جس کے پاس فقط دو تولے سونا ہو اس پر قربانی

جس کے پاس فقط دو تولے سونا ہو اس پر قربانی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کیا جس عورت کے پاس دو تولے سونا ہو تو کیا اس پر بھی قربانی واجب ہوگی جبکہ اس کے پاس پیسے بھی نہ ہو؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

فی زمانہ جس عورت یا مرد کے پاس ایک تولہ سونا بھی ہے اس پر قربانی واجب ہوجائے گی کیونکہ قربانی کے دنوں ایک تولہ سونے کے ساتھ کچھ نہ کچھ پیسے ضرور ہوں گے یا حاجت سے زائد کوئی نہ کوئی چیز لازمی ہوگی۔ اصول یہ ہے کہ جو کوئی ساڑھے سات تولہ سونا یا باون تولہ چاندی کا مالک ہو یا سونا اور چاندی اگرچہ نصاب سے کم ہو مگر اس کے ساتھ کرنسی یا حاجت سے زائد چیز ملا کر اگر یہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جائے تواس پر قربانی واجب ہوگی اور مردوں کی طرح عورتوں پر بھی قربانی واجب ہے ۔اگر صاحب نصاب پر قربانی کرنے کے پیسے نہیں ہیں تو اسے چاہیے کہ یا تو اپنا سونا وغیرہ بیچے یا قرض لے کر قربانی کرے بہر صورت قربانی کرنا ہوگی۔اگر بالفرض کسی کے پاس فقط دو تولے بلکہ سات تولے سونا ہے اوراس کے ساتھ کوئی پیسہ یا کوئی فالتو چیز نہیں تو اب اس پر قربانی واجب نہ ہوگی۔

بدائع الصنائع میں ہے

”فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه و مالا يستغنی عنه “

ترجمہ: مالداری کااعتبارہوناضروری ہے اوروہ یہ ہے کہ اس کی ملکیت میں دوسو درہم(ساڑھے باون تولہ چاندی)یابیس دینار(ساڑھے سات تولہ سونا)ہوں یارہائش،خانہ داری کے سامان، کپڑے،خادم،گھوڑا،ہتھیاراوروہ اشیاء جن کے بغیرگزارہ نہ ہو،کے علاوہ کوئی ایسی چیزہو ، جواس(دوسودرہم یابیس دینار)کی قیمت کوپہنچتی ہو۔(بدائع الصنائع،کتاب التضحیۃ،ج4، ص196، مطبوعہ، کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے :

”جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کےسوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ، ان کے سوا جو چیزیں ہوں ، وہ حاجت سے زائدہیں۔“ (بہارِشریعت،ج3،ص333،مکتبۃالمدینہ،کراچی)

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

”قربانی واجب ہونے کے لئے صرف اتنا ضرور ہے کہ وہ ایام قربانی میں اپنی تمام اصل حاجتوں کے علاوہ ۵۶ روپیہ کے مال کا مالک ہو، چاہے وہ مال نقد ہو یا بیل بھینس یا کاشت۔ کاشتکار کے ہل بَیل اس کی حاجت اصلیہ میں داخل ہیں ، ان کا شمار نہ ہو۔۔۔اور جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں ، وہ چاہے قرض لے کر کرے یااپنا کچھ مال بیچے۔“(فتاوی رضویہ،ج20،ص370،رضافاونڈیشن،لاھور)

تبیین الحقائق میں ہے

”ويضم الذهب إلى الفضة بالقيمة فيكمل به النصاب لأن الكل جنس واحد“

ترجمہ:سونے کو چاندی کے ساتھ قیمت کے اعتبار سے ملاکر نصاب مکمل کیاجائے گا ، کیونکہ یہ آپس میں ہم جنس ہیں۔(تبیین الحقائق،کتاب الزکاۃ،باب زکاۃالمال،ج2،ص80،مطبوعہ، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے:

”قابلِ ضم وہی ہے ، جو خود نصاب نہیں ، پھر اگر یہ قابلیت ایک ہی طرف ہے ، جب تو طریقہ ضم آپ ہی متعین ہوگا ۔ کما سبق اور دونوں جانب ہے ، تو البتّہ یہ امر غور طلب ہوگا کہ اب ان میں کس کو کس سے تقویم کریں کہ دونوں صلاحیتِ ضم ر کھتے ہیں، اس میں کثرت و قلّت کی وجہ سے ترجیح نہ ہوگی کہ خواہی نخواہی قلیل ہی کو کثیر سے ضم کریں کثیر کو نہ کر یں کہ جب نصابیت نہیں تو قلیل و کثیر دونوں احتیاجِ تکمیل میں یکساں۔۔۔۔۔بلکہ حکم یہ ہوگا جو تقویم فقیروں کے لیے اَنفع ہو ، ا سے اختیار کریں، اگر سونے کو چاندی کرنے میں فقراء کا نفع زیادہ ہے تو وہی طریقہ برتیں اور چاندی کو سونا ٹھہراتے ہیں ، تو یہی ٹھہرائیں اور دونوں صورتیں نفع میں یکساں ، تو مزکی(زکوٰۃدینے والے) کو اختیار۔“(فتاوی رضویہ،ج10،ص116،رضافاونڈیشن،لاھور)

درمختارمیں ہے

”وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسارالذی يتعلق به )وجوب(صدقة الفطرلا الذكورة فتجب على الأنثى)“

یعنی قربانی واجب ہونے کی شرائط یہ ہیں:مسلمان ہونا،مقیم ہونا،ایسی مالداری ، جس سے صدقہ فطرواجب ہوتاہو۔مردہوناشرط نہیں لہذا عورت پربھی واجب ہے۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،کتاب الاضحیۃ،ج09، ص 520،مطبوعہ، کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے :

”مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں۔ عورتوں پر واجب ہوتی ہے ، جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے۔ “(بہارِشریعت،ج03،ص332، مکتبۃالدینہ،کراچی)

فتاوی رضویہ میں ہے:

’’جس پر قربانی ہےاور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں، وہ چاہے قرض لے کر کرے، یا اپنا کچھ مال بیچے۔“(فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 370، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وقار الفتاوی میں ہے:

’’جو صاحب نصاب ہے، اس پر قربانی واجب ہے، قربانی کرنے کے لئے اپنا سونا چاندی فروخت کرےیا قرض لے کر کرے، دونوں صورتوں میں سے کسی ایک پر عمل کرے۔‘‘(وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 470، مطبوعہ بزم وقار الدین، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

20 ذی القعدہ 1445ھ28 مئی 2024ء

نظر ثانی:

مفتی محمد انس رضاقادری

Salat While Sitting

اپنا تبصرہ بھیجیں