صاحب ترتیب کی تعریف

صاحب ترتیب کی تعریف

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازوں میں ترتیب کب ضروری ہے صاحب ترتیب کون ہوتا ہے اور ترتیب کب ساقط ہوتی ہے؟

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ہدایۃ الحق و الصواب

صورت مسئولہ کا حکم یہ ہے کہ جب پانچ یا اس سے کم نمازیں قضا ہوں تو ترتیب ضروری ہے یعنی وقت کی فرض نماز پڑھنے سے پہلے پچھلی قضا شدہ نماز پڑھنا ضروری ہے اگر پچھلی قضا نماز یاد ہے پھر وقت کی فرض نماز ادا کی تو جائز نہیں ہوگی۔ لہذا فرض کی ادا نماز سے پہلے فوت شدہ نماز کو قضا کرنا ضروری اور لازم ہے۔ یہ ترتیب ادا اور قضا کی جملہ فرض نمازوں اور وتر میں ضروری ہے چاہے یہ قضا نمازیں الگ الگ قضا ہوئیں یا اکٹھی، نئی نماز قضا ہوئی ہو یا پرانی۔ مثلاً ظہر کی نماز قضا ہوئی تو عصر کی نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے ظہر قضا کرنا ضروری ہے اسی طرح رات کے وتر قضا ہوئے تو فجر کی نماز پڑھنے سے پہلے وتر قضا کرنا ضروری ہے۔

ترتیب ساقط ہونے کی چند صورتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ مستحب وقت اتنا تنگ ہو کہ صرف وقت کی فرض نماز پڑھ سکے تو پھر قضا شدہ نماز یاد ہونے کے باوجود بھی وقت کی فرض نماز پڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح ترتیب ساقط ہونے کی ایک صورت یہ ہے کہ قضا شدہ نمازیں بھول جائیں تو قضا شدہ نمازیں بھولنے کے سبب بھی وقت کی فرض نماز پڑھی تو اس کی ادائیگی درست ہوگی۔

اگر کسی کی چھ یا اس سے زیادہ فرض نمازیں قضا ہو جائیں تو اب اس سے ترتیب ساقط ہو جائے گی لہذا جب تک مکمل چھ یا زائد نمازیں قضا نہیں کر لے گا تب تک اس پر ترتیب ضروری نہیں ہوگی یہ صاحب ترتیب نہیں ہوگا جب قضا شدہ نمازیں مکمل ادا کر لیں تو اب دوبارہ سے ترتیب لازم ہو جائے گی۔

سنن نسائی میں ہے:

“عن أبي عبيدة قال: قال عبد الله: «إن المشركين شغلوا النبي صلى الله عليه وسلم عن أربع صلوات يوم الخندق، فأمر بلالا فأذن، ثم أقام فصلى الظهر، ثم أقام فصلى العصر، ثم أقام فصلى المغرب، ثم أقام فصلى العشاء.”

ترجمہ: ابو عبیدہ سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جنگ خندق (احزاب) کے دن مشرکین نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چار نمازوں سے روکے رکھا، چنانچہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان دی، پھر اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی، پھر بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے مغرب پڑھی، پھر انہوں نے اقامت کہی تو آپ نے عشاء پڑھی۔

(سنن نسائی ،كتاب الأذان، الاجتزاء لذلك كله بأذان واحد والإقامة لكل واحدة منهما، ج1، ص107، مطبوعہ کراچی)

فتاوى ہنديہ میں ہے:

“الترتيب بين الفائتة والوقتية وبين الفوائت مستحق، كذا في الكافي حتى لا يجوز أداء الوقتية قبل قضاء الفائتة، كذا في محيط السرخسي. وكذا بين الفروض والوتر، هكذا في شرح الوقاية.

ولو صلى الفجر وهو ذاكر أنه لم يوتر فهي فاسدة عند أبي حنيفة – رحمه الله تعالی ولو تذكر فائتة في تطوعه لم يفسد تطوعه؛ لأن الترتيب عرف واجبا في الفرض”.

یعنی وقتی پانچوں فرض نمازوں اور فوت شدہ نمازوں میں ترتیب ضروری ہے۔ اسی طرح کافی میں ہے فوت شدہ نماز کی قضا سے پہلے وقتی فرض نماز جائز نہیں اسی طرح محیط سرخسی میں ہے اسی طرح فرض و وتر میں ترتیب ضروری ہے جیسا کہ شرح وقایہ میں ہے مثلاً ظہر کی قضا ہوگئی تو فرض ہے کہ اسے پڑھ کر عصر پڑھے یا وتر قضا ہوگیا تو اُسے پڑھ کر فجر پڑھے ورنہ فجر امام صاحب کے نزدیک فاسد ہے۔ اگر نفل نماز میں فوت شدہ نماز یاد آئی تو تو فاسد نہیں ہوں گے کیونکہ فرض نماز میں ترتیب ضروری ہے۔

(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی عشر في قضاء الفوائت، ج1، ص121، دار الفکر بیروت)

الدرالمختار میں ہے:

“(الترتيب بين الفروض الخمسة والوتر أداء وقضاء لازم) يفوت الجواز بفوته… (إلا) استثناء من اللزوم فلا يلزم الترتيب (إذا ضاق الوقت المستحب)… ولو لم يسع الوقت كل الفوائت فالأصح جواز الوقتية…

(أو نسيت الفائتة) لأنه عذر(أو فاتت ست اعتقادية) لدخولها في حد التكرار المقتضي للحرج (بخروج وقت السادسة) على الأصح ولو متفرقة أو قديمة على المعتمد”.

یعنی پانچویں فرض نمازوں اور وتر میں ادا ہوں یا قضا ترتیب لازم و ضروری ہے ترتیب قائم نہ رکھنے سے نماز کی صحت فوت ہو گی یعنی نماز جائز نہ ہو گی۔ مگر یہ لزوم سے استثنا ہے یعنی ترتیب لازم نہیں ہو گی جبکہ مستحب وقت تنگ ہو اور اگر وقت تمام فوت شدہ نمازوں کی وسعت نہیں رکھتا تو وقتی فرض نماز جائز ہے۔ یا قضا شدہ نماز بھول جائے کیونکہ یہ عذر ہے یعنی اس کے سبب بھی ترتیب ساقط ہو جائے گی۔ اور ترتیب فوت ہونے کی صورتوں میں سے ایک یہ کہ چھٹی فرض نماز فوت یعنی قضا ہو جائے یوں کہ اس کا وقت ختم ہو جائے اصح قول پر، الگ الگ قضا ہوں یا پرانی قضا ہوں یہی معتمد قول ہے۔

(الدرالمختار مع ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، ج2، ص65 و 68، دار الفکر بیروت ملتقطاً)

ردالمحتار میں ہے:

“(قوله ولو متفرقة) أي يسقط الترتيب بصيرورة الفوائت ستا ولو كانت متفرقة كما لو ترك صلاة صبح مثلا من ستة أيام وصلى ما بينها ناسيا للفوائت.

(قوله أو قديمة على المعتمد إلخ) كما لو ترك صلاة شهر نسقا ثم أقبل على الصلاة ثم ترك فائتة حادثة، فإن الوقتية جائزة مع تذكر الفائتة الحادثة لانضمامها إلى الفوائت القديمة وهي كثيرة فلم يجب الترتيب”.

یعنی مصنف کا قول اگرچہ جدا جدا قضا ہوں یعنی چھ نمازیں فوت ہونے کے سبب ترتیب ساقط ہو جائے گی اگرچہ جدا جدا ہوں جیسے چھ دن کی نماز فجر چھوڑ دی اور درمیان کی نمازیں قضا شدہ کو بھول کر پڑھتا رہا۔

مصنف کا قول یا قضا نمازیں پرانی ہوں۔ جیسا کہ اگر ایک ماہ کی نماز چھوڑی پھر نماز شروع کی پھر کوئی نئی نماز چھوڑی یعنی قضا کر دی تو اب وقتی یعنی آئندہ فرض نماز قضا شدہ نمازیں یاد ہونے کے باوجود پڑھ سکتا ہے کیونکہ اب قضا شدہ نماز پرانی قضا شدہ نمازوں کے ساتھ مل جائے گی اور چونکہ قضا شدہ نمازیں زیادہ ہیں لہذا ترتیب لازم نہیں۔

(ردالمحتار، کتاب الصلاۃ، باب قضاء الفوائت، مطلب في تعریف الإعادۃ، ج2، ص68،69، دار الفکر بیروت)

بہار شریعت میں ہے:

“پانچوں فرضوں میں باہم اور فرض و وتر میں ترتیب ضروری ہے کہ پہلے فجر پھر ظہر پھر عصر پھر مغرب پھر عشا پھر وتر پڑھے، خواہ یہ سب قضا ہوں یا بعض ادا بعض قضا، مثلاً ظہر کی قضا ہوگئی تو فرض ہے کہ اسے پڑھ کر عصر پڑھے یا وتر قضا ہوگیا تو اُسے پڑھ کر فجر پڑھے اگر (ظہر یا وتر کی قضا نماز) یاد ہوتے ہوئے عصر یا فجر پڑھ لی تو ناجائز ہے”۔

اسی میں ایک اور مقام پر ہے:

“چھ نمازیں جس کی قضا ہو گئیں کہ چھٹی کا وقت ختم ہوگیا اس پر ترتیب فرض نہیں ، اب اگرچہ باوجود وقت کی گنجائش اور یادکے وقتی پڑھے گا ہو جائے گی خواہ وہ سب ایک ساتھ قضا ہوئیں مثلاً ایک دم سے چھ وقتوں کی نہ پڑھیں یا متفرق طور پر قضا ہوئیں مثلاً چھ دن فجر کی نماز نہ پڑھی اور باقی نمازیں پڑھتا رہا مگر ان کے پڑھتے وقت وہ قضائیں بھولا ہوا تھا خواہ وہ سب پرانی ہوں یا بعض نئی بعض پرانی مثلاً ایک مہینہ کی نماز نہ پڑھی پھر پڑھنی شروع کی پھر ایک وقت کی قضا ہوگئی تو اس کے بعد کی نماز ہو جائے گی اگرچہ اس کا قضا ہونا یاد ہو۔

جب چھ نمازیں قضا ہونے کے سبب ترتیب ساقط ہوگئی تو ان میں سے اگربعض پڑھ لی کہ چھ سے کم رہ گئیں تو وہ ترتیب عود نہ کرے گی یعنی ان میں سے اگر دو باقی ہوں تو باوجود یاد کے وقتی نماز ہو جائے گی البتہ اگر سب قضائیں پڑھ لیں تو اب پھر صاحب ترتیب ہوگیا کہ اب اگر کوئی نماز قضا ہوگی تو بشرائط سابق اسے پڑھ کر وقتی پڑھے ورنہ نہ ہوگی۔

یوہیں اگر بھولنے یا تنگی وقت کے سبب ترتیب ساقط ہوگئی تو وہ بھی عود نہ کرے گی مثلاً بھول کر نماز پڑھ لی اب یاد آیا تو نماز کا اعادہ نہیں اگرچہ وقت میں بہت کچھ گنجائش ہو”۔

(بہار شریعت قضا نماز کا بیان ج1 حصہ 4 ص703 و 705 مکتبۃ المدینہ کراچی ملتقطاً)

واللّٰہ تعالٰی اعلم و رسولہ اعلم باالصواب

صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ و علی آلہ و اصحابہ و بارک و سلم

ابوالمصطفٰی محمد شاہد حمید قادری

9 محرم الحرام 1446ھ

16جولائی2024ء منگل

اپنا تبصرہ بھیجیں