درود شریف پڑھنے کی منت کا حکم

درود شریف پڑھنے کی منت کا حکم

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ درود شریف کی منت ان منتوں میں سے ہے جس کا پورا کرنا شرعا واجب ہو؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

ہر اس عبادت کی منت ماننا جس کی قبیل سے کوئی فرض یا واجب ہو اس منت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے اور درود پاک زندگی میں ایک مرتبہ پڑھنا فرض اور ہر مجلس میں نام مبارک سننے پر ایک مرتبہ واجب اور ایک مجلس میں جتنی مرتبہ نام مبارک آئے تو مستحب ہے کہ ہرمرتبہ درود پڑھا جائے۔لہٰذا اگر دورود شریف کی منت مانی تو منت پوری ہونے پر اتنادرود پڑھنا واجب ہوگا۔

صدر الشریعہ بدرالطریقہ علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃاللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں:

”عمر میں ایک بار دُرود شریف پڑھنا فرض ہے اور ہر جلسۂ ذکر میں دُرود شریف واجب خواہ نام اقدس لے یا دوسرے سے سُنے اور اگر مجلس میں سو بار ذکر آئے تو ہر بار دُرود شریف پڑھنا چاہیے۔“ (بہار شریعت ،حصہ 3،صفحہ101،مکتبۃ المدینہ ،کراچی)

بحرالرائق اوردرمختار میں ہے :

”ولو نذر ان یصلی علی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کل یوم کذا لزمہ “

ترجمہ:اگر کسی نے نذر مانی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر ہرروز اتنے درود پڑھے گا تویہ اس پر لازم ہے ۔ (ردالمحتار علی درمختار،کتاب الایمان،جلد3،صفحہ738،دارالفکر، بیروت)

اسکے تحت علامہ شامی فرماتے ہیں:

”لان من جنسه فرضا وھو الصلاۃ علیہ صلی اللہ علیہ وسلم مرۃ واحدۃ فی العمر وتجب کلما ذکر وانما ھی فرض عملی“

ترجمہ:اس لیے کہ اس کی جنس سے فرض ہے اور وہ زندگی میں ایک مرتبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پاک پڑھنا ہے اور جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا جائے تب درود پڑھنا واجب ہے اور بے شک یہ عملی فرض ہے۔(ردالمحتار علی درمختار،کتاب الایمان،جلد3،صفحہ738،دارالفکر، بیروت)

واللہ ورسولہ اعلم باالصواب

کتبہ:

انتظار حسین مدنی کشمیری

مؤرخہ 26 جنوری 2023 بروز جمعرات

اپنا تبصرہ بھیجیں