حیض ختم ہونے کے کتنے ٹائم کے بعد قربت کی اجازت ہے۔

حیض ختم ہونے کے کتنے ٹائم کے بعد قربت کی اجازت ہے۔

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ حیض ختم ہونے کے کتنی دیر بعد مرد اپنی بیوی سے قربت کر سکتا ہے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب

اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

اس مسئلے کی چند صورتیں ہیں

1 اگر حیض پورے دس دن پر ختم ہوا تو غسل کرنے سے پہلے قربت کرنا جائز اور غسل کر لینے کی بعد قربت کرنا مستحب

2 اگر دس دن سے پہلے پاک ہوئی اور عادت کے دن گزار چکے تو غسل کرنے کے بعد صحبت کرنا جائز اور اگر بیماری کی وجہ سے یا پانی نہ ہونے کی وجہ سے غسل نہ کر سکتی ہو تو تیمم کر کے نماز ادا کر لے یا پھر نماز کا وہ وقت ختم ہو جائے جس میں پاک ہوئی اور اگر وقت اتنا کم ہے کہ غسل کر کے کپڑے پہن کر اللہ اکبر نہ کہہ سکے تو پھر اگلی نماز کا وقت بھی گزر جائے اس صورت میں بغیر طہارت بھی صحبت جائز ورنہ نہیں

3 اور اگر عادت کے دنوں سے پہلے حیض ختم ہو جائے تو غسل کر کے نماز ادا کرے گی لیکن صحبت اس وقت تک جائز نہیں جب تک کہ عادت کے دن پورے نہ کر لے

عالمگیری میں ہے

إذَا مَضَى أَكْثَرُ مُدَّةِ الْحَيْضِ وَهُوَ الْعَشَرَةُ يَحِلُّ وَطْؤُهَا قَبْلَ الْغُسْلِ مُبْتَدَأَةً كَانَتْ أَوْ مُعْتَادَةً وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ لَا يَطَأَهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ.

ترجمہ جب حیض کی اکثر مدت گزر جائے جو کہ دس دن ہے تو عورت سے غسل کرنے سے پہلے وطی حلال ہے یہ حالت ابتداء ہو یا عادتاً ہو اور مستحب ہے کہ وطی نہ کرے یہاں تک کہ عورت غسل کر لے

وَإِذَا انْقَطَعَ دَمُ الْحَيْضِ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ لَمْ يَجُزْ وَطْؤُهَا حَتَّى تَغْتَسِلَ أَوْ يَمْضِيَ عَلَيْهَا آخِرُ وَقْتِ الصَّلَاةِ الَّذِي يَسَعُ الِاغْتِسَالَ وَالتَّحْرِيمَةَ؛ لِأَنَّ الصَّلَاةَ إنَّمَا تَجِبُ عَلَيْهَا إذَا وَجَدَتْ مِنْ آخِرِ الْوَقْتِ هَذَا الْقَدْرَ

ترجمہ

اور جب حیض کا خون دس دنوں سے کم میں ختم ہو جائے تو اس عورت سے وطی کرنا جائز نہیں یہاں تک کہ غسل کر لے یا اس پر نماز کا آخری وقت گزر جائے جس وقت میں اتنی وسعت ہو کہ وہ غسل کر لے اور تکبیر تحریمہ کہہ لیں کیونکہ نماز اس پر واجب ہے جب کہ وہ اتنی مقدار میں نماز کا اخری وقت پا لے

لَوْ انْقَطَعَ دَمُهَا دُونَ عَادَتِهَا يُكْرَهُ قُرْبَانُهَا وَإِنْ اغْتَسَلَتْ حَتَّى تَمْضِيَ عَادَتُهَا وَعَلَيْهَا أَنْ تُصَلِّيَ وَتَصُومَ لِلِاحْتِيَاطِ.

ترجمہ اگر حیض کا خون اس کی عادت سے کم دنوں میں ختم ہو گیا تو اس سے قربت کرنا مکروہ ہے اگرچہ غسل کر لے یہاں تک کہ اس کی عادت کے ایام گزر جائیں اور اس پر نماز اور روزہ احتیاطاً لازم ہے

وَلَوْ انْقَطَعَ لِأَقَلَّ مِنْ عَشَرَةِ أَيَّامٍ وَلَمْ تَجِدْ مَاءً فَتَيَمَّمَتْ لَمْ يَحِلَّ وَطْؤُهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ حَتَّى تُصَلِّيَ

ترجمہ

اور اگر حیض کا خون دس دن سے کم میں ختم ہو گیا اور عورت نے پانی نہ پایا تو تیمم کرے اور وطی حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ نماز پڑھ لے شیخین رحمھما اللہ تعالیٰ کے نزدیک

فتاویٰ عالمگیری جلد 1 صفحہ 39

مطبوعہ کبریٰ امیریہ مصر

صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ اس مسئلے کی صورتیں بیان کرتے ہوئے لکھتےہیں

پورے دس دن پر ختم ہوا تو پاک ہوتے ہی اس سے جماع جائز ہے، اگرچہ اب تک غسل نہ کیا ہو مگر مستحب یہ ہے کہ نہانے کے بعد جماع کرے۔دس دن سے کم میں پاک ہوئی توتاوقتیکہ غسل نہ کرلے یا وہ وقتِ نماز جس میں پاک ہوئی گزر نہ جائے جماع جائز نہیں اور اگر وقت اتنا نہیں تھا کہ اس میں نہاکر کپڑے پہن کر اﷲاکبر کہہ سکے تو اس کے بعد کا وقت گزر جائے یا غسل کرلے تو جائز ہے، ورنہ نہیں۔ عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تو اگرچہ غسل کرلے جماع ناجائز ہے تاوقتیکہ عادت کے دن پورے نہ ہولیں،جیسے کسی کی عادت چھ دن کی تھی اور اس مرتبہ پانچ ہی روز آیا تو اسے حکم ہے کہ نہا کر نماز شروع کردے مگر جماع کے لیے ایک دن اور انتظار کرنا واجب ہے۔“

(بہارِ شریعت، جلد1، صفحہ 383، مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

ممبر فقہ کورس

25ربیع الاول   1446 ھ /30ستمبر  2024 ء

اپنا تبصرہ بھیجیں