جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے یاسنت؟

جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے یاسنت؟

سوال:کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ جماعت سے نماز پڑھنا واجب ہے یا سنت اگر کوئی باجماعت نماز نہ پڑھے تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے ؟

بسم الله الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

جماعت سے نماز پڑھنا ہر عاقل، بالغ، آزاد، قادر شخص پر واجب ہے، بلا عذر چھوڑنا ناجائز و گناہ ہے اورا س کو چھوڑنے کی عادت بنانے والا فاسق معلن ہے۔ یاد رہے۔ جہاں یہ کہا جاتا ہے کہ جماعت سے نماز پڑھنا سنت ہے وہاں اس مراد یہ ہوتی ہے کہ جماعت سنت سے ثابت ہے۔

جماعت سے نماز کے متعلق اللہ پاک قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:

اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ.

ترجمۂ کنز الایمان : اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو ۔(القرآن الکریم السورۃ البقرۃ43)

امام ابو البرکات نسفی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

وأن يكون أمر بالصلاة مع المصلين يعني في الجماعة أي صلوها مع المصلين لا منفردين.

ترجمہ : نماز کا حکم مصلیوں یعنی جماعت کے ساتھ ہے، کہ نماز پڑھنے والوں کے ساتھ نماز پڑھو، اکیلے اکیلے نہ پڑھو۔ (مدارك التنزيل وحقائق التأويل جلد1، صفحہ85، مطبوعہ دار الکلم بیروت)

تفسیر ابو السعود ، تفسیر ماتریدی ، اور تفسیر بیضاوی میں ہے۔ واللفظ للاول:

وارْكَعُوا مَعَ الرّاكِعِينَ أي في جماعتهم

ترجمہ: رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، یعنی : ان کے ساتھ جماعت سے نماز پڑھو۔ (تفسير البيضاوي جلد1، صفحہ77، مطبوعہ دار احیاء التراث بیروت)

جماعت سے نماز پڑھنے کے متعلق رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

”صلاة الرجل في الجماعة تضعف على صلاته في بيته، وفي سوقه، خمسا وعشرين ضعفا، وذلك أنه: إذا توضأ، فأحسن الوضوء، ثم خرج إلى المسجد، لا يخرجه إلا الصلاة، لم يخط خطوة، إلا رفعت له بها درجة، وحط عنه بها خطيئة، فإذا صلى، لم تزل الملائكة تصلي عليه، ما دام في مصلاه: اللهم صل عليه، اللهم ارحمه، ولا يزال أحدكم في صلاة ما انتظر الصلاة“

ترجمہ: مرد کا جماعت سے نماز پڑھنا گھر یا بازار میں نماز پڑھنے سے پچیس گنا زیادہ ثواب ہے، اور یہ کہ جو شخص اچھی طرح طہارت کرے پھر مسجد کو جائے تو جو قدم چلتا ہے، ہر قدم کے بدلے ﷲ تعالیٰ نیکی لکھتا ہے اور درجہ بلند کرتا ہے اور گناہ مٹا دیتا ہے۔ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو فرشتے اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تب وہ نماز کی جگہ پر رہے، کہتے ہیں: اے اللہ اس پر درود بھیج اور اس پر رحمت نازل فرما۔ تم میں سے کوئی جب نماز کے انتظار میں ہوتا ہے تو درحقیقت وہ نماز ہی میں ہوتا ہے۔ (بخاری شریف جلد1، صفحہ131، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

جماعت کے ترک کرنے پر احادیث میں مختلف وعیدیں بیان کی گئی ہیں جساکہ بخاری شریف کی حدیث پاک ہے:

”أن رسول الله ﷺ قال: والذي نفسي بيده لقد هممت أن آمر بحطب، فيحطب، ثم آمر بالصلاة، فيؤذن لها، ثم آمر رجلا فيؤم الناس، ثم أخالف إلى رجال، فأحرق عليهم بيوتهم“

ترجمہ : رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں چاہتا ہوں کہ لکڑی جمع کرنے کا حکم دوں اور انہیں جلایا جائے، پھر میں نماز کا حکم دوں اس کے لیے اذان دی جائے، پھر ایک شخص کو لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دوں، جماعت سے پیچھے رہے جانے والوں کر پاس جاکر ان پر ان کے گھر جلادوں۔ (بخاری شریف جلد1، صفحہ131، مطبوعہ دار طوق النجاۃ)

مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں:

اس سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر جماعت کی نماز بھی واجب ہے اور مسجد کی حاضری بھی،کیونکہ نور مجسم رحمت عالم سراپا اخلاق (ﷺ) تارکین جماعت کے گھر جلانے کا ارادہ فرمارہے ہیں۔ مرقاۃ نے فرمایا کہ علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کسی کو گھر بار جلانے کی سزا نہ دی جائے سوائے تارک جماعت کے کہ سلطان اس کو یہ سزا دے سکتا ہے معلوم ہوا کہ یہ دونوں بڑے اہم ہیں۔(مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح، کتاب الصلاۃ، جلد2، حدیث نمبر 1053)

علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”وقيل سنة مؤكدة كما قاله القدوري وفي شرح الهداية عامة مشايخنا أنها واجبة وقد سماها بعض أصحابنا سنة مؤكدة وفي المفيد الجماعة واجبة وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة.“

ترجمہ: کہا گیا ہے کہ جماعت سنت مؤکدہ ہے جیساکہ امام قدوری نے فرمایا، اور ہدایہ کہ شرح میں ہے کہ عام مشائخ فرماتے ہیں کہ جماعت واجب ہے، بعض اصحاب نے اس کو مؤکدہ کہا، مفید میں ہے : جماعت واجب ہے، اس کا وجوب سنت سے ثابت ہے اس لیے اس کو سنت فرمایا۔ (عمدة القاري شرح البخاري، کتاب مواقیت الصلاۃ، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ، جلد5، صفحہ561، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی )

شیخ محقق عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”قال الشيخ ابن الهمام وفي الغاية قال عامة مشايخنا: إنها واجبة وتسميتها سنة لوجوبها بالسنة. وفي البدائع تجب على العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الجماعة من غير حرج “

ترجمہ: شیخ ابن ہمام حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اور غایہ میں ہے عامۂ مشائخ کہتے ہیں کہ جماعت واجب ہے، اس کو سنت اس وجہ سے فرمایا کہ سنت سے ثابت ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: جماعت عاقل بالغ آزاد مردوں پر واجب ہے بغیر حرج کے۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، جلد3، صفحہ194، مطبوعہ دار النوادر)

فتاویٰ نوازل میں ہے:

”اداء الصلاۃ بالجماعۃ ھی شعائر الاسلام لا یجوز ترکھا ومخالفتھا ملتقطاً “

ترجمہ: جماعت سے نماز پڑھنا شعائر اسلام سے ہے، اس کا چھوڑنا اور اس کی مخالفت جائز نہیں۔ (فتاویٰ نوازل، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ والاقتداء، صفحہ78، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

مجمع الانھر اور بحر الرائق میں ہے:

”أنَّ الجَماعَةَ واجِبَةٌ عِنْدَنا أوْ فِي حُكْمِ الواجِبِ.“

ترجمہ: ہمارے نزدیک جماعت واجب ہے یا واجب کے حکم میں ہے۔ (البحر الرائق شرح كنز الدقائق، جلد2، صفحہ77)

جوہرۃ النیرہ، فتح القدیر، بدائع الصنائع، فتح باب العنایہ، فتاوی ہندیہ، نھر الفائق وغیرہ میں ہے:

”الجماعة واجبة وتسمیتھا سنة لوجوبها بالسنة.“

ترجمہ : جماعت واجب ہے، اس کو سنت اس وجہ سے کہا کہ جماعت سنت سے ثابت ہے۔ (نھر الفائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، باب الامامۃ، جلد1، صفحہ238، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

علامہ عبد غنی میدانی حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”الجماعة للرجال سنة مؤكدة وقيل: واجبة، وعليه عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها، قال في البحر: وهو الراجح عند أهل المذهب.ملخصاً“

ترجمہ: مردوں کے لیے جماعت سنت مؤکدہ ہے، کہا گیا کہ واجب ہے، اسی پر عام مشائخ ہیں، تحفہ وغیرہ میں اسی پر جزم فرمایا ہے۔ (اللباب في شرح الكتاب، جلد1، صفحہ78، مطبوعہ )

اعلی حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”تارک جماعت وہ کہ بے کسی عذر شرعی قابلِ قبول کے قصداً جماعت میں حاضر نہ ہو مذہب صحیح معتمد پر اگر ایک بار بھی بالقصد ایسا کیا گنہگار ہوا تارکِ واجب ہوا مستحقِ عذاب ہوا والعیاذ باللہ تعالیٰ اور اگر عادی ہو کہ بارہا حاضر نہیں ہوتا اگرچہ بارہا حاضر بھی ہوتا ہو تو بلا شبہہ فاسق فاجر مردود الشہادۃ ہے۔ فإن الصغيرة بعد الاصرار تصیر کبیرۃ۔“(فتاویٰ رضویہ، کتاب الصلا، باب الجماعۃ، جلد5، صفحہ465، مطبوعہ امام احمد رضا اکیڈمی بریلی شریف)

فقیہ اعظم ہند مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

” عاقِل، بالغ، حر، قادر پر جماعت واجب ہے، بلاعذر ایک بار بھی چھوڑنے والا گنہگار اور مستحق سزا ہے اور کئی بار ترک کرے، تو فاسق مردود الشہادۃ اور اس کو سخت سزا دی جائے گی، اگر پڑوسیوں نے سکوت کیا تو وہ بھی گنہگار ہوئے۔“ر شریعت جلد1، حصہ3، صفحہ582، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو حامد عمران رضا عطاری

22ربیع الاخر1444 ھ/ 18 نومبر2022 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں