کتے کو ویکسین لگوانےکے بعد اس کے تھوک کا حکم
سوال۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارے میں کہ کتے کو گھر میں رکھنا اور اس کا تھوک کیا ناپاک ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر اسے ویکسین لگادی جائے تو اس کا تھوک پاک ہوجاتا ہے اس بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شوقیہ کتا پالنا جائز نہیں ہے کہ حدیث پاک میں مذکور ہے کہ جس گھر میں کتا ہو وہاں رحمت کے فرشتے نہیں آتے اور شرعی طور پر صرف دوصورتوں میں کتے پالنے کی اجازت دی گئی ہے: ایک:گھر یاجانوروں یاکھیتی کی حفاظت کی سچی ضرورت ہوکہ کتارکھناہی پڑے گا،توان کی حفاظت کے لیے ۔اوردوسرا:شکارکے لیے جبکہ وہ شکار دوا یاغذا وغیرہ صحیح نفع بخش کام کے لیے ہو،محض تفریح کے لیے نہ ہو اور دوسرا کتے کا لعاب(تھوک) ناپاک ہے ،جس کپڑے کو یا جگہ کو کتے نے چاٹا ہے ،اگر اس پر کتے کے تھوک کی تری کااثر ظاہرہو ،تو اس صورت میں یہ کپڑا یا جگہ ناپاک ہوجائے گا اور اتنی جگہ یا کپڑا پاک کرنا ہوگا اور اگر تھوک کی تری نہیں لگی تو کپڑا پاک رہے گا لہذا کتے کا تھوک ناپاک ہے اور وہ کسی ویکسین وغیرہ لگانے سے پاک نہیں ہوگا لہٰذا گھر میں کتا پالنے کے لیے یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔
صحیح البخاری میں ہے
“لاتدخل الملائکة بیتًا فیه صورة ولا کلب”.
ترجمہ : رحمت کے فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر ہو یا کتا۔
(صحیح البخاري، جلد 5 ، صفحہ 17 ، حدیث 4002 ، مطبوعہ بیروت )
سنن ترمذی میں ہے
“عن أبي هريرة، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من اتخذ كلباً إلا كلب ماشية، أو صيد، أو زرع، انتقص من أجره كل يوم قيراط»۔”
یعنی جس شخص نے جانور اور کھیتی وغیرہ کی حفاظت یا شکار کے علاوہ کسی اور مقصد سے کتا پالا، اس کے ثواب میں ہرروز ایک قیراط کم ہوگا۔
(سنن الترمذي ، جلد 4 ، صفحہ 80 ، مطبوعہ کراچی)
فتاویٰ رضویہ میں ہے:” کتاپالناحرام ہے، جس گھرمیں کتاہو اس گھرمیں رحمت کا فرشتہ نہیں آتا، روز اس شخص کی نیکیاں گھٹتی ہیں۔۔۔ صرف دوقسم کے کتے اجازت میں رہے ایک شکاری جسے کھانے یادوا وغیرہ منافعِ صحیحہ کے لئے شکار کی حاجت ہو، نہ شکارِ تفریح کہ وہ خود حرام ہے، دوسرا وہ کتا جوگلے یا کھیتی یا گھر کی حفاظت کے لئے پالاجائے اور حفاظت کی سچی حاجت ہو، ورنہ اگرمکان میں کچھ نہیں کہ چورلیں یامکان محفوظ جگہ ہے کہ چور کااندیشہ نہیں، غرض جہاں یہ اپنے دل سے خوب جانتاہو کہ حفاظت کابہانہ ہے اصل میں کتے کاشوق ہے وہاں جائزنہیں، آخرآس پاس کے گھروالے بھی اپنی حفاظت ضروری سمجھتے ہیں اگربے کتے کے حفاظت نہ ہوتی تووہ بھی پالتے، خلاصہ یہ کہ اﷲتعالیٰ کے حکم میں حیلہ نہ نکالے کہ وہ دلوں کی بات جاننے والا ہے۔“(فتاویٰ رضویہ، جلد24،صفحہ657،658،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
بہار شریعت میں ہے
“جانور یازراعت یاکھیتی یا مکان کی حفاظت کے لیے یا شکار کے لیے کُتا پالنا جائز ہے اور یہ مقاصد نہ ہوں تو پالنا ناجائز اور جس صورت میں پالنا جائز ہے اُس میں بھی مکان کے اندر نہ رکھے البتہ اگر چور یا دشمن کا خوف ہے تو مکان کے اندر بھی رکھ سکتا ہے۔”
(بہار شریعت ،جلد 2، حصہ 11، صفحہ 814، مکتبہ المدینہ کراچی)
فتاوی ہندیہ میں ہے” عرق كل شيء معتبر بسؤره. كذا في الهداية۔۔۔وسؤر الكلب والخنزير وسباع البهائم نجس. كذا في الكنز“ترجمہ:ہر چیز کے پسینے کا وہی حکم ہے، جو اس کے جھوٹے کا ہے۔اسی طرح ہدایہ میں ہے۔ اور کتے ، خنزیر اور درندوں کا جھوٹا ناپاک ہے ۔اسی طرح کنز میں ہے۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الطھارۃ،ج 1،ص 23،24،دار الفکر،بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے :” الكلب إذا أخذ عضو إنسان أو ثوبه لا يتنجس ما لم يظهر فيه أثر البلل راضياً كان أو غضبان، كذا في منية المصلي۔“یعنی :اگر کتا کسی شخص کے بدن یا کپڑے کو منہ میں لے ،تو جب تک اس میں تری کے آثار ظاہر نہ ہوجائیں ،کپڑا وغیرہ ناپاک نہیں ہوگا ،غضبناک ہوکر یہ فعل کرے یا محبت میں دونوں صورتوں کا یہی حکم ہے ،منیۃ المصلی میں یونہی ہے ۔“۔(فتاوی ہندیہ،کتاب الطھارۃ،ج 1،ص25،دار الفکر،بیروت)
بہار شریعت میں ہے” جس کا جھوٹا ناپاک ہے اس کا پسینہ اور لعاب بھی ناپاک ہے اور جس کا جھوٹا پاک اس کا پسینہ اور لعاب بھی پاک اور جس کا جھوٹا مکروہ اس کا لعاب اور پسینہ بھی مکروہ۔سُوئر، کتا، شیر، چیتا، بھیڑیا، ہاتھی، گیدڑ اور دوسرے درندوں کا جھوٹا ناپاک ہے۔”
(بہار شریعت،ج 1،حصہ 2،ص 342،344،مکتبۃ المدینہ،کراچی)
واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم
کتبـــــــــــــــــــــــــہ
ARQF-01-2023
05جمادی الاولی 1446ھ07 نومبر 2024ء