ایک طلاق کے بعد عدت ہی میں مزید نوٹس طلاق

ایک طلاق کے بعد عدت ہی میں مزید نوٹس طلاق

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارے میں کہ فروا نعیم بنت ماسٹر محمد نعیم کی شادی 2020 میں طارق محمود بن محمد بشیر کے ساتھ ہوئی، ان کے ہاں ایک بیٹا بھی پیدا ہوا۔ حال ہی میں فریقین کے مابین اختلافات شدید سے شدید تر ہو گئے جس کے نتیجے میں سخت جھگڑا ہوا اور طارق محمود نے اپنی منکوحہ فروا نعیم کو ایک طلاق کا نوٹس بھیج دیا جو کہ اسے موصول ہو گیا۔ اب طارق محمود اس سے رجوع کرنا چاہتا ہے مگر معلوم ہوا ہے کہ اس نے دوسری اور تیسری طلاق کا نوٹس بھی لکھوا لیا تھا جو کہ اسی کے پاس ہے، ابھی تک اس نے وہ اپنی منکوحہ کو بھیجا نہیں۔ فروا نعیم کو موصول ہونے والا پہلا نوٹس اور طارق محمود کے پاس موجود دوسری اور تیسری طلاق کا نوٹس استفتا کے ساتھ منسلک ہے۔ براہِ کرم! شرعی رہنمائی فرما دیں کہ کیا اب فریقین کے درمیان رجوع ہو سکتا ہے یا نہیں؟ نیز دونوں کے لیے شریعت کیا حکم فرماتی ہے؟سائل: اسید رضا عطاری (اسپین)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

صورت مستفسرہ میں فروا نعیم اور طارق محمود کے درمیان تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں، لہذا اب رجوع نہیں ہو سکتا کہ یہ دونوں ایک دوسرے پر حرام ہو چکے ہیں۔

تفصیل اس مسئلہ کی یوں ہے:

اللہ سبحانہ وتعالی نے نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں دی ہے، اس کا کھول دینا ”طلاق“ ہے یعنی طلاق کا حق مرد کو ہے۔ جب اپنا حق استعمال کرتے ہوئے طلاق دے گا واقع ہو جائے گی بشرطیکہ شرعا کوئی مانع نہ ہو۔ اس کے لیے عورت کے طلاق کے الفاظ سننے یا اس کو علم ہونے یا تحریر پہنچنے کی کوئی شرط نہیں جب تک مرد خود نہ لگائے۔ پس جب طارق محمود نے پہلی طلاق کا نوٹس بھجوایا تو فروا نعیم پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی اور عدت شروع ہوگئی۔ پھر فروا نعیم کی عدت کے دوران ہی طارق محمود نے جب دوسری اور تیسری طلاق کا نوٹس لکھوایا، بلکہ گواہوں کے سامنے اس پر دستخط بھی کر دئیے، تو دوسری اور تیسری طلاق بھی واقع ہو گئی کیونکہ دوران عدت دی جانے والی طلاق پہلے والی کے ساتھ لاحق ہو جاتی ہے۔ لہذا فروا نعیم طارق محمود پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو گئی کہ اب بغیر حلالہ شرعیہ کے اکٹھا ہونا بلاشبہہ خالص زنا، حرام اور سخت گناہ ہے۔ فروا نعیم اپنی عدت پوری کرے اور پھر سابق شوہر طارق محمود کے علاوہ جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔

واضح رہے! اکٹھی ایک سے زائد طلاقیں دینا گناہ ہے، اور طارق محمود نے بیک وقت دو طلاقیں لکھوائیں لہذا گناہ کا مرتکب ہونے کی وجہ سے اس پر توبہ لازم ہے۔

اللہ پاک کا فرمان عظیم ہے:

﴿الَّذِیْ بِیَدِهٖ عُقْدَةُ النِّكَاحِ﴾

ترجمہ کنزالعرفان: جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔(پاره نمر 2، سورة البقرة 2 ، آیت نمبر 237)

حدیث مبارکہ میں ہے:

”أخرج ابن جرير وابن أبي حاتم والطبراني في الأوسط والبيهقي بسند حسن عن ابن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم قال الذي بيده عقدة النكاح: الزوج“

ترجمہ: ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اور علامہ طبرانی نے اوسط میں اور علامہ بیہقی نے سندِ حسن کے ساتھ حضرت سیدنا ابن عمر ﷜سے روایت کی کہ نبی مکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، وہ شوہر ہے۔(الدر المنثور، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 699، مطبوعه: دار الفکر، بیروت)

تفسیر نور العرفان میں ہے:

”(مذکورہ بالا آیت کریمہ سے)معلوم ہوا کہ نکاح کی گرہ مرد کے ہاتھ میں رکھی گئی ہے، طلاق کا اس کو ہی حق ہے عورت کو نہیں۔“(تفسیر نور العرفان، صفحه نمبر 60، مطبوعه: فرید بکڈپو لمٹیڈ، دہلی)

علامہ برہان الدین ابو المعالی محمود بن احمد الحنفی ﷫ (المتوفى: 616ھ/ت1219ء) فرماتے ہیں:

”ان الزوج ينفرد بايقاع الطلاق الثلاث ولا يتوقف ذلك على علم المراة “

ترجمہ: شوہر تین طلاقیں واقع کرنے میں منفرد ہے اور طلاق کا واقع ہونا عورت کو معلوم ہونے پر موقوف نہیں۔ (المحیط البرھانی، کتاب العتاق، جلد نمبر4،صفحہ نمبر 50،مطبوعہ: دار الكتب العلمية)

علامہ شیخ سید محمد ابو سعود المصری الازہری الحنفی﷫ (المتوفی: 1176ھ/1762ء) لکھتے ہیں:

”ان الزوج یستقل بالطلاق کاستقلال المولی بالعتاق من غیر ان یکون لها علم بذلك“

ترجمہ: جیسے آقا اپنے غلام کوآزاد کرنے میں مستقل ہے ایسے ہی شوہر طلاق کے معاملے میں مستقل ہے، بغیر اس کے کہ عورت کو طلاق کا علم ہو۔ (فتح اللہ المعین علی شرح ملا مسکین للکنز، جلد نمبر2،صفحہ نمبر 608، کراچی)

شیخ الإسلام والمسلمین امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان﷫ (المتوفی: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:

”اگر واقع میں اس شخص نے یہ خط آپ کو لکھا یا دوسرے کو عبارت مذکورہ بتاکر لکھوایا کہ میری عورت کی نسبت یہ الفاظ لکھ دے ، تو جس وقت اس کے قلم یا زبان سے یہ لفظ نکلے، اسی وقت سے عورت پر ایک طلاق پڑ گئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار ہوگا اگرچہ یہ خط بڑودہ ( سوال میں مذکور جگہ کا نام ) نہ پہنچتا یا وہ خود ہی لکھ کر نہ بھیجتا یا مکتوب الہیم ( جن کی طرف خط لکھا گیا ) عورت کو نہ سُناتے کہ جو الفاظِ طلاق لکھے یا بتائے جب ان میں کوئی شرط نہیں کہ یہ خط جب پہنچے یا سنایا جائے ، اس وقت طلاق ہو، تو ان کا لکھنا یا بتانا ہی طلاق کا موجب ہوگیا ۔ بھیجنے ، پہنچنے ، سنانے پر توقف نہ رہا۔“(فتاوی رضویہ،جلد نمبر12،صفحہ نمبر447، مطبوعه: رضافاؤنڈیشن،لاھور)

صحیح بخاری شریف میں ہے:

”كان ابن عمر إذا ‌سئل ‌عمن ‌طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك“

ترجمہ: حضرت ابن عمر ﷠ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تھی، تو آپ ﷠نے فرمایا: اگر تو نے ایک یا دو طلاقیں دی ہوتی تو رجوع ہو سکتا تھا کیونکہ حضور اکرم سرور عالم ﷺ نے مجھے اسی طرح کا حکم فرمایا تھا، اور جبکہ تو نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں تو تیری بیوی (تجھ پر) حرام ہو چکی ہے جب تک کہ وہ تیرے علاوہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے ۔ (صحيح البخاري، كتاب الطلاق، جلد نمبر 5، صفحہ نمبر 2015، مطبوعه: دار ابن كثير، دمشق)

فقیہ اعظم اعلی حضرت امام احمد رضا خان﷫ (المتوفی: 1340ھ/1921ء) جد الممتار میں فرماتے ہیں:

”اختلفوا فيما لو أمر الزوج بكتابة الصكّ بطلاقها فقيل: يقع وهو إقرارٌ به، وقيل: هو توكيل فلا يقع حتّى يكتب، وبه يفتَى وهو الصحيح في زماننا “

ترجمہ: اس معاملے میں علمائے کرام کا اختلاف ہوا کہ اگر شوہر اپنی عورت کی طلاق کا دستاویز لکھنے کا حکم دے تو ایک قول یہ ہے کہ طلاق واقع ہو جائے گی اور اس کا یہ کہنا ہی طلاق کا اقرار ہوگا۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ کہنا توکیل ہے لہذا جب تک کاتب لکھ نہ دے طلاق واقع نہ ہوگی، یہ مفتی بہ قول ہے اور یہی ہمارے زمانے میں صحیح ہے۔(جدالممتار ،کتاب الطلاق،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، جلد نمبر 5،صفحه نمبر 12، مطبوعه: مکتبۃ المدینہ،کراچی)

مزید ایک مقام پر لکھتے ہیں:

”ثمّ قد شاع في بلادنا أنّ أحدهم إذا أراد أن يطلّق امرأته دعا الصكّاك وأمره أن يكتب طلاق امرأته ثلاثاً مثلاً فيعظه الناس ويستنزلونه عن الثلاث فيقول سمعاً: اكتب طلاقين وهكذا، وكلّ ذلك دليل قاطع على أنّهم لا يرون بالأمر إلّا التوكيل ولا يفهمون منه الإقرار أصلاً، فوجب التعويل على ما في القنية والأشباه وهو المصحّح المفتَى به“

ترجمہ: یہ چیز ہمارے بلاد میں عام رائج ہے کہ جب کوئی اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرتا ہے تو دستاویز نویس (اسٹام فروش) کو بلاتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ وہ اس کی بیوی کو مثلا تین طلاقیں لکھ دے پھر لوگ اسے سمجھاتے ہیں اور تین طلاقوں سے نیچے لاتے ہیں تو ان کی بات سن کر وہ کہتا ہے کہ چلو دو طلاقیں ہی لکھ دو۔ یہ سب اس بات پر قطعی دلیل ہے کہ طلاق کا حکم دینے سے لوگوں کی مراد محض توکیل (وکیل بنانا) ہی ہوتی ہے اور اس سے اصلاً طلاق کا اقرار نہیں سمجھتے، پس جو قول القنیہ اور الاشباہ میں ہے اسی پر اعتماد کرنا واجب ہوا، اور یہی قول تصحیح شدہ اور مفتی بہ ہے۔ (جدالممتار ،کتاب الطلاق،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ، جلد نمبر 5،صفحه نمبر 22، مطبوعه: مکتبۃ المدینہ،کراچی)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی ﷫ (المتوفی: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں:

”صریح صریح کو لاحق ہوتی ہے یعنی پہلے صریح لفظوں سے طلاق دی پھر عدت کے اندر دوسری مرتبہ طلاق کے صریح لفظ کہے تو اس سے دوسری واقع ہوگی۔ یوہیں بائن کے بعد بھی صریح لفظ سے واقع کر سکتا ہے جبکہ عورت عدت میں ہو اور صریح سے مراد یہاں وہ ہے جس میں نیت کی ضرورت نہ ہو اگرچہ اُس سے طلاق بائن پڑے اور عدّت میں صریح کے بعد بائن طلاق دے سکتا ہے۔“ (بہار شریعت، جلد نمبر 2، حصہ نمبر 8،صفحه نمبر 131، مطبوعه: مکتبة المدینہ، کراچی)

فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی ﷫ (المتوفی: 1423ھ/2001ء) لکھتے ہیں:”محمد نسیم(مرد) نے جس وقت میاں صاحب (کاتب) سے اپنی بیوی کے بارے میں تین طلاقیں لکھوائیں اسی وقت اس کی بیوی ابرالنساء پر طلاق مغلظہ واقع ہوگئی کہ اب بغیر حلالہ ابرالنساء (عورت) محمد نسیم (مرد)کے لیے حلال نہیں۔“

(فتاوی فیض الرسول، جلد نمبر 2، صفحه نمبر 128، مطبوعه: اکبر بک سیلرز لاہور)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان﷫ (المتوفی: 1340ھ/1921ء) فتاوی رضویہ میں لکھتے ہیں:

”(طلاق واقع ہو جانے کے بعد)وہ صحبت زنا ہوگی اور اسے اگر مسئلہ معلوم ہے تويہ زانی اور شرعا سزائے زنا کا مستحق اور اولاد ولدالزنا اور ترکہ (وراثت)پدری سے محروم۔“ (فتاوٰی رضويہ ،جلد نمبر12،صفحہ نمبر389، مطبوعه: رضا فاؤنڈيشن،لاہور)

حدیث پاک کی معتبر کتاب مؤطا امام مالک میں ہے:

”أن رجلا قال لعبد الله بن عباس إني ‌طلقت ‌امرأتي مائة تطليقة فماذا ترى علي؟ فقال له ابن عباس: طلقت منك لثلاث، وسبع وتسعون اتخذت بها آيات الله هزوا“

ترجمہ: ایک شخص نے صحابئ رسول حضرت عبداﷲ ابن عباس ﷠سے عرض کی کہ میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دے دیں، آپ مجھ پر کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ تو حضرت ابن عباس ﷠ نے فرمایا: تیری بیوی تین طلاقوں کے ساتھ ہی تجھ سے مطلقہ ہوچکی اور ستانویں طلاقوں کے ذریعے تو نے اﷲ ﷯ کی آیتوں کا مذاق بنایا ۔(موطا امام مالك، جلد نمبر 2، صفحہ نمبر 550، مطبوعہ: دار احیاء التراث العربی بیروت)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ﷫ (المتوفی: 1391ھ/1971ء) اس حدیثِ پاک کے تحت مرآۃ المناجیح میں لکھتے ہیں:

” اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک دم تین طلاقیں تین ہی واقع ہوں گی اور اگر کوئی شخص ہزار یا لاکھ طلاقیں دے دے تو تین تو واقع ہو جائیں گی باقی لغو جائیں گی یہ ہی علماء امت کا قول ہے اس پر تمام آئمہ متفق ہیں۔“(مرآۃ المناجیح، خلع اور طلاق کا بیان، جلد نمبر 5، صفحہ نمبر 133، مطبوعہ: نعیمی کتب خانہ گجرات)

علامہ عبد الرحمن بن محمد شیخی زاده داماد افندی ﷫ (المتوفى: 1078ھ/1667ء) لکھتے ہیں:

”(وبدعيه) أي بدعي الطلاق عددا (تطليقها ثلاثا، أو ثنتين بكلمة واحدة) مثل أن يقول أنت طالق ثلاثا، أو ثنتين وهو حرام حرمة غليظة وكان عاصيا لكن إذا فعل بانت منه“

ترجمہ: اور طلاق میں عدد کے اعتبار سے بدعی یہ ہے کہ ایک ہی کلمے کے ساتھ اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دینا یا (اکٹھی) دو طلاقیں دینا، مثال کے طور پر یہ کہنا کہ تجھے تین طلاقیں ہیں یا دو طلاقیں ہیں، اور یہ (اکٹھی ایک سے زیادہ طلاقیں دینا) سخت حرام ہے اور ایسا کرنے والا گنہگار ہو گا لیکن جب کوئی ایسا کرے تو اس کی عورت اس سے جدا ہو جائے گی (یعنی یہ طلاقیں واقع ہو جائیں گی)۔(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر، کتاب الطلاق، جلد نمبر 1، صفحه نمبر 382، مطبوعه: دار إحياء التراث العربي، بیروت)

و اللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبــــــــــــــــــــــــــــہ

مولانا احمد رضا عطاری حنفی

25 ذو القعدۃ الحرام 1445ھ / 3 جون 2024ء

نظرثانی:

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں