حالت حیض میں موبائل اسکرین پرموجودقرآن کو چھونا
کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ حالت حیض میں قرآن پاک کو چھونا کیسا ہے اور موبائل یا کمپیوٹرا سکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو اس حالت میں دل میں پڑھ اور ہاتھ سے چھو سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
حالت حیض میں قرآن کریم چھونے کا حکم بھی قرآن کریم پڑھنے کے جیسا ہی ہے کہ جس طرح پڑھنا حرام ہے اسی طرح چھونا بھی حرام ہے۔البتہ ایامِ حیض میں حائضہ عورت بوقتِ ضرورت قرآن مجیدکو ایسے کپڑے کے ساتھ چھو سکتی ہے جو اس نے پہنا نہ ہو۔ موبائل یا کمپیوٹر کی سکرین جو آیات نظر آتی ہیں، وہ ”سافٹ وئیر“ ہیں۔ یعنی وہ ایسے نقوش ہیں جنہیں چھوا نہیں جاسکتا۔ یہ نقوش بھی کمپیوٹر یا موبائل کے شیشے پر نہیں بنتے بلکہ ”ریم“ پر بنتے ہیں اور شیشے سے نظر آتے ہیں، لہٰذا اسے چھونا جائز ہے۔لیکن!
ناپاکی کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت کرنا، خواہ مصحف شریف سے دیکھ کر ہو یا موبائل فون سے دیکھ کر ہو، یا پھر بغیر دیکھے ہو، بہر صورت ناجائزوگناہ ہے اگر زبان سے الفاظ کی ادائیگی کیے بغیر فقط اُسے نظروں سےدیکھا جائے اور بغیر آواز دل میں پڑھا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔معلمہ کو ایام مخصوصہ میں قرآن کی نیت کیے بغیر ضرورتاً ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھانے کی اجازت ہے۔
قرآن پاک میں ہے:
”لا یمسه اِلا المطهرون“
ترجمہ: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔(القرآن،پارہ 27،سورۃ الواقعہ،آیت 79)
تفسیر صراط الجنان میں ہے:
”{لا یمسه الا الْمطهرون: اسے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اس محفوظ اور پوشیدہ کتاب کو فرشتے ہی چھوتے ہیں جو کہ شرک ،گناہ اور ناپاک ہونے سے پاک ہیں ۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کو شرک سے پاک لوگ ہی چھوتے ہیں ۔تیسری تفسیر یہ ہے کہ قرآن پاک کو وہ لوگ ہاتھ لگائیں جو با وضو ہوں اور ان پر غسل فرض نہ ہو۔“(خازن، الواقعۃ، تحت الآیۃ:79،جلد4،صفحہ 223)
معجم الصغیر میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے،رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
قرآن پاک کو وہی ہاتھ لگائے جو پاک ہو۔(معجم صغیر، باب الیاء، من اسمہ: یحیی، ص ۱۳۹، الجزء الثانی)
جیسا کہ المختار میں ہے:
”(لا يجوز للجنب قراءة القرآن)۔۔۔۔ (والحائض والنفساء كالجنب)“
یعنی جنبی شخص کا قرآن کی تلاوت کرنا، جائز نہیں۔ حائضہ اور نفاس والی عورت جنبی کے حکم میں ہیں۔ (الاختیار لتعلیل المختار ، کتاب الطھارۃ،ج01،ص13 ،دار الكتب العلمية، بيروت، ملتقطاً)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
” (و) یمنع ۔۔۔۔۔(وقراءة قرآن) بقصده“
یعنی حیض و نفاس کی حالت میں قصداً قرآن کی قراءت کرنا ممنوع ہے ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 535-533، مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطاً)
درمختار میں ہے:
”يمنع صلاة و صوما و تقضيه و دخول مسجد و الطواف و قربان ما تحت اِزار و قرأة قرآن و مسه الا بغلافه. و کذا ولا بأس بقرأة أدعية و مسها و حملها و ذکر الله تعالیٰ، و تسبيح و أکل و شرب بعد مضمضة و غسل يد “
ترجمہ:دورانِ حیض نماز، روزہ، روزہ کی قضاء، مسجد میں داخل ہونا، طواف ، جنسی قربت ناف سے نیچے سےگھٹنوں تک، تلاوتِ قرآن اور غلاف کے بغیر قرآنِ مجید کو چھونا ممنوع ہے۔ البتہ کلی کرنے اور ہاتھ دھونے کے بعد دعائیں پڑھنے، انہیں چھونے، ان کو اٹھانے، اللہ کا ذکر کرنے، تسبیح پڑھنے اور کھانے پینے کی ممانعت نہیں ہے۔ (الدرالمختار، جلد1،صفحہ 290تا 294، دار الفکر، بيروت)
تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:
”(وقراءة قرآن) بقصده (ومسه) ولو مكتوبا بالفارسية في الاصح“
یعنی حیض و نفاس کی حالت میں قصداً قرآن کی قراءت کرنا حرام ہے یونہی اسے چھونا بھی حرام ہے، اصح قول کے مطابق خواہ وہ قرآن عربی کے علاوہ دوسری کسی زبان ہی میں کیوں نہ لکھا گیا ہو ۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار،کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 535، مطبوعہ کوئٹہ)
نہر الفائق میں ہے:
”ويمنع أيضا حل مسه أي القران ولو مكتوبا بالفارسية إجماعا هو الصحيح۔۔۔۔قيد بالمس لأن النظر إليه غير ممنوع“
یعنی حیض و نفاس کی حالت میں اسی طرح قرآن کو چھونے سے بھی منع کیا جائے گا اگرچہ وہ قرآن عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں لکھا گیا ہو، یہ اجماعی مسئلہ ہے اور یہی صحیح ہے۔یہاں ماتن نے “مس” کی قید اس لیے لگائی کہ قرآن کی طرف فقط نظر کرنا ممنوع نہیں۔ (النھرالفائق،کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 135، مطبوعہ کوئٹہ، ملتقطاً)
فتاوی شامی میں ہے:
”و يحرم به أي بالأكبر وبالأصغر مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار… إلا بغلاف متجاف غير مشرز أو بصرة به يفتى، وحل قلبه بعود “
ترجمہ: قرآن کو اس کے ساتھ چھونا حرام ہے، یعنی بڑے یا چھوٹے حدث سے، سوائے لپٹے ہوئے غلاف کے جو ملا ہوا نہ ہو یا ایسا بندھا ہوا نہ ہو یہی مفتی ٰ بہ ہے۔ اس کو چھڑی کے ساتھ پلٹا جائز ہے ۔ ( فتا وی شامی ،كتاب الطهارة، سنن الغسل، جلد 1، صفحہ173، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)
فتاوٰی رضویہ میں ہے:
”ترجمہ کا چھونا خود ہی ممنوع ہے اگرچہ قرآن مجید سے جدا لکھا ہو۔“(فتاوٰی رضویہ ،ج01 (حصہ ب)،ص1074،رضافاؤنڈیشن، لاہور)
بہارِ شریعت میں ہے:
”حَیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں۔ “( بہار شریعت، ج 01، ص 379، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے:
”قرآنِ مجید دیکھنے میں ان سب پر کچھ حَرَج نہیں اگرچہ حروف پر نظر پڑے اور الفاظ سمجھ میں آئیں اور خیال میں پڑھتے جائیں۔“ (بہار شریعت، ج 01، ص 327، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی شامی میں ہے:
”( وقراءة قرآن ) أي ولو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً، كما قدمناه “
ترجمہ: یعنی بغیر کسی مرکب آیت کے بھی، نہ الفاظ کے۔ کیونکہ حائضہ معلمہ عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ لفظ بہ لفظ سکھائے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے ۔(فتاوی شامی،جلد1،صفحہ 293،مطبوعہ سعید)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”وإذا حاضت المعلمةفَينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمةكلمةوتقطع بين الْكلمتين، ولايكره لها التَّهجي بالقرآن كذا في المحيط“
ترجمہ: اگر معلمہ کو حیض آتا ہے تو وہ بچوں کو دو لفظوں کے درمیان کاٹ کر پڑھائے اس کے لیے قرآن میں ہجے کرنا ناپسندیدہ نہیں ہے۔ جیسا کہ محیط میں ہے۔(فتاوی ہندیہ،جلد1،صفحہ38،مطبوعہ دار الفکر،بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”معلمہ ایک ایک کلمہ سانس توڑ کر پڑھا سکتی ہے۔ جیسا کہ فتاوٰی رضویہ میں ہے:’’ قرآن عظیم کا خیال کرکے بے نیت قرآن ادا کرنا چاہے تو صرف دو صورتوں میں اجازت، ایک یہ کہ آیات دعا وثنا بہ نیت ودعا وثنا پڑھے، دوسرے یہ کہ بحاجتِ تعلیم ایک ایک کلمہ مثلاً اس نیت سے کہ یہ زبان عرب کے الفاظ مفردہ ہیں کہتا جائے اور ہر دو لفظ میں فصل کرے متواتر نہ کہے کہ عبارت منتظم ہوجائے کما نصوا علیہ ۔“ (فتاوٰی رضویہ ،ج01 (حصہ ب)،ص1113، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے:
”معلمہ کو حیض یا نفاس ہوا تو ایک ایک کلمہ سانس توڑ توڑ کر پڑھائے اور ہجے کرانے میں کوئی حرج نہیں۔“(بہار شریعت،جلد1،حصہ 2،صفحہ 379،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
واللہ اعلم و رسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کتبہ
ممبر فقہ کورس
05ربیع الاول 1446 ھ /10ستمبر 2024 ء
نظرثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری