عذر کی وجہ سے مسبوق کا امام سے پہلے کھڑے ہونا

عذر کی وجہ سے مسبوق کا امام سے پہلے کھڑے ہونا

کسی عذر کی وجہ سے مسبوق شخص امام کے سلام پھیرنے سے پہلے ہی کھڑا ہو ائے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہو ا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب

مسبوق اگر کسی عذر کی وجہ سےامام کے دونوں سلام پھیرنے سے پہلے یا امام کے ایک سلام پھیرنے کے بعد دوسرے سلام سے پہلے اپنی بقایا نماز مکمل کرنے کے لیے اٹھ کھڑا ہو تو اس صورت میں ایسا کرنا مکروہ نہیں ہوگا، مثلاً

(1) مسبوق نے خفین (موزے) پہنے ہوئے ہیں اور اسے خطرہ ہو کہ اگر امام کے سلام پھیرنے کے بعد نماز مکمل کی تو مسح کی مدت ختم ہوجائے گی۔

(2) مسبوق معذور شرعی ہے، اور اسے نماز کا وقت نکلنے کا اندیشہ ہے۔

(3) جمعہ کی نماز میں عصر کا وقت داخل ہونے کا اندیشہ ہے یا فجر کی نماز میں سورج طلوع ہونے کا خطرہ ہے۔

(4) مسبوق کو اندیشہ ہو کہ امام کے سلام پھیرتے ہی اتنا رش ہوجائے گا کہ بعد میں اپنی نماز پوری کرنا مشکل ہوجائے گا۔

(5) مسبوق کو یہ اندیشہ ہو کہ تاخیر کی صورت میں اس کا وضو ٹوٹ جائے گا۔

تو اس طرح کے اعذار میں وہ امام کے دونوں سلام یا دوسرا سلام پھیرنے سے پہلے ہی اپنی نماز پوری کرنے میں مشغول ہوسکتا ہے۔

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ نمازی چوں کہ بقدرِ تشہد بیٹھنے اور ایک سلام پھیرنے کے بعد اٹھاتھا،اس لیے مذکورہ نمازی کی نماز ادا ہوگئی،پھرمذکورہ نمازی کا اپنی نماز مکمل کرنے کے لیےامام کے دوسرے سلام پھیرنے سے پہلے اٹھنامذکورہ بالا اعذار میں سے کسی عذر کی وجہ سے تھا تو یہ کھڑاہونا بلا کسی کراہت کے درست تھا،اور اگر یہ اٹھنا بلاعذر تھا تو یہ اٹھنا مکروہِ تحریمی تھا۔

شرح نور الإيضاح میں ہے :

و يسن انتظار المسبوق فراغ الإمام لوجوب المتابعة حتى يعلم أن لا سهو عليه

قوله: “ويسن إنتظار المسبوق فراغ الإمام” أي من تسليمه المرتين قوله: “لوجوب المتابعة” فإن قام قبله كره تحريما وقد يباح له القيام لضرورة كما لو خشي إن إنتظره يخرج وقت الفجر أو الجمعة أو العيد أو تمضي مدة مسحه أو يخرج الوقت وهو معذور وكذا لو خشي مرور الناس بين يديه والله سبحانه وتعالى أعلم وأستغفر الله العظيم

ترجمہ: جس کی امامت چھوٹ جائے اس کا انتظار کرنا سنت ہے جب تک کہ امام سلام نہ پھیر لے اس وقت تک اس کی اقتداء کرے جب تک اسے معلوم نہ ہو کہ وہ بھولا نہیں ہے۔امام کے خالی ہونے سے پہلے کا انتظار کرنا سنت ہے یعنی اسے دو نوں طرف سلام پھیرنے سے، اور کہا : واجب ہے پیروی کرناا سے اگر وہ اس سے پہلے اٹھے تو مکروہ تحریمی ہے، اور اس کے لیے ضرورت سے اٹھنا جائز ہو سکتا ہے، جیسے کہ اگر اسے ڈر ہو کہ اگر وہ اس کا انتظار کرے گا تو فجر، جمعہ یا عید کا وقت آ جائے گا، یا مسح کرنے کا وقت گزر جائے گا یا مسح کا وقت ختم ہو جائے گا، اور اسی طرح اگر اسے خوف ہو کہ لوگ اس کے سامنے سے گزر جائیں گے، اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، اور میں اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔

(كتاب الصلاة، فصل في بيان سننها، ص:276، ط: دار الكتب العلمية بيروت – لبنان)

البحر الرائق میں ہے:

