اجتماعی قربانی میں گوشت کی تقسیم

اجتماعی قربانی میں گوشت کی تقسیم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ اجتماعی قربانی میں کس طرح گوشت تقسیم کیا جائے ؟ کیا اجتماعی قربانی میں گائے کے سات حصہ ہونا ضروری ہے یا اس سے کم اور زیادہ بھی ہوسکتے ہیں؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب

صورت مسئولہ کے مطابق قربانی کا جانور سب شرکاء میں مشترک ہے اور اس کا گوشت بھی مشترک ہے ۔ اگر تقسیم کرتے وقت کم یا زیادہ لیں تو یہ جائز نہیں ،اسی طرح اگر اندازے سے گوشت تقسیم کیا جائے گا تو بھی حرام ہوگا ۔لہذا قربانی کا گوشت تمام شرکاء کے درمیان وزن کرکے برابر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے اور اگر گوشت کو اندازے سے تقسیم کرنا ہوتو اس گوشت کے ساتھ کلیجی یا کھال وغیرہ ملادی جائے تاکہ جنس مختلف ہونے کی صورت میں اگر کمی وزیادتی ہو بھی گئی تب بھی درست ہوگا۔

بڑے جانور یعنی گائے اور اونٹ میں زیادہ سے زیادہ سات افراد شریک ہوسکتے ہیں اور شریک سات سے کم ہوسکتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ کسی بھی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور اگر قربانی میں سات سے زائد افراد شامل ہوگئے تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی یونہی کسی کا حصہ ساتویں سے حصے سے کم ہے تو بھی کسی کی قربانی نہ ہوگی۔

فتاوی قاضی خان میں ہے

”سبعة ضحوا بقرۃ و اقتسموا لحمھا وزنا جاز ، لان بیع اللحم باللحم وزنا مثلا بمثل جاز و کذالک القسمة فإن اقتسموا اللحم جزافا لا يجوز اعتبارا بالبيع، ولو انهم اقسموا لحمھا جزافا وحلل كل واحد منهم لاصحابه الفضل لايحوز “

ترجمہ:سات شخصوں نے ایک گائے قربان کی اور اس کا گوشت آپس میں وزن کرکے تقسیم کیا تو یہ جائز ہے کیونکہ گوشت کو گوشت کے بدلے برابر برابر بیچنا جائز ہے اور یہی حکم تقسیم کرنے کا ہے، اگر انہوں نے آپس میں گوشت اندازاً تقسیم کیا تو جائز نہیں ہے بیع کا اعتبار کرتے ہوئے، اور اگر انہوں نے گوشت اندازے سے تقسیم کیا اور ان میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھیوں کو زیادتی معاف بھی کر دی تو بھی جائز نہیں ہے ۔(فتاوی قاضی خان، کتاب الاضحیۃ، جلد 3 صفحہ ،237,238 مطبوعہ دارالکتب العلمیہ)

رد المحتار میں ہے

”(قوله لا جزافا) لأن القسمة فيها معنى المبادلة، ولو حلل بعضهم بعضا قال في البدائع: أما عدم جواز القسمة مجازفة فلأن فيها معنى التمليك واللحم من أموال الربا فلا يجوز تمليكه مجازفة وأما عدم جواز التحليل فلأن الربا لا يحتمل الحل بالتحليل، ولأنه في معنى الهبة وهبة المشاع فيما يحتمل القسمة لا تصح اهـ وبه ظهر أن عدم الجواز بمعنى أنه لا يصح ولا يحل لفساد المبادلة “

ترجمہ:اور صاحب در مختار کا قول کہ ”اندازے سے گوشت کو تقسیم نہ کیا جائے گا“ اس کی وجہ یہ ہے کیونکہ تقسیم کرنے میں مبادلہ(بیع) کا معنی پایا جارہا ہے اور اگرچہ وہ ایک دوسرے کے لئے جائز قرار دے دیں۔اور البدائع میں (اس کے عدم جواز کی علت) یہ لکھی ہے کہ اس میں مالک بنانے کا معنی پایا جاتا ہے اور گوشت اموال ربا میں سے ہے تو اس کو اندازے سے مالک بنانا جائز نہیں ہے۔اگر وہ کمی و زیادتی کو ایک دوسرے کےلیے جائز کردیں پھر بھی جائز نہیں ہے اور کیونکہ ربا حیلے کے ذریعے حلال ہونے کا احتمال نہیں رکھتا اور کیونکہ اس میں ہبہ کے معنی پائے جاتے ہیں اور ایسی مشترک چیز جو تقسیم ہو سکتی ہو اس کا ہبہ کرنا جائز ہی نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عدم جواز اس معنی میں ہے کہ یہ جائز و درست نہیں ہے مبادلۃ المال بالمال کی وجہ سے۔(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد6 ص317، دارالفکر البیروت).

بہار شریعت میں ہے:

”اگر مشترک جانور ہے جیسے گائے اونٹ تو وزن سے گوشت تقسیم کیا جائے محض تخمینہ سے تقسیم نہ کریں۔“(بہار شریعت، جلد 3 ، حصہ 15، صفحہ 354، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وقار الفتاوی میں ہے

”:قربانی کا جانور سب شرکاء میں مشترک ہے اوراس کا گوشت بھی مشترک ہے تقسیم کرتے وقت کم یا زیادہ لیں تو گوشت کو گوشت سے بدلنا ہے اور اس میں زیادتی حرام ہے اور اگر اندازے سے تقسیم کریں اور وزن نہ کریں تو کمی یا زیادتی کا شبہ ہے اس لئے یہ بھی حرام ہے تول کر برابر تقسیم کرنا ضروری ہے۔“(وقار الفتاوی، کتاب الاضحیہ ، جلد 2، ص 472، مطبوعہ بزم وقار الدین)

الدر المختار میں ہے :

” ويقسم اللحم وزنا لا جزافا إلا إذا ضم معه من الاكارع أو الجلد) صرفا للجنس لخلاف جنسه“

ترجمہ:اور گوشت کو وزن کرکے تقسیم کیا جائے نہ کہ اندازے سے مگر یہ کہ اس گوشت کے ساتھ کلیجی یا کھال وغیرہ ملا دی جائے ایک جنس کو دوسری جنس کی طرف پھرنے کی وجہ سے۔(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد6 ص319، دارالفکر البیروت)

سنن نسائی میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں

” أن رسول اللهِ صلى الله عليه وسلم نحر البدنة عن سبعة“

ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو سات (افراد) کی طرف سے ذبح فرمایا۔(السنن النسائی ، جلد 4 صفحہ 202 ، مطبوعہ کراچی)

مبسوط سرخسی میں ہے

”اسم البدنة ۔۔۔۔۔۔۔یتناول البقرة والجزور“

ترجمہ:بدنہ کا نام گائے اور اونٹ دونوں کو شامل ہے۔(المبسوط ، جلد 4 صفحہ 136 ، دار الکتب العلمیہ بیروت)

در مختار میں ہے:

”تجب شاۃ أو سبع بدنۃ ھی الإبل و البقر، و لو لأحدھم أقل من سبع لم یجز عن أحد، و تجزی عما دون سبعۃ بالأولی“

ترجمہ : ایک بکری یا بڑے جانور جیسے اونٹ اور گائے کا ساتواں حصہ واجب ہے اور اگر ان میں سے کسی ایک کا ساتویں حصے سے کم ہو ورنہ کسی ایک کی طرف سے بھی جائز نہیں ہو گی اور اگر شریک سات سے کم ہیں، تو قربانی بدرجہ ٔ اولیٰ جائز ہے۔(ردالمحتار، کتاب الاضحیۃ، جلد6 ص322، دارالفکر البیروت)

تحفة الفقهاء میں ہے

”والابل والبقر یجوز من سبعة نفر“

ترجمہ:اونٹ اور گائے(کی قربانی) سات افراد کی طرف سے جائز ہے۔( تحفة الفقهاء، جلد 3 صفحہ 85، دار احیاء التراث العربی بیروت)

فتاویٰ رضویہ میں ہے :

”گائے یا اونٹ میں دو سے سات تک شریک ہوسکتے ہیں۔“(فتاوی رضویہ ، جلد 20 ،ص450، رضا فائونڈیشن لاہور)

بہار شریعت میں ہے :

’’جب قربانی کی شرائط مذکور ہ پائی جائیں تو بکری کا ذبح کرنا یا اونٹ یاگائے کا ساتواں حصہ واجب ہے ،ساتویں حصہ سے کم نہیں ہو سکتا، بلکہ اونٹ یا گائے کے شرکاء میں اگر کسی شریک کا ساتویں حصہ سے کم ہے، تو کسی کی قربانی نہیں ہوئی۔۔گائے یا اونٹ میں ساتویں حصہ سے زیادہ کی قربانی ہو سکتی ہے، مثلا:گائے کو چھ یا پانچ یا چار شخصوں کی طرف سے قربانی کریں ،ہو سکتا ہے اور یہ ضرورنہیں کہ سب شرکاء کے حصے برابر ہوں ، بلکہ کم و بیش بھی ہوسکتے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ جس کا حصہ کم ہے، تو ساتویں حصہ سے کم نہ ہو۔“(بہار شریعت ،جلد3 ،حصہ15، صفحہ335،مکتبۃ المدینہ، کراچی)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ممبر فقہ کورس

25 ذی القعدہ 1445ھ01 جون 2024ء

نظر ثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں