اجتماعی قربانی میں اندازے سے گوشت تقسیم کرنا

اجتماعی قربانی میں اندازے سے گوشت تقسیم کرنا

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک جانور میں شریک افراد کے درمیان قربانی کاگوشت اندازے سے یاماپ کرتقسیم کرناکیساہے ؟

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

قربانی کے جانور میں شریک افراد کے درمیان گوشت کواندازے سے یاماپ کرتقسیم کرناجائزنہیں بلکہ وزن کرکے تقسیم کیا جائےگا اسلیے کہ یہ موزونی ہے ہاں اگر گوشت کے ساتھ کوئی اور چیزملالی جائے جیسے پائے،کلیجی وغیرہ تو اب اندازے سے تقسیم جائز ہوجائے گی خلاف جنس کے ساتھ ملنے کی وجہ سے ۔یہ یاد رہے کہ اندازسے سے تقسیم کرنے میں ایک کادوسرے کومعاف کردینے سے بھی معاف نہ ہوگا کہ حق شرع ہے ۔

ھدایہ میں ہے

”فقسمۃ اللحم بالوزن لانہ موزون ولواقتسمواجزافالایجوزالااذاکان معہ شئی من الکارع والجلد اعتبارابالبیع“

ترجمہ: پس گوشت کی تقسیم وزن کے ساتھ ہوگی اسلیے کہ یہ وزنی چیزہے اگراندازے سے تقسیم کیا تو جائز نہ ہوگامگراسکے ساتھ کوئی چیزپائے اورجلدوغیرہ میں سے ملادی جائے،بیع کے اعتبار سے ۔(الھدایۃ کتاب الاضحیۃ جلد٤صفحہ ٤٤٥مکتبہ رحمانیہ )

ردالمختار علی درمحتار میں ہے

” (ویقسم اللحم وزنالاجزافاالااذاضم معہ من الاکارع اوالجلد) صرفاللجنس لخلاف جنسہ “

ترجمہ گوشت کووزن کرکے تقسیم کیاجائےگانہ کہ اندازے سے مگرجب اسکے ساتھ پائے اورجلد ملادی جائے توجائزہوگاجنس کاخلاف جنس کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے۔(ردالمحتار علی درالمختار جلد ٩صفحہ ٥٢٨مکتبہ حقانیہ پشاور )

اور مفتی امجدعلی اعظمی بہار شریعت میں فرماتے ہیں ہیں:

”شرکت میں گائےکی قربانی ہوئی توضرور ہے کہ گوشت وزن کرکے تقسیم کیاجائے اندازے سے تقسیم نہ ہوکیونکہ ہوسکتاہے کہ کسی کوزائدیاکم ملے اور یہ ناجائز ہے یہاں یہ خیال نہ کیاجائےکہ کم وبیش ہوگاتوہرایک اس کودوسرے کے لیے جائزکردے گاکہ دے گاکہ اگرکسی کوزائد پہنچ گیاہے تومعاف کیاکہ یہاں عدم جوازحق شرع ہےاوران کواس کے معاف کرنے کاحق نہیں ۔“(بہارشریعت حصہ ١٥ قربانی کابیان صفحہ ٨٤)

واللہ اعلم بالصواب

کتبہ نبیل احمد

١٣مئی ٢٠٢٤

نظرثانی :

مفتی محمد انس رضا قادری

اپنا تبصرہ بھیجیں