ومن أحكامه أنه لا يقوم إلى القضاء قبل التسليمتين بل ينتظر فراغ الإمام بعدهما لاحتمال سهو على الإمام فيصبر حتى يفهم أنه لا سهو عليه إذ لو كان لسجد وقيده في فتح القدير بحثا بأن محله ما إذا اقتدى بمن يرى سجود السهو بعد السلام إما إذا اقتدى بمن يراه قبله فلا قلت: الخلاف بين الأئمة إنما هو في الأولوية فربما اختار الإمام الشافعي أن يسجد بعد السلام عملا بالجائز فلهذا أطلقوا استنظاره ومن أحكامه أنه لا يقوم المسبوق قبل السلام بعد قدر التشهد إلا في مواضع إذا خاف وهو ماسح تمام المدة لو انتظر سلام الإمام أو خاف المسبوق في الجمعة والعيدين والفجر أو المعذور خروج الوقت أو خاف أن يبتدره الحدث أو أن تمر الناس بين يديه

ولو قام في غيرها بعد قدر التشهد صح ويكره تحريما؛ لأن المتابعة واجبة بالنص قال عليه السلام «إنما جعل الإمام ليؤتم به فلا تختلفوا عليه» وهذه مخالفة له إلى غير ذلك من الأحاديث المفيدة للوجوب

ترجمہ:اس کے احکام میں سے یہ ہے کہ وہ دو سلاموں سے پہلے نماز کی قضاء کے لیے کھڑا نہیں ہوتا بلکہ امام کی طرف سے غلطی کے امکان کی وجہ سے ان کے بعد امام کے ختم ہونے کا انتظار کرتا ہے، لہٰذا صبر کرتا ہے جب تک کہ وہ نماز نہ پڑھے یہاں تک کہ سمجھتا ہےکہ اس پر کوئی بھول نہیں ہے، کیونکہ اگر وہ سجدہ کرتا تو سجدہ کرےاور فتح القدیر میں ہےکر لیتاتو یہ سمجھتے ہوئے کہ اگر اس شخص کی مثال پر عمل کرے جو سلام کے بعد سجدہ بھول جانے کو سمجھتا ہے۔ یا تو اگر وہ مثال کی پیروی کرتا ہے۔ جو اس کے سامنے دیکھے تو میں نے یہ نہیں کہا: ائمہ کا اختلاف صرف ترجیح کے بارے میں ہے، شاید امام شافعی نے جائز کے مطابق سجدہ کیا ہو۔اس وجہ سے انہوں نے اسے مسبوق کہا ہے اور اس کے احکام میں سے ایک یہ ہے کہ سلام سے پہلے جلدی کرنے والا تشہد کے وقت کے بعد کھڑا نہ ہو، سوائے مخصوص حالتوں میں جب وہ مکمل طور پر پاک ہو چکا ہو تشہدوہ مسبوق جب وہ امام کے سلام کا انتظار کرتا ہو، یا جمعہ، دو عیدوں اور فجر میں دیر ہونے کا ڈر ہو، یا وقت ختم ہونے سے عذر ہو یا اسے خوف ہو کہ واقعہ اس کے لیے جلدی کر دے گا۔

یا لوگوں کے لیے اس کےسامنے سے گزرنا ہے۔اگر فرض تشہد پڑھنے کے بعد دوسری نمازوں میں کھڑا ہو تو یہ صحیح ہے اور قطعی ناپسندیدہ ہے۔ کیونکہ تقلید متن کے مطابق واجب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “امام کو صرف تقلید کے لیے مقرر کیا گیا تھا، اس لیے اس نے نہیں کیا۔اس پر اختلاف کرنا اس کے اور اس کے فرض کے لیے مفید دیگر احادیث کے منافی ہے۔

(كتاب الصلاة، باب الحدث في الصلاة، ج:1، ص: 401، ط: دار الكتاب الإسلامي)

رد المحتار على الدر المختار میں ہے:

وينبغي أن يصبر حتى يفهم أنه لا سهو على الإمام، ولو قام قبل السلام هل يعتد بأدائه، إن قبل قعود الإمام قدر التشهد لا، وإن بعده نعم. وكره تحريما إلا لعذر: كخوف حدث، وخروج وقت فجر وجمعة وعيد ومعذور، وتمام مدة مسح، ومرور مار بين يديه۔

(قوله وينبغي أن يصبر) أي لا يقوم بعد التسليمة أو التسليمتين، بل ينتظر فراغ الإمام بعدهما كما في الفيض والفتح والبحر. قال الزندويستي في النظم يمكث حتى يقوم الإمام إلى تطوعه أو يستند إلى المحراب إن كان لا تطوع بعدها. اهـ. قال في الحلية: وليس هذا بلازم، بل المقصود ما يفهم أن لا سهو على الإمام أو يوجد له ما يقطع حرمة الصلاةـ

