی ہے ، سونا ، روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بالکل نہیں ہے، اس پر باون تولے چاندی میں بھی زکوٰۃ فرض نہیں ہے، جب ساڑھے باون تولہ پوری ہو یا اس سے زائد ہو، تو زکوٰۃ فرض ہوگی۔لیکن اگر چاندی اور سونا دونوں یا سونے کے ساتھ روپیہ پیسہ ، مالِ تجارت بھی ہے، اسی طرح صرف چاندی کے ساتھ روپیہ پیسہ اور مالِ تجارت بھی ہے، تو وزن کا اعتبار نہ ہو گا، اب قیمت کا اعتبار ہو گا، لہٰذا سونا چاندی ، نقد روپیہ اور مالِ تجارت سب کو ملا کر ، اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو جائے، تو اس پر زکوٰۃ فرض ہے۔“ (وقار الفتاوی، ج02،ص385-384،بزم وقار الدین، کراچی)
فتاوٰی اہلسنت احکامِ زکوٰۃ میں ہے:
”صورتِ مسئولہ میں اگر آپ کے پاس صرف یہی سونا ہے، اس کے علاوہ سونا ، چاندی، تجارت کا سامان اور رقم وغیرہ نہیں، تو زکوٰۃ جس نصاب پر فرض ہوتی ہے ، اس اعتبار سے آپ صاحبِ نصاب نہیں ہیں کہ صرف سونا ہو، تو فرضیتِ زکوٰۃ کے لیے اس کا نصاب ساڑھے سات تولہ سونا ہے، لہٰذا اس حالت میں سال پورا ہونے پر آپ پر زکوٰۃ بھی فرض نہیں ہو گی اور اگر سونے کے ساتھ کچھ چاندی ، اگرچہ ایک انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو یا سامانِ تجارت یا رقم ضرورت سے زائد ہو ، تو زکوٰۃ کا نصاب تو بن جائے گا، اس لیے کہ اب سونے کے نصاب کا اعتبار نہ ہو گا، بلکہ چاندی کے نصاب سے موازنہ کیا جائے گا اور وہ ساڑھے باون تولہ چاندی ہے ، لیکن آپ پر اتنا قرض بھی ہے کہ اس قرض کو آپ کے مال سے نکالیں ، تو نصاب باقی نہیں رہے گا، اس لیے اس طرح بھی آپ پر زکوٰۃ فرض نہیں ہو گی۔“ (فتاوٰی اھلسنت احکامِ زکوٰۃ ،ص110،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
20محرم الحرام 1446ھ26جولائی 2024ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری