عمرہ کی نیت میں حج شامل کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کسی نے مدینے کی میقات سے حج افراد کی نیت کی اور جدہ پہنچ گیا اب جدہ میں جاکر اسکی نیت بن رہی ہے کہ میں حج قران کرلوں تو کیا وہ اب نیت بدل سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
حج افراد کی نیت کرنے والے نے پہلے حج کے احرام کی نیت کی پھر عمرہ کی نیت کرکے اس کو حج قران سے بدلنا چاہتا ہے تو یہ بدل سکتا ہے کہ اگرچہ یہ خلاف سنت ہے مگر وہ قارن ہو جائے گا مگر ضروری یہ ہے کہ یہ نیت طواف قدوم سے پہلے کرے۔
ارشاد الساری الی المناسک ملا علی القاری میں ہے
”ولا تقدیم احرام العمرۃ علی الحج ای علی احرامہ فان قدما علیھا بان احرام بالحج ثم احرام بعد ذلک بالعمرة فانه یکون قارنا بلاخلاف۔۔۔۔ فان کان ادخلھا علیہ قبل طواف القدوم یصیر قارنا مسیئا ای لمخالفته السنة لان السنة تقدیم احرام العمرة علی الحج“
ترجمہ:اور عمرہ کے احرام کو حج پر مقدم نہ کرے یعنی کہ اس کے احرام پر پس اگر اس نے پہلے حج کا احرام باندھا پھر عمرہ کا تو وہ بلااختلاف قارن ہو جائے گا پس اگر وہ طواف قدوم سے قبل اس احرام میں داخل ہوا تو وہ قارن ہو جائے گا البتہ وہ اساءت کا مرتکب ہوگا یعنی یہ سنت کے خلاف ہے کیونکہ سنت یہ ہے کہ عمرہ کا احرام حج کے احرام پر مقدم ہو۔(ارشاد الساری الی المناسک ملا علی القاری ، صفحہ 365، مطبوعہ مکہ مکرمہ)
ردالمختار میں ہے
”بان یدخل احرام العمرۃ علی الحج قبل ان یطوف للقدوم وان اساء او بعدہ وان لزمہ دم من المیقات اذ القارن لایکون الا افاقیا“
ترجمہ:اس طرح کہ وہ عمرہ کے احرام کو حج پر داخل کرے قبل اس کے وہ طواف قدوم کرے اگرچہ اس نے خلاف سنت کام کیا یا طواف قدوم کے بعد ایسا کرے تو اس پر دم لازم ہو جائے گا میقات سے البتہ یہ قارن ہو جائے گا اور قارن آفاقی ہی ہوسکتا ہے۔(ردالمختار ، کتاب الحج ، باب القران، جلد 3 ، صفحہ 633، دار الفکر بیروت)
بہار شریعت میں ہے:
”قران کے یہ معنی ہیں کہ حج و عمرہ دونوں کا احرام ایک ساتھ باندھے یا پہلے عمرہ کا احرام باندھا تھا اور ابھی طواف کے چار پھیرے نہ کیے تھے کہ حج کو شامل کرلیا یا پہلے حج کا احرام باندھا تھا اُس کے ساتھ عمُرہ بھی شامل کرلیا، خواہ طوافِ قدوم سے پہلے عمرہ شامل کیا یا بعد میں ۔ طوافِ قدوم سے پہلے اساء ت ہے کہ خلاف سنت ہے مگر دَم واجب نہیں اور طوافِ قدوم کے بعد شامل کیا تو واجب ہے کہ عمرہ توڑ دے اور دَم دے اور عمرہ کی قضا کرے اور عمرہ نہ توڑا جب بھی دَم دینا واجب ہے ۔“ (بہار شریعت، جلد 1 ،حصہ 6، صفحہ 1162 ، مکتبہ المدینہ کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
07 ذی الحجہ 1445ھ13 جون 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری