صدری کا بٹن کھلا ہو تو نماز کا حکم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا صدری کا بٹن کھلا ہو تو نماز ہو جائے گی۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
صدری(ویسکوٹ) کا بٹن کھلا ہو تو نماز ہو جائے گی، کوئی حرج نہیں، کیونکہ صدری کے نیچے کرتا یا شرٹ وغیرہ موجود ہوتا ہے جس کی وجہ سے اگر صدری کے بٹن نہ بھی لگائے تو سینہ وغیرہ چھپا ہی ہوتا ہے اور عرفِ عام میں بھی اس کے بٹن کو کھلا رکھنا معیوب نہیں سمجھا جاتا، اس طرح کرنا لوگوں کی عادت میں شامل ہے اس لیے حرج نہیں ۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات:1340ھ) فرماتے ہیں: ”انگرکھے پر جو صدری یاچغہ پہنتے ہیں اور عرف عام میں اُن کا کوئی بوتام بھی نہیں لگاتے اور اسے معیوب بھی نہیں سمجھتے تو اس میں بھی حرج نہیں ہوناچاہئے کہ یہ خلافِ معتاد نہیں“۔
)فتاویٰ رضویہ، مسبوق کا بیان، جلد7، صفحہ386، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف(
فتاوی بحر العلوم اور فتاوی فقیہ ملت میں ہے: اللفظ للآخر ”اس طرح کپڑا پہن کر نماز پڑھا کہ نیچے کرتے کا سارا بٹن بند ہے اور اوپر شیرانی یا صدری کا کل یا بعض بٹن کھلا ہے تو حرج نہیں ۔ اور جو بہار شریعت میں مکروہ تنزیہی کا حکم کیا گیا ہے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی مذکورہ بالا تحریر سے ظاہر ہے کہ وہ اس صورت میں ہے جہاں صدری یا شیروانی کے کل یا بعض بٹن کھلا رہنے کو معیوب سمجھا جاتا ہو۔“ واللہ تعالیٰ اعلم ۔
(فتاویٰ فقیہ ملت، باب ما یکرہ فی الصلاۃ، جلد1، صفحہ174، مطبوعہ مکتبہ فقیہ ملت دہلی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ
ابو حامد عمران رضا عطاری
27 جمادی الاولی 1444 ھ/24دسمبر2022 ء