مطالبہ فدک اجتہاد تھا یا نہیں؟

مطالبہ فدک اجتہاد تھا یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ خاتونِ جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب خلیفہ اول بلافصل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے باغ فدک کا مطالبہ کیا تھا تو یہ مطالبہ قرآن کی آیت کے تحت عموم پر تھا یا اجتہاد تھا؟اگر اجتہاد تھا تو اجتہادی خطا کہنا کیسا ہے؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الجواب بعون الوہاب اللہم ہدایۃالحق والصواب

بیان کی گئی صورت کے حوالے سے مستند کتب اور اکابرعلمائے کرام سے دونوں طرح کے اقوال ثابت ہیں اس لیے کسی ایک قول کو لے کر اس میں شدت کرنا درست نہیں۔

کشف الاسرار اور دیگر کئی کتب میں میں ہے

قد اشتهر الاحتجاج بالعمومات عن عامة الصحابة – رضي الله عنهم – في الوقائع من غير نكير من أحد فإنهم عملوا بقوله تعالى {يوصيكم الله في أولادكم} [النساء: 11] فاستدلوا به على إرث فاطمة – رضي الله عنها – حتى نقل أبو بكر – رضي الله عنه – «نحن معاشر الأنبياء لا نورث ما تركناه صدقة»

ترجمہ: واقعات میں عموم سے استدلال کرنا بغیر کسی انکار کے عام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مشہو ر تھا۔انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان: پر عمل کرتے ہوئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے وراثت پر استدلال کیا ،یہاں تک کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ حدیث پاک پیش کی: ہم انبیاء علیہم السلام وراثت نہیں چھوڑتے جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے۔(كشف الأسرار شرح أصول البزدوي،جلد 1،صفحہ302،دار الكتاب الإسلامي)

بدایہ والنھایہ میں ابن کثیر لکھتے ہیں

”وقد روینا ان فاطمۃ رضی اللّٰہ عنھا احتجت اولا بالقیاس و بالعموم فی الآیۃ الکریمۃ فاجابھا الصدیق بالنص علی الخصوص بالمنع فی حق النبی“

ترجمہ:ہم نے روایت کیا کہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنھا پہلے قیاس اور آیت کریمہ کے عموم سے استدلال فرمایا، حضرت صدیق اکبر رضی اللّٰہ عنہ نے نص کے ذریعے جواب دیا کہ حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے حق میں یہاں پر منع خاص ہے۔(البدایہ والنہایہ،جلد5، صفحہ289، دار الفکر ،بیروت)

عمدۃ القاری اور التوضيح لشرح الجامع الصحيح میں ہے:

قَالَ القاضي عياض: تأول قوم طلب فاطمة ميراثها من أبيها على أنها تأولت الحديث إن كان بلغها على الأموال التي لها بال، فهو الذي لا يورث لا ما يتركون من طعام وأثاث وسلاح ، وهذا التأويل يرده قوله: مما أفاء الله عليه.وقوله: (مما ترك من خيبر وفدك وصدقته بالمدينة)، وقيل: إن طلبها لذلك قبل أن يبلغها الحديث، وكانت متمسكة بآية الوصية.

(التوضيح لشرح الجامع الصحيح،جلد18،صفحہ383،دار الفلاح للبحث العلمي وتحقيق التراث)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

قال القاضي عياض وقد تأول قوم طلب فاطمة رضي الله عنها ميراثها من أبيها على أنها تأولت الحديث إن كان بلغها قوله صلى الله عليه وسلم لا نورث على الأموال التي لها بال فهي التي لا تورث لا ما يتركون من طعام وأثاث وسلاح وهذا التأويل خلاف ما ذهب إليه أبو بكر وعمر وسائر الصحابة رضي الله عنهم

(المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج،جلد12،صفحہ73،دار إحياء التراث العربي،بيروت)

فواتح الرحموت شرح مسلم میں ہے

”واھل بیت کسائر المجتھدین یجوز علیھم الخطاء فی اجتھادھم وھم یصیرون ویخطئون علیہ وکذا علیھم الزلہ کما وقع من سید النساء رضی اللہ عنھا من ھجراتھا خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حین منعھا باغ فدک من جھہ المیراث ولا ذنب فیہ لنا ما تواتر عن الصاحبہ والتابعین من انھم کانو مجتھدین ویفتون خلاف ما افتی بہ اھل بیت وھذا یفید علما ضروریا بان کل واحد من الائمہ بل مقلدین ایاھم ایضا من الصحابہ ومن بعدھم کانوا عالمین بعدم عصمہ عن الخطاءالاجتھادی۔۔۔۔۔۔ من ھذا الخطاء الاجتھادی الم تر کیف رد عبد اللہ بن مسعود وقول امیر المومنین علی فی عدہ الحامل المتوفی عنھا زوجھا ولم یعب علی منازع اھل بیت فی الاحکام بشیء وایضا لم یقل واھل بیت فانھم“

ترجمہ:اہل بیت دیگر مجتہدین کی طرح ہیں ان پر خطاء جائز ہے بلکہ وہ کبھی خطا کرتے ہیں اور کبھی درستگی کو پاتے ہیں۔۔اہل بیت سے لغزش واقع ہونا بھی جائز ہے جیسے کہ بی بی فاطمہ سے لغزش واقع ہوئی اور خطاء واقع ہوئی خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں باغ فدک میں میراث کے متعلق مگر اس پر بھی گناہ نہیں ہے اور تواتر سے ہے کہ صحابہ اور تابعین مجتھدین نے اہل بیت کے فتاویٰ کے خلاف فتویٰ دیا اور یہ علمی ضرورت کو مفید ہے کہ ان میں سے ہر ایک آئمہ کا مقلدین کے اگرچہ ان کے اجتھاد میں خطاء واقع ہوئی ہو تو ان پر عمل کرنے والے پر گناہ نہیں ہوگا کہ یہ اجتھادی خطاء ہے ۔اسی طرح اہل بیت کے صحابہ کرام سے الگ تفردات گزرے ہیں جس پر اگرچہ فتوی نہیں دیا گیا لیکن کوئی مذمت بھی نہیں کی گئی ۔۔۔صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں یہ سمجھتے تھے کہ ان سے خطائے اجتہادی کا صدور ہو سکتا ہے بلکہ ہوا ہے جیسے تم نے نہیں دیکھا کہ اس خطاء اجتھادی میں حضرت عبداللہ بن مسعود نے کس طرح رد کیا امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ قول کا جو حاملہ متوفی زوجھا کی عدت کے معاملے میں واقع ہوئی اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے اجتہادی خطائیں تفردات واقع ہوئے ہیں جو جمہور کے خلاف تھے لیکن فتوی جمہور پر دیا گیا لیکن تفردات اہل بیت کی مذمت نہ کی گئی۔( فوتح الرحموت شرح مسلم ، جلد 2 صفحہ 279،دار الکتب العلمیہ بیروت)

فتح الباری شرح صحیح بخاری میں ہے

“واما سبب غضبھا مع احتجاج ابی بکر بالحدیث المذکور فلاعتقادھا تاویل الحدیث علی خلاف ماتمسک بہ ابوبکر وکانھا اعتقدت تخصیص العموم فی قولہ لانورث ورات ان منافع ماخلفہ من ارض و عقار لایمنع ان تورث عنہ و تمسک ابوبکر بالعموم واختلفا فی امر محتمل للتاویل ۔

ترجمہ: بہر حال سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنھا کے ناراض ہونے کا سبب باوجود اس کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنھا کے مذکورہ حدیث پاک سے استدلال کیا (دلیل پکڑی ) اس لئے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا حدیث پاک کی جو تاویل اپنے اعتقاد میں رکھتی تھی وہ اس تاویل کے خلاف تھی جس سے سید ناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دلیل پکڑی گویاکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان (لانورث ترجمہ:ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوگی) میں جو عموم ہے اس کی تخصیص کا اعتقاد رکھتی تھیں ،اور یہ خیال فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو زمین وغیرہ اپنے پیچھے چھوڑ گئے ہیں ان کے منافع کے وارث بننے سے کوئی چیز مانع نہیں ہے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نےحدیث پاک کے عموم سے دلیل پکڑی لہذا تاویل کی وجہ سے دونوں ہستیاں ایک محتمل معاملہ میں رائے کے اعتبار سے مختلف ہوگئے ۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری ،ج6، ص249،قدیمی کتب خانہ کراچی)

فتح الباری میں ہے

”والذی یظہر واللہ اعلم حمل الامر فی ذلک علی ماتقدم فی الحدیث الذی قبلہ فی حق فاطمۃ وان کلا من علی و فاطمۃ والعباس اعتقد ان عموم قولہ “لانورث ” مخصوص ببعض مایخلفہ دون بعض ولذلک نسب عمر الی علی و عباس انھما کانا یعتقدان ظلم من خالفہما فی ذلک“

