آرڈر پر فرنیچر بنوانا اور بعد میں پسند نہ آنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ آرڈر پر فرنیچر اور دیگر اشیاء بنوانے کا کیا حکم ہے اور اگر دیکھنے کے بعد پسند نہ آئے تو کیا شرعا واپس کرسکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایہ الحق والصواب
صورت مسئولہ کے مطابق آرڈر دے کر اپنی پسند و مرضی کے مطابق چیز بنوانے کو استصناع کہتے ہیں جس میں ایک میعاد مقرر ہو اور تعامل والی اشیاء میں بیع استصناع جائز ہے جبکہ اس کے اوصاف یوں بیان کردیئے جائیں کہ اس کی معرفت آسان ہو جائے اس میں اختیار ہے کہ چاہے تو رقم اسی وقت ادا کردے اور چاہے تو تھوڑی ابھی اور بقیہ بعد میں ادا کرے۔
جو چیز آرڈر دے کر بنوائی گئی اسے دیکھنے کے بعد واپس کرسکتے ہیں یا نہیں تو اس میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک بنوانے والے کو اختیار ہے کہ چاہے تو لے اور چاہے تو چھوڑ دے کیونکہ اس نے ایسی چیز خریدی ہے جس کو دیکھا نہیں ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک بنوانے والے اور کاریگر دونوں کو اختیار نہیں ہے کہ اگر بنوانے والا لینے سے انکار کرے گا تو اس میں کاریگر کو نقصان ہوگا کیونکہ یہ چیز خاص اس کی فرمائش پر بنوائی گئی ہے اصح قول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کا ہے البتہ موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے مجلس تحقیقات شرعیہ کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ عرف اور عادات ناس کے مطابق امام ابو یوسف کے قول پر عمل کرتے ہوئے ہی فتویٰ دیا جائے گا ۔
سودا مکمل ہونے کے بعد اب اگر کوئی چیز واپس کرنا چاہتا ہے تو یہ بیع اقالہ ہے یعنی اس سے مراد بیع کو ختم کرنا ہے۔ بیچنے والا اپنے چیز واپس لے لیں اور خریدنے والا قیمت واپس لے لیں البتہ اگر مبیع(خریدی گئی چیز) میں کوئی نقص پیدا نہیں ہوا تو ثمن اول(پہلی دی گئی قیمت ) کے ساتھ ہی اقالہ کیا جائے اور اگر نقص پیدا ہوگیا تو ثمن(قیمت) میں کمی کے ساتھ اقالہ کیا جاسکتا ہے البتہ یہ کمی اس عیب کے مقابلے میں ہو۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
”الاستصناع جائز في كل ما جرى التعامل فيه كالقلنسوة والخف والأواني المتخذة من الصفر والنحاس وما أشبه ذلك استحسانا كذا في المحيط ثم إن جاز الاستصناع فيما للناس فيه تعامل إذا بين وصفا على وجه يحصل التعريف أما فيما لا تعامل فيه كالاستصناع في الثياب بأن يأمر حائكا ليحيك له ثوبا بغزل من عند نفسه لم يجز كذا في الجامع الصغير وصورته أن يقول للخفاف اصنع لي خفا من أديمك يوافق رجلي ويريه رجله بكذا أو يقول للصائغ صغ لي خاتما من فضتك وبين وزنه وصفته بكذا“
ترجمہ:بیع استصناع استحسانا ہر اس چیز میں جائز ہے جس میں تعامل جاری ہو، جیسے ٹوپی، موزے اور پیتل و تانبے سے بنائے جانے والے برتن اور اس طرح کی دیگر چیزیں ایسا ہی محیط میں ہے ۔ پھر تعامل والی چیزوں میں بھی استصناع اس وقت جائز ہے جبکہ اس کا وصف یوں بیان کر دیا جائے جس سے چیز کی معرفت و پہچان حاصل ہو جائے ۔ جس چیز میں تعامل نہیں اس میں استصناع بھی جائز نہیں جس طرح کپڑوں میں استصناع کہ کپڑا بُننے والے کو کہا جائے تم اپنی طرف سے سوت لگا کرکپڑا بُن دو ،تو یہ جائز نہیں، یونہی الجامع الصغیر میں ہے ۔ اور استصناع کی صورت یہ ہے کہ کو ئی شخص موزہ بنانے والے کو اپنا پاؤں دکھاتے ہوئے کہے کہ تم اپنے پاس موجود چمڑے سے میرے اس پاؤں کے مطابق موزہ بنا دو یا سنار کو کہے اپنی چاندی سے مجھے ایک انگوٹھی بنا دو اور اس کا وزن و صفت وغیرہ بیان کر دے۔(فتاوی ھندیہ، جلد3، صفحہ207، دار الفکر، بیروت)
کفایہ میں ہے
”و صورتہ ان یجیئ انسان الی اخر فیقول اخرز لی خفا صفتہ کذا و قدر کذا بکذا درھما او یقول للصائغ اصنع لی خاتما من فضتک و بین وزنہ و صفتہ و یسلم الثمن کلہ او بعضہ او لا یسلم“
ترجمہ: اور بیع استصناع کی صورت یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے کے پاس آئے اور اسے کہے میرے لیے اتنے درہم کے بدلے ایک موزہ سی دو جس کی صفت اور مقدار یہ یہ ہے یا سنار کو کہے کہ میرے لیے اپنی چاندی سے ایک انگوٹھی بنا دو اور پھر اسے انگوٹھی کا وزن اور صفت وغیرہ بیان کر دےاور ثمن چاہے پورا دے دے ، چاہے کچھ ادا کرے اور چاہے کچھ بھی ادا نہ کرے۔ (کفایہ مع فتح القدیر، جلد7، صفحہ30، مطبوعہ کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے :
”کبھی ایسا ہوتا ہے کاریگر کو فرمایش دے کر چیز بنوائی جاتی ہے اس کو استصنا ع کہتے ہیں اگر اس میں کوئی میعاد مذکورہواور وہ ایک ماہ سے کم کی نہ ہو تو وہ سلم ہے۔ تمام وہ شرائط جو بیع سلم میں مذکور ہوئے اُن کی مراعات کی جائے یہاں یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ اس کے بنوانے کا چلن اور رواج مسلمانوں میں ہے یا نہیں بلکہ صرف یہ دیکھیں گے کہ اس میں سلم جائز ہے یا نہیں اگر مدت ہی نہ ہویا ایک ماہ سے کم کی مدت ہو تو استصناع ہے اور اس کے جواز کے لیے تعامل ضروری ہے یعنی جس کے بنوانے کا رواج ہے جیسے موزہ۔جوتا۔ ٹوپی وغیرہ اس میں استصناع درست ہے اور جس میں رواج نہ ہو جیسے کپڑا بُنوانا۔کتاب چھپوانا اُس میں صحیح نہیں۔“(بہار شریعت، جلد 2 ،حصہ 11، صفحہ 813 ،مکتبہ المدینہ کراچی)
ھدایہ میں ہے
”قال وھو بالخیار ان شاء اخذہ وان شاء ترکه لانه اشتری شیئا لم یرہ ولا خیار للصانع کذا ذکرہ فی المبسوط وھو الاصح لانه باع مالم یرہ عند ابی حنیفة ان لہ الخیار ايضا لایمکنه تسليم المعقود عليه الا يضرر وهو قطع الصرم وغیرہ وعند ابی یوسف لانه لا خیار لھما اما الصانع فلما ذکرنا واما المستصنع فلان فی اثبات الخیار له اضرار بالصانع لانه لایشتریه غیرہ بمثله“
ترجمہ:بنوانے والے کو اختیار ہے چاہے تو اس کو لے اور چاہے تو چھوڑ دے کیونکہ اس نے ایسی چیز خریدی ہے جس کو دیکھا نہیں ہے اور کاریگر کو اختیار نہیں ہے ایسا ہی مبسوط میں ہے اور یہی اصح ہے کیونکہ اس نے ایسی چیز فروخت کی ہے جو نہیں دیکھی ہے اور امام ابو حنیفہ سے ایک روایت ہے کہ کاریگر کو بھی اختیار ہے کیونکہ ضرر کے معقود علیہ کو سپرد کرنا ممکن نہیں ہے اور وہ ضرر چمڑا کاٹنا ہے اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ بنوانے والے اور کاریگر دونوں کو اختیار نہیں ہے بہرحال کاریگر تو اس کی وجہ جو ہم نے ذکر کی ہے اور بنوانے والے کو تو اس لیے کہ اس کے واسطے خیار ثابت کرنے میں کاریگر کو ضرر پہنچانا ہوگا کیونکہ دوسرا آدمی اس کو اتنے ثمن میں نہیں خریدے گا۔(ھدایہ ، باب السلم، جلد 7 ، صفحہ 69، مطبوعہ کراچی)
مجلس تحقیقاتِ شرعیہ(مجلسِ افتاء) کا موقف:
”مجلس تحقیقات شرعیہ کے اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس وقت جو عرف اور عادات ناس جاری ہے، اس کے تحت امام ابو یوسف علیہ الرحمۃ کے قول پر عمل کرتے ہوئے عقدِ استصناع ابتداءً ہی ایک عقد ِلازم ہوگا، اگر یہ بات نہ مانی جائے ،تو شدید ضرر کا پایا جانا متحقق ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں عقدِ استصناع کے طور پر ایکسپورٹ آرڈر کے لیے مال تیار کرتی ہیں،اگر خریدار مال تیار ہونے پر منع کر دے،تو یہ کمپنیاں اسی وقت دیوالیہ ہو سکتی ہیں، کیونکہ آرڈر پر جس کے لیے مال بنایا جاتا ہے،وہ اس کی ترجیحات کے تحت بنایا جاتا ہے اور بہت بڑا سرمایہ اس میں لگایا جاتا ہے ، خریدار کے منع کرنے پر یا تو یہ مال کہیں اور نہیں بِکے گا یا پھر دیر سے بِکے گا۔یوں ہی آرڈر لینے والا بھی معاہد ہ کرنے کے بعد منع کرنے کا حق نہیں رکھتا ۔“(مجلس تحقیقات شرعیہ از مجلس افتاء دعوت اسلامی)
ردالمختار میں ہے:
”ھی لغہ الرفع من اقال اجوف یائی وشرعا رفع البیع“
ترجمہ:اقالہ کا لغوی معنی اٹھانا رفع کرنا ہے یہ اقال سے ماخوذ اجوف یائی ہے اور اصطلاح شرع میں اس سے مراد بیع کو ختم کرنا ہے ۔(ردالمختار ،جلد 5، صفحہ 120، دار الفکر، بیروت)
ھدایہ میں ہے
”فان شرط اکثر منہ او اقل فالشرط باطل ویرد مثل الثمن الاول “
ترجمہ:پس اگر اگر ثمنِ اول سے زیادہ یا اس سے کم کی شرط لگائی ،تو شرط باطل ہے اور بائع ثمنِ اول کا مثل ہی واپس کرے گا ۔(ہدایہ ، کتاب البیوع، جلد5،صفحہ 249 مطبوعہ، بیروت)
تبیین الحقائق میں ہے
”وتصح بمثل الثمن الأول وشرط الأكثر أو الأقل بلا تعيب وجنس آخر لغو ولزمه الثمن الأول“
ترجمہ:اور اقالہ ثمن اول کے ساتھ صحیح ہے اور کمی یا زیادتی کی شرط باطل ہے جب کہ وہ عیب سے خالی ہو اور ادائیگی میں دوسری جنس کا تعین کرنا لغو ہے اور اس پر ثمن اول ہی لازم ہے ۔(تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، جلد 4 ،صفحہ 71 ،مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)
فتویٰ ھندیہ میں ہے
”باع جاریہ بالف درھم وتقابلا العقد فیھا بالف درھم صحت الاقالہ وان تقابلا بالف وخمسائہ صحت الاقالہ بالف ویلغو ذکر الخمسمائہ وان تقابلا خمس مائہ فان کان المبیع قائما فی ید المشتری علی حالہ و لم ید خلہ عیب صحت الاقالہ بالف و یلغو ذکر بخمسمائہ فیجب علی البائع رد الالف علی مشتری وان دخلہ عیب تصح الاقالہ بخمسمائہ ویصیر المخطوط بازاء النقصان“
ترجمہ:اگر کوئی باندی ایک ہزار کو بیچی پھر ایک ہزار پر بیع کا اقالہ کیا تو اقالہ صحیح ہے اور اگر ڈیڑھ ہزار پر اقالہ کیا تو اقالہ ایک ہزار پر صحیح ہوگا اور باقیہ پانچ سو کا ذکر لغو ہےاور اگر دونوں نے پانچ سو پر اقالہ کیا پس اگر مبیع مشتری کے پاس اپنے حال پر باقی ہے اور اس میں کچھ عیب نہیں ہے تو یہ اقالہ ایک ہزار پر صحیح ہوگا اور پانچ سو کا ذکر لغو ہے پس بائع پر واجب ہے کہ ایک ہزار مشتری کو واپس کر دے اور اگر اس میں عیب آ گیا ہو تو اقالہ پانچ سو پر صحیح ہے اور یہ کمی بمقابلہ نقصان کے ہوگا۔(فتویٰ ھندیہ، کتاب البیوع، باب فی الاقالہ ،جلد 3 ،صفحہ 164 ،دار الکتب العلمیہ، بیروت)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ممبر فقہ کورس
24ذی الحجہ 1445ھ02 جولائی 2024ء
نظر ثانی:
مفتی محمد انس رضا قادری