جس جانور کا کان یا دم کٹی ہو
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اگر جانور کا کان یا دُم کٹی ہوئی ہو تو کیا ایسے جانور کی قربانی درست ہے؟
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب
صورتِ مسئولہ میں اگر جانور کا کان یا دُم ایک تہائی یا اس سے کم کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے اگرچہ مکروہ تنزیہی ہے۔ اگر ان میں کوئی عضو ایک تہائی سے زائد کٹا ہوا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
”وفي الجامع: أنه إذا کان ذهب الثلث أو أقلّ جاز، و إن کان أکثر لایجوز، و الصحیح أنّ الثلث وما دونه قلیل، وما زاد علیه کثیر، وعلیه الفتوی، کذا فی فتاوی قاضی خان“
ترجمہ: اور جامع میں ہے جب تہائی یا اس سے کم عضو کٹا ہو تو قربانی جائز ہے اور اس سے زیادہ ہو تو جائز نہیں اور صحیح قول یہ ہے کہ تہائی یا اس سے کم قلیل ہے اور اس سے زائد کثیر ہے اسی پر فتوی ہے، اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، كتاب الاضحية، الباب الخامس، ج5، ص298، دار الفكر بیروت)
بہارِ شریعت میں ہے:
”کان یا دم یا چکی تہائی یا اس سے کم کٹی ہو ،تو(قربانی)جائز ہے۔“
مزید اسی میں ہے:
”قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہئے اور تھوڑا سا عیب ہو ،تو قربانی ہوجائے گی ،مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں۔“(بہار شریعت، جلد3،حصہ 15،صفحہ 341 و 340، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
واللہ تعالیٰ اعلم و رسولہ اعلم باالصواب
صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم
کتبہ
ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری
1ذوالحج 1445ھ
8جون2024ء ہفتہ
نظر ثانی:
ابو احمد مفتی انس رضا قادری