ترجمہ: اس کو صبر کرنا چاہئے جب تک کہ وہ یہ نہ سمجھے کہ امام کی طرف سے کوئی بھول نہیں ہے اور اگر وہ سلام سے پہلے کھڑا ہو جائے تو کیا اس کی نماز امام کے بیٹھنے سے پہلے تشہد کی مقدار نہیں ہوگی اور اس کے بعد، ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے حرام ہونے کو بالکل ناپسند فرمایا سوائے کسی عذر کے: جیسے خوف، فجر کا وقت ختم ہو جانا، جمعہ، عید، اور عذر، مسح کی مدت کا پورا ہو جانا، اور کسی کے سامنے سے گزرنا۔

فرمایا: “اور اسے صبر کرنا چاہیے۔” یعنی وہ ایک یا دو سلام پھیرنے کے بعد کھڑا نہیں ہوتا ہے، بلکہ امام کے ان کے بعد ختم ہونے کا انتظار کرتا ہے، جیسا کہ الفيض والفتح والبحر میں ہے۔ الزندويستي في النظم نے کہا ہے کہ جب تک امام اپنی نفلی نماز کے لیے کھڑا نہ ہو جائے (یا بیٹھ نہ جائے محراب کی جانب) اس وقت تک قیام کرے یا اس کے بعد نفلی نماز نہ پڑھنے کی صورت میں محراب پر ٹیک لگائے۔ اوہ۔ اس نے اندر کہا حلیہ میں ہے: یہ ضروری نہیں ہے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ امام کی طرف سے کوئی غفلت نہیں ہے یا کوئی ایسی چیز ہے جو نماز کی حرمت میں خلل ڈالتی ہے۔

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:597، ط: سعيد)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

(ومنها) أنه يقوم قبل السلام بعد قدر التشهد إلا في مواضع إذا خاف المسبوق الماسح زوال مدته أو صاحب العذر خاف خروج الوقت أو خاف المسبوق في الجمعة دخول وقت العصر أو دخول وقت الظهر في العيدين أو في الفجر طلوع الشمس أو خاف أن يسبقه الحدث له أن ينتظر فراغ الإمام ولا سجود السهو أما إذا كان لا تفسد الصلاة بخروج الوقت يتابع وكذا إذا خاف المسبوق أن يمر الناس بين يديه لو انتظر سلام الإمام قام إلى قضاء ما سبق قبل فراغه. كذا في الوجيز للكردري ولو قام في غيرها بعد قدر التشهد صح ويكره تحريما كذا في فتح القدير والبحر الرائق وإن قام قبل أن يقعد قدر التشهد لم يجز

ترجمہ:اور اگر وہ کھڑا ہوتشہد کے وقت کے بعد سلام سے پہلے ادا کرنے سوائے ان صورتوں کے جن میں مسح نہ کرنے والے کو اندیشہ ہو کہ اس کی مدت ختم ہو گئی ہے، یا عذر والے کو وقت ختم ہونے کا اندیشہ ہو، یا جس نے مسح نہ کیا ہو جمعہ کی نماز میں ظہر کا وقت شروع ہونےوقت عصر کے شروع ہوجانے کا، یا دو عیدوں کے دن ظہر کا وقت شروع ہونے یا سورج کے طلوع ہونے کا اندیشہ تھا۔یا اگر اس کو خدشہ ہو کہ حدث واقع ہو جائے گا اس سے پہلے ہو جائے تو وہ امام کے ختم ہونے کا انتظار کر سکتا ہے اور سجدہ سہو نہیں کر سکتا، لیکن اگر وقت ختم ہونے سے نماز باطل نہ ہو جائے تو اسے جاری رکھنا چاہیے۔ جس نے اسے چھوڑ دیا اس کو ڈر ہے کہ لوگ اس کے سامنے سے گزر جائیں گے تو وہ امام کے سلام کا انتظار کرے تو اسے ختم کرنے سے پہلے وہی کرنا چاہئے جو پہلے بیان کیا گیا تھا۔جیسا کہ الوجيز للكردري میں بھی یہی ہے اور اگر مکمل تشہد کے بعد کسی اور وقت کھڑا ہو جائے تو یہ صحیح ہے اور فتح القدیر اور بحر الرائق میں بھی اسی طرح مکروہ ہےاور اگر تشہد کے لیے بیٹھنے سے پہلے کھڑا ہو جائے تو جائز نہیں۔

(كتاب الصلاة، الباب الخامس في الإمامة، الفصل السابع في المسبوق واللاحق، ج:1، ص:91، ط: دارالفكر)

واللہ اعلم

کتبہ

Arqf – 2024 – 62

26-09-2024

اپنا تبصرہ بھیجیں