مزار پر پاؤں کی جانب کھڑے ہوکر تلاوت کرنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین مسئلہ ذیل میں کہ اولیاءِ کرام کے مزارات پر اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ پاؤں کی طرف کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر تلاوت یا دعا کر رہے ہوتے ہیں۔ تو کیا پاؤں کی طرف بیٹھ کر تلاوت یا دعا کرنا درست ہے۔ اور بعض مزارات پر دیکھا گیا ہے کہ اصل قبر نیچے ہے جبکہ اسی کے اوپر نقل ہے۔ ایسی صورت میں کیا حکم ہے ؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مزارات پر حاضری کا طریقہ یہ ہے کہ قدموں کی جانب سے داخل ہو کر چہرے کی طرف آ جائے اور قبلے کو پیٹھ کر لیں، اب اگر قرآن پاک کی تلاوت کرنی ہے تو تلاوت کریں یا دعا مانگنی ہے تو مانگیں۔ بہر حال جو قدموں کی طرف بیٹھ کر بھی قرآن پاک پڑھے گا وہ گناہ گار نہیں ہو گا؛ کیونکہ یہ عرفاً اسے قرآن پاک کی بے ادبی نہیں سمجھا جاتا۔ عرف پر ہی ادبی اور بے ادبی کا مدار ہوتا ہے۔
امام اہل سنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: ” مزار شریفہ پرحاضرہونے میں پائنتی کی طرف سے جائے اور کم ازکم چار ہاتھ کے فاصلے پر مواجہہ میں کھڑا ہو اور متوسط آواز بادب عرض کرے السّلام علیک یا سیدی ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ پھر درودغوثیہ تین بار، الحمد شریف ایک بار ، آیۃ الکرسی ایک بار، سورہ اخلاص سات بار، پھر درود غوثیہ سات بار، اور وقت فرصت دے تو سورہ یٰسں اورسورہ ملک بھی پڑھ کر اللہ عزوجل سے دعا کرے کہ الہی! اس قرأت پر مجھے اتنا ثواب دے جو تیرے کرم کے قابل ہے، نہ اتنا جو میرے عمل کے قابل ہے او راسے میری طرف سے اس بندہ مقبول کو نذر پہنچا، پھر اپنا جو مطلب جائز شرعی ہو اس کے لیے دعا کرے اور صاحب مزار کی روح کو اللہ عزوجل کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ قراردے، پھر اس طرح سلام کرکے واپس آئے، مزار کو نہ ہاتھ لگائے نہ بوسہ دے اور طواف بالاتفاق ناجائز ہے اور سجدہ حرام۔ واﷲ تعالٰی اعلم ”۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 09، صفحہ 120، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاھور)۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: ” تعظیم و بے تعظیمی میں بڑا دخل عرف کو ہے۔ محقق علی الاطلاق” فتح القدیر“ میں فرماتے ہیں: یحال علی المعھود“ یہ معاملہ عرف اور رواج کے حوالے کیا جاتاہے “۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 23، صفحہ 913، مطبوعہ رضافاؤنڈیشن لاھور)۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ
سگِ عطار ابو احمد محمد رئیس عطاری بن فلک شیر غفرلہ
نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ
( مورخہ 23 جمادی الاخری 1444ھ بمطابق 16 جنوری 2023ء بروز پیر )