قسم کے جھوٹے اقرار پر قسم کا حکم

قسم کے جھوٹے اقرار پر قسم کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے قسم کا جھوٹا اقرار کیا تو کیا اس اقرار سے قسم منعقد ہوجائے گی؟ مثلا ایک شخص نے سگریٹ کے نقصانات سننے کے بعد نیت کی تھی اب یہ نہیں پیا کروں گا، مگر دوستوں نے اصرار کیا تو اس نے کہہ دیا میں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ سگریٹ نہیں پیوں گا،حالانکہ اس نے قسم نہیں کھائی ہوئی تھی ۔معلوم یہ کرنا ہے کہ اس طرح کہنے سے کیا اس کی قسم ہو گئی یا نہیں ؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

قسم کا جھوٹا اقرار کرنے سے قسم منعقد نہیں ہوتی، البتہ جھوٹ بولنے کا گناہ ہو گا، اس لیے توبہ کرنا ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ اور محیط میں ہے:

”والفظ للمحیط:ولو قال: «سوكند خورده أم» إن كان صادقاً كان يميناً، وإن كان كاذباً فلا شيء“

ترجمہ: اور اگر کسی نے کہا میں نے قسم کھائی ہے اگر وہ سچا ہے تو قسم ہے اور اگر جھوٹا ہے تو اس پر کچھ لازم نہیں۔(المحيط البرهاني في الفقه النعماني،کتاب الایمان النذور،الفصل الثانی فی الفاظ الیمین و انہ انواع،جلد4،صفحہ204،دارالکتب علمیہ ،بیروت٭فتاوی ہندیہ ،کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمینًا إلخ،الفصل الاول فی تحلیف الظلمۃ وفیما ینوی الخ، جلد 2، صفحہ57، دارالفکر،بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

”اگر کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ یہ کام نہ کروں گا اور واقع میں قسم کھائی ہے تو قسم ہے اور جھوٹ کہا تو قسم نہیں جھوٹ بولنے کاگناہ ہوا۔ “(بہار شریعت،قسم کا بیان،جلد 2،حصہ9، صفحہ 305،مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ11 جنوری 2023

اپنا تبصرہ بھیجیں