تراویح میں قعدہ اولی کیے بغیر چار رکعتیں پڑھ لیں تو کونسا شفع شمار ہوگا اور ان میں پڑھے جانے والے قرآن کا حکم
سوال: کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ تراویح پڑھاتے ہوئے دوسری رکعت میں قعدہ نہ کیا اور غلطی سے تیسری پڑھ لی، جب تیسری کے سجدہ میں یاد آیا تو ایک اور رکعت ملا کر چار مکمل پڑھ لیں۔اب اس بارے میں یہ تو لکھا کہ چار نہیں بلکہ دو تراویح ہوئیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کونسی دو تراویح ہوئیں ،پہلی شفع والی یا دوسری شفع کی؟ جس شفع کو تراویح میں شمار نہیں کیا جائے گا تو کیا اس میں جو قرآن پڑھا گیا اسے بھی دوبارہ پڑھنا ہوگا؟
بسم الله الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
بیان کی گئی صورت میں جب دوسری دو رکعتوں پر بھول کر قعدہ نہ کیا اور چار رکعتیں پوری کی اور آخر میں سجدہ سہو بھی کر لیا تو اس صورت میں راجح قول کے مطابق دوسرا شفع (آخری دو رکعتیں)تراویح میں شمار ہوگا اور پہلا شفع(پہلی د و رکعتیں) فاسد ہوگا اور پہلے شفع میں جو قرآن پاک کی تلاوت کی گئی اس کو دوبارہ پڑھا جائے گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
وَلَوْ صَلَّى تَرْوِيحَةً بِتَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ وَقَعَدَ فِي الثَّانِيَةِ قَدْرَ التَّشَهُّدِ، لَا شَكَّ أَنَّهُ يَجُوزُ عَلَى أَصْلِ أَصْحَابِنَا أَنَّ صَلَوَاتٍ كَثِيرَةً تَتَأَدَّى بِتَحْرِيمَةٍ وَاحِدَةٍ بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّحْرِيمَةَ شَرْطٌ وَلَيْسَتْ بِرُكْنٍ عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ، لَكِنْ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ أَنَّهُ هَلْ يَجُوزُ عَنْ تَسْلِيمَتَيْنِ أَوْ لَا يَجُوزُ إلَّا عَنْ تَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ؟ قَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَجُوزُ إلَّا عَنْ تَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ؛ لِأَنَّهُ خَالَفَ السُّنَّةَ الْمُتَوَارَثَةَ بِتَرْكِ التَّسْلِيمَةِ، وَالتَّحْرِيمَةِ، وَالثَّنَاءِ، وَالتَّعَوُّذِ وَالتَّسْمِيَةِ فَلَا يَجُوزُ إلَّا عَنْ تَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ، وَقَالَ عَامَّتُهُمْ: إنَّهُ يَجُوزُ عَنْ تَسْلِيمَتَيْنِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، وَعَلَى هَذَا لَوْ صَلَّى التَّرَاوِيحَ كُلَّهَا بِتَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ وَقَعَدَ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ.أَنَّ الصَّحِيحَ أَنَّهُ يَجُوزُ عَنْ الْكُلِّ؛ لِأَنَّهُ قَدْ أَتَى بِجَمِيعِ أَرْكَانِ الصَّلَاةِ وَشَرَائِطِهَا؛ لِأَنَّ تَجْدِيدَ التَّحْرِيمَةِ لِكُلِّ رَكْعَتَيْنِ لَيْسَ بِشَرْطٍ عِنْدَنَا هَذَا إذَا قَعَدَ عَلَى رَأْسِ الرَّكْعَتَيْنِ قَدْرَ التَّشَهُّدِ، فَأَمَّا إذَا لَمْ يَقْعُدْ فَسَدَتْ صَلَاتُهُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ، وَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَبِي يُوسُفَ يَجُوزُ، وَأَصْلُ الْمَسْأَلَةِ يُصَلِّي التَّطَوُّعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ إذَا لَمْ يَقْعُدْ فِي الثَّانِيَةِ قَدْرَ التَّشَهُّدِ وَقَامَ وَأَتَمَّ صَلَاتَهُ أَنَّهُ يَجُوزُ اسْتِحْسَانًا عِنْدَهُمَا، وَلَا يَجُوزُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ قِيَاسًا، ثُمَّ إذَا جَازَ عِنْدَهُمَا فَهَلْ يَجُوزُ عَنْ تَسْلِيمَتَيْنِ أَوْ لَا يَجُوزُ إلَّا عَنْ تَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ الْأَصَحُّ أَنَّهُ لَا يَجُوزُ إلَّا عَنْ تَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ؛ لِأَنَّ السُّنَّةَ أَنْ يَكُونَ الشَّفْعُ الْأَوَّلُ كَامِلًا، وَكَمَالُهُ بِالْقَعْدَةِ وَلَمْ تُوجَدْ وَالْكَامِلُ لَا يَتَأَدَّى بِالنَّاقِصِ
ترجمہ: اگر اس نے چار رکعتوں کو ایک سلام کے ساتھ ادا کیا اور ان کے مابین اس نے بقدر تشھد قعدہ بھی کیا،بلاشبہ ہمارے ائمہ کے اصولوں کے مطابق نماز جائز ہوگی،کیوں کہ ہمارے نزدیک اصولا کئی رکعات کو ایک سلام کے ساتھ ادا کیا جا سکتا ہے اس مسئلہ کی بنیاد اس اصول پر ہے کہ تکبیر تحریمہ ہمارے نزدیک نماز کی شرط ہے رکن نہیں ہے لیکن امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ ہمارے اس موقف میں ہم سے اختلاف کرتے ہیں،لیکن ہمارے مشائخ میں پھر اختلاف ہے کہ آیا دو سلام کے ساتھ پڑھی جانے والی چار رکعات کی جگہ ایک سلام کے ساتھ ادا کردہ چار رکعات درست ہیں یا وہ محض ایک سلام سے ادا کی جانے والی نماز ہی کی جگہ پڑھی جاسکتی ہیں ،بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ ایک سلام والی نماز ایک سلام والی نماز ہی کی جگہ کافی ہوسکتی ہے،دو سلام والی کی جگہ نہیں،اس لیے کہ اس سے تکبیرہ تحریمہ ،ثنا، تعوذ، تسمیہ، متروک ہو جانے کے باعث سنت متوارثہ کی مخالفت لازم آتی ہے، لہذا یہ فقط ایک ہی سلام والی نماز کی جگہ درست ھوگی،جبکہ اکثر مشائخ فرماتے ہیں کہ ایک سلام والی نماز دو سلام والی نماز کی جگہ جائز ھو سکتی ھے،اور یہی قول صحیح ہے،اسی طرح کس نے تراویح کی تمام رکعات کو ایک ہی سلام کے ساتھ ادا کیا اور ہر دو رکعت کے بعد قعدہ کیا یہ جائز ہے کہ اس کی تمام کی تمام رکعتیں صحیح ہوں اس لیے کہ اس نے نماز کے ارکان اور اس کی شرائط کو پورا کیا ہے کیونکہ ہر دو رکعت کے بعد نئی تکبیر تحریمہ کہنا ہمارے نزدیک شرط نہیں ہے یہ حکم اس وقت ہے جب اس نے ہر دو رکعت کے بعد قعدہ کیا ہو لیکن اگر اس نے قعدہ نہ کیا ہو تو امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک اس کی نماز فاسد ہوجائے گی،اور شیخین علیہماالرحمہ کے نزدیک اس کی نماز درست ہوگی،اس مسئلہ کی بنیاد اس اختلاف پر ہے کہ اگر کوئی شخص چار رکعت نماز نفل ادا کرے اور درمیان میں قعدہ نہ کرے اور تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہو جائے تو شیخین علیہما الرحمہ کے نزدیک استحسانا اس کی نماز جائز ہے، مگر امام محمد علیہ الرحمہ کے نزدیک قیاسا اس کی نماز فاسد ہے،پھر جب یہ نماز ان کے نزدیک اصولی طور پر درست ہے،توپھر آیا ایسی نماز دو سلام والی نماز کی جگہ درست ھو گی،یا محض ایک سلام والی نماز کی جگہ، اس بارے میں صحیح قول یہ ہے کہ یہ نماز صرف ایک سلام والی نماز ہی کی جگہ جائز ھو گی اس لیے کہ سنت یہ ہے کہ،پہلا شفع مکمل ھو اور کیوں کہ اس کی تکمیل قعدے کے ساتھ ھوتی ہے،جو یہاں نہیں پایا گیا ،اور کامل شے ناقص شے کے ساتھ ادا نہیں ہوتی۔ [الكاساني ,بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ,1/289]
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے
فَلَوْ لَمْ يَقْعُدْ إلَّا فِي آخِرِهَا فَقَدْ عَلِمْت أَنَّ الصَّحِيحَ أَنَّهُ يُجْزِئُهُ عَنْ تَسْلِيمَةٍ وَاحِدَةٍ فِيمَا لَوْ صَلَّى أَرْبَعًا بِتَسْلِيمَةٍ فَكَذَلِكَ هُنَا
ترجمہ: اگر نمازی نے صرف آخری قعدہ کیا تحقیق تو نےجانا کہ اس کی نماز ایک سلام کے ساتھ صحیح ہوگی۔[ابن نجيم ,البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري ,2/73]
جد الممتار میں سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن نےکئی مقامات پر اس مسئلہ کے متعلق کلام فرمایا اور مذہب شیخین کوہی راجح و مفتی بہ قراردیا۔ایک جگہ فرماتے ہیں:
فالصحیح فی التراویح النیابۃ عن شفع واحد مطلقاً ولو صلی اربعاً و لم یقعد الا فی الآخر والصحیح فی غیرھا صحۃ الکل ان صلی اربعاً ،وفساد الکل ان زاد،فاغتنم ھذا التحریر ،واللہ ولی التوفیق
ترجمہ : پس تراویح میں صحیح یہ ہے کہ مطلقا ایک شفع سے نیابت درست ہےاور اگر چار رکعت پڑھی اور قعدہ نہیں کیا، مگر آخری رکعت میں ،تو تراویح کے علاوہ میں صحیح قول یہ ہے کہ پوری نماز درست ہوگی اگر چار رکعت پڑھیں اور پوری نماز فاسد ہوجائے گی اگر چار سے زیادہ رکعتیں پڑھی ہوں،پس اس تحریر کو غنیمت سمجھو۔اور اللہ تعالی توفیق کا ولی ہے۔(جدالممتار،ج3،ص468، مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
ایک دوسرے مقام پر فرمایا:
ان النیابۃ عن شفع واحد مختص بالتراویح و اما بقیۃ السنن والنوافل فان صلی اربعاً کسنن الظھر او صلاۃ الضحی ولم یقعد علی راس الثانیۃ صحت الکل علی المذھب الصحیح استحسانا،وفی الھندیہ عن المحیط: (صلی الاربع قبل الظھر و لم یقعد علی راس الرکعتین جاز استحساناً) اھ
ترجمہ:بے شک ایک شفع کی نیابت تروایح کے ساتھ خاص ہےاور بہرحال بقیہ سنن اور نوافل تو اگر چار رکعت پڑھیں، جیساکہ ظہر کی سنتیں یا چاشت کی نماز اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا تو مذہب صحیح پر استحسانا چاروں رکعتیں صحیح ہیں ، اور ہندیہ میں محیط کے حوالے سے ہے کہ ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھیں اور دوسری رکعت پر قعدہ نہیں کیا ،تو استحسانا جائز ہے ۔ (جدالممتار،ج3،ص470،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ ،کراچی)
قولِ امام ہونا یا استحسان ہونا بھی وجوہ ترجیح میں سے ہے۔چنانچہ جد الممتار میں ایک مسئلہ کی وجوہ ترجیح بیان کرتے ہوئے سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمدرضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:
اقول:و یجب الافتاء بقول الامام ،اما اولاً فلانہ قول الامام، و اما ثانیاً فلانہ استحسان
ترجمہ:میں کہتا ہوں :اور امام صاحب کے قول پر فتوی دینا واجب ہے ،بہرحال پہلی وجہ کیونکہ وہ امام صاحب کا قول ہے ،اور بہرحال دوسری وجہ کیونکہ وہ استحسان ہے ۔ (جد الممتار،ج3،ص472،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
الجوهرة النيرة میں ہے
وَإِذَا فَسَدَ الشَّفْعُ وَقَدْ قَرَأَ فِيهِ لَا يُعْتَدُّ بِمَا قَرَأَهُ فِيهِ وَيُعِيدُ الْقِرَاءَةَ لِيَحْصُلَ الْخَتْمُ فِي الصَّلَاةِ الْجَائِزَةِ،
ترجمہ: اور جب شفع فاسد ہو اور جو کچھ اس میں پڑھا تھا اس کا شمار نہیں کیا جائے گا اور قراءت کا اعادہ کیا جائے گا تاکہ نماز تراویح کے اندر ختم قران حاصل ہو۔[الحدادي، الجوهرة النيرة على مختصر القدوري، ٩٨/١]
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتبہ محمد یاسر عباسی
مورخہ 28/نومبر/2022