خریدنے کے بعد چیز خراب نکلے تو شرعی حکم

خریدنے کے بعد چیز خراب نکلے تو شرعی حکم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اشیاء خوردونوش (grocery items) اور دیگر چیزیں خریدنے کے بعد خراب نکلیں تو کیا اسے واپس کرسکتے ہیں ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق جو چیز قیمت میں کمی کا باعث ہو وہ عیب ہے۔ اب اس خراب چیز کی دو صورتیں ہیں کہ اگر بالکل خراب ہے تو پوری قیمت واپس لی جائے گی اور دوکاندار پر یہ قیمت واپس دینا لازم ہے۔ اگر مکمل خراب نہیں کچھ خراب ہے یا جانوروں کے کھانے میں استعمال ہوسکتی ہے تو اب مکمل قیمت واپس نہیں لے سکتے بلکہ قیمت کی جتنی کمی آئی ہے دوکاندار سے اتنی قیمت واپس لے سکتے ہیں۔

تفصیل یہ ہے کہ وہ اشیاء جو خراب ہونے کے بعد قابل انتفاع نہ رہیں جیسے ڈبے کا دودھ ، ڈبے کا جوس، انڈا ، وغیرہ،تو اس میں کل رقم اس لیے واپس لے سکتے ہیں کہ یہ مال نہیں ہے اور بیع باطل ہے۔

وہ اشیاء جیسے کھیڑا ،اخروٹ ،بادام یا دیگر پھل اور سبزیاں اگر یہ خراب ہونے کے باوجود اس لائق ہے کہ انہیں جانوروں کو کھلایا جاسکتا ہے تو انہیں واپس نہیں کرسکتے اورنقصان لے سکتے ہیں البتہ اگر دوکاندار اپنی خوشی سے چیز واپس لے کر مکمل رقم یا نئی چیز لوٹا دے تو وہ بھی درست ہے۔

اگر اسے چکھا اور عیب معلوم ہونے کے بعد کچھ نہ کھایا تو اس صورت میں بھی نقصان لے سکتا ہے اور اگر کاٹنے سے پہلے عیب معلوم ہو جائے تو اسی صورت میں واپس کردے اب کاٹے گا یا توڑے گا تو نہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

’’ كل ما يوجب نقصانا في الثمن في عادة التجار فهو عيب ‘‘

ترجمہ: ہر وہ چیز جو تاجروں کے ہاں ثمن (قیمت)میں کمی کاباعث بنے،وہ عیب ہے۔(فتاوی عالمگیری،کتاب البیوع،جلد3،صفحہ72،مطبوعہ کراچی )

جد الممتار میں ہے:

’’ وقد ذكر في ’’ الهندية‘‘عن ’’الخانية‘‘ في مسألة شراء الفضة على أنها زخم دار، فإذا هي غير زخم دار؛ أن فوات المشروط بمنزلة العيب فيتخير‘‘

یعنی بے شک ہندیہ میں قاضی خان سے نقل کیا،چاندی خریدی اس شرط پر کہ زخمدار ہو جبکہ وہ زخمدار نہیں تھی تو مشروط کا فوت ہونا عیب کے درجے میں ہے پس ( چیز واپس کرنے کا ) اسے اختیار دیا جائے گا ۔( جد الممتار ، جلد6،صفحہ55، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

رد المحتار میں ہے:

”شری نحوہ بیض وبطیخ کجوز وقثاء فکسرہ فوجدہ فاسدا ینتفع به ولو علفا للدواب فله وان لم یتناول منه شیئا بعد علمه بعیبه نقصانه الا اذا رضی البائع به ولو علم بعیبه قبل کسرہ فله ردہ وان لم ینتفع به أصلاً کل الثمن لیبطلان البیع ولو کان اکثرہ فاسدا جاز بحصته عندھما “

ترجمہ:کسی نے انڈوں یا خربوزوں کی طرح کی شے خریدی جیسے اخروٹ اور کھیرا پس اسے توڑا تو اسے اتنا خراب پایا کہ جس سے نفع حاصل کیا جاسکتا ہے اگرچہ وہ جانوروں کے چارہ کے طور پر ہو تو اس کے لیے نقصان کے ساتھ رجوع کرنا جائز ہے جبکہ اس کو اس کے عیب کا علم ہونے کے بعد اس چیز سے نہ کھایا ہو اور تو بقدر نقصان لے سکتا ہے ہاں اگر بائع مکمل رقم واپس دینے پر اضی ہے تو درست ہے۔ اگر اسے توڑنے سے پہلے اس کے عیب کا علم ہو جائے تو اس کے لیے واپس لوٹانا جائز ہے اور اگر اس سے نفع حاصل نہیں کیا جاسکتا تو اس کے لیے بیع باطل ہونے کے سبب سے کل قیمت ہوں گی اور اگر اس کا اکثر حصہ خراب ہو تو صاحبین کے نزدیک اس کے حصہ کے ساتھ رجوع کرنا جائز ہے۔(ردالمختار ، کتاب البیوع ، باب خیار العیب، جلد 7، صفحہ 194، دار المعرفۃ بیروت)

ھدایہ میں ہے

”قال ومن اشتری بیضا او بطیخا او قثاء او خیارا او جوزا فکسرہ فوجدہ فاسدا فان لم ینتفع به رجع بالثمن کله لانه ليس بمال فكان البيع باطلا ولا يعتبر فی الجوز صلاح قشرہ علی ماقبل لان مالیته باعتبار اللب وان کان ینتفع به مع فسادہ لم یردہ“

ترجمہ:اور کہا کہ اگر کسی نے انڈا یا خربوزہ یا ککڑی یا کھیرا یا اخروٹ خریدا پھر اس کو توڑا اور خراب پایا پس اگر وہ قابل انتفاع نہ ہو تو مشتری پوری قیمت واپس لے لے کیونکہ یہ مال ہی نہیں ہے اس لیے بیع باطل ہوئی اور اخروٹ میں چھلکے کا اچھا ہونا معتبر نہیں ہے کیونکہ اخروٹ کی مالیت مغز کے اعتبار سے ہے اور اگر خرابی کے باوجود قابل انتفاع ہو تو اس کو واپس نہیں کرسکتا۔(ھدایہ ، کتاب البیوع ، جلد 6 ، صفحہ 129، مطبوعہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے:

”انڈا خریدا، توڑا تو گندہ نکلا، کل دام واپس ہونگے کہ وہ بیکار چیز ہے بیع کے قابل نہیں ہاں شتر مرغ کا انڈا جس میں چھلکا مقصود ہوتا ہے اکثر لوگ اُسے زینت کی غرض سے رکھتے ہیں اُس کی بیع باطل نہیں عیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ خربزہ۔ تر بوز ۔ کھیرا خریدااور کاٹا تو خراب نکلایا بادام، اخروٹ خریدا توڑنے پر معلوم ہوا کہ خراب ہے مگر باوجود خرابی کا م کے لائق ہے کم سے کم یہ کہ جانور ہی کے کھلانے میں کام آسکتا ہے تو واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے اور اگر بائع کٹے ہوئے یا ٹوٹے ہوئے کو واپس لینے پر تیار ہے تو واپس کردے نقصان نہیں لے سکتا۔ اور اگر عیب معلوم ہو جانے کے بعد کچھ بھی کھا لیا تو نقصان بھی نہیں لے سکتا ۔ اور اگر چکھا اور عیب معلوم ہونے کے بعد چھوڑدیا کچھ نہ کھایا تو نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر کاٹنے توڑنے سے پہلے ہی مشتری کو عیب معلوم ہوگیا تو اُسی حالت میں واپس کردے کاٹے توڑے گا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر کاٹنے توڑنے کے بعد معلوم ہواکہ یہ چیزیں بالکل بیکار ہیں مثلاً کھیرا کڑو اہے یا بادام۔ اخروٹ میں گری نہیں ہے۔ تر بز یا خربزہ سٹرا ہوا ہے تو پورے دام واپس لے بیع باطل ہے۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 11، صفحہ 689، مکتبہ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

30 شوال المکرم 1445ھ09 مئی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

موضوع: گدھی کے دودھ کا پنیر(Cheese)

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آجکل گدھی کے دودھ سے تیار کیا ہوا پنیر cheese ملتا ہے، جس کے ساتھ بکری کا دودھ بھی شامل ہوتا ہے مگر گدھی کے دودھ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو اس کو استعمال کرنے کا کیا حکم ہے؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق گدھی کا دودھ پینا حلال نہیں ہے تو جب یہ حلال نہیں ہے تو اس سے بنائی گئی چیزوں کا کھانا و پینابھی حرام و ناجائز ہے چاہے پنیر ہو یا کوئی بھی اور شے ہو ۔

فتاوٰی عالمگیری میں ہے

” وأما الحمار الأهلي فلحمه حرام ، وكذلك لبنه وشحمه “

یعنی پالتو گدھے کا گوشت حرام ہے، اسی طرح گدھی کا دودھ اور چربی بھی حرام ہے۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الذبائح، ج 05، ص 290، مطبوعہ پشاور)

ملتقی الابحرمیں ہے

’’ولایحل شرب لبن الاتان ‘‘

یعنی گدھی کادودھ پیناحلال نہیں ہے ۔(مجمع الانھر،جلد4، صفحہ181،دارالکتب العلمیہ بیروت)

در محتار میں ہے:

”ما حرم لبسہ و شربہ حرم الباسہ و اشرابہ“

یعنی جس کا پہننا اور پینا حرام ہے اس کا پہنانا اور پلانا بھی حرام ہے ۔(در محتار، جلد09، صفحہ 522، مطبوعہ: ملتان)

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

” تكره ألبان الأتان للمريض وغيره وكذلك لحومها وكذلك التداوي بكل حرام كذا في فتاوى قاضي خان۔یعنی گدھی کا دودھ اور گوشت مرض وغیرہ کسی بھی حالت میں استعمال کرنا مکروہ و ممنوع ہے، یونہی تمام حرام چیزوں سے علاج ممنوع ہے۔ “ (فتاوٰی رضویہ، ج 23، ص 349-348، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوٰی مصطفویہ میں ہے:

” مادہ خر (گدھی کا) دودھ جائز نہیں، حرام میں شفاء نہیں ۔ “ (فتاوٰی مصطفویّہ، ص 511، شبّیر برادرز، لاہور)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

09ذی القعدہ 1445ھ17 مئی 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں