وراثت کی تقسیم (والدہ ، بیوہ ، تین بیٹے ، چھ بیٹیاں )
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ احمد سعید کا انتقال ہوا۔ اس کے والد، دادا اور ایک زوجہ اس سے پہلے ہی فوت ہو چکی تھی۔ اس کے ورثا میں والدہ، ایک زوجہ، تین بیٹے (حفیظ، شفیق اور توصیف) اور چھ بیٹیاں (تنویراں، ریحانہ، رخسانہ، عمرانہ، مریم اور فرزانہ) تھیں۔ ابھی وراثت تقسیم نہیں ہوئی تھی کہ اس کی والدہ بھی انتقال کر گئیں۔ ان کے والدین، دادا دادی اور نانی ان سے پہلے فوت ہو چکے تھے۔ ان کے ورثا میں دو بیٹے (اسماعیل اور ضیاء احمد) اور پانچ بیٹیاں (بشیراں، صفیہ، آسیہ، نذیراں اور زلیخا) ہیں۔ وراثت کیسے تقسیم ہو گی؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوال میں بیان کردہ صورتحال اگر درست ہے تو بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے اس کی ایک تہائی میں سے جائز وصیت اگر کی ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد) احمد سعید کی جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کے 864 کریں، جن میں سے 108 بیوی کو ،ہر بیٹی کو 51 اور ہر بیٹے کو 102 حصے ملیں گے ، جبکہ میت کی والدہ کی اولاد میں سے ہے ہر بیٹی کو 16 اور ہر بیٹے کو 32 ملیں گے ۔
یہ حصے قرآن مجید میں بیان کردہ اصولوں کے مطابق نکالے گئے ہیں اگر میت کی اولاد ہو تو بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ۔ ( فَاِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوْصُوْنَ بِهَاۤ اَوْ دَیْنٍؕ) ترجمہ ۔پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں حصہ ہے (یہ حصے) اس وصیت کے بعد (ہوں گے) جو وصیت تم کر جاؤ اور قرض (کی ادائیگی) کے بعد (ہوں گے۔)
( پارہ4، سورہ نساء، آیت 12)
اور میت کی والدہ کا قرآن مجید کے بیان کردہ اصولوں کے مطابق چھٹا حصہ ہے چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ۔( وَ لِاَبَوَیْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ اِنْ كَانَ لَهٗ وَلَدٌۚ) ترجمہ اوراگر میت کی اولاد ہوتو میت کے ماں باپ میں سے ہر ایک کے لئے ترکے سے چھٹا حصہ ہوگا۔
(پارہ 4، سورہ نساء ، آیت 11)
پھر بیٹیاں بیٹے سے ملکر عصبہ بن جاتی ہیں تو بقیہ مال بطور عصبہ دیا جائے گا اور وہ اس طرح کے بیٹے کو بیٹی سے دگنا دیا جائے گا چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ۔۔ ( لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-)۔ ترجمہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔
( پارہ 4، سورہ نساء، آیت نمبر 11)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهم ، ترجمہ اور زوجہ کے چوتھا حصہ اولاد کی عدم موجودگی میں اور اولاد کے ساتھ آٹھواں ۔
(…’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد6 ،ص 450۔)
بہار شریعت میں ہے کہ
اگر میت کی بیوی کے ساتھ میت کا بیٹا بیٹی یا پوتا پوتی ہو تو اس کو آٹھواں حصہ ملے گا ۔
(بہار شریعت،جلد سوم ، حصہ 20،صفحہ 1126 مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
السدس مع الولد وولد الابن أو اثنين من الإخوة والأخوات من أي جهة كانوا،
ترجمہ ماں کا چھٹا حصہ ہے اولاد کے ساتھ اور بیٹے کی اولاد کے ساتھ یا دو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ چاہے کسی بھی جہت سے ہوں ،
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)
بہار شریعت میں ہے کہ
اگر میت کی ماں کے ساتھ میت کا کوئی بیٹا یابیٹی یا پوتا پوتی ہو تو ماں کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(بہار شریعت ، جلد سوم ، حصہ 20، صفحہ 1133 ، مکتبۃ المدینہ کراچی)
فتاوی ہندیہ میں ہے کہ
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين،
ترجمہ ، اور جب بیٹے اور بیٹیاں آپس میں مل جائیں تو بیٹے بیٹیوں کو عصبہ بنا دیتے ہیں ، تو ایک بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہو گا ،
(’’ الفتاوی الھندیۃ ‘‘ ،کتاب الفرائض،الباب الثانی فی ذوی الفروض،جلد 6 ،صفحہ 449)
مسئلہ از:24×12=288×3=864
میت _احمدسعید_____
زوجہ(حمیدہ) والدہ( عائشہ) بیٹا (شفیق) بیٹا (حفیظ) بیٹا (توصیف) بیٹی (تنویراں بیٹی (ریحانہ) بیٹی (رخسانہ) بیٹی (عمرانہ) بیٹی( مریم) بیٹی (فرزانہ )
1/8۔۔ 1/6۔ ( عصبہ۔ عصبہ(12))
۔ 3×12=36۔ 4×12=48۔ 17×12=204 (34 ,34,34، 17, 17,17,17,17,17)
3×(36٫ 34٫34٫34٫17٫17٫17٫17٫17٫17)
۔108۔ 102 102 102 51 51 51 51 51 51
میت (عائشہ)3/9 ما فی الید 48 / 16
میت______
2 بیٹے (اسماعیل ،ضیاء احمد) بیٹیاں (بشیراں صفیہ، آسیہ ،نذیراں، زلیخا)
عصبہ 4۔ 5
۔۔ 4×16=64۔ 5×16=80
لکل 32۔ لکل 16
مورث اعلی احمد سعید
الأحیاء______ المبلغ 864___
حمیدہ( بیوہ)،حفیظ ، شفیق ،توصیف ، تنویراں ، ریحانہ ، رخسانہ ، عمرانہ ، مریم ، فرزانہ ،اسماعیل ، ضیاء احمد، بشیراں ، صفیہ ،آسیہ، نذیراں، زلیخا۔
۔108, 102,102,102, 51,51,51,51,51,51,۔ 32,32, 16,16,16,16,16 ۔
واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم
کتبہ
ارشاد حسین عفی عنہ
9/12/2022