شادی کےلیے نوٹ خریدنا

شادی کےلیے نوٹ خریدنا

سوال شادی کے لئے نئے نوٹ خریدنا کیسا ؟ کیا یہ سود میں شمار ہوگا

بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب الھم ھدایۃ الحق والصواب

نئے نوٹوں کی پرانے نوٹوں کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ نقد خرید وفروخت جائز ہے سود نہیں ، کیونکہ سود کی دو علتیں ہیں 1 قدر 2 جنس اگر یہ دونوں پائی جائیں تو کمی بیشی اور ادھار دونوں حرام ہوتے ہیں اور اگر ایک پائی جائے ، تو کمی بیشی جائز اور ادھار حرام ہوتا ہے اور پرانے نوٹوں کی نئے نوٹوں کے بدلے کمی بیشی کے ساتھ خرید وفروخت میں سود کی دوسری علت (قدر) مفقود ہے کہ نوٹ نا مکیلی ہوتے ہیں اور نا موزونی بلکہ عددی ہوتے ہیں

فتاوی رضویہ میں ہے: ’’ اولاً ہمارے جمیع علماء رحمہم اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی کہ حرمت ربا کی علت وہ خاص اندازہ یعنی ناپ یا تول ہے ۔ اتحاد جنس کے ساتھ، تو اگر قدر و جنس دونوں پائی جائیں ، تو بیشی اور ادھار دونوں حرام ہیں اور اگر وہ دونوں نہ پائی جائیں ، تو حلال ہیں اور اگر دونوں میں سے ایک پائی جائے، تو بیشی حلال اور ادھار حرام ہے اور یہ ایک عام قاعدہ ہے جو کہیں منتقض نہیں اور بابِ ربا کے جمیع مسائل اسی پر دائرہیں۔‘‘( فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ446،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

فتاوی رضویہ میں ہے:’’اتحاد جنس سے تو تفاضل حرام نہیں ہوجاتا، اتحاد قدر بھی تو لازم ہے، نوٹ سرے سے قدر ہی نہیں رکھتا کہ نہ مکیل ہے، نہ موزون، بلکہ معدود ہے۔‘‘(فتاوی رضویہ،جلد17،صفحہ527،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن)

واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب

3 جمادی الاول 1446ھ 5 نومبر 2024ء

اپنا تبصرہ بھیجیں