ترجمہ: حقیقت حال کا علم تو اللہ پاک ہی زیادہ جانتا ہے لیکن جوبات (روایات سے ) ظاہر ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس بارے میں معاملہ کواسی بات پر محمول کیا جائے جوبات اس سے پہلے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے حق میں حدیث پاک کے ضمن میں گزری ،کہ سیدنا علی ،سیدہ فاطمہ اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم اجمعین نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان “لانورث”( ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی )کے عموم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ترکہ میں بعض چیزوں میں مخصوص سمجھتے تھے اور بعض میں نہیں ،اسی وجہ سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنھما کی طرف یہ بات منسوب کی کہ وہ دونوں اس معاملہ میں جو بھی ان کا اختلاف کرے وہ اسے ظلم سمجھتے تھے ۔(فتح الباری شرح صحیح بخاری ،جلد6،صفحہ255،قدیمی کتب خانہ ،کراچی)

الآلی المصنوعہ فی احادیث الموضوعہ میں جلال الدین سیوطی (المتوفى: 911هـ)علیہ الرحمہ لکھتے ہیں :

(ابْن عَدِيّ) حَدَّثَنَا مُحَمَّد بْن مُوسَى الْأَيْلِيّ حَدَّثَنَا عُمَر بْن يَحْيَى حَدَّثَنَا سُلَيْمَان بْن عَمْرو النَّخَعِيّ عَنِ الْكَلْبِيّ عَنْ أَبِي صالِح عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَرْفُوعًا: الْخُنْثَى يَرِثُ مِنْ قِبَلِ مَبَالِهِ.

لَا يَصِّح الْكَلْبِيّ والنَّخَعِيّ وأَبُو صَالح كذابون قَالَ ابْن عدي وَالْبَلَاء فِيهِ مِنَ الْكَلْبِيّ ذكر أَبُو مُحَمَّد بْن قُتَيْبَة أَن فَاطِمَة خرجت فِي ثَلَاثَة من نسائها فتوطأ ذيولها حَتَّى دخلت عَلَى أَبِي بَكْر فكلمته يَعْنِي فِي الْمِيرَاث قَالَ ابْن قُتَيْبَة كُنْت أرى أَن لهَذَا أصلا فَقَالَ لي بعض نقلة الْأَخْبَار: أَنَا أسن منْ هَذَا الْحَدِيث وَأعرف منْ عمله قلت: فِي الصَّحِيحَيْنِ وَغَيرهمَا منْ طرق عَنْ عَائِشَة أَن فَاطِمَة أَتَتْ أَبَا بَكْر رَضِيَ اللَّه عَنْهُ تلتمس مِيرَاثهَا منْ رَسُول الله فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْر إِن رَسُول الله قَالَ: لَا نورث مَا تركنَا صَدَقَة.

وَفِي تَارِيخ ابْن النَّجّار بِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي جَعْفَر بْن المُهْتَدِي قَالَ لَا شكّ أَن فَاطِمَة والْعَبَّاس علما أَن النَّبِيّ قَالَ: نَحْنُ معاشر الْأَنْبِيَاء لَا نورث مَا تركنَا صَدَقَة. فتأولت فَاطِمَة والْعَبَّاس أَن ذَلِكَ فِي الكراع وَالسِّلَاح وَآلَة الْجِهَاد دون المَال وأخبرهما أَبُو بَكْر أَن المُرَاد جُمَيْع مَا يملكهُ واللَّه أَعْلَم.

ترجمۃ: محمد بن موسی ایلی نے ہمیں بیان کیا ،کہا ہم سے عمر بن یحی نے بیان کیا ،کہا کہ ہمیں سلیمان بن عمرو نے بیان کیا کلبی سے اس نے ابو صالح سے انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعا بیان کیا کہ خنثی کی شرمگاہ سے وراثت کا فیصلہ ہوگا۔یہ صحیح طور پر ثابت نہیں ہے کہ کلبی ،نخعی اور ابو صالح کذاب ہیں ابن عدی نے کہا اس میں مصیبت کلبی کی طرف سے ہے ۔ابومحمد بن قتیبہ نے ذکر کیا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا تین عورتوں کے ساتھ نکلی جنکے کپڑے کے پلو زمین روند رہے تھے یہاں تک کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں اور ان سے وراثت کے متعلق گفتگو کی ابن قتیبہ نے کہا کہ میرا خیال ہے اس کی کوئی اصل ہے ۔مجھےکسی خبریں بتانے والے نے کہا کہ میں اس حدیث کے متعلق زیادہ تجربہ رکھتا ہوں اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی زیادہ جانتا ہوں تو میں نے کہا کہ صحیحین میں اور ان کے علاوہ کتب میں بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے چند طرق سے یہ مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وراثت کا مطالبہ کرنے لگی تو انہوں نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہم کسی کووارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتاہے ۔

تاریخ ابن نجار میں ان کی سند جو ابوجعفر بن مہتدی سے ہے کہا اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ سیدہ فاطمہ اور سیدناعباس رضی اللہ عنہما جانتے تھے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:کہ ہم گروہ انبیاء کسی کو وارث نہیں بناتے ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتاہے تو فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے تاویل کی کہ یہ فرمان مویشیوں ،ہتھیار اور آلات جہاد کے متعلق ہے نہ کہ مال کے متعلق اور ان دونوں کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ اس فرمان سے مراد وہ تمام مال ہے جو ان مقدس ہستیوں کی ملکیت میں ہوتاہے ۔اور اللہ پاک ہی زیادہ علم رکھتا ہے ۔

( اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة،ج2،ص367،دار الکتب العلمیہ ،بیروت)

علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:

”ان فاطمۃ رضی اللّٰہ عنھا رضیت بقول ابی بکر بعد ہذہ المناظرہ وانعقد الاجماع علی صحۃ ما ذہب الیہ ابوبکر“

ترجمہ: بیشک حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا اس مباحثہ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ سے راضی ہو گئیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللّٰہ عنہ کے مؤقف کی صحت پر اجماع منعقد ہو گیا۔(تفسیر کبیر للرازی،ج9، ص514، دار احیاء التراث العربی بیروت)

غزالی زماں حضرت علامہ سیّد احمد سعید شاہ صاحب کاظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ‘مشکلات الحدیث ‘ میں فرماتے ہیں:” باغ فدک کے معاملے میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا اجتہاد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اجتہاد سے بہتر تھا۔“ (مشکلات الحدیث مسلہ فَدَک ،صفحہ نمبر 207 ،مطبوعہ ورلڈ ویو پبلیشرز اردو بازار لاہور)

نعمۃ الباری میں ہے:

”بہرحال حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے اس بارے میں جو جاری ہوا وہ ان کا اجتھاد تھا اور ہم اللہ عزوجل سے یہ امید رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف فرمائے گا۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اجتھاد کے باب سے ہے اگر سیدہ رضی اللہ عنھا کا اجتھاد صحیح ہوتا تو ان کو اس میں دو اجر ملتے اور اگر خطاء ہے تب بھی انہیں بہرحال ایک اجر ملے گا اور ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور مخلوق کو گواہ کر کے کہتے ہیں کہ اس باب میں صحت اور ثواب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا اور ان کے باقی اصحاب کے ساتھ تھا ۔۔۔۔امام بخاری نے اس حدیث کو کتاب الفرائض میں روایت کیا ہے تاکہ آیات فرائض عام ہیں اور ہر شخص جو کہ ترکہ چھوڑے وہ اس کے وارثوں میں تقسیم کردیا جاتا ہے ماسوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کیونکہ آپ اپنے ترکہ کا وارث کسی کو نہیں بناتے جیسے باقی لوگوں کو وارث بنایا جاتا ہے پس اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے حکم کو سنت کے ساتھ خاص کرلیا گیا ہے اور کتاب کو سنت کے ساتھ خاص کرنا بہت عام ہے یعنی کوئی غریب اور اجنبی بات نہیں ہے کہ بعض معاملات میں نصوص قرآن مجید میں عام ہوتی ہے پھر سنت میں ان کو خاص کرلیا جاتا ہے پھر امام بخاری نے عروہ کی حدیث کو ذکر کیا ہے کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے۔“(نعمہ الباری شرح صحیح البخاری، کتاب الفرائض، جلد 14، صفحہ 841، ضیاء القرآن پبلی کیشنز)

واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

ابو احمد مفتی محمد انس رضا قادری

23ذوالقعدہ1445ھ01 جون 2024ء

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں