بغل میں بدبو ہوتو نماز کا حکم

بغل میں بدبو ہوتو نماز کا حکم

مفتی صاحب بغل میں بو تھی اور نماز پڑھ لی نماز کے بعد غور کیا گیا تو کیا سجد سہو یا نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے؟

بسم الله الرحمن الرحیم

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ

اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

پوچھی گئی صور ت میں نماز واجب الاعادہ نہ ہوئی کیونکہ بغل کی بدبو اتنی شدید نہیں ہوتی کہ نمازیوں کے لیے باعث ایذا ہو۔ ہاں اگر بہت زیادہ بدبو ہو تو اس حالت میں مسجد جانا ناجائز وحرام اور نماز پڑھنا بھی منع ہے جیسے منہ کی بدبو کے متعلق مکروہ تحریمی ہونے کی صراحت ہے۔نیز ہر نمازی کو چاہیے کہ نماز کا اہتمام یوں کرے کہ معمولی سی بھی بدبو جسم یا کپڑوں سے نہ آئے اور اپنے خالق و مالک کے حضور بہترین ہیئت، خوشبودار جسم و لباس کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہونا مستحب ہے۔

صحیح بخاری شریف میں ہے : ” سأل رجل أنس بن مالك: ما سمعت نبي الله صلى الله عليه وسلم يقول في الثوم؟ فقال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: ” من أكل من هذه الشجرة فلا يقربنا – أو: لا يصلين معنا – ” یعنی ایک شخص نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھا کہ لہسن کے متعلق حضور علیہ السلام کو کیا فرماتے ہوئے سنا، تو آپ نے فرمایا حضور علیہ السلام نے فرمایا جو اس درخت سے کھائے تو وہ ہمارے قریب نہ آئے یا ہمارے ساتھ نماز نہ پڑھے.

(صحيح البخاري، کتاب الأذان، باب ما جاء في الثوم الني والبصل، حدیث نمبر 856 ، 181/1)

مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے : ” فوجد رسول الله صلى الله عليه وسلم الريح فقال : « من أكل من هذه الشجرة الخبيثة شيئا، فلا يقربنا في المسجد » یعنی حضور علیہ السلام نے ایک دفعہ مسجد میں بدبو محسوس کی تو فرمایا جو اس (لہسن) خبیث درخت سے کچھ کھائے وہ مسجد کے قریب نہ آئے.

[صحيح مسلم، کتاب المساجد و موا ضع الصلاۃ، حدیث نمبر 565 ، ٣٩٥/١]

ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ” قلت: العلة اذى الملائكة واذى المسلمين ويلحق بما نص عليه في الحديث كل ما له رائحة كريهة من الماكولات وغيرها ، وانما خص الثوم هنا بالذكر، وفي غيره ايضا بالبصل والكراث لكثرة اكلهم بها ” یعنی میں کہتا ہوں کہ اس ممانعت کی علت ملائکہ اور مسلمانوں کو ایذا دینا ہے، اورحدیث میں جن چیزوں پر صراحت کی گئی ہے،ان کے ساتھ کھانے والی اور نہ کھانے والی ہر اس چیز کو لاحق کیا جائے گا،جو بدبودار ہو اور یہاں خاص طور پر لہسن اور دیگر احادیث میں پیاز اور گندنا کو بھی ذکر کیا گیا ہے، کیونکہ ان چیزوں کو کثرت سے کھایا جاتا ہے (ورنہ ممانعت ہر بدبو والی چیزکے ساتھ خاص ہے۔)

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری ، باب ما جاء فی الثوم النیئ، جلد4، صفحہ633، مطبوعہ ملتان)

فتاویٰ رضویہ شریف میں ہے : ” جس کے بدن میں بدبو ہو کہ اس سے نمازیوں کو ایذا ہو مثلاً معاذﷲ گندا دہن یا گندا بغل یا جس نے خارشی وغیرہ کے باعث گندھک ملی ہو اسے بھی مسجد میں نہ آنے دیا جائے.

(فتاوی رضویہ ، ج 8 ، ص 72 ، رضافاؤنڈیشن لاہور)

ایک مقام پر فرماتے ہیں : ” جب مُنہ میں بدبُو ہو تو مسجِد میں جانا حرام ، نَماز میں داخِل ہونا مَنع ۔”

(فتاوی رضویہ، ج 1 ، صفحہ 623 ، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ایک مقام پر فرماتے ہیں : ” جو لوگ غیر خوشبودار تمباکو کھاتے ہیں اور اسے منہ میں دبا رکھنے کے عادی ہیں ان کا منہ اس کی بدبو سے بس جاتا ہے کہ قریب سے بات کرنے میں دوسرے کو احساس ہوتا ہے اس طرح تمباکو کھانا جائز نہیں کہ یہ نماز بھی یوں ہی پڑھے گا اور ایسی حالت سے نماز مکروہ تحریمی ہے.

(فتاوی رضویہ ،ج 24، صفحہ 555، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

قرآن مجید میں ہے : ” یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ” ترجمہ : اے آدم کی اولاد! ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو.

(سورۃ الأعراف، آیت نمبر 31)

اس آیت کے تحت تفسیر نسفی میں ہے : ” والسنة أن يأخذ الرجل أحسن هيآته للصلاة لأن الصلاة مناجاة الرب فيستحب لها التزين والتعطر كما يجب التستر والتطهر” یعنی سُنت یہ ہے کہ آدمی بہتر ہیئت کے ساتھ نماز کے لئے حاضر ہو کیونکہ نماز میں رب عَزَّوَجَلَّ سے مناجات ہے تو اس کے لئے زینت کرنا اور عطر لگانا مستحب ہے جیسا کہ سترِ عورت اور طہارت واجب ہے۔

[تفسير النسفي= مدارك التنزيل وحقائق التأويل، سورہ اعراف، آیت نمبر 31 ، 1/564]

واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

کتبہ : ابو الحسن حافظ محمد حق نواز مدنی

نظرِ ثانی: ابو احمد مفتی انس رضا قادری دامت برکاتہم العالیہ

( مورخہ 22 دسمبر 2022، بمطابق 27 جمادی الاولی ، 1444ھ بروز جمعرات )

اپنا تبصرہ بھیجیں