اگرمیں تم سے بات کروں تو کافر ہوجاؤں ۔ جملے کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو دوستوں کی آپس میں لڑائی ہوئی، ایک نے دوسرے سے کہا کہ اگر میں تم سے بات کروں تو میں کافرہوجاؤں، اب یہ کہنے والا اپنے دوست سے بات کرنا چاہتا ہے،کیا وہ بات کرتے ہی کافر ہوجائے گا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
جس نے یہ الفاظ بولے اسے چاہیے کہ دوست سے بات کر لے لیکن ذہن میں یہی رکھے کہ ایسی بات کرنے کے بعد عمل کرنے سے بندہ کافر نہیں ہوتا اگر یہ گمان کر کے کے بات کرے کہ بات کروں گا تو کافر کو جاؤں گا تو یہ کفر ہے۔
سوال میں بیان کی گئی صورت میں کہے گئے الفاظ قسم کے ہیں اور ایسی قسم کو پورا نہیں کرنا چاہیے بلکہ قسم توڑ کر قسم کا کفارہ ادا کرے ۔
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو صبح شام یا ایک فقیر کو دس دن تک صبح شام پیٹ بھر کر متوسط درجے کا کھانا کھلائے جیسا اپنے گھر پکاتا ہے یا دس فقیروں کو دس صدقہ فطر دے دے یا ایک ہی فقیر کو دس دن تک صدقہ فطر(دو کلو گندم یا اس کا آٹا یا اتنی رقم) دے دے یا دس شرعی فقیروں کو متوسط درجے کے کپڑے دے دے اگر ان سب کی طاقت نا ہو تو لاگاتار تین دن کے روزے رکھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ، ثُمَّ أَرَى خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا كَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، وَأَتَيْتُ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ“
ترجمہ: میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا اور پھر ( کسی دوسرے کام کو ) اس سے بہتر خیال کرتا ہوں ، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے ۔‘‘ (صحیح مسلم،کتاب الأیمان،باب ندب من حلف یمینا فرای غیرھا، حدیث 4263)
بدائع الصنائع میں ہے:
”و لو قال: إن فعل كذا فهو يهودي أو نصراني أو مجوسي أو بريء عن الإسلام أو كافر أو يعبد من دون الله أو يعبد الصليب أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرا فهو يمين استحسانا والقياس أنه لا يكون يمينا وهو قول الشافعي. وجه القياس أنه علق الفعل المحلوف عليه بما هو معصية فلا يكون حالفا كما لو قال إن فعل كذا فهو شارب خمرا أو آكل ميتة.وجه الاستحسان أن الحلف بهذه الألفاظ متعارف بين الناس فإنهم يحلفون بها من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا من غير نكير ولو لم يكن ذلك حلفا لما تعارفوا لأن الحلف بغير الله تعالى معصية فدل تعارفهم على أنهم جعلوا ذلك كناية عن الحلف بالله عز وجل ۔۔۔ لکنہ هل يكفر؟ لم يذكر في الأصل وعن محمد بن مقاتل الرازي أنه يكفر لأنه علق الكفر بشيء يعلم أنه موجود فصار كأنه قال هو كافر بالله وكتب نصر بن يحيى إلى ابن شجاع يسأله عن ذلك فقال لا يكفر وهكذا روي عن أبي يوسف أنه لايكفر و هو الصحيح؛ لأنه ما قصد به الكفر و لا اعتقده و إنما قصد به ترويح كلامه و تصديقه فيه “
ترجمہ: اور اگر اس نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ یہودی یا نصرانی یا مجوسی یا اسلام سے بری ہے یا کافر ہے یا وہ اللہ کے علاؤہ کسی کی عبادت کرے گا یا وہ صلیب کی عبادت کرے گا یا اس جیسی وہ مثالیں جن کا اعتقاد رکھنا کفر ہو۔پس یہ قسم ہو گی استحسانا اور قیاس یہ ہے کہ یہ قسم نہ ہو اور یہ امام شافعی کا قول ہے ۔قیاس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے جس کام پر قسم کھائی اسے ایسے فعل پر معلق کیا ہے جو کہ گناہ ہے تو یہ قسم اٹھانے والا نہیں ہو گا جیسا کہ کوئی کہے کہ اگر اس نے ایسا کیا تو وہ شراب پینے والا ہے یا مردار کھانے والا ہے اور استحسان کی وجہ یہ ہے کہ ان الفاظ کیساتھ قسم اٹھانا لوگوں کے درمیان متعارف ہے۔ پس لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ان الفاظ سے قسم اٹھاتے آ رہے ہیں آج کے دن تک بغیر کسی انکار کے اور اگر یہ قسم نہ ہوتی تو لوگوں کے درمیان متعارف نہ ہوتی۔ کیا وہ کافر ہو جائے گا؟ اصل میں ذکر نہیں کیا گیا اور محمد بن مقاتل الرازی سے مروی ہے کہ وہ کافر ہو جائے گا کیونکہ جب اس نے کفر کسی چیز پر معلق کیا تو معلوم ہوا کہ وہ موجود ہے تو وہ اس شخص کی طرح ہو جائے گا جس نے کہا کہ وہ اللہ کا انکار کرنے والا ہے اور نصر بن یحیی نے ابن شجاع کی طرف لکھا ان سے اس بارے میں پوچھتے ہوے تو فرمایا کہ وہ کافر نہیں ہو گا اور ایسے ہی امام ابو یوسف علیہ الرحمہ سے بھی مروی ہے کہ وہ کافر نہیں ہو گا اور یہی صحیح ہے اس لیے وہ اس سے اس بات سے کفر کا ارادہ نہیں کیا اور نہ ہی ایسا اعتقاد رکھا بلکہ اس نے اس کلام کے ذریعے اپنے کلام کی پختگی اور اس کے اس بات میں سچے ہونے کا ارادہ کیا ہے ۔(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،کتاب الأیمان،فصل فی رکن الیمین باللہ تعالی،جلد3،صفحہ8،دارالکتب العلمیہ)
ہندیہ میں ہے:
”ولو قال: إن فعل كذا فهو يهودي، أو نصراني، أو مجوسي، أو بريء من الإسلام، أو كافر، أو يعبد من دون الله، أو يعبد الصليب، أو نحو ذلك مما يكون اعتقاده كفرًا فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس هل يصير كافرًا؟ اختلف المشايخ فيه، قال: شمس الأئمة السرخسي – رحمه الله تعالى -: والمختار للفتوى أنه إن كان عنده أنه يكفر متى أتى بهذا الشرط، ومع هذا أتى يصير كافرًا لرضاه بالكفر“
ترجمہ: اور اگر اس نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرے تو وہ یہودی ہے یا نصرانی ہے یا مجوسی ہے یا اسلام سے بری ہے یا کافر ہے یا وہ اللہ کے علاؤہ کسی کی عبادت کرے گا یا وہ صلیب کی عبادت کرے گا یا اس جیسی وہ مثالیں جن کا اعتقاد رکھنا کفر ہو تو وہ قسم توڑنے سے کفارہ دے گا اگر مستقبل کی قسم ہو بہرحال ماضی کی قسم کلام کے خلاف کو جانتے ہوے اٹھائی تو غموس ہے ۔کیا وہ اس سے کافر ہو جائے گا ؟ مشائخ نے اس میں اختلاف کیا شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا کہ فتوی کے لیے مختار یہ ہے کہ اگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ جب وہ یہ شرط بجا لائے گا تو کافر ہو جائے گا اور اسی گمان کے ساتھ وہ شرط بجا لایا تو کافر ہو جائے گا اس کا کفر سے راضی ہونے کی وجہ سے ۔(الفتاوى الهندية،کتاب الأیمان،الباب الثانی فیما یکون یمینا وما لایکون یمینا،الفصل الاول فی تحلیف الظلمۃ وفیما ینوی الحالف غیر ما ینوی المستحلف،جلد2،صفحہ54،دارالفکر بیروت)
در مختار میں ہے:
”(و) القسم أيضا بقوله (إن فعل كذا فهو) يهودي أو نصراني أو فاشهدوا علي بالنصرانية أو شريك للكفار أو (كافر) فيكفر بحنثه لو في المستقبل، أما الماضي عالما بخلافه فغموس واختلف في كفره (و) الأصح أن الحالف (لم يكفر) سواء (علقه بماض أو آت) إن كان عنده في اعتقاده أنه (يمين وإن كان) جاهلا. و (عنده أنه يكفر في الحلف) بالغموس وبمباشرة الشرط في المستقبل (يكفر فيهما) لرضاه بالكفر“
ترجمہ:اور اپنے اس قول کیساتھ قسم کھانا کہ اگر وہ ایسا کرے تو کافر یہودی یا نصرانی ہے یا مجھ پر نصرانی ہونے پر گواہ ہو جاؤ یا کافروں کا شریک ہو جائے گا یا کافر ہو جائے تو وہ قسم توڑنے سے کفارہ دے گا اگر مستقبل کی قسم ہو ۔بہرحال ماضی کی قسم کلام کے خلاف کو جانتے ہوے اٹھائی تو غموس ہے تو اس کے کفر میں اختلاف کیا گیا اور اصح یہ ہے کہ قسم اٹھانے والا کافر نہیں ہو گا برابر ہے کہ اس نے اپنے کلام کو زمانہ ماضی کیساتھ معلق کیا ہو یا آنے والے زمانے کیساتھ جبکہ اس کے ہاں اس کے اعتقاد میں ہو کہ یہ قسم ہے اور اگر وہ جاھل ہو اور اس کا خیال ہو کہ وہ غموس میں کافر ہو جائے گا اور مستقبل میں شرط پر عمل کرنے سے کافر ہو جائے گا تو اب دونوں صورتوں میں کافر ہو جائے گا اس کا کفر پر راضی ہونے کی وجہ سے ۔(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الأیمان،جلد3،صفحہ718، دار الفکربیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے:
”اور جنہوں نے یہ اقرار کیا تھا کہ جو ایساکرے وہ کلمہ شریف اور قرآن شریف سے پھرے، پھر اس اقرار سے پھر گئے اور وہ کاغذ پھاڑ ڈالا ان میں سے جس کے خیال میں یہ ہو کہ واقعی ایسا کرنے سے قرآن مجید اور کلمہ طیبہ سے پھر جائے گا اور یہ سمجھ کر ایسا کیا وہ کافر ہوگیااور جوجانتا تھا کہ ایسا کرنے سے قرآن مجید یا کلمہ طیبہ سے پھرنا نہ ہوگا وہ گنہگار ہوا اس پر قسم کا کفارہ واجب ہے۔“(فتاویٰ رضویہ جلد 13 صفحہ 578 رضافاؤنڈیشن لاہور)
قسم کے کفارے کے متعلق قرآن پاک میں ہے:
”فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ“
ترجمہ: ایسی قسم کاکفارہ دس مسکین کو کھانا دینا ہے اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا اونھیں کپڑا دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور جوان میں سے کسی بات پر قدرت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے یہ تمھاری قسموں کا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ۔ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللہ (عزوجل) اپنی نشانیاں تمھارے لیے بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر کرو۔(پ7 سورۃ المائدہ آیت 89)
واللہ ورسولہ اعلم باالصواب
کتبہ
انتظار حسین مدنی کشمیری
مؤرخہ 17 جنوری بروز منگل