چالیس دن عدت کرنے کاحکم

چالیس دن عدت کرنے کاحکم

کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں ایک گاؤں میں رہتا ہوں وہاں ایک عورت کے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے اب وہ عورت کہ رہی ہے کہ میں40 دن عدت کروں گی میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں یعنی ہمارے گاؤں میں یہ رواج ہے کہ عورت عدت میں ایک ہی جگہ بیٹھے کوئی کام وغیرہ نہ کرے اسوجہ سے عورت یہ کہ رہی ہے کہ میں 40 دن عدت کروں گی مجھے اپنے بچے بھی سنبھالنے ہیں اسکا جواب عنایت فرمادیجیے (سائل علی محمد)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الجواب۔ بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

پوچھی گئی صورت میں عورت 40 دن عدت نہیں کرسکتی بلکہ انکو چار ماہ دس دن عدت میں بیٹھنا ضروری ہے اگر اسکا خلاف کرے گی تو گناہ گار ہوگی کہ جس عورت غیر حاملہ کا شوہر انتقال کرجائے تو اسکی عدت 4 ماہ 10 دن ہے جسکو مکمل کرنا عورت پر لازم ہے ۔

قرآن کریم میں ہے

وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ)

( سورۃ البقرہ ،پارہ 2،آیت 234)

تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے۔…

بہار شریعت میں ہے

موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشرطیکہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو۔

(بہار شریعت، حصہ8 جلد2 ص 237 مکتبۃ المدینہ کراچی)

واللہ اعلم و رسولہ اعلم

کتبـــــہ

ممبر فقہ کورس

11 شعبان المعظم 1446ھ 10 فروری2025ء

اپنا تبصرہ بھیجیں