کر سمس کی خوشی کا کھانا کھانے کا حکم

کر سمس کی خوشی کا کھانا کھانے کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مفتی صاحب میں جس کمپنی میں کام کرتا ہوں یہاں کھانا میس میں ہوتا ہے اب کرسمس پر جو جو کھانا بنتا ہے وہ کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ کرسمس کی خوشی کا کھانا ہے تو کیا یہ کھانا ہمارے لئے جائز ہو گا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جب یہ خاص کرسمس کی پارٹی نہیں کہ جس میں شرکت کرنا ناجائز اور اس کی تعظیم کرنا کفر ہو بلکہ عام دنوں کی طرح میس میں کھانا پکا ہے تو اس کا حکم اس طرح کا سخت نہیں ہوگا، البتہ اگر یہ کرسمس والے دن بنے تو اس سے بچا جائے اور اگر کرسمس سے پہلے یا بعد میں بنا ہے تو کرسمس کی خوشی سمجھ کر نہ کھائے بلکہ غیر مسلم کا مال مفت میں مل رہا ہے یہ سمجھ کر کھائے ۔باقی اس کھانے میں اگر گوشت ہے تو اس کی شرائط ویسے ہی کڑی ہیں کہ اگر وہ مسلمان کی نظر سے اوجھل ہوا ہے تو عام دنوں میں بھی کھانا جائز نہیں۔

البحر الرائق میں ہے:

”قال رحمه الله : (والإعطاء باسم النيروز والمهرجان لايجوز) أي الهدايا باسم هذين اليومين حرام بل كفر، وقال أبو حفص الكبير – رحمه الله -: لو أن رجلاً عبد الله تعالى خمسين سنةً ثم جاء يوم النيروز وأهدى إلى بعض المشركين بيضةً يريد تعظيم ذلك اليوم فقد كفر وحبط عمله، ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال في الجامع الأصغر: رجل اشترى يوم النيروز شيئاً يشتريه الكفرة منه وهو لم يكن يشتريه قبل ذلك إن أراد به تعظيم ذلك اليوم كما تعظمه المشركون كفر، وإن أراد الأكل والشرب والتنعم لايكفر“

ترجمہ:مصنف علیہ الرحمہ نے فرمایا اور نیروز اور مہرجان(مجوسیوں کے مذہبی دن) کے نام پر دینا جائز نہیں یعنی تحفے ان دو ناموں کے ناموں پر دینا حرام بلکہ کفر ہے اور ابو حفص الکبیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر بندہ پچاس سال اللہ کی عبادت کرے پھر نیروز کا دن آ جائے اور وہ مشرکین کو کوئی انڈا تحفہ دے تو اس کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور جامع صغیر میں فرمایا کہ جس آدمی نے نیروز والے دن کوئی چیز خریدی جسے اس دن کفار خریدتے ہیں اور وہ اس دن سے پہلے یہ نہیں خریدتا تھا اگر وہ اس سے اس دن کی تعظیم مراد لیتا ہے جیسے مشرکوں نے اسکی تعظیم کی تو یہ کفر ہے اور اگر وہ اس چیز کو کھانے اور پینے کا ارادہ رکھتا ہو تو کفر نہیں ۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق،مسائل شتی، مسائل متفرقہ فی الاکراہ، 555دار الکتاب الاسلامی)

سیدی اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان علیہ الرحمہ سے کفار کے مذہبی تہوار کے کھانے سے متعلق سوال ہوا کہ:

” کافر جو ہولی دیوالی میں مٹھائی وغیرہ بانٹتے ہیں، مسلمانوں کو لینا جائز ہے یا نہیں ؟“

جواب:” اس روز نہ لے ہاں اگر دوسرے روز دے تو لے لے، نہ یہ سمجھ کر کہ ان خُبَثَاء کے تیوہار کی مٹھائی ہے بلکہ مالِ موذی نصیبِ غازی سمجھے۔ “( ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، حصّہ اول، صفحہ 163 مطبوعہ مکتبة المدینه کراچی)

فتاوی امجدیہ میں ہے:

”ہندو کے یہاں کا گوشت کہ نظر مسلم سے غائب ہو گیا ہو کھانا حرام ہے اور باقی چیزوں میں بچنا ہی تقاضئہ احتیاط ہے اگرچہ شئی معین کے نجس ہونے کا علم نا ہو نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا۔ بہ ناخذ ما لم نعرف شیئا حراما بعینہ(یعنی ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب تک ہمیں کسی چیز کے بعینہ حرام ہونے کا یقین نا ہو)(فتاوی امجدیہ،باب الحظروالاباحۃ،ج4،ص139،مکتبہ رضویہ آرام باغ لاہور)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

23/12/2022

اپنا تبصرہ بھیجیں